50.9K
64

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 24

زین کی بات سن کے حمنہ ایک دم سٹپٹا گئ..اور بولی…
زین میں کیسے مطلب اپکے ساتھ اپکی فیملی مطلب.
بس بس زیادہ نکھرے مت دیکھاؤں میں بھی جارہی ہو تو اسکا مطلب تم.بھی چل.رہی ہو..پیچھے سے آتی فاطمہ.کی.آواز پہ.وہ دونوں ایک دم چونکے..
فاطمہ آفتاب دونوں یونی.جانے.کے بجائے حمنہ کے.ہی.گھر اگئے تھے..
افف مین تو ڈر گئ تیری دھمکی.سے .حمنہ کمال کی ڈرنے کی.ایکٹنگ کرتے ہوئے فاطمہ.کو آنکھیں دیکھاتے ہوئے کہا.
حمنہ کی.ادا پہ سب کا ہی قہقہ گونجا..
اور سب کی.ضد پہ.حمنہ نے وادی کاغان جانے.کی.حامی.بھرلی..
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
رابعہ اور امجد کی ایک ساتھ شادی.ہوئ .اپنے اپکو ظفر کے نام.کرنے سے پہلے رابعہ نے شاہ زین کی.ہر یاد کو دل سے مٹایا اور پھر نکاح نامے پہ سائن کیہ..رابعہ رخصت ہوکے اپنی.خالہ کے گھر آئ تو مبشرہ اپنی خالہ کے گھر کیونکہ مبشرہ کی.امی نورین بیگم کی.کزن تھی..
رابعہ کو ظفر کے کمرے میں چھوڑ کے اسکی بہہنیں باہر گئ تو رابعہ نے اپنی کب سے جھکی گردن سیدھی کی اور بیڈ کے کراؤن سے ٹیک لگالی. رابعہ کا دل طرح طرح کے خدشات ڈر رہا تھا. ظفر کو لے کے…کیونکہ رابعہ یہ بات اچھی طرح جانتی تھی کے ظفر رابعہ کی محبت کے بارے میں جانتا ہے…
یہ سوچتے سوچتے کب رابعہ کی آنکھ لگی اسے پتہ ہی.نہ.چلا.
ظفر کی اج خوشی ہی.الگ تھی..اج اسکی.بچپن کی.محبت اسکی.ہمسفر تھی..اپنے الللہ سے مانگی.گئ .ظفر کی.خاموش دعا اج پوری.ہوگئ..ایسا نہی تھا کہ اس نے رابعہ کو پانے کی اپنے الللہ سے ضد لگالی تھی. بللکہ وہ تو ہر دعا میں یہ بولتا تھا کہ رابعہ کے حق میں بہتر ہو اسی.کو رابعہ کا ہمسفر بنانا..اور اج الللہ.نے یہ بات ظفر پہ.واضح کردی تھی کہ. رابعہ کی خوشی ظفر کیساتھ ہیں..
ظفر کمرے میں آیا تو اسکی نظر رابعہ کے حسین سراپے پہ گئ جو ہوش وخروش سے بیگانہ نیند کے مزے لوٹ رہی تھی…
ظفر نے کھڑے کھڑے رابعہ کا تفصیلی جائزہ لیا..
گولڈن کلر کا پٹھانی شرارہ.. پٹھانی زیور پہنے. ناک میں نتھ پہنے ّمعصوم.مگر خوبصورت اور حسین چہرہ لیہ وہ ظفر کے دل ڈھرکا رہی تھی وہ جو سوچ رہا تھا..کہ اج اپنی بچپن سے کی.گئ محبت اپنے ہر عمل سے رابعہ پہ ظاہر کرے گا..مگر رابعہ کو سوتا دیکھ وہ مایوس ضرور ہوا.. مگر رابعہ کی.تھکن کا بھی اسے خیال تھا. اس لیہ بنا آواز پیدا کیہ وہ اپنے کپڑے بدلنے چلا گیا..کپڑے چینج کرکے ظفر نے دیکھا کے رابعہ ابھی بھی اسے پوزیشن میں لیٹی تھی .
وہ ایک گھٹنے کے بل بیڈ پہ.بیٹھا.اور رابعہ کے اوپر زرا سے جھک کے اسکے پیچھے تکیہ لگانے لگا..مگر اپنے اوپر کیسے وزن ہونے کے تحت رابعہ نے جھٹ اپنی.گہری ہری.آنکھیں کھولی تو ظفر کو اپنے اوپر جھکا دیکھ ایک.دم گھبرا گئ..ظفر نے بھی جب دیکھا کے رابعہ اٹھ گئ تو فورا پیچھے ہوا اور کہا..
وہ سوری تمہاری نیند خراب کرنا نہی.چاہتا تھا اس لیہ تمہارے پیچھے تکیہ لگا رہا تھا مگر دیکھو تمہاری.نیند خراب ہوگئ..
کوئ بات نہی وہ ایسی میری.آنکھ لگ گئ بنا اپکا انتظار کیہ سوری….
رابعہ نے جھجکتے ہوئے ظفر سے معزرت کی.. ظفر نے مسکرا کے اسے دیکھا اور کہا..
پہلی بات تو ہم دوست پہلے ہیں اور میاں بیوی بعد میں..
دیکھو رابعہ میں جانتا ہو تم شاہ زین بھائ سے محبت کرتی ہو. ..
کرتی ہو نہی کرتی تھی..
رابعہ نے اچانک ظفر کی بات کاٹ کے کہا..تو ظفر حیران نظروں سے اسے دیکھنے لگا..مگر رابعہ اپنی بات یہی ختم.نہ کی اس نے ظفر سے کہا..
ایک بات پوچھو اپ سے .؟؟
ظفر نے اگے بڑھ کے رابعہ کے ہاتھ تھامے تو اسے رابعہ کے ہاتھوں میں واضح کپکپاہٹ محسوس ہوئ. اس نے ڈھیرے سے رابعہ کے ہاتھوں کو چوما اور کہا..
ہان کہو اج میں تمہیں سنوگا. رابعہ جو دل میں اج سب بول دو میں نہی چاہتا. تمہارے دل.میں چھپے کوئ بھی بدگمانی ہمارے رشتہ میں آئے..
اپ…
ابھی رابعہ کچھ بولتی.. ظفر نے اسے ٹوکا اور کہا..
آپ نہی ظفر کہو.. اپنی محبت کے منہ سے اپنا نام سننے کی کب سے خواہش کی.ہے میں نے…
ا
رابعہ.بنا پلک جھبکائے اس دیوانے کو دیکھنے.لگی..جسکو وادی کا سب سے حسین.لڑکا کہتے تھے..اسکی کتنی.ہی.کزن تھی جو ظفر سے شادی کی خواہش مند تھی مگر وہ صرف رابعہ کا دیوانہ تھا..
ظفر اپ کو مجھ سے اتنی.محبت کیوں ہے یہ.جانتے ہوئے بھی کے میں ایک بٹی ہوئ عورت ہو…
یہ بول کے رابعہ اس کے جواب سننے کا انتظار کرنے لگی..
ظفر نے اسکے ہاتھ چھوڑے اور اس کے ماتھے پہ اپنے لب رکھے…. اور جیسی ہی اسکی ناک کی.نتھ کی طرف ہاتھ بڑھانے لگا تو ہاتھ رک کے ظفر نے رابعہ سے کہا…
اجازت ہے؟؟؟؟
رابعہ نے ہاں میں گردن ہلائ.تو ظفر نے سب سے پہلے اسکی ناک.کو نتھ سے آزاد کیہ..اور پھر ڈھیرے ڈھیرے سارے زیور اتارتے ہوئے کہا..
پتہ ہی نہی چلا رابعہ. کب میں تم سے محبت کی جگہ عشق کرنے لگا..پہلے پہل تو میں شاہ زین بھائ سے بہت جلتا تھا..مگر پھر جب اپنے الللہ کے آگے جھکنا شروع کیا تو پتہ چلا محبت کا رشتہ تو بہت انمول ہے..یہ جزبہ الللہ.کسی کسی کو عطا کرتا ہے. میں نے کبھی تم کو اپنے الللہ سے ضد لگا کے نہی مانا..بس ہمیشہ تمہاری خوشی اور بہتری مانگی..جب بھی میں تمہاری.آنکھوں میں زین بھائ کا عکس دیکھتا تھا تو تکلیف ضرور ہوتی تھی مگر جلن نہی..میں اپنی خاموش محبت کا رونا صرف اپنے الللہ کے اگے روتا تھا..اور دیکھو اج تم.میری سامنے میری زندگی میری بیوی کے روپ کے میں موجود ہو…
ہم.نے تو کسی سے زبردستی محبت کرسکتے ہیں نہ.نفرت یہ.تو ہمارے بس میں ہے ہی نہی..
میں یہ نہی کہونگا کہ تم.بھی.مجھ سے محبت کرو ہان مگر شدت سے اس دن کا انتظار کرونگا جب تم مجھ سے محبت کروگی…
یہ بول.کے ظفر رابعہ کے بالوں کی.آخری.پن نکالی تو اسکے بھورے بال آبشار کی طرح اس پہ چھاگئے…ظفر نے ایک.نظر اسے دیکھا اور کہاں تم.بہت خوبصورت ہو رابعہ میں زبردستی کا حق لینے کا قائل نہی..
سو جاو بہت تھک گئ ہوگی..یہ بول کے ظفر نے اسکے ماتھے پہ اپنے.لب رکھے اور بیڈ سے جانے کیلیے جیسی.ہی اٹھا.. تو رابعہ نے اسکا ہاتھ تھام لیا..
ظفر پہلے تو حیران ہوا اور پھر سوالیاں نظروں سے رابعہ کو دیکھا. تو رابعہ اسکی نظروں کا مفہوم سمجھ کے صرف اتنا ہی.کہی پائ…
بہت ترس لی محبت کیلیے مجھے بھی محسوس کرنا ہے کے محبت کا احساس کیسا ہوتا ہے…ظفر مجھے اب اپکی.محبت کی ضرورت ہے زندگی.کی.آخری سانس تک..
یہ بول.کے جہاں رابعہ بھیگی.آنکھوں کیساتھ مسکرائ..وہی ظفر کی.آنکھیں بھیگنے لگی. اس نے دیوانہ وار رابعہ کو اپنے سینے سے لگالیا اور دیوانہ وار اسکا چہرہ چومتے ہوئے کہنے لگا…
اتنا پیار دونگا اپنی.رابعہ کو کہ وہ خود پناہ مانگے گی اپنے ظفر کی.محبت سے.
ہیں نہ.ظفر تمہارا ہے نہ..
ظفر نے رابعہ.کو باہنوں میں لیہ کسی مصوم بچے کی.طرح رابعہ سے پوچھا..
رابعہ نے جیسی.ہی.ہان میں گردن ہلائ. ظفر نے فورا اسکے.لبوں کو چوم.لیا اور کہا…
شکریہ میری محبت کو محسوس کرنے کیلیے یہ بول کے ظفر اپنی بچپن سے بے چین محبت رابعہ پہ.نچھاور کرنے لگا…
.¤¤¤¤¤¤¤¤¤
پوری رات مبشرہ نے امجد کا انتظار کیا مگر وہ ساری رات اپنے دوستوں کیساتھ عیاشی کرنے میں لگا رہا
کمرے میں آیا تو مبشرہ سو چکی تھی…
اچانک مبشرہ کو اپنے اوپر کسی بھاری چیز کا احساس ہوا.. اس نے جب اپنی نیند سے بوجھل آنکھیں کھولی تو اپنے.اوپر جھکے سر کو دیکھ کے اس سے پہلے مبشرہ چیختی امجد نے فورا اسکے لبوں پہ اپنے ہاتھ رکھا اور کہا..
کیوں چیخ رہی ہو حق ہے میرا سمجھی..مبشرہ امجد کو دیکھ جہاں خاموش ہوئ..وہی امجد کے حق وصولنے کے انداز سے اسکے سارے خواب سارے ارمان جو اس رات کیلیے سوچے تھے. چپکے سے اسکی آنکھوں سے بہہ نکل
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
وہ لوگ دس بجے کے قریب وادی.پہنچے. شیر خان ان سب کے استقبال کیلیے موجود تھا..نورین بیگم سب سے بہت اچھے طریقے سے ملی زین کو انکو دیکھ کے کافی تسلی ہوئ اور اس سے زیادی تسلی رابعہ اور ظفر ایک ساتھ کوش دیکھ کے ہوئ
.حمنہ کو جہاں وادی بہت اچھی لگی. وہی زین کا ددھیال بھی کافی ملنسار لگا. آفتاب اور فاطمہ بھی وادی میں آکے بہت خوش ہوئے.. نورین بیگم نے مبشرہ کے آتے ہی خالی زین سے اسکا تعارف کروایا باقی سب سے اس نے پردہ کیا..حمنہ اور فاطمہ بھی اس سے ملکے بہت خوش ہوئ ابھی حمنہ مبشرہ سے باتیں ہی.کررہی تھی کہ اچانک مبشرہ کے پیچھے سے کسی کو آتا دیکھ پہلے تو وہ چونکی.. اور پھر ڈور کے اسکے گلے لگ گئ.. حمنہ کی اسطرح کی.حرکت پہ.سب ہی حیران تھے. جبکہ امجد کے گلے لگ کے حمنہ نے روتے روتے کہا…
جیڈی تم کہاں غائب ہوگئے تھے…
جاری ہے..
See translation