50.9K
64

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 38 Part 1

ہمایوں ثنا کے کمرے سے نکل.کے تیزی سے اپنے کمرے میں آیا.اور اپنے کب سے روکے آنسو کو بہنے دیا.. ہمایوں وہی دیوار سے ٹیک لگا کے بیٹھ کے بچوں کی طرح رونے لگا. ثنا اسکی پہلے پسند تھی.اس نے کبھی سوچا نہی تھا کہ وہ اس حد تک اپنے اپ کو گرا لے گی..ہمایوں کے سامنے ثنا کے ساتھ گزارے سارے پل کسی فلم کی مانند اسکی آنکھوں کےسامنے چلنے لگے..ہمایوں جب جی بھر کے رو لیا تو اپنی آنکھیں صاف کی اور پاکستان جانے کی ٹکٹ بک کروالی بنا ثنا کو بتائے وہ پاکستان جانے کیلیے نکل.پڑا …
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
اعیرہ کو جب ہمایوں کے پرپوزل کے بارے میں پتہ چلا اور ساتھ یہ بھی کے اگلے مہینے اسکی شادی ہے اور سب کی رضامندی سےیہ. ہورہا ہے.. اعیرہ نے بلکل.چپ.سادھ لی .المیر اور مونا جو یہ.سمجھ رہے تھے کے اعیرہ کو پتہ لگنے پہ وہ گھر میں کافی کہرام مچائے گی. اپنی پڑھائ کا رونا روئے گی.. مگر ان لوگوں کی سوچ کے برعکس وہ خاموش تھی.. کیونکہ.کے فاطمہ سے اسے یہ بات پتہ چل چکی تھی کے اس شادی کی سفارش اسکے جان سے پیارے بھائ نے کی…
اعیرہ کی خاموشی سے سب کو ہول اٹھنے لگے.. المیر اور مونا نے فیصلہ کرلیا اس سے بات کرنے کا اور رات میں وہ دونوں.اس کے کمرے میں موجود تھے.
مگر اعیرہ کے کمرے میں پہنچ کے جب ان دونوں نے کمرے کا نظارہ دیکھا تو جہاں المیر نے کرب سے اپنی آنکھیں بند کی تھی وہی مونا کی نظر بے ساختہ المیر کی.طرف اٹھی تھی.
اعیرہ اپنے کمرے کی ہر وہ چیز ایک جگہ لا کر رکھ رہی تھی.جو المیر نے اسے دی تھی. اور تھوڑی دیر بعد اعیرہ نے ان ساری چیزوں کو آگ لگا دی..
المیر اور مونا دھیرے دھیرے اگے بڑھنے لگے اگ نے تمام چیزوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا..المیر کی دی.ہوئ ڈول جو اعیرہ کو اپنی.جان سے بھی زیادہ عزیز تھی سب ہی اعیرہ کے غصہ کا شکار ہو چکے تھے اگ جیسی ہی تیز ہونے لگی اعیرہ نے اس پہ.لاکے پانی پھیک دیا اب صرف راکھ تھی اور دھواں جسمیں اج شاید اعیرہ کی اپنی بھائ کیلیے محبت بھی جل کے راکھ ہوگئ تھی..
ہر بار کی طرح اعیرہ کو امید تھی کے اسکے المیر بھائ شادی کے معملے میں اسکی مدد کرینگے.
مگر یہ سب کیا دھرا اسکے جان سے پیارے بھائ کا تھا .اعیرہ.کو جب یہ پتہ چلا تو بلکل.خاموش ہوگئ.مگر آج اسکی ہمت یہی تک تھی جب اسے اکے فاطمہ نے کہا کے المیر کیساتھ جاکے نوز پن پہن آو…
.اعیرہ کا اتنا غصہ اج وہ دونوں پہلی بار دیکھ رہے تھے..
المیر نے دھیرے سے اگے بڑھا اور اعیرہ کو کہا.
اعیرہ گڑیا میری باااااا..
ابھی المیر کی آواز منہ میں ہی تھی. کے اعیرہ کی غصیلی آواز کمرے میں گونجی…
dont talk with me mr.almeer leave my room right now…
اعیرہ کے منہ سے اج بھائ کی جگہ اپنا نام سن کے المیر کی آنکھیں بھیگنے لگی.. جبکہ مونا تو باقاعدہ رو رہی تھی..
المیر نے ایک بار پھر کہا..
اعیرہ.. می..ری..گڑیا.. بھائ کو موقع تو دو کچھ بولنے کا..
پہلی بات مسٹر المیر…
میں گڑیا نہی ہو اب اعیرہ آفتاب ہو کیونکہ بقول اپکے میری شادی کردینی چاہیے اور گڑیا کی شادی نہی ہوتی دوسری بات میں اج سے صرف مونا آفتاب کی بہن ہو بسس.
ہر بار اپ وہی کرتے ہیں جو اپکے دل میں آتا ہے تو اب میں بھی وہی کرونگی جو میرا دل چاہے گا..اپنے دوست کی زندگی میں شامل کرکے اپ نے ہمارا رشتہ ختم کردیا اج سے صرف اپ میرے لیہ میرے ہونے والے شوہر کے دوست ہیں بس..
پہلے آفرین آپی.کی زندگی کی ڈور اپنے اپنے ہاتھ میں لی پھر میری.. تو اب یہاں کھڑے ہوکے کس چیز کا تماشہ دیکھ رہے ہیں جائیے المیر آفتاب اپنا کام کرے اپ پلیز یہ بول کے اعیرہ گھوم گئ اسنے نہ تو المیر کے بہتے آنسو دیکھے نہ اسکے لڑکھڑاتے قدم..
المیر دو قدم الٹے اٹھائے بے دردی سے اپنے آنسو رگڑے اور کمرے سے باہر نکل گیا…
المیر کے کمرے سے نکلتے ہی اعیرہ زمین پہ.گھٹنوں بل بیٹھ کے رونے لگی..
مونا فورا اآگے بڑھی اور اسے اپنے سینے سے لگالیا..
دو جسم ایک جان رکھنے والے اج ان دونوں بہن بھاہیوں کی حالت دیکھ کے مونا کی حالت بھی غیر تھی..
مونا جو اعیرہ.کو سمجھانے کے موڈ میں تھی. فلحال وہ.اپنا ارداہ ترک کرچکی تھی. .
¤¤¤¤¤¤¤¤¤
اور پھر کسی ریبورٹ کی طرح اعیرہ ہر کام.کرتی گئ.فاطمہ بھی اسکی ساری حرکت نوٹ کررہی تھی مگر فلحال وہ چپ تھی..مونا کیساتھ جاکے اعیرہ ناک چھدواکے آچکی تھی ..مونا جو سمجھ رہی اعیرہ رو رو کے پوری شاپ سر پہ اتھا لیے گی ..مگر نہ تو وہ روئ نہ اسنے کوئ.ہنگامہ کیا بس درد سے اپنی آنکھیں بند کی اور شاپ سے باہر اگئ..
شادی.کی ساری.تیاری عروج پہ تھی بس بارات اور ولیمہ کے ڈریسس رہ گئے تھے..جو کل.ہمایوں کے آنے بعد ساتھ جاکے انے تھے..
¤¤¤¤¤¤¤¤¤
کاشف تم میری بات مان کیوں نہی لیتے ہو؟؟؟
آفرین نے آج پھر ہمیشہ کی طرح روتے ہوئے کاشف کو کال کی..
تم سمجھ نہی رہی ہو آفرین گھر سے بھاگ کے شادی کرنا مسئلہ کا حل نہی. اور اگر میں تمہاری بات مان بھی لو تو رکھونگا کہاں تمہیں تم اس وقت میری حالت نہی سمجھ سکتی آفرین مین بہت مجبور ہو بہت…
کاشف نے مصنوعی روتے ہوئے آفرین سے کہا..
کاشف پاپا نے صاف دھمکی دی ہے اگر میں نے اس شادی میں کوئ بھی گڑ بڑ کی تو وہ خود کی.جان.لےلینگے..بس ایک بار میری اس المیر سے شادی ہونے دو دو مہینے کے اندر اندر اگر اس نے خود مجھے طلاق نہی دی تو میرا نام بھی آفرین نہی..
آفرین کی دھمکی سن کے کاشف کو اپنا پلین پورا ہوتا دیکھائ دیا..اور اس نے آفرین سے کہا..
بس آفرین تمہیں اس سے بچ کے رہنا ہے ایک بار تم اس سے طلاق لے کے اپنا حق مہر لے لو پھر تو تمہارے فادر کے پاس مجھ سے شادی کرنے کے علاوہ اور کوئ.چارہ نہی ہوگا..
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
اج ہمایوں کی.واپسی تھی سارا گھر اسکے آنے کی تیاری.کررہا تھا. بہت سے پکوان کچن میں پک رہے تھے جبکہ حمنہ اور مونا لانج کی صفائ کروارہے تھے..حمنہ نے کئ بار فاطمہ سے کہا کے اسے اعیرہ سے بات کرنے دے مگر فاطمہ نے اسے فلحال روک دیا..حمنہ کو اعیرہ کو دیکھ کے بہت افسوس ہوتا تھا وہ شوخ چنچل سے لڑکی جو پہلے دن حمنہ سے بہت اپنائیت سے ملی تھی اب حمنہ سے بہت کھچی کھچی رہنے لگی…
ہمایوں کا فاطمہ اور آفتاب نے ہرتپاک استقبال کیا.. ہمایوں نے اپنی ماں کو اتنا خوش کبھی نہی دیکھا تھا جتنا اج وہ اسے لگ رہی تھی..
کھانے کی میز پہ سب ہی بیٹھے تھے کے جبھی اعیرہ نے سب کو سلام کیا اور ٹیبل پہ آکے بیٹھ گئ..ہمایوں کو کچھ گڑ بڑ کا احساس ہوا .اس نے مونا کی طرف دیکھا تو اس نے اشارے سے چپ رہنے کو کہا.ہمایوں بہت غور سے اعیرہ کا چہرہ دیکھ رہا تھا. اسے اعیرہ کے چہرے پہ کچھ تبدیلی دیکھی اور پھر ہمایوں کے لب اعیرہ کی نوز پن دیکھ کے مسکرائے…مگر المیر کا سنجیدہ چہرہ دیکھ کے وہ سمجھ گیا کے معملہ کچھ گڑ بڑ ہے..
کھانے سے فارغ ہوکے ہمایوں نے سب جو ایک جگہ جمع ہونے کو کہا.. ڈیل فائنل ہونے کی.خوشی میں ہمایوں سب کیلیے کچھ نہ.کچھ گفٹ لایا تھا.
سب کو دینے کے بعد وہ اعیرہ کا گفٹ لےکے اسے ڈھونڈتے ہوئے گارڈن میں آیا جہاں میں سب سے بے خبر سامنے لگے درخت کو گھور رہی تھی..
ہمایوں اس کے قریب گیا.اور اسے آواز دی.
اعیرہ
اعیرہ
دو تین آوازوں پہ اعیرہ کھڑی ہوئ اور ہمایوں کے سامبے سینے پہ ہاتھ باندھ کے کھڑی ہوئ اور کہا..
کہیے کیا کہنا ہے ااپنے کیوں آوازیں دے رہے ہیں آپ..
ہمایوں کو وہ کہی سے بھی پرانی والی آعیرہ نہی.لگی.
ہمایوں نے کہا..
وہ کیسی ہو تم ؟؟؟
اعیرہ نے اسکے بات کا جواب دینے کے بجائے الٹا سوال کیا..
کس کام کیلیے مجھے آواز دی وہ بتائیں…
وہ میں تمہارے لیہ یہ گفٹ لایا تھا.. ہمایوں نے اپنے ہاتھ میں پکڑا گفٹ اگے کیا..
اعیرہ نے ایک نظر اسے دیکھا ایک.نظر اسکے گفٹ کو پھر ہمایوں کے ہاتھ سے گفٹ لیا اور کھینچ کے سامنے پلر پہ دے مارا.اور غصہ میں کہا.
غلطی ہوگئ مجھ سے اس دن جلتی گاڑی میں اپکو جلنے دینا تھا..میں نے اپکی جان بجائ اور اپنے مجھ سے میرے ہی جینے کا حق چھین لیا.. میں ہی ملی تھی شادی کرنے کیلیے اپنی عمر دیکھے اور میری دیکھے بدھی گھوڑی لال لگام.. مگر یاد رکھیے گا ہمایوں اپ نے بہت گھاٹے کا سودا کیا ہے بہت گھاٹے کا..یہ بول کے اعیرہ تیزی سے اندر بڑھ گئ. ادھر ہمایوں سکتے کی حالت میں اپنے توٹے ہوئے گفٹ کو دیکھنے لگا کے اچانک کیسی نے اسکے کندھے پہ.ہاتھ رکھا…
جاری.ہے..