Gunah Se Wapsi By Mariyam Imran Readelle50215 Episode 40 Part 1
Rate this Novel
Episode 40 Part 1
خالد کو جب یہ تہ چلا کے جس سے ہمایوں کی شادی ہوئ وہ اور کوئ نہی بلکے فاطمہ اور افتاب کی بیٹی ہے تو اسے دلی خوشی ہوئ۔اس نے افتاب سے فون پہ ہی بات کرلی۔۔اور
لاہور رک کے وہ ولیمہ کی تیاری کرنےلگا۔۔
ثنا نے خالد کو کال کرکے کہا وہ فلحال لندن میں رک کے یہہی کی برانچ سنبھالے گی۔خالد جو یہ سمجھ رہا تھا کے ثنا ہمایوں کی شادی کا سن کے اپسیٹ ہوکے لندن میں ہی رک گئ مگر حقیقت ثنا ہی جانتی تھی کے وہ لندن کیوں رکی اس میں ہمت نہی تھی فلحال ہمایوں کا سامنا کرنے کی۔۔
#
حمنہ کی خواہش پہ اعیرہ دلہن کے جوڑے میں ہی لاہور کے لیہ روانہ ہوئ۔اعیرہ دلہن کے روپ میں اتنی حسین لگ رہی تھی کے ہمایوں کی نظر کے ساتھ ساتھ کئ اور نظرے اسکے اوپر بھٹکی تھی۔۔
کئ بار ہمایوں نے فلائٹ پہ اعیرہ سے بات کرنے کی کوشش کی مگر اسکی غصیلی شکل دیکھ کے فلحال اس نے اپنا ارادہ کینسل کرنا پڑا کیونکہ ہمایوں کی نظر میں اس وقت اعیرہ کو چھیرنا ا بیل مجھے مارنے والی بات تھی۔۔
اعیرہ اور حمنہ ایک ساتھ گھر پہنچے جبکہ ہمایوں کسی ضروری کام کی وجہ سے انکے ساتھ نہ اسکا۔۔
اعیرہ نے جب حمنہ مینشن میں قدم رکھا تو خالد اور بہت سے قریبی دوست جسمیں حمنہ کی چند
دوستیں بھی شامل تھی سب نے اعیرہ کا پرتپاک استقبال کیا۔اعیرہ کی تھکن کے باعث اسے جلد اذ جلد ہمایوں کے کمرے میں پہنچا دیا گیا۔۔
اعیرہ جہاں حمنہ مینشن کی خوبصورتی کی قائل ہوئ وہی ہمایوں کے کمرے کی سجاوٹ دیکھ کے ہمایوں کی چوائس سے کافی انسپائر ہوئ۔۔
اعیرہ تھوڑی دیر تک کمرے کا جائزہ لیا تبہی اسکی نظر سامنے کی دیوار پہ پڑی جہاں اسکی اور ہمایوں کی نکاح کی پک انلاج ہوئ لگی تھی ۔اعیرہ دھیرے دھیرے چل کے تصویر کے پاس ائ اور غور سے تصویر میں مسکراتے ہوئ ہمایوں کو دیکھنے لگی ۔۔ اسکے کانوں میں اسکی دوست کی اواز گونجی۔۔
اعیرہ تو کتنا بھی منہ بنالے مگر ہمایوں بھائ تجھ سے زیادہ خوبصورت ہیں۔
ابھی اعیرہ اپنی سوچوں میں ہی گم تھی کے ایک دم دروازے ناک ہوا اور لاک گھما۔۔
دروازہ کا لاک گھومتے ہی اعیرہ ڈور کے بیڈ پہ چڑھ کے بیٹھی اور کہا اجائے وہ جو سمجھ رہی تھی کے انے والا ہمایوں ہوگا ۔مگر کمرے میں حمنہ کو اتا دیکھ اعیرہ نے ایک نظر اعیرہ کو دیکھا جیسے دیکھ کے حمنہ اندازہ لگاسکتی تھی کے وہ ابھی تک اس سے ناراض ہے۔۔حمنہ دھیرے سے جاکے اعیرہ کے برابر میں بیٹھی اور اسکا کا
ہاتھ تھام کے کہا۔۔
جانتی ہو اعیرہ تم مجھ سے اور ہمایوں سے سخت ناراض ہو ۔۔مگر اعیرہ ان سب میں ہمایوں کی کوئ غلطی نہی۔مجھے پتہ ہے تم یہی سوچ رہی ہوگی کے میں ماں ہو اپنے بیٹے کی حمایت تو کرونگی مگر اعیرہ یقین جانو ہمایوں تم سے شدید محبت کرتا ہے میں اسکی انکھوں میں ثنا کیلیے اتنی محبت نہی دیکھی جتنا تمہارا عکس اسکی انکھوں میں دیکھتا ہے جلدی شادی کا ہمایوں نے نہی میں نے کہا تھا فاطمہ کو کیونکہ برسوں بعد میں اپنے بیٹے کو ہنستا مسکراتا دیکھا جو صرف تمہاری وجہ سے اسکے چہرے کی زینت بنی میں جلد سے جلد اسکی یہ خوشی اسکو دینا۔ چاہتی تھی۔تم۔چاہو تو مجھے مطلبی بول سکتی ہو مگر اعیرہ میرے ہمایوں نے بچپن سےصرف دکھ دیکھے ہیں اپنے پاپا کی موت کے بعد اس نے اپنے اپکو اپنی عمر سے بہت بڑا کرلیا تھا۔ثنا کے دھوکے کے بعد وہ بلکل ٹوتھ گیا تھا۔۔اس لیے میں نے اسے اسکی واحد خوشی بن تمہاری مرضی جانے اسکی جھولی میں ڈال دی۔۔مگر اعیرہ اگر تم اپنی ایک ماں کو چھوڑ کے ائ ہو تو اپنی اس ماں کو ہمیشہ اپنے ساتھ پاونگی۔اپنی ہانیہ کو کھونے کے بعد مجھے دوبارہ تمہارے روپ میں بیٹی ملی تھی جیسے میں کھونا نہی چاہتی تھی۔۔یہ بول کے حمنہ کی انکھیں بھیگنے لگی تو اسے روتا دیکھ اعیرہ بھی روپڑی اور حمنہ کے گلے لگ کے کہا۔۔
انٹی۔میں اپ سے ناراض نہی ہو ۔بس اپنے اسٹڈی کو لے کے تھوڑا اپسیٹ ہو یہ بول کے اعیرہ حمنہ سے الگ ہوئ اور اسکے انسو صاف کرنے لگی۔۔
حمنہ نے بھی اسکے انسو صاف کیہ اور کہا۔
میں نے کہا نہ ابھی تم سے کے تمہاری ایک ماما وہاں ہے ایک یہاں جو تمہارا دل کرے وہ تم کرنا کوئ تم پہ پابندی نہی لگائے گا ۔۔اور زرا ولیمہ سے فارغ ہو جائے تو پھر تمہارا ایڈمیشن میں خود کروانے جاونگی۔۔
حمنہ کی بات سن کے اعیرہ خوش ہوکے دوبارہ حمنہ کے گلے لگ گئ اور کہا۔۔
شکریہ انٹی۔۔۔
ہمممم انٹی نہی ماما حمنہ جان بوجھ کے بناوٹی روب والی اواز میں کہا۔۔
تو اعیرہ نے فورا کہا۔۔
سوری ماما۔۔
یہ بول کے جہاں اعیرہ مسکرائ وہی حمنہ بھی۔۔
حمنہ نے اسے ارام کا کہا اور جیسی ہی کمرے سے نکلنے لگی دیوار سے لگ کے کھڑے ہمایوں کو دیکھ کے چونکی اور کہا۔۔
تم کب ائے اور باہر کیوں کھڑے تھے اندر کیوں نہی ائے؟؟؟؟
حمنہ کی بات سن کے ہمایوں نے ایک لمبی سانس لی اور کہا۔۔
ماما اندر ابھی جاتا تو کوئ فائدہ نہی تھا۔وہ جو تھوڑی بہت اپ سےفرینک ہوئ ہے پھر دوبارہ اپنے خول میں سیمت جاتی ۔حمنہ اس کے لہجے سے اندازہ لگاچکی تھی کے ہمایوں کو اعیرہ ہی ناراضگی کتنی تکلیف دے رہی ہے۔۔
اس نے ہمایوں کے کندھے پہ ہاتھ رکھا اور کہا۔۔
بیٹا محبت سے ہر جنگ جیتی جاسکتی ہے اعیرہ ایک کورا کاغذ ہے اور تم خوش نصیب ہو کے اس پہ محبت سے لکھی جانے والی تحریر تمہاری ہوگی ۔۔باقی اگے تم خود سمجھدار ہو ۔۔اب اندر جاکے ارام کرو ۔۔
یہ بول کے حمنہ وہاں سے گئ تو ہمایوں دھیرے سے اندر داخل ہوا ۔
مگر اندر کمرے کا نظارا دیکھ کے ہمایوں کے لبوں پہ دلکش مسکراہٹ اگئ۔۔
اعیرہ ڈوپٹہ سے بے نیاز اپنے حسن کے جلوہ بکھیر رہی تھی۔۔اعیرہ کافی دیر سے اپنی نوز پن اتارنے کی کوشش میں تھی ہمایوں جو سینے پہ ہاتھ باندھے اعیرہ کو دیکھ کے کب سے اپنے دل کی پیاس بجھا رہا تھا۔اعیرہ کی ناک سے بلڈ نکلتا
دیکھ فورا اس تک پہنچا اور اسک نوز پن میں موجود ہاتھ پکڑا اور کہا۔۔
کیا کرتی ہو پرنسس دیھان سے ناک سے بلڈ اگیا دیکھو۔۔
اعیرہ جو اپنی ہی دھن میں نوز پن سےکشتی لڑنے پہ مصروف تھی ہمایوں کی اواز پہ ایک دم چونکی
ہمایوں اعیرہ کو لے کے بیڈ پہ بیٹھا دھیرے سےاسکی نوز پن کو ناک سےالگ کیا اوربےساختہ وہاں اپنے لب رکھ دیے اعیرہ جو سن سی کیفیت میں ہمایوں کی ساری کاروائ دیکھ رہی تھی ہمایوں کی اس حرکت پہ اعیرہ کا دل زور سے ڈھرکا مگر اسکی اتنی ہمت نہی تھی کے وہ ہمایوں کو خود سے دور کرتی تھوڑی دیر بعد
ہمایوں اعیرہ سے الگ ہوا اورکہا۔۔
دیھان سے کیاکرو کام ۔۔
ہمایوں کی اواز پہ اعیرہ ایک دم چونکی اور بیڈ سے کھڑےہوکے غصہ میں اپنی جیولری اتارنے لگی پھر الماری سے ایک ڈریس نکالا اور فریش ہونے چلی گئ ۔۔
ہمایوں اسکی ساری کاروائ دیکھ رہا تھا مگر بولا کچھ نہی۔۔
اعیرہ چینج کرکے باہر ائ بنا ہمایوں کو دیکھے بیڈ پہ کروٹ لےکے لیٹی اور کمبل تان کے سوگئ ۔۔
مطلب صاف تھا کے وہ فلحال ہمایوں سے کوئ بات کرنا نہی چاہتی۔۔
ہمایوں خود بھی تھکا ہوا تھا اس لیہ اسنے بھی اعیرہ کو چھیڑنا مناسب نہی سمجھا اور چینج کرکے سونے کیلےلیٹ گیا۔۔
ادھی رات کو اپنے بازو پہ کسی بھاری چیز کے احساس کے تحت اسکی انکھ کھلی تو اس نے دیکھا کے اعیرہ اسکے بازو پہ سر رکھ کے سو رہی ہے یہ دیکھ کے ہمایوں کے چہرے پہ دلفریب مسکراہٹ اگئ اس سے پہلے وہ اعیرہ کا سر ہٹاتا اعیرہ نے اپنی ایک ٹانگ ہمایوں پہ رکھی اور اسکے تھوڑا اور قریب ہوگی ہمایوں نے غور سے اعیرہ کو دیکھا تو وہ گہرے نیند میں تھی۔۔
ہمایوں نے اعیرہ کو پورا اپنے اپ سے لگایا اسکی کمرے پہ اپنے دونوں ہاتھ رکھ اسے خود میں اور بھینچا تو اعیرہ کا چہرہ بلکل ہمایوں کے لبوں کے پاس اگیا۔۔ہمایوں نے اعیرہ کو دیکھ کے مسکرا کے کہا۔
(زلیخا کےعشق نے یہ رازکھولا ہے۔۔
محبوب حسسین ہو تو نیت بدل ہی جاتی ہے)
یہ بول کے ہمایوں بھر پور طریقے سے مگر نرم انداز میں اپنی متاع جان کےلبوں کی سانسوں کو اپنے اندر اتارا اور کسی کانچ کی گڑیا کی طرح اپنے سینے سے لگاکے سوگیا۔۔
جاری ہے۔۔
