50.9K
64

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 44 Part 1

المیر آفرین کا ہاتھ پکڑ کے دوبارہ فلیٹ کے اندر گیا اور فلیٹ کا دروازہ زور سے بند کیا۔
آفرین کسی بت کی طرح المیر کیساتھ کھینچی چلی گئ۔
فلیٹ کے اندر المیر کو ذیادہ آگے نہی بڑھنا پڑا ۔سامنے سے ہی کاشف اپنا زخمی سر لے کر آرہا تھا۔
کاشف نے جب المیر کو دیکھا تووہ گھبراگیا۔اسے اندازہ نہی تھا کے المیر اتنی جلدی یہاں تک پہنچ جائے گا۔۔
المیر آفرین کا ہاتھ تیزی سے کاشف کے سامنے لیے جاکے چھوڑا ۔۔
کاشف جو حالات سمجھنے کی کوشش کررہا تھا ۔اسکی شکل دیکھ المیر تیزی سے آفرین کے پاس آیا جو زمین کو گھورنے میں مصروف تھی مگر اسکے انسو رکنے کا نام نہی لے رہے تھے۔۔
جب اپنے یار سے چھپ چھپ کے مل رہی تھی ۔تو اب اسکی قید سے بھاگی کیوں جب نکاح کے ان دو بولو کو جس کا گواہ ہمارا الللہ تھا ۔جب الللہ کی حدودکوتوڑا بنا اس کی قہر سے ڈر کے اس شخص کے گھر میں موجود اسکے کمرے میں اسکے بستر کی زینت بننے والی بقول تمہارے جو روح بن کےتمہاری سانسوں میں اتر چکا ہے تو بھاگی کیوں۔؟؟؟؟؟
المیر کی چیخ سے آفرین نے کرب سے اپنی آنکھیں بند کی۔جاو اسکے پاس ۔۔
یہ کہہ کے المیر نے آفرین کو کاشف کے پاس دھکا دیا۔۔
اور بے دردی سے اپنے آنسو رگڑے اور کہا۔۔
میں المیر شیخ اپنے پورے ہوش حواس میں آفرین تمہیں۔۔
ط۔لا۔۔
ابھی المیر کے الفاظ پورے بھی نہی ہوئے تھے کے آفرین نے آگےبڑھ کے تیزی سے المیر کے منہ پہ۔ہاتھ رکھا ۔۔
اور زور زور سے روتے روتے المیر کے پاؤں میں گر کے کہنے لگی۔۔
نہی المیر تمہیں الللہ کا واسطہ مجھے معاف کردو ۔میں نے صرف محبت کی تھی۔میں نے غیر محرم سے محبت کی ایک پاک رشتہ میں بندھ کے میں نامحرم سے ملی۔۔مگر المیر میں زنا نہی کیا باخدا ۔مجھے معاف کردو پلیز مجھے اپنی زندگی سے نہ نکالو میں نے بہت بڑی قیمت چکائی ہے محبت کرنے کی اگر آج تم نہی آتے تو ۔پلیز المیر بھلے تم مجھ سے کبھی محبت نہی کرنا میں کسی بیکارچیز کی طرح تمہارے گھر میں پڑی رہوں گی مگر مجھے طلاق نہ دو تمہیں تمہاری محبت کا واسطہ۔۔یہ بول کے آفرین نے المیر کے پاؤں پہ اپنا سر رکھ دیا ۔
کاشف بہت غور سے یہ ڈرامہ دیکھ رہا تھا۔۔مگر چاہ کے وہ بھی بھاگ نہی پایا۔۔۔
المیر نے ایک جھٹکے سے آفرین کو اٹھا کے اپنے مد مقابل کیا اور کہا۔
آفرین دو منٹ بھی المیر کی آنکھوں میں نہ دیکھ سکی جہاں آنسو کے ساتھ ساتھ درد کی ایک کہانی رقم تھی۔۔
المیر نے ایک بار پھر ہاتھ کی پشت سے اپنے آنسو صاف کیہ اور کہا۔۔
یار میرا قصور کیا تھا یہی تمہیں اس سے بچانا چاہتا تھا تم سے محبت ہوگی تو تمہیں ایک پاک رشتہ میں باندھ لیا۔ہاں میرا طریقہ مانا غلط تھا بنا تمہاری مرضی جانے یہ سب کیا مگر آفرین یہ سب تمہاری محبت میں کیا تھا مگر تم نے تو مجھے تم سے محبت کرنے کی بہت بڑی سزا دی آج ۔۔
ٹھیک ہے نہی دیتا تمہیں طلاق مگر ساری زندگی اب تم میری محبت کو ترسوگی۔۔
یہ بول کے المیر نے آفرین کو وہی عبایا پہنے کو بولا جسے پہن کے وہ اپنا گناہ چھپاتی تھی آج وہی عبایا اسکی عزت ڈھاپنے نے کے کام آیا کیونکہ آفرین کی آستینیں پھٹ چکی تھی ۔۔ المیر نے افرین کا ہاتھ پکڑا اور فلیٹ سے نکلا اور دو سیکنڈ بعد ہی پولیس فلیٹ کے اندر داخل ہوئ جس کو المیر پہلے ہی فون کرکے بلایا تھا۔اور کاشف کو گرفتار کرلیا اغواہ کرنے کےجرم میں۔۔۔۔۔

###ہ

آفرین اور المیر ایک ساتھ گھر پہنچے تو مونا اور فاطمہ۔ہال میں ہی مل گئے جو شام میں آنے والے مہمانوں کی تیاری کررہی تھی ۔مونا جسکی آج خاص طور پہ یونی کی چھٹی کرائ گئ تھی۔عام سے حلیہ میں بیٹھی تھی۔المیر اور آفرین کو ایک ساتھ آتا دیکھ مونا نے آفرین سےکہا۔
اچھا ہوا بھابھی اپ جلدی آگئ مگر یہ کیا آپ عبائے میں ۔؟؟؟
مونا اپنی آگے کی بات بولتی اس سے پہلے اسکی نظر آفرین کے عبائے پہ پڑی ۔۔
مونا کی بات پہ فاطمہ کی بھی نظر عبائے پہ گئ تو وہ جہاں چونکی وہاں خوش بھی ہوئ۔۔
المیر جو افرین کو نیچے چھوڑ کے اوپر جا رہا تھا۔مونا کےسوال پہ ایک دم رکا اور پلٹ کے دیکھا اور پھر اوپر چلا گیا۔۔
وہ مونا کافی گر گئ تھی۔اس لیہ دوست کا عبایا پہنا ہے۔۔
مگر بیٹا تم پہ بہت جج رہا ہے فاطمہ نے ستائشی نظروں سے آفرین کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔
آفرین نے ایک طنزیہ ہنسی ہنسی اور کہا۔۔
ماما کبھی کبھی بہت سی ایسی چیزیں جنکی اہمیت ہماری نظر میں کچھ بھی نہیں ہوتی۔۔وہ صحیح وقت پہ غلط جگہ ہمیں اپنی اہمیت بہت اچھی طرح سمجھا دیتی ہے۔
فاطمہ اور مونا دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر آفرین کو مگر بولی کچھ نہی۔۔

#

المیرنے کمرے میں اکےالماری میں سے ایک سادہ ساقمیض شلوارکا سوٹ نکالا اور باتھ روم گھس گیا۔
شاور کھول کے المیر کپڑوں سمیت ہی شاور کے نیچے بیٹھا اور اپنے گھٹنوں پہ دونوں بازوں لپیٹے رونے لگا۔اج جو ہوا المیر کی سوچ کے برعکس تھا اگر اج وہ آفرین کو نہی ڈھونڈ پاتا تو یہی سوچ کے المیر کے آنکھوں سے اور تیزی سے بہنے لگے۔۔
المیر اپنے دل کا سارا غبار نکال کے جب باہر آیا تو آفرین بھی المیر کی ہی پوزیشن میں بیڈ کی سائیڈ پہ بیٹھی تھی ۔المیر نے بنا اسے دیکھے جاء نماز اٹھائ اور اسٹڈی روم میں بند ہوگیا۔۔
المیر کے جاتے ہی آفرین کے رونے میں اورشدت آگئ ۔
المیر کتنی ہی دیر اپنے الللہ کے آگے روتا رہا اور کا شکر ادا کرتا رہا۔اور وہی سوگیا۔۔

#

حمنہ کی طبیعت ناساز تھی اور اعیرہ کی پڑھائ بھی ٹف چل رہی تھی اس لیہ عالم اسکی والدہ ہمایوں کے ساتھ ہی کراچی کیلیے نکل پڑھے اعیرہ کو بہت رونا آیا کے وہ اپنی اپی کی بات پکی ہونے میں نہ جاسکی مگر ہمایوں نےاس سےوعدہ کیا کے وہ پہلے سمسٹر کے بعد اسے کراچی لے چلے گا ۔

#

رات تک عالم اور ہمایوں کی اینٹری ہوئ۔فاطمہ اورافتاب عالم سے ملکر بہت خوش ہوئے وہی مونا کو عالم اچھا لگا ۔۔جب کےعالم کی نظر تو لائٹ بے بی پنک کےلباس میں ملبوس مونا سے ہٹ نہی رہی تھی مونا ور سب کی رضامندی سے6مہینے بعد کی شادی کی ڈیٹ فکس ہوئ۔سب ہی جہاں خوش تھے وہی ہمایوں کی نظر المیر اور آفرین پہ تھی جنکے چہرے پہ چھپا درد ہمایوں سےنہ چھپ سکا بظاہر تو سب صحیح تھا مگر کہئ نہ کہی کچھ تھا ۔ہمایوں کو غور سے آج اپنے دوست کو دیکھ رہا تھا جسکے چہرے کی شوخی آج کہی غائب تھی۔۔
عالم اور اسکی والدہ نے آفتاب صاحب سے جلد اجازت لی کیونکہ دو گھنٹے بعد انکی انگلینڈ کی فلائٹ تھی جبکے ہمایوں رکا تھا اسکی صبح کی لاہور کی فلائٹ تھی۔۔سب ہی اپنےاپنے کمروں میں آرام کرنے چلے گئے مگر المیر آج چھت پہ تھا گم سم سا جبھی اسے اپنے پیچھے قدموں کی آہٹ سنائی دی المیر نے پلٹ کے دیکھا تو ہمایوں سینے پہ ہاتھ باندھے کھڑا تھا۔
ہمایوں المیر کے قریب آیا اورکہا۔۔۔
کیا چھپا رہا ہے میرے یار اتنی دیر سے ۔کونسا درد جھل رہا ہے اندر اندر اپنےیار کو نہی بتائے گا ۔
ہمایوں کا اتنا بولنا تھا ۔کے المیر زور سے ہمایوں کے سینے سے لگ کےرونےلگا ہمایوں کافی ڈر گیا المیر کے ایسےرونے پہ ہمایوں کی بھی آنکھیں بھیگ گئ اور اس نے کہا۔۔
المیر کیا ہوا میرے یار ایسے ڈرا مت بتا مجھے۔۔
المیر نے روتے روتے کہا۔۔
میں ہارگیا یار وہ جیت گئ میری محبت بھی اسکو بدل نہیی پائ توصحیح کہتا تھا چھوڑ دینا تھا مجھے آفرین کو اسکے حال پہ۔۔
یہ کہہہ المیر ہمایوں سے الگ ہوا اور پھر آج کا سارا واقعہ اسےسنا دیا جیسے سن کےہمایوں سکتے میں آگیا مگر فلحال اس کے پاس ایسے کوئی الفاظ نہی تھےجو المیر کو سکون دے سکے۔۔
اور اگلے دن ہمایوں بنا سب سےملے لاہور اگیا۔
اس سے المیر کی حالت دیکھی نہی گئ ایک محبت کو حلال طریقہ سے پانے کی ایسی سزا یہ سوچ سوچ کے ہی ہمایوں کو وہاں دم گھٹ رہا تھا۔

#

ایک ہفتہ نہ تو المیر نے آفرین کیطرف دیکھا نہ اس سے بات کی آفرین خودبہت گم سم سی رہنے لگی تھی المیر صبح بنا آفرین سے ملے آفس چلا جاتا اور واپسی بھی کافی دیر کو آتا
اج صبح سب ہی ناشتہ کی ٹیبل پہ موجود تھے جب المیر نےسںب کو یہ کہا۔
پاپا اورمما آج شام میری لندن کی فلائٹ ہے وہاں میں اپنی کمپنی کی ایک اور برانچ کھولی ہے کتنا ٹائم لگے گا کچھ پتا نہہی۔۔
المیر کی بات سنکے سب ہی شوکڈ کچھ ایسا ہی حال آفرین کا تھا مگر اب اس میں اتنی ہمت نہی تھی نہ شاید اسکا حق تھا کے وہ پوچھ سکے کےواپس کب اوگے۔۔
مگر بیٹا ایسےکیسے ؟؟؟
آفتاب اورفاطمہ نے ایک ساتھ یہ سوال کیا۔
جبکہ مونا تو باقاعدہ رونے لگی المیر نے اٹھ کےمونا کوگلا لگایا تو اسکی خود کی بھی آنکھیں بھیگنے لگی قسمت المیر کو اس موڑ پہ لے آئی تھی کے نہ وہ آگے بڑھ سکتا تھا نہ پیچھے مڑ سکا ۔
اور پھر سب کے دلوں میں ہزار سوال چھوڑ کے بنا آفرین سے ملے المیر لندن چلا گیا۔۔۔
جاری ہے۔۔