50.9K
64

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4

شیر خان کے کہنے پہ باچا خان نے وادی کے ایک ایک بندی کو یہ بات اچھی طرح زہین نشین کرادی تھی… کہ شیر خان کا اکلوتا بھتیجا ..ایک ہفتہ بعد وادی ارہا ہے..اگر کسی نے بھی یہاں کے ماحول کی خبر اسے دی تو اگلے دن کا سورج وہ دیکھنے کے قابل نہی.ہوگا…
نمرہ نمرہ…
نورین بیگم کی گرجدار آواز پوری حویلی میں گونج رہی تھی…
15 سالہ.نمرہ جو اپنی.بکریوں کیساتھ کھلینے میں.مگن تھی اپنی ماں کی آواز سن کے ڈورتی ہوئ انکے پاس پہنچی..اور پھولتی ہوئ سانس سے کہا…
جی جی اماں.. اپ نے ام کو بلایا….
نورین بیگم نے ماتھے پہ تیوری چڑھا کے کہا.
کہاں تھی تم.. تم کو پتا ہے شاہ زین لالہ آرہا ہے. جاکے انکے کمرے کی اچھے سے صفائ کرو… ام اکے دیکھے گا اگر زرا بھی ام کو مٹی دیکھی تو تمہاری خیر نہی….
جی جی.اس سے پہلے نمرہ انکے حکم کی تکمیل کرتی..پیچھے سے اتی رابعہ کی آواز پہ دونوں نے گھوم کے اسے دیکھا…
اماں ام کردیتا ہے صفائ نمرہ سے نہی ہوگی…….
رابعہ کی بات پہ نورین بیگم نے ہاں میں گردن ہلائ.. اور اگے کو چل دی…
جبکہ نورین کے جاتے ہی نمرہ نے سکھ کا سانس لیا اور رابعہ کے گلے لگ کے کہا…
اپی شکر ہے تم نے ام کو بچا لیا..ام سے واقعی نہی ہوتی صفائ.. ابی ام کو کام بھی کرنا ہے اسکول کا…
رابعہ نے پیار سے اپنی سے تین سال چھوٹی بہن کو دیکھا جو بلا کی خوبصورت تھی…
نمرہ تو یہ بول کے چلی گئ اور رابعہ نے زین کے کمرے کی راہ لی….
زین کے کمرے میں اتے ہی رابعہ نے سب سے پہلے دیوار پہ لگی زین کی تصویر کو دیکھا…
گہری ہری آنکھیں..کھلتی.ہوئ رنگت.. لمبی ناک لمبا قد… 23سالا زین کب رابعہ کے دل پہ براجمان ہوا رابعہ کو پتا نہی چلا…
مگر 17 سالہ رابعہ زین کے دل کا حال نہی جانتی تھی اسے نہی پتا تھا باہر ملک سے پڑھ کے آنے والا زین کیا اب بھی اسکا وہی 13 سال پرانا دوست تھا یہ نہی اسکی زندگی مین کوئ شامل تھا یہ نہی…یہ تو زین کے آنے کے بعد ہی معلوم ہونا تھا…¤¤¤¤¤
..¤¤¤¤
(حال)
سٹی اسکول کے گراونڈ میں سارے اسٹوڈینٹ..پورے انہماق سے لڑائ دیکھ رہے..
میٹرک کی اسٹوڈینٹ..اعیرہ
اور اسی کا کلاس فیلو. عابد کی

تمہاری ہمت کیسے ہوئ مجھے موٹی بولنے کی. اعیرہ نے عابد کے بال اپنی دونوں مٹھیوں میں جکڑے ہوئے تھے..
ہان تو تم ہو موٹی الللہ میری توبہ دو دو سموسے ایک برگر اور دو دو رول.کھانی والی.کو موٹی بولتے ہیں..بلکلہ.ہیپپو پوٹیمس.. بھی کہتے ہیں عابد نے بھی اسکے لمبے سیاح بال کو جو لمبی لمبی.چوٹیاں میں قید تھی..اپنے ہاتھوں میں جکڑے میں ہوئے تھے…کھینچ کے کہا…
میں ہیپوپوٹیمس ہو تو تم بھی جھاڑوں سے بچھڑے ہوئے تنکے ہو.. الللہ میری توبہ ایک پھونک کے بھی نہی ہو تم.. اعیرہ شاہ کے.. کالے بلڈوگ اج میں تم.کو نہی.چھوڑنی والی..
ارے اعیرہ چھوڑ دے اسے.. اعیرہ ااااا.اعیرہ کو پیٹ سے پکڑ کے ہیچھے کرتی اسکی دوست انعم نے کہا……
یو ہیپوپوٹیمس…دشمن اناج کی کالی..بھینس.سرکاری بلڈوزر…تم پورے اسکول کی کینٹین چٹ کرنے والی.. اج میں بھی تمہیں نہی چھوڑونگا یہ بول کے عابد نے اور زوع سے اعیرہ کے بال.کھنیچے.
ارے عابد چھوڑ اسے تجھ سے چھوٹی ہے لڑکی ہے یار چھوڑ اسے عاطف جو عابد کو پکڑ کے مسلسل اس سے اعیرہ کے بال چھوڑ وا رہا تھا…
لڑکی نہی ڈائین ہے یہ.عاطف ڈائین میں تو تجھ سے بات کررہا تھا یہ درمیان میں کیوں کودی….
عابد کی بات سن کے اعیرہ نے زور سے عابد کی آنکھ پہ.پینچ مارا اور کہا…
کیوں کے اس پورے اسکول میں اعیرہ نام کی ایک ہی لڑکی ہے اور وہ میں ہو…
اعیرہ. نے عابد کی آنکھ پہ.مانچ مارا تو جہان عابد کی گرفت اسکے بالوں پہ ڈھیلی پڑی..وہی وہاں موجود کھڑے اسٹوڈینٹ کا ہاتھ اپنے منہ پی.گیا .جو کے ہنسی روکنے کیلیے تھا جبکہ عابد کا تو صدمہ سے منہ ہی.کھل گیا کیوں کے اسکے آنکھ اس پاس سے نیلی ہوچکی تھی…جبک انعم اور عاطف تو فورا وہاں سے رفو چکر ہوگئے.. کیونکہ دونوں پرنسبل کو گروانڈ کی طرف آتا دیکھ چکے تھے…
..
کیا ہو رہا ہے یہاں…؟؟؟
پرنسپل کی.گرجدار آواز میں گروانڈ دو منٹ میں کلیئر ہوگیا…
پرنسپل نے اکے ان دونوں.کا الگ کیا اور کہا…
یہ کیا ہو رہا ہے یہ کسطرح کا بیہوو کررہے ہو اب دونوں.کوئ نرسری کے بچے نہی.ہو اپ دونوں میٹرک کے اسٹوڈینٹ ہو… یہ کونسا طریقہ سے اسکول میں رہنا اپ دونوں کو تین دن کیلیے اسکول سے سپینڈ کیا جاتا ہے.. اپ دونوں فورا میرے آفس میں آؤ…
اور اب سب لوگ یہاں کوئ میلا لگا ہے فورا اپنے کلاس میں جائے…
پرنسپل نے اچانک پلر کے.پیچھے ان اسٹوڈینٹ کو دبارہ ٹارگٹ کیا… جو چھپ کے ان دونوں کا ڈانٹ کا سین دیکھ رہے.تھے…
پرنسپل کے آفس میں وہ دونوں گردن جھکا کے بیٹھے تھے جبکہ ایک ٹیچر عابد کی آنکھ کی سیکائ کر رہی تھی…
اعیرہ اپ کو کچھ احساس ہے اپ نے کس طرح عابد کی آنکھ پہ مارا ہے اپکو اندازہ بھی ہے عابد کی آنکھ ضائع بھی ہو سکتی یہ الللہ نہ کرے اس کی بینائ بھی جاسکتی تھی ایسا کیا ہوگیا جو اپ گلی محلے کے بچوں کیطرح مارکٹائ پہ اتر آئ…
.پرنسپل کے پوچھنے پہ.اعیرہ نے کہا…
میم یہ.اپنی دوستوں کے ساتھ ملکے میرا مزاق اڑا رہے تھے….
اعیرہ نے کمال.کی.ایکٹنگ کرکے اپنی صفائ پیش کی جبکہ عابد کا دل کیا کہ اس ہیپوپوٹیمس کا گلا ہی دبا دے….
تو اپ بھی اپنی.زبان استعمال کرتی ہاتھوں کو زحمت کیوں دی.اپنے….
اور عابد اپ اپ نے کیوں اپنے دوستوں کیساتھ مل کے اعیرہ کا مزاق اڑایا…..؟؟؟؟؟
میم ہم دوست اپنی بات کررہے تھے.. یہ خاماخائ میں درمیان میں کودی….
میم یہ جھوٹ بول رہا. ..
نہی میم یہ جھوٹ بول رہی..ہے….
عابد اور اعیرہ ایک بار شروع ہو چکے تھے کہ جبھی پرنسپل کی گرجدار آواز آفس میں گونجی…
o please shut up.boht of you…
اپ دونوں.اپنا بیگ پیک کرے اپ دونوں کے گھر کال کی جا چکی ہے…
اب اپ دونوں جا سکتے ہیں….
پرنسپل کا حکم سن کے دونوں ہی منہ لٹکا کے آفس سے باہر نکل.آئے …..
آفس سے نکلتے ہی.اعیرہ نے… کہا..
game is not over mr.abid..
عابد جو پہلے ہی آنکھ کی تکلیف سے اد موا ہو رہا تھا
گھور کے اعیرہ کو دیکھا اور کہا…
یاد رکھنا ہیپوپٹیمس اس چوٹ کا بدلہ میں ضرور لونگا.
یہ بول کے عابد نے اپنے چلنے کی اسپیڈ اور بڑھا دی..
جبکہ اعیرہ جو ابھی خطرناک قسم کی شیرنی بنی ہوئ تھی اب بلکل بھیگی بلی بن کے یہ سوچنے پہ مجبور ہوگی..
کہ اسکول سے جانے والا فون گھر میں کس نے اٹینڈ کیا ہو گا….
وہ کلاس میں پہنچی تو سبھی چپ چاپ کھڑے تھے جبکہ اسکی دوست انعم بھی منہ پھولائے کھڑی تھی جسکا مطلب صاف تھا وہ اعیرہ سے ناراض ہے…
اعیرہ نے اپنے گاون پہنا.. سر پہ اسکارف باندھا اور آفس کی طرف چل پڑی…جبکہ عابد کی آنکھ دیکھ کے سب ہی اسکی خیریت پوچھ رپے تھے….
دونوں آفس پہنچے.. تو عابد کی والدہ جو سخت غصہ میں تھی مگر عابد کا چہرہ دیکھ کے انکا سارا غصہ اڑن چھو ھو ہوگیا….
مگر جب عابد سے انہیں یہ پتہ چلا کہ یہ اعیرہ نے کیا ہے تو انہوں نے بنا لحاظ کیہ اعیرہ کو سنانا شروع کردیا..
جبکہ اعیرہ تو اپنے گھر سے انے والے نفوس کو دیکھ کے ہی لرز گئ…اور رہی کسسر اس شخص کی بند مٹھیوں نے.پوری.کردی جو اس عورت کی باتوں کی وجہ پھینچی ہوئ تھی……
توبہ لڑکی.ہوکے ایسے رنگ ڈھنگ لڑکوں سے لڑائ..ارے یہ تمیز سیکھائ ہے تمہاری ماما نے کے لڑکوں کے منہ لگو.. اف حد ہوگی کیسی بدتمیز لڑکی ہے….
وہ عورت اپنے دل کی بھڑاس نکال کے جب جا چکی تو… کرسی پہ بیٹھے نفوس نے گردن گھما کے اعیرہ سے…. کہا…
چلے اعیرہ…
جبکہ اعیرہ کا چہرہ تو المیر کو دیکھ کے ہی شرم سے جھک گیا…
وہ دونوں آفس سے نکلنے لگے..جب پیچھے سے اتی پرنسپل کی آواز پہ دونوں رکے تو پرنسپل نے المیر کو مخاطب کرکے کہا…
اعیرہ کو تین دن.کیلیے اسکول سے سپینڈ کردیا گیا ہے….
پرنسپل کی بات پہ اعیرہ نے اپنی آنکھیں زور سے بند کی جبکہ المیرہ تیزی سے آفس سے نکل گیا.
گاڑی میں مکمل خاموشی تھی اعیرہ نے کئ بار گردن گھما کے اپنے برابر میں بیٹھے ڈرائیونگ .کرتے المیر کو دیکھا جسکی اسٹیرنگ پہ گرفت اس بات کا ثبوت تھی کہ وہ اپنا غصہ زبط کررہا ہے…
گھر کے پاس گاڑی روکی ..اعیرہ گاڑی سے اتری تو المیر بھی اتر کے اسکے پاس آیا اور کہا..
ماما کو یہی بولنا کے تمہاری طبیعت خراب تھی اس لیہ اسکول سے کال آئ تھی….
یہ بول کے المیر اندر بڑھا تو اعیرہ بھی سست روی سے اسکے پیچھے چل دی…
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
آفتاب شاہ.. جو کراچی کے نامور بزنس مین ہیں والدین کے اکلوتے ہونے کی وجہ سے انکے والدین نے انکی شادی انکی.یونی فیلو فاطمہ سے کرادی..آفتاب کی والدہ.جو یونی کی.لڑکی سے شادی.کرنے پہ سخت ناراض تھی..مگر فاطمہ نے اپنے حسن سلوک سے سب کا دل جیت لیا.. والدین کے انتقال کے بعد فاطمہ نے ہر طرح سے آفتاب کا ساتھ دیا…
افتاب اور فاطمہ کی تین اولادیں تھی….بڑا بیٹا المیر اس سے چھوٹی..مونا اور سب سے چھوٹی سب کی لاڈلی اعیرہ…
دنیا.کی.ہر شہ تھی فاطمہ مینشن میں مگر…اس گھر کا ایک اصول تھا.. گھر کا پورا کنٹرول فاطمہ.کے انڈر مین تھا.. دنیاوی تعلیم کیساتھ ساتھ. فاطمہ نے دینی تعلیم کو بہت اہمیت دی تھی..
ہائ سوسائٹی سے ہونے کے باوجود.. جہاں.22 سالہ مونا پردہ.کرتی تھی.. وہی 16 سالہ اعیرہ کا بھی کچھ ایسا ہی حال تھا.. مونا سے زیادہ المیر کی.جان اعیرہ میں بستی.تھی.
..اسکول سے اعیرہ کی کمپلین آی.وہ.بھی کسی لڑکے سے جھگڑنے کی تو المیر کا غصہ آسمان پہ پہنچ گیا…
وہ یہ بھی جانتا کہ کتنی.منتوں کے بعد اعیرہ کو قو ایجوکیشن میں پڑھنے کی.اجازت ملی تھی وہ.بھی المیر کے.کہنے پہ.کیونکہ اسکی شوخ طبیعت اور ہر بات پہ جرح کرنے کی عادت سے سب ہی کو شکایت تھی جبکی اسکے مقابل مونا کافی سمجھدار اور سوفٹ نیچر کی.لڑکی تھی اس لیہ اسکی یونی جانے کی سفارش افتاب نے کی تو جو قبول ہوگئ تھی.
جب فاطمہ.کو اج اسکول میں ہوئے اعیرہ کی.لڑائ کا پتہ چلتا تو یقیین اعیرہ کے ساتھ ساتھ المیر بھی لپیٹے میں اتا..جوان ہونے کے باوجود فاطمہ کے سارے بچے اہنے باپ سے زیادہ فاطمہ کے غصہ سے ڈرتے تھے…¤¤¤¤¤¤
¤¤¤¤¤
فاطمہ بے چینی سے المیر اور اعیرہ کا انتظار کر رہی تھی. .کیوں کہ المیر نے اس جاتے ہوئے صرف یہ کہا تھا کہ اسکول والوں نے بلایا ہے…
المیر اور اعیرہ گھر میں داخل ہوئے تو.. فاطمہ فورا انکی طرف لپکی اور کہا…
کیا ہوا المیر اسکول والوں نے.کیوں بلوایا تھا.. اور یہ اعیرہ کو کیا ہوا…
فاطمہ نے گور سے اعیرہ کے مرجھائے چہرے کو دیکھ کے پوچھا…
ماما اس کی طبیعت اچانک خراب ہوگئ تھی.. اس لیہ اسکول والوں نے کال تھی…المیر کے بتانے پہ.فاطمہ نے فورا اعیرہ کو گلے سے لگایا اور کہا….
..
کیا ہوا میری جان ..طبیعت ٹھیک نہی تو نہی جاتی نہ اسکول. فاطمہ بے چینی سے اسکا کبھی ماتھا چیک کرتی کبھی سر…
المیر ساری کاروائ دیکھ رہا تھا جبکہ. فاطمہ کے رویہ پہ اعیرہ کو شرمندگی نہ ان گھیرا….
ماما میں اسکے اسکول.میں اسکی تین چار دن کی لییو کا بول آیا ہو.. ابھی اسے ریسٹ کرنے..دے.
جاو اعیرہ اپنے کمرے میں جاو…
المیر کی بات سن کے اعیرہ مردہ چال چلتی ہوئ. اپنے کمرے میں پہنچی…
اعیرہ کے جاتے ہی المیر نے فاطمہ سے کہا..
ماما اسٹریس مت لے بخار ہے خالی …
اور پلیز پاپا کو کال.مت کر دیجیے گا…میں ابھی آفس جا رہا ہو مونا کو یونی سے لیتا ہوا آونگا.. پھر لنچ پہ ملاقات ہوگی.انشاءاللہ…
یہ بول کہ المیر نے فاطمہ کے ماتھے پہ.اپنے لب رکھے اور چلا گیا….
المیر کے جاتے ہی فاطمہ نے ایک نظر اعیرہ کے کمرے کے بند دروازے کو دیکھا اور پھر اپنے کمرے میں چلی.گئ..
پورا دن اعیرہ المیر کو سوری کرنے کا طریقہ ڈھونڈتی رہی …
کیونکہ اس گھر کا ا صولوں کے مطابق جب تک اعیرہ اپنی اسٹڈی مکمل نہی.کرتی اسے موبائل آلاو نہی کیا جائے گا. لنچ میں بھی اعیرہ کا سامنا المیر سے نہی ہوا جبکہ مونا کو اعیرہ کی طبیعت خراب ہونے والی بات ہضم نہی ہورہی تھی…..
اس لیہ اس نے ڈنر کرنے کے بعد اعیرہ کے کمرے کا رخ کیا… اعیرہ کے کمرے میں پہنچ کے مونا کو شدید جھٹکا لگا….کیوں وہ اپنے کمرے میں نہی تھی…
¤¤¤¤¤¤¤
ڈنر کے بعد اعیرہ نے بہت ہمت کرکے المیر کے کمرے کا رخ کیا….
ہلکی سی ناکک کیساتھ وہ المیر کے کمرے میں داخل ہوئ تو المیر اسے کمرے کی کھڑکی کے پاس کھڑا نظر آیا….
المیر اچھی طرح جانتا تھا کہ اس کے کمرے میں کون آیا..یے….
اب کیا بولنے آی ہو اعیرہ میرے لاڈ پیار کا انعام تو تم اسکول میں دے چکی…
المیر کا بولنا تھا اعیرہ ڈور کے المیر کے ہاتھ سے جاکے لگ گئ اور کہا…
بھائ سچ میں آئندہ نہی کرونگی.. پکا بھائ پلیز مجھ سے بات کرے اپکو پتہ ہے نہ جب تک اپ مجھ سے بات نہی.کرتے مجھے نیند نہی آتی پلیز بھائ معاف کردے..
اعیرہ کے آنسو المیر کے دل پہ گر رہی تھی.. اس نے اپنارخ موڑا اور اعیرہ کے آنسو صاف کرتے ہوئے..کہا….
اعیرہ میری پری اپ جانتی ہو نہ میں اپ کو مونا سے زیادہ چاہتا ہو…
اب کو اندازہ نہی.جب عابد کی ماما اپکو سنا رہی تھی تو میری کی حالت تھی..
بھائ اس نے پہلے شروع کی لڑآئ تو پھر مجھے بھی غصہ آگیا…
تو میری پری اپ مجھے بتاتی اپ نے اس پہ ہاتھ اٹھایا اپنے اسکی آنکھوں کی.کنڈیشن دیکھی تھی…اگر کچھ ہو جاتا تو… یہ بات اگر ماما کو پتہ چل گئ کہ اپکی طبیعت خراب نہی ہے بلکہ اپکے لڑنے کی وجہ سے اپکو اسکول سے تین دن کیلے سسپینڈ کر دیا گیا ہے.. تو اپ اچھی طرج جاتی ہو ماما کا کیا ریکشن ہوگا. اپکے ساتھ ساتھ میری بھی کلاس لگے گی…
¤¤¤¤¤
یہ بول کے المیر چپ ہو تو اسکی نظر اچانک دروازے پہ کھڑے نفوس پہ پڑی……
االمیر کی نظروں کے تعاقب میں جب اعیرہ نے دروازے کی طرف دیکھا تو وہ سکتے میں آگئ…..
جاری ہے…