Rate this Novel
Episode 12
ہر بار کی طرح اس بار بھی حمنہ نے ہمایوں کیساتھ کراچی جانے کا منع کردیا. لاکھ ہمایوں کی ضد کی باجود حمنہ.نہ.مانی.اور وہ.حمنہ کے پاس بوا کو چھوڑ کے کراچی کیلیے نکل.گیا…
آئرپورٹ سے نکل.کے ابھی ہمایوں کی گاڑی طارق روڈ تک.ہی.پہنچی تھی.. کہ ایک گولی اسکے کار کے فرنٹ مرر پہ اکے لگی.. ہمایوں چونکہ خود گاڑی ڈرائیو کررہا تھا… اس لیہ اس سے گاڑی تھوڑی سی دسبیلینس ہوئ مگر ہمایوں نے بروقت اسے سنبھال لیا…کہ جبھی اچانک تین چار فائر ایک ساتھ ہوئے اور گاڑی ایک دم فٹ پاٹھ سے تکرا کے پلٹ گئ…
¤¤¤¤¤¤¤¤
ثنا جو کب سے نومی کی کال کا ویٹ کرہی تھی…نومی نے کال.کرکے اسے بتایا کہ گاڑی بری طرح فٹ پاٹھ سے تکرا کے پلٹ گئ ہے….اور زیادہ نہی تو ٹانگوں سے تو معزور ہو ہی.جائے گا…
نومی کی کال کٹ ہوتے ہی ثنا کے چہرے پہ.ایک شاطرانہ مسکراہٹ آی اور اسنے ہلکی سی سرگوشی میں کہا…
اب تمہیں میرا ہونے سے کوئ نہی.روک سکتا.ہمایوں
¤¤¤¤¤
گاڑی پلٹنے پے ہمایوں وقتی طور پہ بیہوش ہوا تھا
مگر..کچھ جلنے کی بو انے سے اور دھواں سے ہمایوں کی آنکھ کھل گئ…
اس نے جب گردن گھما کے دیکھا تو گاڑی کے بیک سائیڈ پہ اگ لگی ہوئ جو بہت جلد پوری گاڑی کو اپنی لپیٹ میں لینے والی تھی..ہمایوں نے جلدی سے دروازہ .کھولنے.کی.کوشش کری مگر دروازہ بوری طرح ڈیمج ہوگی تھا…
روڈ پہ کھڑے سارے لوگ بس تماشہ بنے ہمایوں کو موت کے منہ میں جاتا دیکھ رہے تھے کسی میں اتنی ہمت نہی تھی کہ.اس جلتی ہوئ گاڑی کے پاس جاکے ہمایوں کی.مدد کرسکے..
جب ہمایوں نے ہرطرح سے کوشش کرکے دیکھ لیا
اور یقین ہوگیا کے وہ اس گاڑی سے باہر نہی نکل سکتا..یہہی گاڑی اسکی موت کا سبب بنے گی تو ہمایوں نے آنکھیں بند کرکے الللہ کا نام لیا کلمہ پڑھا اور اخر میں جب اپنی ماں کو پکارا تو اسکی آنکھوں سے آنسو جاری ہونے.لگے…
مگر کہتے ہیں نہ.جیسے الللہ رکھے اسے کون چکھے ایسا ہی کچھ ہمایوں کیساتھ ہوا..
اچانک ہمایوں کی طرف والا شیشہ پہ کوئ زور زور کچھ مار رہ تھا..
ہمایوں نے آنکھ کھول.کے دیکھا تو ایک 15 سال کی.لڑکی بڑے پتھر سے اسکی طرف کا شیشہ توڑ رہی تھی.. ہمایوں نے حیران ہوکے اس لڑکی کو دیکھا جو انجان ہوکے بھی اپنی جان کی.پرواہ کیے بغیر اسکی جان بچا رہی تھی.. زرا سا شیشہ توٹا تو اس لڑکی نہ اس ٹوٹے ہوئے شیشہ سے جھانک کے کہا…
انکل اپ اندر سے شیشیہ کو دھکا مارو وہ ٹوٹ جائے کا جلدی کرو انکل…
اپنے اپ کو انکل بولنے پہ ہمایوں کو صدمہ تو بہت ہوا مگر یہ وقت ان باتوں کا نہی تھا..
لڑکی کے.کہنے پہ.ہمایوں نے زور سے سے اپنا ہاتھ اس شیشہ پہ مارا..تو شیشہ واقعی باہر کو گر پڑا..اس لڑکی نہ اپنا ہاتھ بڑھا کے ہمایوں کو کہا..
انکل جلدی میرا ہاتھ پکڑے اور باہر کو انے کی.کوشش کرے کیونکہ گاڑی کبھی بھی تباہ ہو سکتی ہے..پلیز.. ہمایوں نے فورا اس لڑکی ہاتھ تھاما تو لڑکی نے اپنا دوسرے ہاتھ سے ہمایوں کا دوسرا ہاتھ بھی پکڑا اور اپنی پور جان لگا کے ہمایوں کو باہر نکالا. اسی وقت لڑکی کا اسکارف جو بالوں مییں لپٹا تھا کھل گیا اور اسکے بال ابشار کی طرح اسکا وجود چھپا گئے…ہمایوں تو اسکا چہرہ دیکھ کے پلک جھپکانا بھول گیا…..
لڑکی نے فور اسکا ہاتھ پکڑا اور بھاگ کے فٹ پاٹھ کے نیچے کود کے جھک گئ.. ساتھ میں ہمایوں کو بھی کہا.انکل سر جھکائے فورا..ہمایوں نے جیسی ہی سر جھکایا.گاڑی اسی وقت تباہ.ہوگئ.گاڑی کے تباہ.ہوتے ہی لڑکی نے اپنا منہ ہمایوں کے کندھے مین چھپا لیا…
جبکہ ہمایوں کو اس لڑکی کو دیکھ کے لگا کہ شاید اسکا دل اب ڈھرکے گا..نہی.لمبے بال کالی سیاح آنکھوں چھوٹی سی ناک اور ہونٹ کے اوپر تل ابھی ہمایوں اسکا اور معائنہ کرتا کہ ایک آواز پہ دونوں نے سامنے دیکھا..
اعیرہ تم ٹھیک ہو؟؟
..اعیرہ کے دوستوں کا گروپ تھا..اج انکا لاسٹ پیپر تھا تو اعیرہ بہت مشکل سے اپنی امی سے جازت لیہ کے آئسکریم کھانے آئ تھی..وہ لوگ آئسکریم پالر سے نکلے ہی تھے کہ ایک دم گولی کی آواز پہ وہ لوگ ٹھٹکے ..
ابھی وہ.لوگ یہ دیکھتے کے گولی کی آواز کہاں سے آئ کہ جبھی اچانک تین چار گولی کی آواز ایک ساتھ آی اور ایک پیجارو گاڑی جو تیزی سے آرہی تھی جسکا فرنٹ کا شیشہ ٹوتا ہوا تھا فٹ پاٹھ سے تکرا کے پلٹ گئ اور تھوڑی دیر بعد اسکے بیک سائیڈ پہ.آگ لگ گئ..اعیرہ نے جب جھک کے گاڑی میں دیکھا تو کوئ آدمی باہر نکلنے کی کوشش کررہا تھا.. مگر جب اسکی.کوشش ناکام ہوئ.تو اس نے آنکھیں بند کرلی..ہمایوں کا.ایسا آنکھیں بند کرنے پہ.پتہ نہہی اعیرہ کا دل اتنی زور سے ڈھرکا اور اس نے اس پاس نظر ڈورائ. جب سب ہی تماشائ بن کے اس گاڑی کو دیکھ رہے تو اعیرہ اگے بڑھ گئ ہمایوں کو بچانے کیلیے اسکے دوستوں نے اسے روکنے کیلیے کافی آوازیں دی مگر شاید اج الللہ.کو کچھ اور ہی.منظور تھا..
ہمایوں نے ان چارون کو دیکھا اور پھر اعیرہ.کو جو اپنے پیچھے لٹکے بیگ میں سے ڈوپٹہ نکال.کے اپنے سر پہ باندھ رہی تھی..
ہمایوں نے دل سے اعیرہ کا شکریہ ادا کیا تو اس نے کہا..
اپ شکریہ نہ بولے انکل شاید الللہ نے مجھے اپکی.مدد کیلے ہی بھیجا تھا..اپنا خیال رکھیے گا
یہ بول اعیرہ اپنے دوستوں کیساتھ اگے بڑھ گئ..جبکہ ہمایوں اسکو جاتے ہوئے دیکھنے لگا..
اعیرہ کے دوستوں نے خاص کر عابد اور انعم نے کہا…
یار اعیرہ تم تو بہت ہمت والی ہو مگر اتنے ڈیشنگ بندے کو تمہیں انکل نہی بولنا چاہیے تھا..انکی.عمر المیر بھائ کے جتنی ہے یہ ایک دو سال بڑھے ہونگے…اور خاص کر انکے گولڈن بال اور نیلی آنکھیں..اففف وہ کہاں سے تمہیں انکل لگے اعیرہ..یہ انعم جو مسلسل صدمہ میں تھی..
انعم کی بات سن کے اعیرہ نے گھور کے اسے دیکھا اور کہا..پتہ ہے بہت ہینڈسم ہے وہ.. مگر جو اس وقت مجھے لگا میں نے بول دیا….اعیرہ کی بات سن کے سب نے ہاں میں گرد ہلائ.. تو اعیرہ نے ایک بار پیچھے مڑ کے دیکھا تو وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا..
اعیرہ اسکو دیکھ کے مسکرائ اور اگے بڑھ گئ..جبکہ ہمایوں نے اپنا سر کھجاتے ہوئے. اپنے دل سے کہا..
عمر میں کافی چھوٹی نہی
.یہ بول کے ہمایوں ہاتھ دیکے ٹیکسی کو روکا اور فورا اس مین سوار ہوکے تیزی سے ڈرائیور کو چلنے کو کہا…
جاری ہے..
