Gunah Se Wapsi By Mariyam Imran Readelle50215 Episode 45 Part 2
Rate this Novel
Episode 45 Part 2
سب ہی ڈائننگ ٹیبل پہ رات کو کھانا کھانے بیٹھے تھے جب فاطمہ نے مونا سے کہا ۔۔
مونا آفرین نہی آئ کھانا کھانے؟؟؟
ماما میں گئ تھی بولانے جب تو وہ نماز پڑھ رہی تھی عشاء کی میں ابھی دوبارہ جاتی ہو بولانے ۔۔
یہ بول کے مونا ٹیبل پہ سے اٹھنے لگی جب فاطمہ نے اسے روکا اور کہا ۔
تم رکو میں بلا کے لاتی ہو ۔۔یہ بول کے فاطمہ اتھ کے آفرین کے کمرے کی طرف گئ ابھی اس نے افرین کا کمرہ ناکک کرنے کیلیے ہاتھ بڑھایا ہی تھا اندر سے آفرین کی رونے کی آواز آنے لگی۔فاطمہ تیزی سے آفرین کے کمرے کے اندر گئ تو وہ سجدہ زیر روتے روتے کہہ رہی تھی۔۔
یاالللہ میرے گناہ معاف کردے میرے شوہر کا دل صاف کردے یاالللہ اب میں کبھی بھی بھٹکونگی نہی بس ایک بار میرے مولا مجھے بخش دے بخش دے۔۔
فاطمہ نے تیزی سے آکے افرین کو سجدہ سے اٹھایا اور کہا۔
کیا ہوا میری بچی کیا ہوا؟؟؟
فاطمہ کو دیکھ کے آفرین تیزی سے فاطمہ کے گلے لگ گئ اور روتے روتے کہنے لگی۔۔۔
ماما المیر کو کہے نہ مجھے معاف کردے میں بٹھکی ضرور تھی مگر میں نے کوئ بدکاری نہی کی صرف محبت کی تھی ماما بولے نہ المیر کو کے واپس اجائے میں میں اب نہی کرونگی وعدہ بس وعدہ یہ بول کے آفرین تیزی سے فاطمہ سے الگ ہوئ اور کہنے لگی ۔۔
ماما اب بولینگی نہ المیر آپ کی بات نہی ٹالئنگے قسم سے مما یہ دیکھے میں کان پکڑتی ہو معافی دلوادے ایک بار المیر کو کہہ مجھے معاف کردے بھلے ساری زندگی مجھ سےنفرت کرے مگر مگر مجھے معاف کردے واپس اجائے ۔۔۔,
فاطمہ نے آفرین کے آنسو صاف کرے آفرین کی حالت اس فقیرنی کی جیسی تھی جسکی جھولی بھری تھی مگر وہ خالی دامن تھی۔۔۔
فاطمہ نے آفرین کو بیڈ پہ بیٹھا ہے اسےپانی پلایا اور پوچھا۔۔۔
کیا ہوا ایسا آفرین جو تمہیں سجدوں میں اپنے گناہ کی معافی مانگنی پڑی ۔۔؟؟؟؟
ایسا کونسا گناہ ہوگیا آفرین مجھے بتاؤ میرا دل بند ہو جائے گا۔۔..
فاطمہ کے پوچھنے پہ آفرین نے ایک ایک بات فاطمہ کو بتا دی اسکے بعد فاطمہ کےپیر پکڑ کے اس سے معافی مانگنے لگی اور کہنے لگی۔۔
ماما میں نے صرف محبت کی تھی۔ مگر کبھی الللہ کی بنائ حدود کو نہی توڑا میرا گناہ بہت زیادہ ہے ماما مگر مجھے معاف کردے میں بہت بے چین ہو میں میں نہی رہ سکتی اب المیر کے بنا بھلے ساری زندگی مجھ سےنفرت کرے مگر ان سے کہے واپس اجائے۔۔۔۔
فاطمہ جو سب کچھ سن کےشوکڈ تھی مگر آفرین کی حالت قابل رحم تھی ۔۔۔
ماما بولے نہ اپ بولیننگی نہ المیر کو ؟؟
فاطمہ نے آفرین کے بال سمیتے آنسو صاف کیہ اور کہا۔۔
ضرور بولونگی میری جان آنا پڑے گا اسے۔۔
ماما آپ بھی ناراض ہیں نہ مجھ سے میں بہت گنہگار ہونا ؟؟؟
آفرین نے فاطمہ کےچہرے کو تکتے ہوئے کہا۔۔
فاطمہ نے مسکرا کے آفرین کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لیا اور کہا۔۔
تھی تمہاری بات سن کے مگر اب نہی جب تمہیں الللہ نے معاف کرکےتمہارا دل صاف کرکے تمہیں گناہ سے واپسی کا راستہ دیکھا دیا تو میں کون ہوتی ہو تمہیں دھتکارنے والی ۔۔تم پریشان مت ہو میں ضرور بات کرونگی چلو اٹھو کھانا کھانے آؤ نیچے۔۔۔
نہی مما مجھے ابھی بھوک نہی ۔۔
اچھا چلو تم آرام کرو ۔۔
یہ بول کے فاطمہ نے آفرین کے ماتھے پیار کیا اور جیسی ہی کمرے سے نکلی افتاب کو کھڑا پایا جو فاطمہ کو دیکھ کے مسکرا اٹھا اور اوراسکےکندھے پہ ہاتھ رکھ کے کہا۔۔
ایسی تو میں تم پہ فدا نہی ہوا تھا نہ ۔۔
#
آفرین نے فاطمہ کے جاتے ہی سائیڈ ٹیبل پہ رکھی المیر کی رکھی تصویر اٹھائ اور اس پہ۔ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔
میرے روح میں تم شامل ہوچکے ہو المیر اس بات کا گواہ میرا الللہ ہے پلیز واپس اجاو۔۔یہ بولتے ہی ایک بار پھر آفرین کے آنسو المیر کی تصویر پہ گرنے لگے۔۔
“محبت میں دغا کی تو کافر تھے تو کافر ہیں۔۔
ملی ہیں منزلیں پھر بھی مسافر تھے مسافر ہیں۔
تیرے دل کے نکالے ہم کہاں بھٹکے کہاں پہنچے ۔
مگر بھٹکے تو یاد ایا بھٹکنا بھی ضروری تھا۔۔۔۔۔۔”
#
ہمایوں سر یہ آپکی فائل جو اپنے مانگی تھی۔۔
ہمایوں کے مینیجر نے ہمایوں کو فائل دی اور کچھ دیر اور وہی کھڑا رہا جب ہمایوں نے ایک نظر فائل پہ ڈالی اور مینیجر کو جانے کو کہا۔۔
ابھی ہمایوں فائل ہی دیکھ رہا تھا جب اسکے نمبر پہ عالم کی کال آئ ۔
ہمایوں نے کال اٹھاتے ہی مصروف انداز میں کہا۔
ہاں عالم بول۔۔
یار ہمایوں تو کسی کام کا نہی ایک کام نہی کرسکتا بھائ کا۔
عالم کی بات سن کے ہمایوں کے ماتھے پہ بل ابھرے اور اس نے فائل بند کرکے کہا۔
بڑا ہی کوئ احسان فراموش انسان ہے تو ابھی تیرا رشتہ لگوایا تیرے کہنے پہ جلد از جلد شادی کی ڈیٹ فکس کروائ اب تو کیا چاہتا ہے بتانا پسند کرے گا۔۔
ارے ارے میرے شہزادے تو تو غصہ ہی ہوگیا عالم نے فورا مسکا لگاتے ہوئے ہمایوں کو کہا جسکے تیور اس وقت خراب لگ رہے تھے جو عالم سمجھ چکا تھا۔
وہ میں کہہ رہا تھا کے تونے مونا کا نمبر نہی۔ دلوایا اب تک۔۔
عالم کی بات سے ہمایوں نے ایک ائبرو آچکا کے کہا۔
زیادہ خوش فہمی نہی پال مجھ سے جب لڑکی پہ نظر رکھ سکتا ہے اپنی عمر چھپا سکتا ہے تو نمبربھی خود ہی پتہ کرلے مجھ سے کسی بھی قسم کی مدد کی امید نہی رکھنا میں نے یہاں کوئ لوو گرو کا اسکول نہی کھول ہوا پہلے لڑکی کا رشتہ لگواو اب نمبر بھی دلواوں جا بھی معاف کر بہت کام ہے مجھے خود تو تو ویلا ہے الللہ حافظ یہ کہہ کے ہمایوں نے فون رکھ دیا جبکہ عالم کا منہ ابھی تک خودکو ویلا کہنے پہ کھولا ہو تھا۔۔
#
المیر ابھی ابھی ایک میٹنگ اٹینڈ کرکے لندن میں موجود اپنے فلیٹ پہ آیا جب اس کے نمبر پہ فاطمہ کی کال آئ
المیر نے مسکرا کے کال اٹینڈ کی۔۔
اسلام و علیکم ماما کیسی ہیں اپ۔۔
وعلیکم اسلام میں بلکل ٹھیک میرا بیٹا کیسا ہے۔؟؟
میں بھی ٹھیک ۔۔
ہممم گھر کب واپس آرہے ہو ؟؟
ماما کچھ کہہ نہیں سکتا ماما ابھی اچانک المیر ک موڈ سنجیدہ ہوا۔
کس سے بھاگ رہے ہو المیر؟؟
مطلب ماما میں کس سے بھاگونگا میں سمجھا نہیں آپکی بات۔۔
فاطمہ نے گہری سانس لی اور کہا۔
المیر آفرین مجھے ایک ایک بات بتا چکی ہے تمہاری جدائی اسے توڑ چکی ہے اب وہ وہ آفرین نہہی رہی جس سے تم نے شادی کی تھی۔۔المیر وہ بہت شرمندہ ہے راتوں کو سجدوں میں اسے میں نے اپنے گناہ کی معافی مانگتے بلکتے دیکھا ہے المیر اس سے غلطی ہوئ المیر مگر اس نے تمہارے حقوق میں کسی کو شراکت نہی دی اس نے جو کیا اس گناہ کی معافی وہ اپنے رب سےہر سجدے میں مانگتی اج آفرین کی آنکھوں میں۔ صرف تمہارا عکس دیکھتا ہے اسکی نگاہیں دروازے پہ ہوتی ہے ۔۔اگر الللہ نے اسے معاف کرکے اسے اتنے توفیق دی کے وہ اسکے آگے سجدہ کرسکے گناہ سے واپسی کا سفر شروع کرسکے تو تم بھی اسے معاف کردو اسنے کہا ہے اسے تمہاری نفرت قبول ہے ساری زندگی مگر تمہاری جدائی نہی سوچنا ضرور اس بارے میں۔۔
فاطمہ نے تو اپنی بات بول کے کال رکھ دی جب کے المیر کی آنکھیں سے آنسو تیزی سےجاری تھے۔
اسے ابھی تک اپنی ماما کی بات پہ یقین نہی ارہا اتھا۔۔۔
#
مونا کی شادی میں ایک مہینہ رہ گیا تھا اور زور وشور سے شاپنگ کا سلسلہ جاری تھا آج بھی وہ لوگ شاپنگ پہ جارہے تھے ۔۔جب فاطمہ کے موبائل۔ میسج ٹیون بجی فاطمہ نے جیسی ہی میسج پڑھا اس کے لب دھیرے سے مسکرائے اور اس نے اپنے کمرے میں جاتی آفرین کو آواز دی اور کہا۔۔
آفرین بیٹا ۔۔
جی ماما۔۔
بیٹا اگر تم مائند نہ کرو تو کیا تم گھر پہ رک سکتی ہو میرےبہت اسپیشل گیسٹ آرہے ہیں اورجیولر کا فون بھی باربار آرہا ہے ۔میں اور مونا جیولری لے آتے ہیں تم گھر میں گیسٹ ریسیو کرلینا۔۔۔
جی جی مما آپ جائے میں گھر پہ ہی ہو
آپکے گیسٹ کب تک آئینگے م
وہ کیا ہے کے میں فریش ہوجاتی ہو جب تک ۔
ہاں تم فریش ہو جاؤ وہ آئنگے تو پتہ چل جائے گا ۔
اوکے ماما ۔۔افرین اپنے کمرے میں چلی گئ اور مونا اورفاطمہ باہر نکل گئے۔۔
#
آفرین فریش ہوکے باہر نکلی اور بال سکھا کے اپنی بیک زپ بند کرنےلگی جو کے ہوکے ہی نہہی دے رہی تھی۔۔
اچانک بہت آرام سے آفرین کے کمرے کا دروازہ۔کھلا اورکوئ دبے پاؤں اندر داخل ہوا مگر سامنے کا۔منظر دیکھ کے اسے لب دھیرے سے مسکرائے اور ایک بھولی بسری بات اسے یاد آئ ۔
آفرین جو اپنی بیک زپ بند کرنے میں لگی تھی۔کے اچانک اسے اپنے ہاتھ پہ کسے کے ہاتھ کا احساس ہوا آفرین کی سانس اوپر کی اوپر رہ گئ اس نے اپنا ہاتھ ہتایا اور زور سے اپنی آنکھیں بند کی۔۔
انےوالےنے بیک کی زپ بند کی تو آفرین ڈھرکتے دل کے ساتھ مڑی اور اپنے سامنے المیر کو دیکھ کےبے ڈھرک اسکا ہاتھ اپنے لبوں پہ گیا۔
المیر جیسے جانے کیلیے مڑا آفرین نے فورا اسکا ہاتھ پکڑا اور زور سے اسکےگلے لگ کے رونے لگی اور روتے روتے کہنے لگی۔۔
نہی نہی اب جانے نہی دونگی مجھے معاف کردو المیر مجھ سے غلطی ہوگئی میںنے تمہاری محبت کی قدر نہی کی مجھے معاف کردو آئندہ ا
کبھی بھی کوئ غلطی نہی کرونگی بس تمہاری بن کے رہونگی بھلے مجھ سے نفرت کرو مگر اب مجھے چھوڑ کے نہی جانا ۔ میں جی نہی پاونگی۔۔
آفرین یہ بولتی جارہی تھی اور کبھی المیر کی گردن پہ اپنے لب رکھتی کبھی اسکے گال پہ کبھی اسکی گردن زور سےپکڑتی کبھی اسکی کمر پہ مظبوطی سے تھامتی۔۔
جبکہ المیر تو آفرین کے اس اظہار پہ اس حرکت پہ ہی ساکن تھا ۔اسکی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔۔
اچانک المیر نے آفرین کو خود سے الگ کیا اورغور غور سے اسکی چہرہ دیکھنے لگا سچ کہا تھا اسکی ماں نے آج آفرین کی آنکھوں میں المیر کا عکس تھا۔۔
آفرین نے پھر ایک بار المیر کا ہاتھ تھاما اور روتے روتے کہا۔
المیر مجھے معاف کردو بس ایک موقع دے دو۔۔
المیر نے اسکے ہاتھوں سے اپنے ہاتھ الگ کیے تو آفرین نفی میں گردن ہلانے لگی۔۔
المیر نے اسے کھینچ کے اپنے آپ سے لگایا اور آنسو صاف کرتے ہوئے کہہا۔۔
حسن جاناں کی تعریف ممکن نہی۔
آفرین افرین۔۔
یہ کہہ کے المیر روتی آنکھوں سمیت مسکرایا۔۔
اور آفرین کے لبوں پہ اپنے لب رکھ دیے ۔۔
جاری ہے۔۔۔
۔
