Rate this Novel
Episode 13
ہمایوں جیسے تیسے کرکے اپنے فلیٹ پہ.پہنچا اور خالد صاحب کو کال کرکے کراچی.میں ہونے والا واقعہ.گوشگزار کردیا. .
خالد صاحب کافی.ہریشان ہوگئے تھے… اور پریشان تو ہمایوں بھی تھا جسکی. سمجھ میں یہ.نہی اراہا تھا.کہ.ایسا کراچی میں کون ہے.جو ہمایوں خان کا دشمن.ہے ..
مگر لاکھ سوچنے کے باوجود بھی وہ.یہ سمجھ نہی پایا کہ.ایسا کون ہے جو اسکی.جان کا دشمن ہے پہلے اسکا شک اپنے ددھیال.کی طرف گیا.. مگر پھر اسے مایوسی ہوئ کیونکہ پچھلے 18 سال سے کسی نہ اسے دیکھا نہی تھا سوائے ایک انسان کے لاکھ زلیل کرنے کے باوجود لاکھ دھتکارنے کے باوجود وہ مہینے میں ایک بار ہمایوں کی دہلیز پہ اسکی معافی کا بھیکاری بن کے آتا تھا جسے صرف ایک بار ہمایوں کی معافی چاہیے تھی.اسکی.ماں اس انسان.کو معاف کرچکی تھی..مگر ہمایوں نے 18 سال.پہلے جو کچھ اپنی.آنکھوں سے دیکھا تھا ..اس کیلیے اس انسان کو معاف کرنا مشکل تھا بہت مشکل…
¤¤¤¤¤
ثنا کو جب نومی سے یہ پتہ چلا کہ ہمایوں اتنے بڑے حادثہ کے باوجود صحیح سلامت بچ گیا..کوئ.معجزہ ہی تھا.. کہ.وہ اتبے خطرناک حادثہ سے بچ گیا اور سونے پہ.سہاگہ اسے معمولی چوٹیں آئیں..
مگر اصل بات جو ثنا کو ہریشان کرہی تھی. یہ کہ ہمایوں کی جان کسی 15 سال کی.لڑکی نے بچائ..نومی نے ثنا کو بتایا.کہ اسکے بندوں نے بتایا جو چھپ کے یہ دیکھ رہے تھے کہ.ہمایوں کتنا ذخمی ہے یہ بات نومی کو بتا سکے..خود حیران رہ گئے ہمایوں کے ایسے بچنے پہ….مگر اب جو وار ثنا نے کرنے کا سوچا تھا وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوگی..یہ پھر ہمیشہ کیلیے ہمایوں کیساتھ ساتھ اپنے ڈیڈ کی نظروں سے بھی گرے گی… یہ تو آنے والا وقت بتانےبوالا تھا..
¤¤¤¤¤¤
ہمایوں نے کال.کرکے المیر کو اپنے آنے کا بتایا.مگر جب المیر کو ہمایوں کیساتھ ہوئے حادثہ.کا پتہ چلا… تو المیر بھی.کافی.پریشان ہوا..
المیر اور ہمایوں کراچی میں موجود ہمایوں کے فلیٹ پہ.بیٹھے ایک ساتھ کافی پی.رہے تھے جب المیر نے کہا.
یار تونے بتایا کہ تجھے کسی لڑکی نے بچایا.
المیر کے سوال پہ جہاں ہمایوں.مسکرایا وہی ہاں میں گردن بھی ہلائ…المیر نے بہت غور سے ہمایوں.کا چہرہ.دیکھا جو اس لڑکی کے زکر پہ کافی پررونق ہوا تھا.
المیر نے.ہلکی.سی مسکرائٹ کیساتھ کہا…تیری جان تو بچا گئ مگر مجھے لگتا تیرا دل.اپنے ساتھ لے گئ…
اتنا.بول کے المیر نے کافی.کا.کپ.اپنے.لبوں پل.لگایا..تو ہمایوں.نے مسکرا کے ایسے دیکھا اور ہلکا سا.مکا اسکے ہاتھ پہ.مارا
.اور کہاں
.ہاں یار کچھ ایسا ہی ہے میں نے تو اپنی.موت کو قبول.کرلیا تھا..مگر وہ پتہ نہی کہاں سے اینجل بن کے آئ اور بنا جان پہچان کے اس نے اپنی جان کو داو پہ لگا کے مجھے بچایا…
اسکی.ایک جھلک ہی المیر میری دنیا ہلا گئ…..ورنہ ثنا کے دیے دھوکے کے بعد میں نے سوچا نہی تھا کبھی کسی کو اپنے دل.کے دروازے پہ دستک دینے دونگا..المیر نے اس کے کندھے پہ.ہاتھ رکھ کے تسلی.دی اور کہا..
ہمایوں الللہ.ایک در بند کرتا ہے تو ستر در کھولتا ہے اب یہ.ہم مسلمانوں پہ کہ ہم کیسے ان دروں کو ڈھونڈے..
المیر کی بات پہ ہمایوں کو کافی تسلی ہوئ..مگر تھوڑی دیر بعد ہمایوں کے لبوں کو پھر مسکراہٹ نے چھوا تو المیر گھور کے اسے دیکھا اور کہا…
اب کس بات پہ.مسکرا رہا ہے….؟؟؟
یار عمر میں مجھ سے کافی چھوٹی ہے.. تقریباً 15 یا 16 سال.کی ہوگی…مگر اسکی.ہائٹ اچھی ہے…اور محترمہ نے تجھے پتہ ہے مجھے کیا کہہ کے پکارا تھا
.
المیر نے تجسس سے ہمایوں کو دیکھا اور پوچھا…
کیا؟؟؟؟
انکل…
ہمایوں نے اتنا سڑا ہوا منہ بنا کے کہا کے المیر کی.ہنسی نکل گئ…
یار ہمایوں اب تونے جو عمر اسکی بتائ ہے. شاید وہی اسکو اس وقت ٹھیک لگا… خیر یہ.بتا نام کیا ہے اسکا نام پتہ چلا…؟؟؟
ہاں یار اسکے دوستوں نے اسے نام سے ہی پکارا تھا.. شاید پیپر دے کے آئے تھے..کیونکہ وہ سب اسکول.یونفارم میں تھے..
صرف وہ ابائے میں تھی..اسکا نام. اع….
..ابھی ہمایوں نام لیتا اس کے موبائل پہ.رنگ ہوئ.. اس نے المیر کو ایکیسوز کیا اور کال سننے لگا.. کال سنتے سنتے اس نے ایک نظر المیر کو دیکھا..
تو وہ بھی کسی سے کال پہ لگا تھا..اور کافی پریشان لگ رہا تھا..المیر نے کال کٹ کی تو تھوڑی دیر بعد ہمایوں نے بھی اپنی کال رکھی…
ہمایوں نے المیر کو دیکھا جو کال آنے کے بعد کافی پریشان دیکھ رہا تھا…
ہمایوں نے اسکا چہرہ غور سے دیکھا جہاں پریشانی کے آثار اب بھی موجود نے تھے. .ہمایوں نے المیر سے کہا…
کیا نام ہے اس پریشانی کا… ؟؟
المیر جو اپنی ہی سوچوں میں گم تھا.ہمایوں کے پوچھنے پہ بے خیالی میں بول گیا..
“آفرین”
بے خیالی میں بولنے پہ المیر نے ہمایوں کو دیکھا تو وہ مسکرا رہا تھا..ہمایوں نے.کہا..
چل جلدی سے اسٹوری سنا….
المیر نے ایک بات ہمایوں کو بتا دی اپنی اور آفرین کی ملاقات سے لے.. افرین کا کسی اور میں انٹرسٹ تک ..سب بتا دیا…
ہمایوں نے المیر کی بات سن کے ایک گہری سانس لی.اور کہا..تو ابھی کس کی کال تھی.؟؟
یار ایک بندہ.ہے میرا جس لڑکے سے افرین کے تعلاقات ہیں وہ ابھی کسی اور لڑکی کیساتھ ایک ہوٹال میں گیا یے..
تو تو بتا دے آفرین کو کے جس لڑکے. سے وہ محبت کرتی ہے اسکا
کریکٹر ٹھیک نہی..
ہمایوں کی بات سن کے المیر نے اسے گھور کے دیکھا اور کہا..
اور تجھے لگتا ہے وہ.آسانی سے میری بات پہ.یقین کرے گی..پہلی ہی ملاقات میں وہ.مجھے ندیدا اور ٹھرکی.ان الفاظوں سے نواز چکی ہے.. اس بار تو لگتا ہے اگر کچھ بھی میں نے اسے بولا تو ریپیسٹ بنا دیگی…
المیر کی معصوم شکل دیکھ کے بہت مشکل سے ہمایوں نے اپنا قہقہ روکا. اور المیر سے کہا..
صبر کر میرے یار صبر…
المیر نے.کافی ختم کرکے ہمایوں کے گھر سے جانے لگا. تو اچانک کچھ یاد آنے پہ.پلٹا اور کہا…
اس ویک.اینڈ پہ میری چھوٹی بہن کی سالگرہ ہے اور کوئ بہانہ تیرا نہی چلے گا.. آئ سمجھ…
المیر کی.دھمکی.پہ.ہمایوں نے اپنے انے کا وعدہ کیا..
¤¤¤¤
ثنا اور نومی اس بات پہ کافی شاکڈ تھے کہ کیسی ہمایوں موت کو چکمہ دے آیا..فلحال کراچی میں ہمایوں کو نقصان پہچانے کا ارادہ وہ دونوں ترک کرچکے تھے..
¤¤¤¤¤¤
تقریبا 10 بجے مونا نے اعیرہ کے کمرے مین ناکک کیا تو اعیرہ جو مووی دیکھنے میں مگن تھی دروازے کی آواز پہ فورا منہ پہ.کمبل ڈال کے لیٹ گئ…..مونا بنا آواز کیہ اندر آئ تو ٹی وی پہ.چلتی مووی دیکھ کے مونا اعیرہ کی ساری چلاکی سمجھ گئ..اس نے ایک جھٹکے سے اعیرہ کا کمبل کھینچ کے نیچے پھینکا.. مگر اعیرہ جو کمال کی.سونے کی ایکٹنگ کررہی تھی…بلکل بنا حرکت کے ایسی بن گئ جیسی واقعی سو رہی ہو.. مونا نے پہلے ٹی وی بند کیا اور پھر کہا..
اوہ یہ اعیرہ تو سو رہی ہیں میں تو اسے اسکی سالگرہ کی پارٹی کا ڈریس دیکھانے آئ تھی…
مونا کے اتنا بولنا تھا..کہ اعیرہ نے پٹ اپنی آنکھیں کھولی اور بولا..
کہاں ہے کہاں ہے میرا ڈریس آگیا..؟؟
مگر جب مونا کو خالی ہاتھ دیکھا تو سمجھ گئ کہ.یہ سب ایسی کی.کارستانی ہے…
اعیرہ نے روٹھے انداز میں مون سے کہا…
کیا یار آپی اپ ہمیشہ میرہ چوری پکڑ لیتی…ہو
مون.نے مسکرا کے اسکے گلے میں ہاتھ ڈالا اور کہا…
کیونکہ تمہیں ایکٹنگ کرنا نہی آتی.نہ…اور اعیرہ ماما نے منع کیا ہے اتنی رات کو مووی دیکھنے کا.. جس دن ماما.نے دیکھ لیا.نہ پتہ چل جائے گا…تمہیں..
آپی.میں سنڈریلا کی.مووی دیکھ رہی تھی اور کوئ سی مووی نہی.
مگر اپ کے اچانک انے پہ میری مووی بھی ادھوری رہ گئ..
اپی کسی دن میں کوئ ایسسا کام کرونگی جو اپ پکڑ نہی پاوگی..
مونا جو دلچسپی سے اعیرہ کی باتیں سن رہی تھی بولی..
اچھا ایسا کیا کروگی….؟؟؟
اعیرہ نے سوچنے کے انداز میں اپنی ٹھوری پہ انگلی رکھیی اور کہا…
میں گناہ.کرونگی…اور اپ چاہ کر بھی میرا گناہ پکڑ نہی.پائینگی…..
اعیرہ تو اپنی.مستی میں بول گئ..مگر مونا کا دل دہل گیا..اس نے فورا اعیرہ کو ٹوکا.. اور سونے کا بول.کے اسکے کمرے سے نکل گئ…
¤¤¤¤¤¤
ایک ہفتہ کیسے گزرا. ہمایوں کو پتہ نہی چلا کام کی وجہ سے کافی مصروف رہا…حمنہ سے بھی خالی حال احوال پوچھنے تک بات ہوئ..المیر سے جب بھی بات ہوئ.. وہ.ہر بار اسے یاد دلاتا کے اسے آنا ہے…. اسکی بہن کی سالگرہ میں…المیر سے اسکی بہن کی ایج پوچھ کے ہمایوں نے بہت خوبصورت سا ایک بریسلیٹ اسکی بہن کیلیے جو گولڈ کا تھا.
سالگرہ والے دن ہمایوں کافی لیٹ پارٹی میں پہنچا…کام کے سلسلے میں اسے دیر یوگئ…اس نے المیر سے ایکسکیوز کیا….المیر نے اسکا ایکسکیوز ایکسپٹ کیا..
اور اپنی.فیملی سے ملوانے لگا..
فاطمہ کو ہمایوں بہت اچھا لگا..
ہمایوں نے المیر سے کہا…
یار برتھ دے گرل سے تو ملواوں اسے گفٹ دینا ہے..
المیر نے ہمایوں کے کہنے پہ اعیرہ کو الفاظ دی جو اپنی فرینڈ کیساتھ فوٹوگرافر سے پک بنوارہی تھی…
ہمایوں جو موبائل مین مگن تھا المیر کے نام پکارنے پہ.ایک دم چونکا.اور جب سامنے دیکھا تو بلکل سناٹے میں اگیا..
اسے سمجھ نہی آرہا تھا..کہ خوش ہو اعیرہ کے دوبارہ ملنے پہ.یا قسمت کے چکر پہ.روئے…
وہ.جیسے جیسے قریب آرہی تھی ویسے ویسے ہمایوں کو لگا کہ.المیر سے اسکی دوستی کی ڈور ٹوٹنے والی.ہے….
جاری ہے…
