50.9K
64

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 23

اج مشتاق اور یمنہ.کی.موت کو دس دن ہوچکے تھے..حمنہ کی.حالت کسی لاش سے زیادہ نہ تھی..فاطمہ روز یونی کے بعد اسکے پاس چکر لگاتی..حمنہ یہ بات فاطمہ کو بتا چکی تھی کہ کے منگنی والے دن کی باتیں پاپا سن چکے تھے..اس لیہ وہ.یہ صدمہ برداشت نہ.کرسکے..فاطمہ نے ہر ممکن کوشش کی حمنہ کو زندگی کی طرف لانے کی.مگر ناکام رہی..
آفتاب خالد فاطمہ تینوں کی حمنہ کی طرف سے پریشان تھے.. اکثر حمنہ راتوں کو قبرستان کی طرف ڈور لگاتی.. اس وجہ سے اب شاہ زین کے کہنے پہ گھر کے میں گیٹ پہ تالے لگبے لگے تھے.
فاطمہ یونی سے واپس آتی تو ہی حمنہ کپڑے بدلتی کچھ کھاتی…
ایک دن اچانک فاطمہ نے حمنہ سے کہا..اسے یقین تھا کہ یہ بات سن کے حمنہ زندگی کی.طرف لوٹ آئے گی…
فاطمہ نے بال باندھتے ہوئے حمنہ سے کہا..
حمنہ اگر تم اس حال میں رہوگی تو اپنی کوکھ میں پلنے والی اپنے پیار کی نشانی.کو کھو دوگی..اگر تم.ٹھیک نہی ہوگی تو جیڈی کو کیسے ڈھونڈوگی..کیسے بتاوگی. کے تمہارے ساتھ کیا ظلم ہوا…
اور فاطمہ کا تیر نشانے پہ لگا..
حمنہ نے ایک دم گردن گھما کے فاطمہ کو دیکھا اور پوچھا..
پاپا تو مجھے سے ناراض ہوکے گئے ہیں..میں کیسے خوش رہونگی…؟؟؟
فاطمہ باپ کی بدعا لے کے اج تک.کوئ اولاد پنپ نہی سکی. پھر میں کیسے آباد رہونگی…
نہی ڈھونڈنا اب جیڈی کو فاطمہ میں اس بچے کو بھی مار دونگی جسکی آنے کی خبر سن کے میں یتیم ہوگئ.. ہاں فاطمہ یہ. ٹھیک رہے گا میں میں کل ہی آبرشن کراوالونگی تم چلوگی نہ بولو چلوگی نہ..؟؟؟؟؟؟؟؟
فاطمہ کو وہ اس وقت کو دیوانی پاگل.لگی جو اپنے حواسوں میں نہی تھی…فاطمہ نے اسکے منہ پہ آتے بال.کان کے پیچھے کیے اور اسکا چہرہ تھام کے کہا…
نہی حمنہ اس بچے کا کیا قصور ہے.. یہ اپنی.مرضی سے تو دنیا میں نہی.آیا. ایک گناہ کرکے تم اپنے والدین کو کھوچکی ہو..دوسرا گناہ کروگی تو الللہ تمہیں کبھی معاف نہی کریگا..ایک جیتے جاگتی جان کو تم ختم.کروگی نہی حمنہ. کیا پتہ یہی بچہ تمہارے گناہ سے واپسی کا سبب بنے.. کیا پتہ مں غلط ہو جیڈی شاید کوئ مصیبت میں ہو.. کسی.ہریشانی میں.. اور جب تم اس سے ملو تو وہ تمہیں اپنائے..حمنہ مرنے والوں کیساتھ مرا نہی جاتا..جو چلا گیا اس کے.لیہ الللہ سے بخشش کی دعا منگو قرآن پاک پڑھو…زندگی.کی.طرف لوٹ آؤ حمنہ شاہ زین بہت ہریشان ہے تمہارے لیہ…پلیز اس پہ رحم کھاو ..اپنوں سے بڑھ کر اس نے تمہیں سنھالا ہے..میری مانو تو سے اپنے اعتماد میں لے کے سب بتا دو…مجھے یقین ہے وہ تمہاری مدد ضرور کریگا…
فاطمہ تمہیں کیوں لگتا ہے وہ.میری.مدد کریگا..؟؟؟
فاطمہ نے ایک.لمبے سانس لی اور کہا.
عاشقوں کے دل کا حال انکی آنکھیں بیان کرتی ہیں..اور شاہ زین حمنہ مشتاق سے محبت نہی عشق کرتا ہے..اور اسکا عشق اسکی آنکھوں میں دیکھتا ہے..
فاطمہ کی باتیں سن کے حمنہ سوچنے پہ مجبور ہوگئ…
¤¤¤¤¤¤
اگلی صبح اسکی.زندگی.کی.نئ صبح تھی..نماز پڑھ کے نیچے آئ اور اپنے اور بوا کیلیے ناشتہ بنانے لگی.. ابھی ناشتہ بنا کے پلٹی کے شاہ زین کو اپنے آپ کو تکتا پایا..حمنہ اسکی.نظروں سے ایک دم کنفیوز ہوئ. تو شاہ زین بھی ہوش کی دنیا میں واپس آیا اور کہا…
اج سورج کہان سے نکلا بڑے بڑے لوگ اپنے حجرے سے باہر آگئے..
اب ایسسی بھی بات نہی شاہ زین کی باتوں پہ حمنہ نے سڑا ہوا منہ بنا کے کہا..تو شاہ زین کا قہقہ کچن مین گونجا..
اچھا لگا حمنہ اپکو اسطرح دیکھ کے. مشتاق صاحب اور یمنہ آنٹی کی روح اج بہت پرسکون ہوگی اب کو یو دیکھ کے.
شاہ زین کی باتوں پہ.حمنہ کی.آنکھیں ایک دم بھینے لگی.تو شاہ زین نے بے خودی میں آگے بڑھ کے حمنہ کے آنسو صاف کیہ تو حمنہ ایک دم پیچھے ہوئ شاہ زین کو بھی اپنی.حرکت پہ شرمندگی ہوئ.
ماحول.کو نارمل کرنے کیلیے حمنہ نے کہا..
شاہ زین جسطرح اپنے پاپا اور ماما کے جانے کے بعد مجھے سنبھالا ہے. اپکا احسان ہے مجھ پہ.کبھی اپکے کام.آئ تو مجھے خوشی ہوگی..
شاہ زین خاموشی سے اسکی باتیں سننے لگا اور پھر کہا..
دوستی میں احسان نہی ہوتا رائٹ…
شاہ زین کی بات پہ حمنہ مسکرائ اور ہاں میں گردن ہلائ.
وہ شاہ زین کیلیے بھی چائے نکلنے.لگی..جب شاہ زین نے کہا…
حمنہ اگر میں اپ سے کچھ مانگو تو کیا اپ دینگی..؟؟
حمنہ نے چائے نکلتے ہوئے کہا..
میرے بس میں ہوا تو ضرور دونگی مانگے…
میں کل اپنے گاوں جا رہا ہوں دو تین دن کیلیے شادی.تو ہوچکی میرے کزنوں کی۔کل.ولیمہ ہے اور میں چاہتا ہو اپ میرے ساتھ چلے میری دوست بن کے آفتاب فاطمہ اور خالد بھی جارہے ہیں.
پلیز انکار مت کریگا..
جاری ہے….