Gunah Se Wapsi By Mariyam Imran Readelle50215 Episode 43 Part 2
Rate this Novel
Episode 43 Part 2
آفرین اور کاشف ایک کیفے میں بیٹھے تھے جو انکا معمول کے ملنے کی جگہ تھی۔جہاں آفرین اپنے اس گناہ سے بھری رشتہ کو چھپانے کے لیہ عبائے کا سہارا لیتی تھی۔۔
آفرین۔؟؟؟
آفرین جو کافی پینے میں مگن تھی کاشف کی آواز پہ بولی۔۔
ہاں بولو ۔۔
کل کیا دن ہے؟؟
کل تمہارا برتھ دے ہے کاشف ۔۔۔
تم کیا سمجھے کاشف میں بھول جاونگی ۔۔
ارے نہیں یار بس تھوڑا کنفیوز تھا۔کاشف نے کمال مسکراہٹ سے کہا۔
اگر میں تم سے کل کچھ مانگو تو کیا تم دوگی؟؟
آفرین کاشف کی بات پہ مسکرائ اور کہا۔۔
تمہارے لیہ تو میری جان بھی حاضر ہے مانگو۔۔
کاشف نے مسکرا کے آفرین کا ہاتھ پکڑا اور کہا۔۔
ارے جان نہی بس مجھے اپنی جان کیساتھ اپنی
کل کی شام بتانی ہے۔۔
کاشف کل میری نندکو کچھ لوگ دیکھنے آنے والے ہیں میرا گھر میں رہنا بہت ضروری اور اگر میں شام کو غائب رہی تو یقینن المیر کو شک ہوجائے گا ۔۔
آفرین کی بات سن کے کاشف کو اپنا پلین ناکمیاب ہوتا دیکھائی دیا تو اس نے کمال کی معصومیت ظاہر کرتے ہوئے اپنی گردن جھکا لی ۔۔
آفرین نے ایک نظر اسے دیکھا اور کہا۔۔
تم اداس مت ہو میں کل دوپہر کو تمہارے ساتھ ہوسکتی ہو جب تک یونی اوفف نہی ہوجاتی تب تک
آفرین کی بات سن کے کاشف کو اپنا پلین کامیاب ہوتا دیکھائی دیا اور اسنے کہا ۔۔
شکریہ آفرین میں کل12 بجے تمہیں یونی سے پک کرلونگا۔۔۔۔
اوکے۔۔
و
۔۔##############
اگلے دن آفرین یونی کے واش روم میں جاکے ڈریس اپ ہوئ کاشف کےسا تھ یونی کیلیے نکل پڑی۔۔
کاشف اسے اپنے دوسرے فلیٹ پہ لایا جو کافی۔کشادہ تھا۔۔
آفرین نے ا۔پنا عبایا اتارا توکاشف اسےبلیک سوٹ میں دیکھ کے دنگ رہ گیا۔
فلیٹ میں کاشف نےجگہ جگہ کیمرے لگائے ہوئے تھے۔۔تاکہ آفرین کی عزت کیساتھ کھیل کے اسکی وڈیو اگےبیچ سکےاور بعد میں المیر کوبلیک میل بھی کرسکے۔۔
آفرین اور کاشف نے ملکر کیک کاٹا ۔کاشف نے آفرین کو اپنے ہاتھوںسےکیک کھلایا اور جب کاشف آفرین کےلبوں پہ جھکنے لگا۔۔تو آفرین کی ریڑھ کی۔ہڈی میں سنسناہٹ ڈوری اسنے فورا کاشف کوخود سے دور کیا اور کہا۔کاشف یہ غلط ہے ۔ٹائم بہت ہوگیا اب میں نکلتی ہو۔یہ بول کےافرین نےجیسی ہی اپنا ہاتھ بڑھایا عبایا لینے کے لیہ کاشف نے تیزی سے آگے بڑھ کے اسکے ہاتھ سے عبایا لیا اور اچھال دیا۔
آفرین جو ناجانے کتنی بار کاشف کا ہاتھ پکڑ چکی تھی نجانے کتنی بار اسکے سینے سے لگ چکی آج اسکی جان کاشف کی اس حرکت سے خشک ہو چکی تھی۔
آفرین نے زرا غصہ میں کاشف سے کہا۔
کاشف یہ کیا ابدتمیزی ہے عبایا واپس کرو ۔۔
کاشف نے ایک قہقہ لگایا اور کہا۔
کردونگا واپس پہلے اپنی تحفہ تو قبول کرلوں ۔۔
یہ کہہ کے کاشف افرین کا ہاتھ پکڑ کے تیزی سے اپنی طرف کھینچا اور اسکی گردن پہ جیسی ہی جھکا آفرین نے اسے اپنے آپ سے دور کیا اور تھپڑ اسکے منہ دے ماڑا
کاشف نے غصہ سے آفرین کو دیکھا اور اسکے منہ پہ ایک گھومتا ہوا تھپڑ مارا اور اسکے بال مٹھے میں جکڑ کےکہا۔۔
سالی۔کمینی اب اتنا پارسا کیوں بن رہی ہے جب شوہر ہوتے ہوئے تو نے اپنے یار سے تعلق رکھا اسکے ساتھ گھومتی تھی اسکے سینے سے لگتی تھی جب پارسائی کہاں گئ تھی۔
تیرے جیسی مرغی کو حلال کرنے کےلیہ ہی تو میں نےاتںنا بڑا گیم کھیلا تجھے اپنے پیار میں پھسایا اورنجانے اگےبہت کچھ کرتا تیرے ساتھ مگر وہ کمینا المیر نجانے کہاں سے درمیان میں آگیا سالے کو میری اصلیت پتہ چل گیئ اور تجھے بچاگیا وہ۔۔
تیرے جانے کے بعد سوچا چلوکوئ اور مرغی حلال کرو مگر تو تو میرے عشق میں اتنی آندھی تھی کےشادی کے بعد بھی میرے پاس خود چلی ائ۔
جانمن المیر تو نہی بنا سکا تیرے ساتھ سہاگ رات مگر آج میں ضرور بناونگا اور یقین مان تیری وڈیو نیٹ پہ سونے کے بہاؤ بکے گی ۔
آفرین جو سکتے کی حالت میں سب سن رہی تھی۔اس سے زیادہ برداشت نہیں کرسکی اور بیہوش ہوگئ۔۔
کاشف نے آفرین کے بیہوش وجود کوبیڈ پہ ڈالا اور المیرکو کال کی۔#############
کاشف کی کال کٹ ہوتے ہی المیر کے آنسو جاری ہونے لگے مگر اس نے آفرین کو ڈھونڈنے کےبجائےاپنی نمازادا کی۔۔
نماز کےبعد المیر نے دعا کیلیے ہاتھ اٹھائے تو اسکی آنکھوں سے تیزی سے آنسو جاری ہونے لگے۔۔
المیر نے روتے روتے الللہ سے دعا مانگی۔۔
یاالللہ میری عزت کی حفاظت اب تیرے ذمی ہےافرین کے گناہ کی سزا مجھے نہ دے مولا اسےپاک دامن مجھ سے ملوادے مولا تجھے تیرے حبیب کا واسطہ میرے رب مجھے آفرین سےملوادے عزت آبرو کے ساتھ المیر نے روتے روتے دعا مانگی اور باہر نکل گیا۔
ابھی المیر نے گاڑی اسٹارٹ ہی کی تھی۔کے اسکے نمبر پہ اسکے دوست نعمان کی کال ائ۔۔
المیر نےکال ریسو کی تو آگے سےنعمان نے سلام دعا کےبعد کہا
یار المیر پتہ نہیں یہ بات بولنی چاہیے یہ نہی ۔۔
کیا ہوا نعمان بولو۔۔المیر نے گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے کہا۔
یار میں جس فلیٹ میں رہتا ہو میں ابھی جب وہاں سے نکلا تو میں نے آفرین بھابھی کو عبائے میں اس۔ فلیٹ کے رہنے والے کیساتھ اندر جاتے دیکھا ہے وہ ابھی نیا نیا شفٹ ہوا اور کچھ مشکوک سا ہے۔
نعمان ہو سکتا ہے تیری غلط فہمی ہو ویسے تو رہہتا کہاں ہے ۔
المیر نے نعمان پہ یہ ظاہر ہونے نہی دیا کے وہ ٹھیک بول رہا ہے المیر نے اس سےاڈریس پوچھا اور فل اسپیڈ میں گاڑی کاشف کے فلیٹ کی طرف موڑ دی۔۔جو تقریبا مسجد سے زرا سے فاصلے پہ تھی۔۔
#
آفرین نےاپنے اوپر پانی سا محسوس کیا تو پٹ اپنی آنکھیں کھولی توکاشف کو اپنا اوپر جھکا پایا ۔
افرین ڈر کے اوپر ہوئ اور روتے روتے کاشف کے سامنے ہاتھ جوڑے اور کہا۔۔کاشف خدا کا واسطہ مجھے جانے دو میں صرف پیار کیا تھا اتنی بڑی سزا نہ دو تمہیں جتنی دولت چاہیے میں دونگی مگر خداکا واسطہ مجھے جانے میں پاؤں پکڑتی ہو تمہارے۔۔
آفرین بولنے پہ کاشف نے ایک اورطمانچہ آفرین کے منہ پہ مارا جس سے اسکا ہونٹ پھٹ گیا
اوردوبارہ اس کےبیڈ پہ دھکا دیا جیسی وہ آفرین پہ جھکا آفرین نے سائیڈ لیمپ اٹھا کے اسکے سر پہ دے ماڑا ۔اور تیزی سے اپنا عبایا اٹھا کے فلیٹ کے دروازے کی طرف ڈوری ۔۔
فلیٹ کا دروازے کھولتے ہی اسنے سامنے المیر کو دیکھا جو دروازے توڑنے لگا تھا۔
تو منٹ آفرین نے المیر کو دیکھا المیر نے بھی آفرین کی حالت دیکھ کے اندازہ لگالیا تھا کے اسکی محبت نیلام ہونے سے بچ گئ مگر جیسی ہی آفرین ڈور کے المیر کے سینے سے لگنے لگی۔المیر نے ایک زناٹے دار تھپڑ اسکے منہ پہ دےمارا اور اسکا ہاتھ پکڑ کے دوبارہ فلیٹ کے اندر داخل ہوا۔۔
جاری ہے ۔
