Gunah Se Wapsi By Mariyam Imran Readelle50215 Episode 39 Part 2
Rate this Novel
Episode 39 Part 2
اعیرہ لاکھ ہمت کے باوجود ہمایوں سے پوچھ نہی پائ. ہمایوں نے گاڑی سمندر کے پاس روکی ..اتر کے ہمایوں نے اعیرہ کی طرف کا گیٹ کھولا اور اپنا ہاتھ اعیرہ کے آگے کیا اعیرہ نے ایک نظر اسکے ہاتھ کو دیکھا اور پھر ہمایوں کو اسے ہمایوں کآنکھوں میں ی ایک امید دیکھی ایک مان دیکھا سولہویں سال کی لڑکی کیلیے یہ جزبات نِئے تھے.اس عمر کی لڑکیاں اکثر پیار محبت کے خواب دیکھنا شروع کرتی پے مگر اعیرہ کی زندگی میں ایک بہت محبت کرنے والا عزت کرنے والا شوہر شامل ہوگیا تھا جہاں یہ سب اس کیلیے نیا تھا وہی انوکھا بھی..
اعیرہ نے جھجکتے ہوئے ہمایوں کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیا اور اپنی میکسی سنبھالتی ہوئ گاڑی سے باہر نکلی مگر اس نے ایک بار بھی نظر اٹھا کے ہمایوں کو نہی دیکھا. .
ہمایوں نے گاڑی سے اترتی اعیرہ کو ایک نظر دیکھا اور پھر اسے کمرے سے تھام کے اونچا کرکے گاڑی کے اوپر بیٹھادیا..اور خود اسکے گھٹنوں پی دونوں ہاتھ اپس میں جوڑ کے اس کے اوپر جھک گیا.اعیرہ کا چہرہ دیکھنے لگا..
اعیرہ کو دو منٹ تک سمجھ میں ہی نہی آیا کے ہوا کیا. جب اسکی سمجھ آیا اس نے بہت ہمت کرکے ہمایوں کے ہاتھ اپنے گھٹنوں پہ سے ہٹانے لگی اور کہا..
ہمایوں یہ کیا کرہے ہیں ہاتھ ہٹائے اور مجھے نیچے اتارے.
اعیرہ کا بولنا تھا کے ہمایوں نے ایک لمبا سانس لیا اور کہا.
کب سے تمہارے منہ سے اپنا نام سننے چاہتا تھا اس خوبصورت رشتہ میں باندھنے کے بعد تمہں پتہ ہے اب ہمارے درمیان کیا رشتہ ہے ؟؟؟
اعیرہ نے جو کافی دیر سے ہمایوں کی نگاہوں سے کنفیوز ہورہی تھی. اپنی انگلیاں آپس میں مروڑنے لگی اور کہا..
جی اب اتنی بھی میں چھوٹی نہی ہو شوہر ہے اپ میرے اور میں اپکی بیوی اعیرہ اپنی ہی دھن میں ہی بولتی.چلی گئ مگر جب پتہ چلا کیا بول گئ تو اپنے ہونٹ کو دانتوں تلے دبانے لگی.
ہمایوں جس کے لب اسکی بات پہ.مسکرا اٹھے تھے. اس نے ہاتھ بڑھا کے اعیرہ کے لب جیسی ہی اسکے دانتوں سے آزاد کرنے چاہے..اعیرہ نے ہمایوں کا ہاتھ فورا جھٹک دیا اور ناراض لہجہ میں کہا..
dont touch me agin..
اعیرہ کے بولنے کی دیر تھی کے ہمایوں نے فورا اپنے ہاتھ سرینڈر اسٹائل میں کھڑے کیہ اور کہا..
اوکے اوکے مائ لائف آئندہ یہ غلطی.اپ سے پوچھے بنا نہی.ہوگی.اب یہ بتاو مجھ سے ناراض ہو..؟؟؟؟
ہمایوں کی بات پہ اعیرہ نے ایک نظر اسے دیکھا اور کہا..
پیچحے ہوئے تھوڑا..
ہمایوں اعیرہ.کی بات سن کے پیچھے ہوا..اعیرہ جمپ لگا کے گاڑی سے نیچے اتری اور کہا..
گھر چلے میں بہت تھک.گئ ہو بھلے واپس اکے اپ یہی سوجائے مجھے پرواہ نہی..
ہمایوں نے اسکی بات پہ ہونقوں کی طرح اسے دیکھا اور گاڑی کا گیٹ اسکے لیہ کھول دیا اور خود فرنٹ سیٹ پہ بیٹھ کے صرف اتنا کہا.
ہمایوں خان اعیرہ سے پنگا از نوٹ چنگا تیرا کیا ہوگا خان.
یہ بول کے ہمایوں نے گاڑی گھر کی طرف موڑ دی…
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
صبح المیر کی آنکھ اذانوں کے وقت کھلی.. اس نے نماز پڑھ کے ایک.نظر آفرین پہ.ڈالی تو وہ ترچھی ہوکے صوفے پہ سورہی تھی..المیر اآہستہ سے اسکے قریب گیا اور گھٹنوں کے بل بیٹھ کے اسک چہرہ تکنے لگا. چادر کھسکنے کی وجہ سے آفرین کا حسن المیر کا ایمان پھر بے ایمان کرگیا. اس سے پہلے وہ اسکے لبوں پہ جھکتا اسکی نظر آفرین کے گلے لاکٹ پہ پڑی چین تو اسے دیکھ گئ مگر لاکٹ اسکی شرٹ کے اندر تھا.المیر نے آہستہ اہستہ چین اوپر کی اور جسی ہی.لاکٹ باہر آیا المیر کی آنکھیں غصہ سے سرخ ہوگئ.اسنے چین کو ہلکا سا جھٹکا دیا تو وہ توٹھ گئ اور لاکٹ نیچے کارپیٹ پہ.گر گیا اس نے جھک کے.لاکٹ اٹھایا تو اس پہ اردو میں کاشف اس اسٹائل میں لکھا تھا کے اگر کوئ دور سے دیکھتا تو سمجھ نہی پاتا..
المیر نے لاکٹ کو زور سے اپنی مٹھی میں بھینچا اور ایک.نظر سوئ ہوئ آفرین پہ ڈالی اور کمرے سے باہر چلا گیا..
آفرین کی آنکھ کھلی تو صبح کے دس بج رہے تھے اس نے اس پاس دیکھا تو المیر کمرے میں نہی تھا
وہ.جیسی فریش ہونے کیلیے جانے لگی المیر کمرے میں آیا.. اور اسے دیکھ کے کہا جلدی تیار ہوجاو نیچے سب ویٹ کررہے ہیں.یہ بول کے المیر اپنے موبائل میں بزی ہوگیا..آفرین نے غصیلی نظر اس پہ ڈاالی.اور فریش ہونے چلی گئ.
فریش ہوکے باہر آئ تو المیر بھی ریڈی تھا مگر المیر کی.نظر آفرین پہ ٹہر گئ جس نے ڈارک بلیو کلر کا سوٹ پہنا اور اسکے گھنے لمبے جو اسکی پشت پر پھیلے تھے
المیر کی.نظر اس پہ سے ہٹ نہی رہی تھی. مگر آفرین کی نظر جیسی ہی اپنے گلے پہ پڑی.تو ایک دم اس نے گھبرا کے اپنے گلے پہ.ہاتھ مارا مگر اسکی چین غائب تھی اس نے ڈور کے صوفے کے پاس جاکے ڈھونڈی مگر وہاں بھی نہی تھی. المیر اسکی ساری کاروائ دیکھ رہا تھا مگر جب اس نے آفرین کی.آنکھوں میں آنسو دیکھے اسکی برداشت یہی تک تھی.وہ دھیرے سے آفرین کے پاس آیا اور اپنا ہاتھ اگے کرکے کہا.
یہ ڈھونڈ رہی ہو؟؟؟
المیر کے ہاتھ میں اپنا لاکٹ دیکھ کے آفرین نے اپنی.مٹھیاں بھینیچی اور جیسی ہی اگے ہاتھ بڑھایا لاکٹ لینے کے لیہ المیر نے وہی ہاتھ اسکا کلائ سے پکڑا اور گھما کے آفرین کی.کمر پہ لیجاکے دھیرے سے کہا..
کھرچ کے نکال دو یہ.لفظ اپنی زندگی سے کیونکہ تم صرف میری ہو اور میں تمہیں کسی کیلیے نہی چھوڑونگا..
المیر گرفت آفرین کے ہاتھ پہ کافی سخت تھی مگر اس نے کمال ضبط کا مظاہرہ کیا اپنے آنسو پیچھے دھکیلے اور مسکراہٹ سجا کے کہا..
کوشش کرکے دیکھ لو المیر تم اس بار نہی جیتوگے کیونکہ آفرین کی رگوں میں شامل ہے یہ نام خون بن کے آفرین کی ہمت پہ المیر نے اپنی آنکھیں بند کی اور پھر کھولی اور آفرین کے کانوں کے پاس جھک کے کہا..
افرین بیگم بھول جاتی ہو بار بار کے شوہر ہو تمہارا جو حق میرے پاس ہے کسی کے پاس نہی تم سے پیار سے بات اس لیہ کررہا ہو.کیونکہ دل میں ڈھرکن کی طرح ہو زبردستی کرنا نہی چاہتا تمہارے ساتھ ورنہ تم.نے تو بات اپنے رگوں کی ہے نہ میں تمہارے پورے جسم پہ تمہارے روح پہ.اپنی چھاپ ابھی کے ابھی چھوڑ سکتا ہو میرے اندر جو شوہر نام کی چیز ہے اسے مت جگاو ورنہ پورے دن اپنے اپکو چھپاتی پھیروگی…
یہ بول.کے ایک جھٹکے سے المیر نے آفرین کو چھوڑا ایک.نظر اسے دیکھا اور کمرے سے باہر نکل گیا…
.
دوپہر میں ہی اعیرہ کی بارات تھی اور المیر کا ولیمہ. اور شام میں اعیرہ حمنہ اور ہمایوں کی.فلائٹ ہمایوں نے ولیمہ دو دن بعد کا رکھا تھا..
اعیرہ دلہن بن کے سچ مچ کی گڑیا لگ رہی تھی کئ نظریں اعیرہ اور ہمایوں کی جوڑی پہ.تکی تھی.جبکہ دوسری طرف المیر چہرے پہ سنجیدگی لیہ گھوم رہا تھا المیر کو دیکھ کے مونا سمجھ چکی تھی کے معملہ کچھ گڑبڑ ہے.
اعیرہ کی رخصتی کا شور اٹھا تو اعیرہ.کو سنبھالنا مشکل ہوگیا..المیر بھی اپنی بہن کے گلے لگ کے خوب رویا اور اعیرہ دلہن کے جوڑے میں ہی.کراچی میں اپنا سب چھوڑ کے ہمایوں کے ساتھ لاہور اگئ..
¤¤¤¤¤¤¤¤¤
امجد؟؟؟؟
ہاں بولو…
تم.نے ولی سے بات کی ؟؟
ہاں کی.اور ہر بار کی طرح اپکے صاحبزادے کا وہی ڈرامہ ابھی رخصتی نہی کرنی.
مبشرہ امجد کی بات سن کے ہنس پڑی..
مبشرہ کبھی کبھی مجھے ڈر لگتا ہے ولی میری جوانی ہے اس میں اپنا وہی گنہگار عکس دیکھتا ہو ڈر لگتا ہے کبھی وہ.اس راستے پہ.نہ.چلے کبھی نہی
.مبشرہ نے امجد کے کندھے پہ.ہاتھ رکھا اور کہا..
کچھ نہی ہوگا تم پریشان مت ہو.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
جیے میںنو یار نہ ملے تے مرجاوا..
فل آواز میں سانگ پلے کرکے ولی.پش اپ کرنے میں مگن تھا کے ایک دم گانے کی آواز بند ہوئ تو ولی نے پش اپ.کرتے ہوئے نگاہ اٹھائ تو زوباریہ آنکھوں میں غصہ لیہ اسے ہی.گھور رہی تھی اور پھر بول پڑی..
ولی بھائ اپ اکیلے لاہور پڑھنے نہی آیے میں بھی اپکے ساتھ ہو صبح صبح اپ یہ محنوس بجا دیتے ہو میرا پیپر ہے کل..
ولی نے اپنے سے چھوٹی غصہ میں لال پیلی ہوتی بہن کو دیکھا اور کہا.
ایک تم اور ایک پاپا دونوں ہی میرے پیچھے پڑے ہو انکو میری شادی کی جلدی ہے اور تمہین میرے گانے لگانے سے تکلیف ہے.
بھائ پاپا نے غلط بھی نہی کہا .مشکبار سے نکاح کیے ہوئے اپکو دو سال ہوگئے ہیں مشکبار اتنی خوبصورت ہے اور اپ سے بہت محبت کرتی ہے پھر کیا پروبلم ہے اپکو…
کرتی ہوگی مگر میں نہی.کرتا میں نے یہ.نکاح دادا کے کہنے پہ کیا کیونکہ وہ الللہ.منڈی جارہے تھے مگر میرے نکاح ہوتے ہی رک گئے اور اب تک رکے ہوئے ہیں..
اففف زوباریہ نے زور سے اپنے سر پہ.ہاتھ مارا اور کہا.
شرم کرلو بھائ کچھ تو..
صاف سی سیدھی بات ہے میں تو کوئ مست سی بچی پھساونگا اس باولی سے نکاح توڑ لونگا..
زوباریہ جو جانے کیلیے پلٹی ایک دم رکی اور کہا..
لڑکیاں پھنسائ نہی بسائ جاتی ہے اور اگر کبھی کسی کو پھنسانے کا اپکا ارداہ ہو تو جو گھر میں. مجود اپکی بہنیں ہیں انہیں بھی کوئ پھنسائے گا بسائے گا نہی کیونکہ دینا مکافات عمل ہے یہ بول کے زوباریہ وہاں سے چلی گئ..
جاری.ہے…
