Gunah Se Wapsi By Mariyam Imran Readelle50215 Episode 45 Part 1
Rate this Novel
Episode 45 Part 1
ٹرک ڈرائیور ٹرک چھوڑ کے بھاگ گیا۔ دونوں کی حالت بہت تشویشناک تھی ۔۔سارے کھڑے تماشہ دیکھ رہےتھے جب پاس سے گزرتی ایک گاڑی نے مجمع لگادیکھا تو فورا گاڑی سے اترا اور لوگوں کی مدد سے دونوں کو گاڑی میں ڈالا ۔ہسپتال تک پہنچتے پہنچتے ہما دم توڑ چکی تھی جبکہ ثنا کی سانسیں ابھی باقی تھی ۔
ثنا کو فورا ہسپتال شفٹ کیا گیا مگر اس کی۔حالت بگڑتی جارہی تھی ڈاکٹر ثنا کا کیس ہاتھ میں ہی نہی لے رہے تھے ۔مگر گاڑی والا آدمی جسکے تعلق اونچے ہونے کی وجہ سے صرف ایک فون کال پہ ڈاکٹروں نے ہاتھوں ہاتھ ثنا کو لیا اور اسکا ٹریٹمنٹ شروع کیا مگر سر پہ گہری چوٹ کی وجہ سےثنا کومے میں جاچکی تھی ۔۔###
#
ہمایوں ہمیشہ کی طرح اعیرہ کو کالج کے اندر تک چھوڑنے گیا اور جھک کے ہمیشہ کی طرح بنا اعیرہ کا ریکشن سوچے اسکے گال چومنے لگا جب اعیرہ نے ہمایوں کے سینے پہ ہاتھ رکھ کے روکا اور کہا۔
ہمایوں پلیز سب دیکھ رہے ہیں یہ کام اب کالج اوف ہونے پہ کرلیا کرے ۔۔
ہمایوں جو اعیرہ کے چہرہ کو اپنی آنکھوں میں بسا رہا تھا۔اسے پتہ تھا اعیرہ کی دوستیں دیوار کے پیچھے چھپ کے ہر بار کی طرح ان کا لوو سین دیکھتی تھی۔۔
اعیرہ کی بات پہ ہمایوں اعیرہ سے پیچھے ہوا اور کہا۔
ارے دیکھتے ہیں تو دیکھنے میں تو بیوی پلس پرنسس کو کس کررہا ہو اور اگر تمہیں اب بھی کوئ اعتراض ہے تو ٹھیک ہے کالج اووف کے بعد کرلونگا کس وہ بھی لپ پر اوکے ٹیک کئیر اعیرہ منہ کھولے ہمایوں کو دیکھ رہی تھی جبکہ اپنے موبائل پہ خالد کی بار بار کال آنے پہ ہمایوں تیزی سے باہرنکل گیا ۔
ہمایوں کے جاتے ہی اعیرہ جیسی ہی مڑنے لگی اسکی دوستوں نے اسے گھیرا اور ان میں سے ایک نے کہا۔۔
ارے یار اعیرہ اتنے رومینٹک انداز میں ہمایوں بھائ تمہیں کس کرتے ہیں ہائے کاش ہمیں بھی کوئ اتنا پیار کرے۔۔
دوسری بولی۔۔
ہائے اعیرہ تو بہت لکی ہے ہمایوں بھائ کی آنکھوں میں ہمیشہ ہم نے تمہارے لیہ ایک الگ ہی جا
جہاں دیکھا ہے ۔ہاں اعیرہ ہمایوں بھائ کی جان بستی ہے تم میں۔
اسکی دوستیں نجانے کیا کیا بولے جارہی تھی مگر اعیرہ کی سانس تو ایک اسی جملے میں اتھل پتھل ہوگئ تھی۔۔
کے ہمایوں کی جان اعیرہ میں بستی ہے اور اس جملے کو سوچ کے نجانے کتنی دوفعہ ہی اسکے لب دھیرے سے مسکرائے تھے۔۔###
#
خالد نے ہمایوں کو بتایا ثنا کی کال کا اور وہ اب تک نہی ائ۔یہ سوچ سوچ کے خالد صاحب گھبرا رہے تھے ۔۔
لاکھ ثنا سے لاتعلقی سہی مگر جب وہ پاکستان آئ تو پھر اب تک گھر نہہی آئ اور اسکا موبائل بھی بند جارہا تھا ہمایوں کو اچھی خاصی سے پریشانی ہوگئ ۔۔پولس اسٹیشن ہسپتالوں سب جگہ ہی اس نے ثنا کی پک بھیج دی تھی۔اور پھر تین دن بعد ثنا ک پتہ چل گیا مگر اسکی حالت دیکھ کے خالد صاحب کی طبیعت خراب ہوگئ ۔۔زخمی اور بے جان جسم ثنا کی حالت قابل رحم تھی مگر ابھی تک کومہ میں تھی۔۔خالد صاحب اسے گھر لے آئے اور بہترین نرس کا ارینجمنٹ کیا مگر فلحال ثنا کی حالت میں کوئ بہتری نہی ائ۔۔
#
المیر کو گئے آج 4 مہینے ہوگئے تھے ۔گھر والوں سے سب سے بات کرتا مگر جہاں مونا غلطی سے بھی بھی آفرین سے بات کرنے کا بولتی وہی المیر کوئ نہ کوئ بہانہ کرکے کال کٹ کردیتا۔
آفرین کی ہر رات اپنے الللہ کے آگے روتے بلکتے گزرتی کبھی کبھی اسے سجدے میں روتے روتے صبح ہوجاتی ۔۔وہ ہر رات المیر کی تصویر اپنے سینے سے لگانے سوتی دن تو جیسے تیسے گزرجاتا مگر رات جو المیر کے تنگ کرنے سے چھوٹی موٹی حرکتیں سہتی گزرتی تھی۔۔وہ۔کاٹنا مشکل تھا ۔پہنوا سے لے کر اسکا ہہر عمل سارے گھر والوں کیلیے تشویش تھا فاطمہ سے اسکی حالت دیکھی نہی جاتی مگر وہ چاہ کر بھی آفرین سے کچھ پوچھ نہی پاتی ۔۔
ایک ایسی رات آفرین عشاء کی نماز پڑھ کے ایک بار پھر سجدے میں گر گئ اور زور زور سے رونے لگی جب ایک دم کوئ دروازہ کھول کے اس کے کمرے کے اندر داخل ہوا۔۔۔
جاری ہے
