50.9K
64

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 37 Part 2

اعیرہ خوشی سے چیختی جنگاڑتی ڈرائینگ روم میں داخل ہوئ خوشی خوشی اپنے بھائ کی طرف ڈوری بنا یہ دیکھے کے وہاں کون کون ہے خوشی سے المیر کے گلے لگے گئ اور کہا.
بھائ بھائ میں نے پہلی پوزیشن لی میڑک میں سب سے ہائیسس مارکس آئے ہیں یا ہوں بھائ اب تو ہم مجھے موبائل ملینگا نہ مجھے. اعیرہ اپنی ہی دھن میں بولی جارہی تھی.جبکہ حمنہ نے مسکرا کے اسے دیکھا ہمایوں تو اپنی جان کو دیکھ کے ہی خوش وخرم ہوگیا جسکا چہرہ خوش ہونے کی.وجہ سے اور گلو ہوگیا تھا..
المیر نے ایک نظر سب پہ ڈالی اور اعیرہ کو اپنے سے الگ کیا اور کہا.
اعیرہ بیٹا کوئ آیا ہوا دیکھو..المیر کے بولنے پہ اعیرہ ایک دم اپنے آنکھیں بڑی کی اور اپنی زبان دانتوں تلے دبا کے جب پلٹی تو سامنے ہمایوں کو دیکھا اور ایک.انجان چہرے.کو مگر جیسی ہی اسکی نظر فاطمہ.پہ پڑی تو وہ گھور کے اسے ہی دیکھ رہی تھی.. جبکہ مونا تو اپنی ہنسی بہت مشکل سے روک رہی تھی. اعیرہ کی شکل دیکھ کے کچھ ایسا ہی حال آفتاب کا تھا..
اعیرہ نےنروس ہوکے اسکول کا بیگ سائیڈ پہ رکھا اور فورا حمنہ.کو سلام کیا…
اسلام وعلیکم..
آنٹی کسی ہیں آپ.. ؟؟
حمنہ.نے اعیرہ کے سلام کا جواب دیا اور کہا.
میں بلکل ٹھیک اور اپ کسی ہیں..
میں بھی آنٹی بلکل ٹھیک پتہ ہے میں نے ٹاپ کیا ہے پورے بورڈ میں الللہ پتہ ہے میرا کلاس فیلو سب کے نمبر مجھ سے کم ہیں ہائے آنٹی سب کا منہ دیکھنے والا تھا یہ بول کے اعیرہ نے زور سے تالی ماری..
تو فاطمہ کی آواز گونجی..
اعیرہ جاو کپڑے چینج کرو فورا.
فاطمہ.کی گرجدار آواز سن کے آعیرہ فورا سیریس ہوئ اور جانے کیلیے جیسی.ہی مڑی تو اسکی نظر ہمایوں پہ پڑی
ارے ہمایوں بھائ کیسے ہیں اپ… ؟؟
اعیرہ کے بھائ بولنے پہ نے جہاں ہمایوں نے سڑا ہوا منہ بنایا وہی.حمنہ نے اپنی.مسکراہٹ چھپانے کیلیے چائے کا کپ اپنے لبوں سے لگالیا. مگر المیر بہت کوششش کے باوجود بھی اپنا قہقہ روک نہی پایا..المیر کو ہنستا دیکھ فاطمہ نے پھر اعیرہ سے کہا..
اعیرہ حال چال فریش ہونے کے بعد پوچھ لینا جاو..
فاطمہ کی گرجدار آواز سن کے اعیرہ فل.اسپیڈ میں وہاں سے بھاگی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤
رات کے کھانے کے بعد سب ہی باتوں میں مشغول.تھے جبکہ اعیرہ اور مونا اپنے روم میں تھی تو المیر اور ہمایوں ٹیرس پہ.
وہ تینوں نفوس اج پھر اپنے ماضی میں کھوئے ہوئے تھے..حمنہ نے شاہ زین اور ہانیہ کی موت کی حقیقت .جیڈی کا بدلنا اور ہمایوں کی اپنے ددھیال سے نفرت سب بتا دیا تھا. حمنہ کا رو رو کر برا حال تھا اج اسے پھر شاہ زین اور ہانیہ کی موت کی جو تکلیف ہوئے تھی اج وہ پھر ایک بار دہرا کے تازہ ہوگئ تھی..نہ.فاطمہ کے پاس الفاظ تھے نہ آفتاب کے پاس جو اسے تسلی دے سکے..
تھوڑی دیر بعد حمنہ نے فاطمہ سے کہا..
فاطمہ میں اج تم سے اپنے بیٹے کی خوشیاں مانگنے آئ ہو جو صرف اعیرہ سے جڑی ہیں پلیز زندگی میں اس نے بہت دکھ دیکھے ہیں .شاہ زین اور ہانیہ کی موت نے اس سے اسکا بچپن چھین لیا اور ثنا کے دھوکہ نے اس سے بلکل.ہی خاموش ہی کردیا میرے کیہ گناہ.کی سزا شاید میرے بیٹے کو ملی مگر فاطمہ اور آفتاب تم.لوگ اعیرہ کو اسکی زندگی میں شامل کرکے اسے زندگی کی.سب سے بڑی خوشی دے سکتے ہو.میں نے دیکھا ہے فاطمہ ہمایوں کی آنکھوں میں اعیرہ کیلیے محبت جو شاہ زین کی.آنکھوں میں میرے لیہ تھی..ہمایوں دو تین ہفتوں کیلیے لندن جا رہا ہے میں چاہتی ہو اسکے واپسی آنے پہ میں اعیرہ کو اپنی.بیٹی بنا کے پنے ساتھ لے جاو.. فاطمہ…
حمنہ بول کے چپ ہوئ تو فاطمہ نے آگے بڑھ کے اسے گلے لگایا اور کہا.
ٹھیک ہے حمنہ ہمایوں کے واپسی آنے پہ اعیرہ کو تم اپنی بیٹی بنا کے لے جانا مگر حمنہ میری بیٹی ابھی سولہ سال میں لگی ہے مین جانتی ہو وہ بہت چھوٹی ہے ابھی وہ شادی کا مطلب ہمایوں کا حق کچھ نہی جانتی مگر میں یہ جانتی ہو کے وہ.ایک ماں سے دوسری ماں کے پاس جارہی ہے اعیرہ کو کوئ مشکل نہی ہوگی شادی کرکے..؟؟
فاطمہ میں جانتی تمہارے کہنے کامطلب اور میں جانتی.ہو وہ بہت چھوٹی ہے اسکی معصومیت ایسی ہی رہے گی..اور ہمایوں زیادہ بہتر جانتا ہے کب اور کس وقت وہ اعیرہ سے اپنے حق کا مطلبہ کریگا.
حمنہ کے بولنے پہ فاطمہ اسکے گلے لگ گئ..
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ٹیرس پہ کھڑے المیر اور ہمایوں دونوں ہی گہری سوچ میں گم تھے..المیر ایک ایک بات ہمایوں کو بتا چکا تھا. کہی اسے المیر صحیح لگا کہی اسے آفرین…
المیر میں نے کہی پڑا تھا عورت جب محبت کرنے پہ آتی ہے تو دنیا کی ہر خوشی اپنے یار کے پیچھے ٹھکرادیتے ہیں..کیونکہ بقول عورت زات کے..
“کے یار ایک ہوتا ہے.
اور ایک تقسیم نہی ہوتا”
عورت خاموش اگر محبت کرسکتی ہے تو عورت کی نفرت مرد کبھی مرداشت نہی کرسکتا..
باقی تو دیکھ لے المیر یہ جنگ جتنا تیرے لیہ بہت مشکل ہے.
ہمایوں کی.کسی بات کا جواب المیر کے پاس نہی تھا..
¤¤¤¤¤¤¤¤¤
صبح ناشتہ.کی.ٹیبل سب ہی.موجود تھے سوائے اعیرہ کے پیپر ختم ہونے کے بعد وہ بے خبر سورہی تھی. فاطمہ نے تو اسے اٹھانے لگی تھی.مگر حمنہ نے اسے منع کردیا.
ناشتہ کی.ٹیبل پہ ہمایوں کی.زندگی کا فیصلہ جب فاطمہ نے اسے بتایا تو بہت خوش ہوا. فاطمہ نے ہمایوں کے واپس آنے تک یہ کہہ کے حمنہ کو اپنے پاس روک لیا کے میں اکیلے خوار نہی ہونگی شادی کی شاپنگ کرنے میں….
مونا کو بھی ہمایوں اعیرہ کیلے اچھا لگا مگر وہ پریشان تھی تو صرف ان دونوں کی عمروں کو لے کے. وہ سمجھدار تھی شادی کے تقاضے کو سمجھتی.مگر فلحال وہ.یہ سب سوچنا نہی چاہتی تھی ہمایوں کافی دیر سے ادھر ادھر نگاہ ڈورا رہا تھا جب اسکے برابر میں بیٹھی مونا نے پہلی بار ہمایوں کو مخاطب کیا..
ہمایوں بھائ اپ جسکو ڈھونڈ رہے ہیں وہ ابھی ساری دنیا بیچ کے سو رہی ہے..
ہمایوں کا مونا کا ایسا بولنا بہت اچھا لگا.اس نے ہلکی.آواز میں کہا..
اعیرہ کو میرے بارے اپ بتاوگی سالی صاحبہ مجھے یقین ہے اپ میرے ہیلپ.ضرور کروگی..میری کوئ بہن نہی ہے ایک تھی جسے مجھے چھوڑ کے جانے کی بہت جلدی تھی .یہ بول.کے مونا کے ہمایوں سے دلی.ہمدردی ہوئ.کیونکہ اسکی ماما اسے ہمایوں کے پاپا اور اسکی بہن کی ڈیٹھ کا بتا دیا تھا..
مونا نے کہا..
ہمایوں بھائ ہانیہ نہی تو مونا تو ہے اپکی بہن انشاءالللہ جب اپ وہاں سے واپس آئینگے تو دولہن راضی ملے گی..مونا کی باتیں سن کے ہمایوں کی آنکھیں خوشی سے ایک دم بھیگ گئ اور اس نے کہا تو صرف اتنا..
سدا خوش رہو بہن..
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤.
اور ہمایوں حمنہ کو وہاں چھوڑ کے ثنا کے ساتھ لندن اچکا تھا اس نے ثنا کو اپنی شادی.کا بھی بتایا تھا. مگر اعیرہ کی.پک.نہی دیکھای تھی.لندن پہنچ کے ثنا نے فیصلہ کر چکی تھی کے لندن سے وہ.کچھ ایسا ہمایوں کیساتھ ایسا کچھ ضرور کرکے جائےگی .کے ہمایوں پاکستان جاکے اس سے شادی کرنے پہ.مجبور ہوجائے..
¤¤¤¤¤¤¤
لندن آئے ان دونوں کو تین ہفتے ہوگئے تھے وہ دونوں کام کرنے میں اتنا مگن تھے کے دونوں کو وقت کا پتہ نہی چلا..اج وہ لوگ ریلکس تھے اور اپنے اپنے کمرے میں آرام کررہے تھے جب ہمایوں کو کال کرکے ثنا نے اپنے.کمرے میں بلایا..
ہمایوں ثنا کے کمرے میں پہنچا تو وہ.کمرے میں نہی ملی جیسی ہے وہ.جانے کیلے پلٹا تو ثنا اسے کمرے کے دروازے سے.لگ کے کھڑی ہوئ ملی..
ثنا کے بدن پہ.کپڑے نام کے موجود تھے جو اس نے ہمایوں کو دیکھ اتار دیا..
ثنا کی اس حرکت پہ.ہمایوں شاکڈ تھا اس نے غصہ میں اپنی مٹھیاں بھینچی اور اپنی آنکھیں بند کرکے کھولی اور جانے کیلیے جیسی آگے بڑھا ثنا اگے بڑھ کے اس کے گلے لگ گئ اور جابجا اسکو چومنے لگی.اور کہنے.لگی .
ہمایوں میں بہت محبت کرتی ہو تم سے اج مجھے تمہارے ضرورت ہے پلیز اج مجھے چھوڑ کے نہ.جانے یہ بول کے اس سے پہلے ثنا کچھ اور گستاخی.کرتی.ہمایوں نے اسے خود سے دور کیا اور ایک زناٹے دار ٹھپڑ اسکے منہ پہ.مارا اور کہا. .
شرم آتی.ہے مجھے یہ کہتے ہوئے کہ تم خالد انکل.کی بیٹی ہو..عورت نام پہ دھبہ ہو تم تمہین مجھ سے محبت نہی میری.حوس ہے شرم کرلو ثنا کچھ اپنے نام کی ہی.لاج رکھ لو..وہ کوئ اور مرد ہونگے جو عورت کے سراپے کو دیکھ اپنا ایمان بیچے گا میں ہمایوں خان ہو. .آئ سمجھ یہ بول کے ہمایوں کمرے سے نکلنے لگا. تو ثنا نے کہا.
تم خود بھی تو ایسی.ہی حوس کی پیداوار ہو حرام کے ہو تم سمجھتےکیا ہو خود کو تمہاری ماں نے بھی تو حرام کاری کی تھی…
ثنا کی باتوں نے اسکی روح تک کو جھلسا دیا تھا اس نے کرب سے اپنی آنکھیں بند کی اور گھوم کے بنا ثنا کے سراپے پہ نگاہ ڈال کے کہا
میں جو بھی یہ میرا الللہ بہتر جانتا ہے.. کون حرام کا ہے اور کون حوس کا پجاری ہے یہ تو نہ اپنے.کپڑے اتار کے ثابت کردیا. میں حرام کا ہو مگر دیکھ لو تم جیسی حرامن عورت کے شر سے الللہ نے.مجھے محفوظ رکھا تم تو حلال کی ہو مگر اج خود حرام کاری کرنے کیلیے راضی.ہو ..
اگر بہت آگ ہے تمہارے جسم میں تو جاو لندن میں کال عورتوں کی بہت ضروت ہے.. یہ بول کے ہمایوں تیزی سے کمرے سے نکل.گیا…
جاری ہے…