Gunah Se Wapsi By Mariyam Imran Readelle50215 Last Episode Part 1
Rate this Novel
Last Episode Part 1
آج ایک ہفتہ ہوگیا تھا ولی۔ ے نہ تو اعیرہ کو کال کی نہ کوئ ٹیکس نہ ہی کوئ میسیج اعیرہ کی حالت ایسی جیسی اسکی کوئ قیمیتی چیز اس سے چھین گئ ہونہ کھانے میں دل لگتا نہ
پڑھائ نہ ہی وہ اور کسی سے بات کررہی تھی۔۔
ادھر ولی کا بھی کچھ ایسا ہی حال تھا ۔کیونکہ وہ اعیرہ سے محبت کرنے لگا تھا اپنی حالت وہ خود بھی سمجھنے سے قاصر تھا۔۔
وہ اعیرہ سے محبت کرنے لگا تھا مگر اسے ایک بار بھی مشکبار کا خیال نہی آیا اس دوران مشکبار نے اسے کی بار کال کی مگر وہ حال احوال پوچھنے سے زیادہ اس سے بات نہی کرتا۔
ہمایوں کی روٹین میں کوئ فرق نہی آیا تھا ۔کیونکہ ایک بہت اہم پروجیکٹ جو خالد نے شروع کیا تھا وہ ہمایوں کیلیے بھی اتنا ہی امپورٹینڈ تھا۔
ثنا کی حالت میں سدھار آیا تھا مگر اب وہ ایک این جی او چلاتی تھی جس میں بے سہارا لڑکیوں کو جگہ دی جاتی تھی جسمیں خاص کر انکی عزت کا خیال رکھا جاتا تھا۔جسکا نام اس نے اپنی دوست کےنام پہ رکھا تھا جس نے اپنی جان پہ کھیل کے اسکی جان بچائ تھی وہ چاہتی تو اکیلے بھاگ سکتی تھی مگر اس نے اپنی دوستی نبھائ۔
ہما کئیر فاؤنڈیشن میں کسی بھی مرد ک داخلہ منع تھا۔
ہر وقت فیش میں رہنے والی ثنا اب مکمل شرعی پردہ میں تھی کتنی لڑکیوں کا وہ الللہ کے بعد سہارا تھی۔۔
“””اور بے شک میرا رب جسکو چاہے اپنے پسندیدہ بندوں میں شامل کرلیتا ہے انکو ہدایت دے کے۔۔
(مریم عمران#)
#
اعیرہ کلاس اٹینڈ کرکے باہر نکلی تو اسکے نمبر پہ کال انے لگی ۔اس نے جب موبائل نکال کے دیکھا تو جہاں خوشی ہوئ وہی شوکڈ بھی اس نے جلدی سے موبائل نکلا کال کا یس کا بٹن دبایا اور بنا ولی کی بات سنے بولنا شروع ہوگئ۔
تم اپنے آپ کو سمجھتے کیا ہو نہ کوئ کال نہ کوئ ٹیکس نہ ہی میسج ایسے کوئ غائب ہوتا ہے بنا بتائے میری کوئ بات بری لگی تھی ولی تو بتاتے مگر ایسے غائب ہونے کا کیا تکک بنتا ہے ۔شرم ہے یہ نہی تمہیں ۔۔
ولی جو لبوں پہ مسکراہٹ لیہ اسکے سارے شکوہ سن رہا تھا بولا بھی تو صرف اتنا ۔
I love you ayeerah ..
اعیرہ جو اپنی ہی دھن ۔میں بولے جارہی تھی ولی کی بات پہ ایک دم چپ ہوئ تو ولی نے دوبارہ کہا۔
اعیرہ میں تم سے محبت کرتاہو نہی رہ سکتا تمہارے بنا آج شام کا وقت ہے تمہارے پاس میں تمہارے جواب کا انتظار کرونگا ۔۔سوچ سمجھ کے جواب دینا۔۔یہ کہہ کے ولی نے کال رکھ دی۔۔
مگر اعیرہ جو ولی کی بات سن کے شوکڈ تھی
ایک دم ہوش میں آئ اوراسکے لب ولی کے اظہار پہ دھیرے سے مسکرائے ۔۔وہ شام کا انتظار کرنے سے پہلے ابھی ہی ولی کو جواب دینے والی تھی اس سے پہلے وہ ولی کو کال کرتی اس کے نمبر پہ ہمایوں کی کال آنے لگی۔
وہ۔جو ابھی تک اس رشتہ کو بھلائے گندگی میں کھڑی تھی ایک دم اسے ایسا لگا کے کیسی نے اسے عرش سے فرش پہ لا پٹھکا۔
اس نے ہمایوں کی کال ریسیو کی تو وہی پیار بھرا لہجہ اسے ہمایوں کا سنائ دیا
اسلام وعلیکم میری شونا پرنسس ۔۔کالج کے بعد میں اپنی جان کو پک کرنے آرہا ہو دھیر ساری شاپنگ کرینگے اور پھر اچھا سا لنچ اوکے میں نے ڈرائیور کوبول دیا ہے وہ نہی آئےگا مگر اس بار پکا میں آؤنگا ویٹ کرنا میرا
میری محبت میری پرنسس یہ کہہ کے ہمایوں نے بنا اعیرہ کی خاموشی نوٹ کیہ لائن کاٹ دی۔وہی اعیرہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے ۔ہمایوں اور اسکے درمیان کا ایج دفرینس اسے ہمیشہ ہمایوں سے ہچکچائے رکھتا وہ کھل کے ہمایوں آج تک فری نہی ہوسکی مگر ولی کے ساتھ وہ بہت فرینک تھی دونوں کی عمروں میں زیادہ فرق نہیں تھا جو ہنسی۔مزاق ہر طرح کی بات وہ ولی سے کرتی تھی۔
مگر آج زندگی نے اسے کہاں لاکے پٹھکا تھا وہ وہی بنی بینچ پہ بیٹھی اور اسنے ولی کو کال ۔۔
ولی جو یہ سوچ رہا تھا شام تک کا وقت اس کا کیسے کٹے گا ۔
اعیرہ کی کال آتے ہی اسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا مگر اصل اسکے پیروں کے نیچے سے زمین تب نکلی جب اعیرہ نے کال کرکے صرف اتنا کہا۔
ولی میں شادی شدہ ہو۔۔
اعیرہ کی بات سن کے پہلے تو ولی شاکڈ ہوا مگر پھر اسکا قہقہ موبائل سے گونجا تو اعیرہ نے کرب سے آنکھیں بند کی اور کہا تو صرف اتنا میں نے واٹس اپ پہ کچھ بھیجا ہے چیک کرلو شاید اسکے بعد تم ہنسو نہی۔
یہ کہہ کےاعیرہ نے کال کٹ کی تو ادھر ولی نے کانپتے ہاتھوں سے واٹس اپ اون کیا ۔جسمیں اعیرہ اور ہمایوں کی شادی کی پکس تھی اور بہت سی پکس تھی ۔ولی دیکھ کے اندازہ لگا سکتا تھا کے اعیرہ اور ہمایوں میں کتنا فرق ہے ۔چند آنسو ولی کی آنکھوں سے نکل کے موبائل کی اسکرین پہ ابھرے ۔اسنے دیکھا اعیرہ اون لائن مگر اس میں ہمت نہی تھی اعیرہ سے بات کرنے کی۔اور اس نے اعیرہ کو بلاک کردیا۔
ولی کے بلاک کرتے ہی اعیرہ بلک بلک کے روپڑی ۔
#
ہمایوں اپنے وعدہ کے مطابق اعیرہ کو لینے آیا اعیرہ ذبردستی ہمایوں کیساتھ مسکرا رہی تھی دل اسکا ولی کےپاسں ہی رہ گیا ۔ہمایوں نے اعیرہ سے کئ بار پوچھا کےکوئ بات ہوئ ہے ہم دوست سے ہیں اعیرہ مجھ سے شئر کرو ہمایوں کے پوچھنے پہ اعیرہ کا دل شدت سے چاہا کے وہ چیخ چیخ کے کہا۔
ہاں میں بھی ولی سے محبت کرتی میں نہی رہنا چاہتی تمہارے ساتھ چھوڑ دو مجھے۔ ۔
مگر ایسا اعیرہ خالی سوچ پائ۔
دو دن ہوگئے تھے ولی اور اعیرہ کو الگ ہوئے۔اعیرہ نے بھی ولی کو ایک اچھی یاد سمجھ کےبھلانا چاہا مگر وہ ناکام رہی۔
ابھی ہمایوں فریش ہوکے نکلا تھا۔اسکے نمبر پہ ظفر کی کال آنے لگی اس نے ظفر کی۔کال مسکراتے ہوئے اٹھائ مگر آگے سے جو بات ظفر نے کی وہ ہمایوں کیلیے کسی آزمائش سے کم نہی تھی اس نے ظفر کی کوئ بات کرے بغیر کال کاٹ دی جبھی تھوڑی دیر میں حمنہ کی کال آگئ اور اس نے کہا تو صرف اتنا۔۔۔
جانا ضرور ہمایوں تمہیں میری قسم ۔۔
اور ہمایوں اعیرہ کو لے کے خان حویلی کیلیے نکل پڑا ۔۔
جہاں شیر خان اپنی آخری سانسیں گن رہا تھا۔
ہمایوں جب کاغان پہنچا تو کافی دیر ہوگئ تھی جہاں شیر خان اپنی آخری سانسیں گن چکا تھا وہی اسکا جنازہ بھی گھر سے نکل چکا تھا۔ہمایوں نے اعیرہ کو اپنی رابعہ پھپو کے حوالے کیا اور قبرستان کی طرف اپنی گاڑی ڈورادی۔۔
ابھی جنازہ قبرستان سے باہر ہی تھا جب کسی نے امجدسے ڈولی لی اور امجدنے جب ڈولی لینے والے کو دیکھا تو ساکن ہوگیا ہمایوں اس کے قد سے بھی اونچا تھا جنازے میں شریک سب ہی شہ زین کی اس پرچھائ جو دیکھ کے دنگ تھے مگر ولی کی اگلی سانس لینا مشکل تھی
امجد کی نظریں بار بار ہمایوں پہ بھٹک رہی تھی جسمیں کہی سے بھی اسکی پرچھائ نہی تھی مگر وہ مکمل شہ زین تھا ۔قبر میں اتارنے کے بعد سب ہی ایک دوسرے سے گلے مل رہے تھے جب امجدبغل گیر ہونے کیلیے ہمایوں کے سامنے آیا ہمایوں نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر امجد جو مایوس ہوا تھا ایک بار کے شاید آج بھی وہ ہمایوں کے گلے لگنے سے محروم رہے گا مگر وہ غلط رہا ہمایوں امجد کے گلے لگ چکا تھا امجد کی روح کو ایک سکون سا ملا تھا۔
ولی اپنے باپ کی ایسی ترپ پہ حیران تھا اج
مگر اصل جھٹکا اسے تب لگا جب اسے پتہ چلا کے اعیرہ اسکی بھابھی اور ہمایوں اسکا تایا زاد بھائ ہے۔
حویلی میں اعیرہ سب سے مل چکی تھی وقتی طور پہ ولی کا خیال اسکے دل سے نکل چکا تھا ۔مگر جب اسنے ولی اور ہمایوں کو ایک ساتھ گھر میں داخل ہوتا دیکھا تو اسے اپنا سر گھومتا ہوا محسوس ہوا ۔
18 سال بعد آج ہمایوں نے اس حویلی میں قدم رکھا تھا رابعہ مبشرہ سںبہی اسسے خوشدلی سے ملی ضامن بھی ہمایوں کو دیکھ کے رشک کر اٹھا کیونکہ اسکی ٹھاٹ ہی ایسی تھی جبکہ زوباریہ تو مانو خوشی سے پھولے نہی سمارہی تھی کیونکہ وہ اب تک اس بات سے محروم تھی کے اسکا ایک بھائ اور ہے۔۔۔۔ہمایوں کو زوباریہ کافی اچھی لگی جیسے مونا ویسی وہ آج ہمایوں کا الللہ نے دو دو بہنوں سے نوازا تھا مگر ابھی تک نہ اعیرہ اور ہمایوں ک سامنا مشکبار سے ہوا تھا ۔۔
ہمایوں ولی سے بھی خوش اسلوبی سے ملا مگر اعیرہ اور ولی کی نظریں ایک دوسرے پہ سے ہٹ نہی رہی تھی۔۔
اعیرہ واش روم کا پوچھ کے اٹھی تو ولی بھی آنکھ بچاتا وہاں سے کھسکا اعیرہ اپنی۔ہی دھن میں جا رہی تھی۔جب اس کسی نے زور سے کھینچ کے دیوار سےلگایا۔
اسسے پہلے اعیرہ چیختی ولی نے اسکے منہ پہ ہاتھ رکھا ۔
ولی کو سامنے دیکھ کے اعیرہ کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگی ولی نے اسکے منہ پہ سے ہاتھ ہٹایا اور کہا۔
مجھے فرق نہی پڑتا تم شدید شدہ ہو میں بس اتنا جانتا ہو میں تم سے بہت محبت کرتا کو میں نے بہت کوشش کی تمہیں بھلانے کی مگر ناکام رہا اب تم بس مجھے ایک بات م جواب دو کی تم۔مجھ سے محبت کرتی ہو۔؟؟
اعیرہ نے ایک نظر اسے دیکھا اور زور سے ولی کے سینے سے لگ کے کہنے لگی مرجاونگی تمہارے بنا ولی مجھے نہی رہنا ہمایوں کیساتھ۔۔۔۔
جاری ہے۔۔
