50.9K
64

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

جیڈی کی بات کا جواب ان دونوں میں سے کسی کے پاس نہی تھا..
.
(کیونکہ حقیقت بھی یہی تھی. مرد کی فطرت اس اوارہ پنچھی کی طرح ہیں. جسکا ایک ڈل پہ گزارا نہی..
بہت سے ایسے مرد ہوتے جو عورت کی خوبصورتی کو دیکھ کے اپنا ایمان تک.اس حد تک کمزور کر لیتے ہیں کہ پھر انکو حرام حلال کا فرق بھی یاد نہی رہتا.. تو کہی عورتیں بھی یہ کام سر انجام دیتی ہیں….
پانچوں انگلیاں برابر نہی ہوتی…نہ سارے مرد ایک جیسے ہوتے ہیں نہ ساری عورتیں…ساری بات ضمیر کی ہے.. کسی بھی مرد عورت کا ضمیر مردہ ہوجاتا ہے کسی کا بے حس اور دونوی صورتوں میں انسان گناہ کے راستے پہ.چل پڑتا ہے…ہم کیوں اپنے مزے کیلیے کسی کے سچے جزبات سے کھیل جاتے ہیں.. کیوں نہی سوچتے کے ہماری بیوفائ کرنے سے سامنے والا انسان. دوبارہ کسے سچے جزبات رکھنے والوں کی قدر نہی کرتا…
کیونکہ کہتے ہیں..جسکے ساتھ بیوفائ ہو چاہے مرد کرے یا عورت.. دونوں صورتوں میں نقصان صرف دل اور جزباتوں کا ہوتا ہے…
مریم#)
جیڈی نے جب ان دونوں کو خاموش دیکھا تو کہا..
چلو تم لوگ تھوڑی دیر بیھٹو میں فریش ہو کے آتا ہو پھر کہی باہر چلتے ہیں…
¤¤¤¤¤
شاہ زین کی آمد پہ ساری وادی.کے لوگوں نے اسکا تہہ دل سے ویل کم کیا…
شیر خان نے بھی اسکی آو بھگت میں کوئ کمی نہی چھوڑی…نمرہ تو شاہ زین کو چھوٹی سے گڑیا لگی.. جبکہ رابعہ کی آنکھوں میں چھپے پیغام کو پڑھ کے شاہ زین جان کے بھی انجان بنا رہا…
نورین بیگم نے شاہ زین کی کافی آو بھگت کی.کیونکہ کے وہ رابعہ کا رشتہ شاہ زین سے کرنا چاہتی تھی. تاکہ انکی بیٹی انکی آنکھوں کے سامنے رہے… اسی دوران امجد بھی
شہر سے اکے شاہ زین سے مل چکا تھا…¤¤¤
¤¤¤¤¤
ناشتے کی ٹیبل پہ سب موجود تھے سوائے. شاہ زین کے… نورین بیگم نے رابعہ سے کہا….
جو ناشتہ کرنے میں مصروف تھی…
جاو رابعہ شاہ زین کو دیکھ کے آو ابھی تک آیا کیوں نہہی..؟؟
جی اچھا اماں..رابعہ نے ماں کے حکم مانا اور شاہ زین کے کمرے کی طرف چل دی…
رابعہ کے اٹھتے ہی شیر خان نے نمرہ سے کہا..
نمرہ جاو کچن میں دیکھو چائے کیوں نہی آی اور بول کے آو کہ شاہ زین لالہ کیلیے اچھا سا ناشتہ بنوائے…
اچھا بابا..
نمرہ کے کچن میں جاتے ہی. شیر خان نے نورین کو مخاطب کرکے کہا…
تم جو چاہ رہی ہو نورین ام کو نہی لگتا شاہ زین حامی بھرے گا…
ام نے دیکھا ہے اسے رابعہ سے فاصلہ قائم کرتے ہوئے..
نورین بیگم شیر خان کی باتوں کا مفہوم سمجھ کے دھیرے سے مسکرای اور ایک ادا سے کہا…
یہ آپ مجھ پہ چھوڑ دو ام کو پتہ ہے یہ معملہ کیسے سنبھالنا ہے…تم پریشان نہ ہو خان..
نورین کی باتوں پہ شیر خان نے ہان میں گردن ہلائ…
¤¤¤¤¤¤
رابعہ نے ڈھرکتے دل کیساتھ شاہ زین کے کمرے کا دروازہ بجایا….
اندر سے اجازت ملتے ہی رابعہ اندر گئ تو شاہ زین اپنی پیکنگ کررہا تھا….
رابعہ کو دیکھ کے مسکرایا اور کہا…
خیریت تم.میرے کمرے میں ؟؟
رابعہ نے بہت مشکل سے نظر اٹھا کے شاہ زین کو دیکھا اور کہا…
وہ بابا تم.کو ناشتہ پہ بلا رہے ہیں..
شاہ زین نے پیکنگ کرتے ہوئے مصروف انداز میں کہا.ہان تم چلو میں آتا ہو…
اچھا صحیح ہے…یہ بول کے رابعہ جیسی ہی کمرے سے جانے لگی…
کہ ایک دم اسکو شاہ زین نے آواز دے کے روکا اور کہا…
رابعہ میں تمہارے دل کے جزبات سے اچھی طرح واقف ہو مگر کیا ہے نہ مجھے محبت کے چکر میں نہی پڑنا میری منزل کہی اور ہے..اور ویسے بھی میں تمہیں ہمیشہ اپنی دوست مانا ہے اسکے علاوہ کچھ نہی اور کبھی کچھ اور مانوگا.بھی نہی…میرے جیسے شخص کیلیے اپنے جزبات ضائع مت کرو…
یہ بول شاہ زین چپ ہوا. تو رابعہ جو رخ موڑے بغیر ہی اسکی بات سن رہی تھی اور ساتھ میں بے آواز رو رپی تھی…
تیزی سے اسکے کمرے سے نکلی اور اپنے.کمرے میں پہنچ کے دورازہ بند کیا اور بے آواز روتے روتے کہا…
تم میرے ہو شاہ زین صرف میرے تمہیں تو میں اپنا بنا کے رہونگی ہر قیمت پہ… تمہاری مرضی سے نہی تو اپنی مرضی سے….
¤¤¤¤¤¤¤
شاہ زین ناشتہ کیلے نیچے آیا تو ٹیبل پہ.اسے خالی نورین اور شیر خان ہی بیٹھے ملے…
شاہ زین نے دونوں.کو سلام کیا اور ناشتہ کرنے لگا.. کہ جبھی شیر خان نے اس سے پوچھا…
شاہ زین تمہاری واپسی کب کی ہے امیں بتاو ام ٹکٹ کا انتظام کرواتا ہے.؟؟
نہ چاچو میں اب واپس نہی جاونگا ادھر ہی.رہونگا….
شاہ زین کی بات سن کے جہاں نورین بیگم کو اپنا کام آسان لگا وہی..شیر خان کے ماتھے پہ پسینا آنے لگا… کیونکہ اگر شاہ زین یہان رکتا تو اج نہی تو کل اسے شیرخان کے کالے کرتوتوں کا پتہ چل جاتا…
مگر شیر خان کی آدھی سے زیادہ پریشانی شاہ زین کی اگلی بات نے پوری کردی…
مگر چاچا میں یہاں نہی کراچی جانا چاہتا ہو میرے ایک دوست تھا باہر وہ میرے ساتھ ہی پاکستان آیا ہے میں اسکے ساتھ. ملکے لیڈر کا کام اسٹارٹ کرنا چاہتا ہو.. مگر مجھے اپ کی.مدد چاہیے تھی…..
شیر خان نے شاہ زین کی پوری بات سنی اور مسکرا کے کہا…
ہاں کہو امارے بیٹے کو اماری.کیا مدد چاہیے…؟؟
چاچو مجھے 1 کروڑ چاہیے بزنس میں لگانے کیلیے ادھے میں.لگاونگا آدھا میرا دوست خالد لگائے گا….اپ.مجھے بابا کے حصہ میں سے دے سکتے ہیں.؟؟؟…
شیر خان.نے تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد کہا…
ہاں ہاں کیوں نہی.. مگر شاہ زین تمہارے بابا کا کیش تو نہی ہے… مگر انکا گھر ہے وہ بیچنے میں ایک دو دن لگنگے..
.مگر چاچا میں تو اج ہی.کراچی کیلیے نکل.رہا ہو کیونکہ مجھے گھر بھی دیکھنا پڑے گا اپنے رہنے کیلیے…؟؟؟
ارے. تم فکر مت کرو گھر کی امجد کراچی میں ہی ہے میں اسے بول دونگا.. کسی فلیٹ کا کیونکہ وہ خود بھی فلیٹ میں ہی.رہتا ہے..اور رہا سوال پیسوں کا تو تم اج.کراچی پہنچو.. میں پرسوں تک تمہارے اکاونٹ میں پیسے پہنچا دونگا…
شیر خان کی بات سن کے شاہ زین خوشی سے انکے گلے لگ گیا…اور انکا شکریہ.ادا کیا..
شیر خان نے ایک دو دن کے اندر امجد کو شاہ زین کیلیے فلیٹ ڈھونڈنے کو کہا…
شاہ زین کراچی جاتے وقت وہ سب سے ملا.. رابعہ بھی اس سے نارمل انداز میں ملی…
اور شاہ زین اپنی وادی چھوڑ کے کراچی آگیا…
¤¤¤¤¤¤¤¤
مشتاق صاحب میرے لاکھ منا کرنے باوجود اپ نے ہمنہ کو موبائل لے کے دیا…اسے کیا ضرورت ہے موبائل.کی.؟؟
کمرے میں چائے لاتے ہوئے یمنہ نے مشتاق صاحب سے شکوہ کیا…
یمنہ کے ہاتھ سے چائے لے کے مشتاق صاحب نے چائے ایک طرف رکھی اور یمنہ کا.ہاتھ پکڑ کے اسے اپنے سامنے بیٹھایا اور کہا….
یمنہ حمنہ ہماری ایکلوتی بیٹی ہے..یہ سب اسی کا تو ہے…
تم کیوں ہر وقت ڈرتی ہو کیا تمہیں اپنی پرورش پہ بھروسہ نہہی…؟؟
مشتاق صاحب کی بات سن کے یمنہ نے ایک گہرا سانس لیا اور کہا…
مشتاق مجھے اپنی پرورش پہ پور بھروسہ ہے مگر اجکل کا زمانہ دیکھ کے ڈر لگتا کون کہاں .کس وقت برائ کے راستے پہ چل نکلے پتہ نہی چلتا.. میں جب بھی اسے اسسکی ڈریسنگ پہ روکتی ہو اپ ہمیشہ حمایت کرتے ہیں..حمنہ کی ڈڑیسنگ ایسی ہوتی ہے کہ نہ دیکھنے والوں کی بھی نظر پڑ جائے… کتنا کہا تھا میں نے اپ سے کہ اسے یونی.میں ایڈمیشن میں داخلہ مت ڈلوائے. مگر اپ نے میری.نہی مانی..
اسکا لاوبالی پن اسکا نخرہ اسکا مزاج اسے کسی بڑی مصیبت میں نہ ڈال دے…
مشتاق بیٹی پیدا ہونے سے ماں نہی ڈرتی. بس اس کے نصیب سے ڈرتی ہے ماں…کیونکہ ماں باپ اپنی بیٹی کو سب دے سکتے ہیں خرید کر مگر اسکا نصیب نہی خرید سکتے….
بیٹی ایک شیشہ ہوتا ہے مشتاق.. جسے ہر انداز پہ دیکھنے پہ.ماں کی.تربیت دیکھتی ہے..
یمنہ بول کے چپ ہوئ تو مشتاق صاحب نے صرف اتنا کہا…
یمنہ حمنہ میرا غرور ہے…وہ.کبھی میری یہ تمہاری تربیت پہ.آنچ نہی آنے دے گی.
.
اور مشتاق صاحب کو کون سمجائے..کہ غرور. چاہے. دولت پہ.ہو,حسن پہ ہو,,یہ پھر اولاد پہ توٹٹا ضرور ہے…
کیونکہ غرور الللہ کو پسند نہی
جاری ہے…