Rate this Novel
Episode 3
باچا خان باچا خان…..
شیر خان کی گرجدار آواز پوری خان حویلی میں گونج رہی تھی….
باچا خان جو شیر خان کا خاص آدمی تھا. بھاگتا ہوا شیر خان کے پاس پہنچا اور کہا…..
جی جی ام کو بولایا مالک….
ہاں باچا خان ام کو بتاو.. دالدار خان نے کیا کہا اپنی زمین ہمیں بیچے گا کے نہی…..؟؟؟
نہ.مالک وہ بولتا ام یہ زمین نہی بیچا گا اور زیادہ تمہارے مالک نے ہمیں ام.کو تنگ کیا تو ہم.پولیس میں کمپلین کرے گا…..
دلدار خان کی دھمکی باچا خان کے منہ سے سن کے شیر خان کا قہقہ پوری خان حویلی میں گونجا….
لگتا یے دلدار خان کو اپنا جلوہ دیکھانا پڑے گا… تم.گاڑی تیار رکو ام ناشتہ سے فارغ ہوکے دلدار خان کی طرف جائے گا….
جو حکم مالک…..
¤¤¤¤¤¤
کاغان جیسے پہاڑوں کا شہر کہا جاتا جہاں پھٹانی رواج کو کافی اہمیت دی جاتی تھی .خوبصورت پہاڑیوں سے دھکی یہ وادی. اپنی.مثال اپ تھی…….
دلنواز خان کی تین اولادیں تھی…
شیر خان..بختاور خان.. اور نرمین خان…
دلنواز خان بہت سلجھے ہوئے انسان تھے جہاں کاغان کے لوگ ان سے اپنے مسلئے سلجھاتے تھے وہی انکی عزت بھی کرتے تھے….
بختاور ہو بہو اپنے والد اخلاق کے تھے مگر بد قسمتی سے دلنواز خان اور انکی.اہلیہ کے انتقال کے بعد کاغان کا سارا نظام بختاور کے کندھوں پہ آگیا…شیر خان اپنے بھائ اور باپ کا الٹ تھا…لڑآئ جھگڑا…وادی کی.لڑکیوں پہ.گندی نظر رکھنا اور اسکی عادت کئ بار بختاور نے اسے سمجھانے کی.کوشش کی مگر.. ناکام رہا…
ایک کار ایکسیڈنٹ میں بختاور اور اسکی.اہلیہ اس دنیا سے چلے گئے… مگر انکا اکلوتا بیٹا شیر خان کے رحم.وکرم پہ آگیا…
شیر خان کی تین اولادیں تھی…امجد خان…رابعہ اور نمرہ..
بختاور کے انتقال کے بعد شیر خان کھل کے کاغان کے لوگوں کے سامنے آیا…کبھی اچھا بن کے تو کبھی زور زبردستی سے انکے مال پہ قبضہ کرنے لگا…
مگر دلدار خان کو لاکھ دھمکانے پہ بھی وہ اپنی زمین شیر خان کے نام کرنے پہ.راضی.نہ ہوا….
لوگوں کی زمین ہرپ کرکے شیر خان انکو اتنی سہولت دیتا تھا کہ وہ اس پہ کاروبار کرسے اور اسکا دس پرسنٹ شیر خان کو پہنچائے….
..
مگر کہتے ہیں.. جب ظلم حد سے بڑھ جائے تو مٹ جاتا ہے….
ایسا ہی کچھ شیر خان کیساتھ ہونے والا تھا.
¤¤¤¤¤
ملو(نوکرانی زرا ..جلدی جلدی ہاتھ چلاو ام امجد کو اٹھا کے آتا ہے….
جی اماں….
نورین .امجد کے کمرے میں پہنچی تو ہمیشہ کیطرح کمرے میں سے شراب کی.بو آی… نورین بیگم نے آگے بڑھ کے کمرے کے پردے ہٹائ اور سائڈ ٹیبل پہ رکھا پانی کا بھرا ہوا جگ امجد پہ انڈیل دیا…
اس اچانک آفت پہ امجد ایک دم بوکھلا کے اٹھ گیا…
..
شیر خان کے ہی نقش قدم پہ چلنے والا امجد رات گئے دیرے پہ سے شراب کے نشے میں دھٹ ایا.. نورین خان جہاں شیر خان سے ڈرتی تھی وہی انکے تینوں اولادیں انکی آنکھ کے اشارے سے چلتے تھی
امجد نے شراب میں بھیگی آنکھوں سے جب غصہ میں کھڑی اپنی ماں کو دیکھا تو فورا اپنے منہ ہاتھ پھیرا…
نورین بیگم نے گرجدار آواز میں کہا…
تم سدھر جاو امجد خان ام تم.کو بتا رہا ہے ورنہ بہت پچھتاے گا تم…. شراب حرام ہے ہزار بار ام تم کو یہ بات سمجھا چکا ہے مگر تم کو ہماری بات سمجھ نہی آتی..
اج تو تم.کو شہر جانا تھا..
تمہارا یونی کا پہلا دم تھا اور تم یہاں مردو کی طرح پڑا ہے..
او اماں ام بھول گیا. ام اج رات ہی شہر کیلے نکل جائے گا.. بس اماں تم ام.کو فٹافٹ ناشتہ دو ام شہر جانے.کی تیاری کرتا ہے یہ بول کے امجد فورا فریش ہونے بھاگا.. تو نورین بیگم بھی نیچے چل پڑی…
ناشتے کی ٹیبل پہ شیر خان نے کہا…
ایک ہفتہ بعد امارا ایکلوتا بھتیجہ آرہا ہے ام کوئ تماشہ نہی چاہیے….نورین تم اسکا اچھے سے دیھان رکھنا وہ چند دن رکے گا اور پھر چلا جائے…
جی جی خان ام کو پتہ ہے..تم پریشان مت ہو..
مگر کوئ تھا جسکے ماتھے پہ اسکا زکر سن کے ہی تیوری پہ بل ابھری تو کسی لبوں پہ.مسکراہٹ….ناشتہ سے فارغ ہوکے.. شیر خان باچا خان کے ساتھ دلدار خان کے گھر پہنچا.. وائٹ کاٹن کے سوٹ میں مغرورانہ چال چلتے ہوئے
اسنے دلدار خان کے گھر میں قدم رکھا…
ام تم کو بول چکا ہے شیر خان ام تم کو اپنی زمین نہی دے گا.چاہے تم جو کرلو…دلدار نے غصہ میں شیر خان کا کالر پکڑ کے کہا…
دلدار کے کالر پکڑنے کی دیر تھی کے شیر خان کے آدمیوں نے اسکے سر پہ بندوقیں تان دی….
شیر خان نے ایک پسٹل اسکے سر پہ رکھا اور کہا..
زمین تو تم امارے نام کرے گا ایسے نہی تو ویسے… شیر خان کے بولنے کی دیر تھی کے اسکے آدمی دللدار خان کی بیوی کو باہر لے آیے…..
دلدار خان کی بیوی کو دیکھ جہاں شیر خان دنگ ہوا وہی دلدار خان کی ہوایاں اڑ گئ….
اپنی بیوی کو ایسسے دیکھ دلدار خان نے گرج کے کہا..
بیغیرت پٹھان ہو کے عورت کو ڈھال بناتا ہے. یہ بول کے دلدار خان نے شیر خان کے منہ پہ تھوک دیا….شیر خان کے آدمیوں نے دلدار خان کی اس حرکت پہ اسکو مار مار کے لہولہان کردیا…اور زبردستی اسکی زمین کے کاغزات پہ اسکے سائن بھی لے لیہ.مگر شیر خان کا غصہ ختم نہی ہوا…
اسنے دلدار خان کے سامنے اسکی بیوی کی عزت کا تار تار کردیا.. نہ صرف اس نے بلکہ اسکے آدمی بھی درندوں کی طرح اسکی بیوی پہ جھپٹ پڑے دلدار خان ٹرپتا رہا بلکتا رہا مگر شیر خان کو رحم.نہ آیا..
اسکی بیوی نے تو اسی وقت دم توڑ دیا…مگر دلدار خان کو شیر خان نے اسے اپنے ہاتھوں سے مارا اور اسکے گھر کو اگ لگا دی… دلدار خان کا اگے پیچھے کوئ نہی تھا نہ کوئ اولاد اس لیہ کسی نے بھی شیر خان کے خلاف آواز نہ اٹھائ…..
ایک گھر جس نے ظلم کے اگے اپنا سر نہ جھکایا وہ کاغان وادی کی سرزمین سے ہی مٹ گیا…..مگر الللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے……..
