Gunah Se Wapsi By Mariyam Imran Readelle50215 Episode 38 Part 2
Rate this Novel
Episode 38 Part 2
ہمایوں نے پلٹ کے دیکھا تو المیر کو کھڑا پایا جبکہ مونا ہمایوں کا لایا ہوا گفٹ جو اپنی بے دردی پہ رورہا تھا..سمیٹنے لگی. مونا نے گفٹ کا ایک حصہ اٹھایا تو وہ پیارا سا ہارِٹ تھا جس پہ مائ ڈول لکھا تھا..
المیر ہمایوں مونا تینوں ہی گارڈن میں بیٹھے تھے جب المیر نے اعیرہ کے روم والا سارا قصہ اسکا بتایا..
ہمایوں نے ایک گہری سانس لی اور کہا..
دیکھنے میں تو گڑیا لگ رہی تھی مگر حرکتیں تو ڈائن والی ہے تیری بہن کی اتنے غصہ میں مجھے دیکھ رہی تھی میں تو سمجھا ابھی میرا خون پی جائے گی..
یہ بول کے ہمایوں ریلکس ہوا.
تو مونا اور المیر ہونقوں کی طرح اسکا چہرہ دیکھنے لگے کہ جبھی مونا نے بہت سیریس انداز میں ہمایوں کو کہا..
بھائ لگتا ہے اعیرہ کی باتوں نے اپکے دماغ پہ اثر کردیا ہے جبھی اپ بہت بہکی بہکی باتیں کررہے ہیں..
مجھے لگ رہا ہے ہمایوں تو فلائٹ میں ٹھیک سے سویا نہی جبھی نیند تیرے دماغ پہ چڑھ گئ ہے ..المیر نے ایک افسوس بھری نظر اس پہ ڈالی اور کہا..
ہمایوں نے ایک نظر ان دونوں کے اترے ہوئے چہرے دیکھے اور قہقہ لگانے لگا.
ہمایوں نے جب ان دونوں کو دیکھا تو وہ دونوں اسی کو گھور رہے تھے.. ہمایوں نے فور اپنا قہقہ روکا اور کہا.
ابھی مان چاہا دولہا ہو ..دوسری بات اتنی جلدی وہ.خود دلہن بن رہی ہے غصہ ہونے کا حق تو بنتا ہے.. ابھی اسکو اسکے حال پہ چھور ڑ دو خودی ٹھیک ہوجائے گی.زیادہ اسکے نخرے ابھی اٹھائینگے اور بھڑکے کی..
جیسے وہ تجھے اگنور کررہی ہے المیر تو بھی اسے کر. وہ تیرا بنا نہی رہ سکتی اندازہ ہے مجھے..
ناخن سے گوشت جدا نہی ہوتا خون کے رشتہ اکثر غصے اور انا کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں مگر ٹوٹتے نہی.. ٹینشن نہی لے جب تو اسے اگنور کریگا خودی لائن پہ اجائے گی..
ہمایوں کی باتوں سے دونوں نے اتفاق کیا. اور سکون کا سانس لیا..
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
اگلے دن وہ سب برات اور ولیمہ کے ڈریس کیلیے مال میں موجود تھے.. آفرین اپنے ڈیڈ کے ڈر سے انکے ساتھ تھی جبکہ اعیرہ مونا کے کہنے پہ آئ تھی…
آفرین کو جب یہ.معلوم ہوا کے اعیرہ کی.شادی بھی اسی کیساتھ ہے تو بہت شاکڈ ہوئ کیونکہ وہ بہت چھوٹی تھی آفرین کو المیر کی پوری فیملی سائیکو لگی.
المیر جان بوجھ بوجھ کے آفرین کو ڈریس دیکھاتے ہوئے مخاطب کرتا مگر وہ بھی اپنے نام کی ایک تھی المیر کی بھی بات کا جواب نہی دیا..ہمایوں کافی دیر سے یہ سین دیکھ رہا اخر کار کمال کی ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس نے اپنی ہنسی روکی اور المیر کے پاس جاکے ہلکی سی سرگوشی کی.
بہت پسند ہیں نہ تجھے ٹیڑھی کھیر اب نگل اسکو.. ہمایوں کی بات سن کے المیر نے اسے گھور کے دیکھا اور پھر اسی کے انداز میں اس سے کہا..
تیرا اپنے بارے میں کیا خیال ہے تیری ڈائن تو ابھی بھی تجھے خونخوار نظروں سے گھور رہی ہے ایسا نہ ہو برات والے دن دودھ کی جگہ وہ تیرا خون ہی پییے یہ بول کے المیر نے ساییڈ پکڑی تو ہمایوں نے پلٹ کے اعیرہ کو دیکھا جو کچھ دیر پہلے تو ہمایوں کو ہی گھور رہی تھی.مگر اسکے پلٹے ہی وہ مونا کی طرف مڑ گئ.
ٹھیک ٹھاک شاپنگ کے بعد وہ لوگ فورڈ کورٹ آئے حمنہ اور فاطمہ تو گھر چلی گئ تھی.. اس لیہ ینگ جنرڑیشن ہی رہ گئ تھی..
آفرین کو بھی سخت بھوک لگ رہی تھی اس لیہ اس نے اپنی انا اپنا غصہ فلحال سائیڈ میں رکھا اور کھانے کو ترجی دی..
سب. کے اڈر کے بعد جب ہمایوں نے اعیرہ سے پوچھا کے وہ.کیا کھائے گی..تو اس نے بنا بحض کیہ اپنا آڈر ہمایوں کو بتا دیا. جس پہ المیر اور ہمایوں کو خاصی حیرت ہوئ مگر مونا ریلکس بیٹھی تھی..
کیونکہ کل جب ہمایوں سے بات کرنے کے بعد مونا سیدھا اعیرہ کے کمرے میں پہنچی تو وہ.نماز پڑھ رہی تھی سلام پھیر کے اعیرہ نے جب دیکھا. تو مونا کو اپنا منتظر پایا.
اعیرہ خاموشی سے اٹھی اور مونا کی گودھ میں سر رکھ لیٹ گئ.مونا دھیرے دھیرے اسکے سر میں انگلیاں چلانے لگی.
اعیرہ آنکھیں بند کرکے سکون سے لیٹی تھی جب مونا نے اعیرہ کو پکارہ..
اعیرہ اج مین تمہیں کچھ بتانا چاہتی ہو..
یہ بول کے مونا نے ہمایوں کی ساری زندگی اعیرہ کے سامنے رکھ دی.
ساری بات سننے کے بعد اعیرہ نے کہا..
آپی ہمایوں کو اتنی جلدی کیا تھی شادی کی میری عمر میں اور انکی عمر میں بہت فرق ہے انہیں تو کوئ بھی مل سکتی تھی تو میں ہی کیوں. میری اسٹڈی میں خواب میری آزادی سب انہوں نے ایک جھٹکے میں چھین لی..
اعیرہ تم اپنی جگہ اگر صحیح ہو تو غلط ہمایوں بھائ بھی نہی.مانا ان کی عمر میں اور تمہاری عمر مین بہت فرق ہے. پتہ ہے اعیرہ. میری ایک ٹیچر نے شادی کے بارے میں ایک چھوٹا سے لیکچر دیا تھا جسکا مین پوائنٹ عمروں کا فرق تھا..
تمہین پتہ ہمارے پیارے نبیّ پاک کی پہلے شادی حضرت خدیجہ سے ہوئ تھی.اور ہمارے نبی سے بڑی تھی حضرت خدیجہ..
ہماری ٹیچر نے کہا تھا..لڑکی کے مقابلے میں لڑکوں کی عمر زیادہ ہونی چاہیے جبھی وہ اپنی زمہداری سمجھ سکے گے اپنی سے چھوٹی عمر کی بیوی کا دیھان اس پرندے کی طرح رکھتے ہیں جس پہ وہ کسی دوسرے پرندے کا سایہ بھی پڑنے نہی دیتے..
میں ہمایوں بھای کی آنکھوں میں تمہارے لیہ محبت دیکھی ہے اعیرہ تمارے کوئ خواب ادھورے نہی رہینگے اایک نظر تم ہمایوں بھائ کا چہرہ اپنے ہونے والے شوہر کی حیثیت سے تو دیکھو..عمر کا فرق کوئ معںنی نہی رکھتا اعیرہ دل مین محبت اور عزت ہونی چاہیے رشتہ خود مظبوط ہوجاتے ہیں.
اور ہاں ہمایوں بھائ نے نہی کہا جلدی شادی کا.نہ.المیر نے کہا یہ تو حمنہ آنٹی کی.خواہش تھی کے وہ اپنے پچے کی خوشی اسے جلد از جلد دینا چاہتی تھی…باقی سوچنا ضرور اس بارے میں یہ بول کے مونا اعیرہ کو حیران کن حالت میں چھوڑ کے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئ.
اعیرہ کے اتنے آرام سے آڈر لکھوانے پہ.ہمایوں نے بے ڈھرک مونا کو دیکھا تو مسکرادی اور ہمایوں سمجھ گیا کے اس نے اسکی مشکل تھوڑی آسان کردی..
سب ہی اپنے اپنے کھانے میں لگے تھے مگر المیر کی نظر آفرین کے برگر کی طرف تھی جہاں آفرین کے بائٹ لینے پہ اسکے لپسٹک کے نشان موجود تھے. آفرین جب مونا سے باتوں میں لگی تو المیر نے اسی جگہ جہاں آفرین کے لبوں کے نشان تھے ہلکی سے بائٹ لی تاکہ اسے پتہ نہ چلے اور واپس اسکا برگر رکھ دیا. ہمایوں کی نظر بے ساختہ نظر اعیرہ کی طرف گئ مگر وہ اپنے برگر سے بھر پور انصاف کرنے.میں مصروف تھی.
ہمایوں نے اپنے دل کو تسلی دی اور کہا.
ہم برگر ہی نہی ڈائیرکٹ ہونٹوں کو ٹارگٹ کرینگے بس تھوڑا انتظار.
سب نے کھانے سے فارغ ہوکے اپنے گھروں کی راہ لی. کیونکہ کل مایوں کا فنکشن تھا..
جاری ہے
