Gunah Se Wapsi By Mariyam Imran Readelle50215 Episode 40 Part 2
Rate this Novel
Episode 40 Part 2
زوباریہ نے ایک نظر کمرےکے اندر جھانکا ۔
اپنے باپ کے انکھوں سے گرنے والے انسو زوباریہ کے دل پہ گر رہے تھے ۔۔
ولی کمرے میں اکے غصہ میں اپنی پیکنک کرنے لگا۔۔
زوباریہ غصہ میں دنداناتی ہوئ ولی کے کمرے میں پہنچی اور کہا۔۔
بھائ اپ چاہتے کیا ہیں ؟؟؟
ولی نے ایک نظر زوباریہ پہ ڈالی اور خاموشی سے اپنی پیکنگ کرنے لگا۔۔۔زوباریہ اگے بڑھ کے اسکے ہاتھ سے شرت لی اور کہا۔
بھائ جو اولاد ماں باپ کےانسووں کا سبب بنتی ہے ۔وہ کبھی پنپتی نہہی۔۔۔
اچھا اور جو ماں باپ اپنی مرضی سے زبردستی اپنا فیصلہ اپنی اولاد پہ ٹھوپے یہ جانتے ہوئے بھی کے انکی اولاد کی خوشی نہی صرف اپنی زبان کا پاس رکھنے کے چکر میں اپنی اولاد کی پوری زندگی داو پہ لگادے ان ماں باپ کے بارےمیں تمہارا کیا خیال ہے؟؟؟
ولی نے بھی اسی کے انداز میں اس سے سوال کیا مگر اواز زوباریہ سے کافی اونچی تھی۔۔۔
بھائ اخر کیا برائ ہے مشکبار اپی میں کیوں اپکو انکی محبت دیکھائ نہی دیتی ۔۔؟؟
ولی نے ایک نظر زوباریہ پہ ڈالی اسکے قریب ایااور کہا۔
محبت اگر اپ کسی سے کرتے ہو تو یہ اپکا مسئلہ ہے سامنے والے کو اس بات پہ مجبور نہی کرتے کے وہ بھی اپ سے ہر حال میں محبت کرے خالی اپنی محبت پہ سامنے والی کی زندگی کے فیصلہ کرنے والے خود غرض ہوتے ہیں اور سوکولڈ تمہاری مشکبار اپی خود غرض ہے۔۔
وہ مجھ سےمحبت کرتی ہے تو کیوں نہی دیا میرا ساتھ صرف دو تین سال ہی مانگے تھے نہ اس سے وہ بھی اس لیہ تاکہ میں اسکے بارے سوچ سکو سمجھ سکو مگر نہی اس کو تو بس اپنی زات کی خوشی سے غرض تھا جو اس نےپوری کرلی تو پھر یہ رخصتی کا راگ کس لیہ۔الاپ رہی ہے کرے انتظار میرا اب جب تک جب تک مجھےمحبت نہی ہوجاتی۔۔
اور تم جو اسکی اتنی حمایت کرہی ہو سب جانتا ہو تمہیں بھی صرف اپنی خوشی سے مطلب ہے جبھی چاہتی ہوکے جلد ازجلد میں رخصتی ہو تاکے تمہاری بھی رخصتی ہو ۔۔تو کروالے نہ ضامن تمہاری رخصتی خود غرض تو وہ بھی نکلا جب تک اسکی بہن کی رخصتی نہی ہوگی وہ تمہیں بھی رخصت نہی کرےگا۔
جاو زوباریہ میڈم یہ لیکچر کہی اور جاکے دے نہ میرےساتھ چلنا ہے تو پیکنگ کرلو ورنہ اتی رہنا پھر اپنے شوہرکیساتھ۔۔
ولی یہ بول کے دوبارہ اپنی پیکنگ میں لگ گیا یہ جانے بنا کےجس بہن میں اسکی جان تھی اج وہ خوداسکے رلانے سسبب بنا۔
زوباریہ نے اپنےانسو بے دردی سےصاف کیہ اورولی کا رخ اپنی طرف موڑ کر کہا۔
میں ضامن سے محبت کرتی ہو جبھی مشکبار اپی کا دردسمجھتی ہو ۔اگر اپکو یہ لگتا ہے کامیں اس لیہ اپ سے مشکبار اپی کی وکالت کرنے ائ ہو تاکے میں اور ضامن ایک ہوجائے ۔تو یہ اپکی سب سے بڑی غلط فہمی ہے بھائ میں ابھی کے ابھی ضامن سے خلا کا نوٹس بھیجواتی ہو۔میں اوروہ ایک دوسرے سے اتنی محبت کرتے ہیں کے ساری زندگی بنا ایک دوسرے کا پائے گزار سکتے ہیں ۔مگر اسکے بعد اپ یہ بھول جائیگا کے اپکی کوئ بہن بھی ہے۔۔یہ بول کے زوباریہ جانے کیلیے مڑی مگر ایک دم ولی کی طرف پلٹی اور کہا۔۔
کسی کی محبت کی توہین کرنے کا حق ہمیں نہی بھائ مگر میری دعا ہے کے زندگی میں ایک باراپ کو محبت ہو غلط وقت پہ صحیح انسان سے ۔۔
#
### ۔
دو گھنٹے ہوگئے مگرزوباریہ نہ تو کمرےسےنکلی اور نہ دوپہر کا کھانا کھایا ۔گھر کا ماحول ہی وسوگوار سا تھا کوئ بھی کھانےکی ٹیبل پہ بھی موجود نہہی تھااور کھانا یوہی رکھے رکھے ٹھنڈا ہو رہا تھا۔۔۔امجد جو ولی کے فیصلہ کےبعد کمرے سے نہی نکلا تو مبشرہ بھی اسی کے ساتھ کمرے میں موجد رہی۔۔ولی جو کھانے کی ٹیبل پہ بے دلی سے بیٹھا تھا اٹھ کے زوباریہ کے کمرے کی طرف گیا۔۔
ولی نےاہستہ سے زوباریہ کے کمرے کا دروازہ ناک کرکے اسکا لاک گھومایا تو دروازہ کھلتا چلا گیا
کمرے میں داخل ہوتے ہی ولی سمجھ گیا کے زوباریہ رو رہی ہے کیونکہ اسکی ہچکیاں صاف سنائ دے رہی تھی ۔ولی کے دل پہ ایک گھونسا سا پڑا۔۔
وہ دھیرے دھیرےزوباریہ کےپاس ایا جو گھٹنوں میں سر دیے رونے میں مصروف تھی۔۔ولی اہستہ سے زوباریہ کے پاس جاکے بیٹھا اور کہا۔
اٹھو اور کہہ دوپاپاسے جاکے میں تیار ہو مشکبار کی رخصتی کیلیے فائنل ایگزیم کے بعد۔۔ولی کے بولنے پہ زوباریہ نے ایک جھٹکے سے گردن اٹھائ اور ولی کو دیکھ کےغصہ میں کہا۔۔
میں نہہی بول رہی کچھ بھی پاپا کا جاکر پتہ چلے بعد میں یہ الزام بھی مجھ پہ ہو اور مجھ سے بات کرنے کی کوئ ضرورت نہی اپکو۔۔
الللہ الللہ اتنا غصہ چلو معاف بھی کردو غصہ میں تھا میں بھی انسان ہو اسکتا ہے مجھے غصہ ۔۔
زوباریہ نے جب دو منٹ تک ولی کی بات کا جواب نہی دیا تو ولی نے کہا۔۔
ٹھیک ہے رہو ناراض ..
میں بھی لاہور جاکے ایسا غائب ہونگا کےساری زندگی میری شکل دیکھنے کوترسوگی۔۔
یہ بول کے ولی جیسے ہی اگے بڑھنے لگا زوباریہ نے ایک جھٹکے سےاسکا ہاتھ پکڑا اور کہا۔
اچھا نہ ناراض نہی ہو میں اب یہ بول کے زوباریہ مسکرائ تو ولی نے بھی اسے اپنے گلے سے لگایا اور کہا۔
جانتی ہو تم ناراض ہوتی ہو تو عجیب سا لگتا ہے سب۔
چلو اب پاپا کے پاس چلے۔۔
ولی اور زوباریہ ایک ساتھ امجد کےکمرے میں گئے۔۔
ولی نہ صرف امجد سے اپنے رویے کی معافی مانگی بلکہ اسکی بات بھی مان لی مشکبار کی رخصتی کے لیہ تو امجد نے خوش ہوکے ولی کو اپنے گلے سےلگالیا۔اور ولی کی بات مانتے ہوئے رخصتی کی تاریخ انکے پیپروں کے بعد کی رکھ لی۔
شام میں رابعہ اور ظفر اپنی پوری فیملی کیساتھ دعوت پہ ائے امجد نے رابعہ کو نکاح کی ڈیٹ دی سب ہی اس فیصلے پہ بہت خوش ہوئے شیرخان کی بھی خواہش پوری ہوئ اپنے پوتے کے سر پہ سہرا دیکھنے کی۔
مگر دو لوگ ایسے تھے جو نہ توخوش تھے نہ اداس اس فیصلے پہ مشکبار جہاں ولی کے اچانک رخصتی دینے کے فیصلے سےشوکڈ تھی۔وہی ولی نے ایک غلط نظر بھی مشکبار پہ نہی ڈالی کیونکہ اس نے اپنی زندگی کا فیصلہ صرف اپنی بہن کی خوشیوں کے لیہ کیا۔۔۔
جاری ہے۔۔
