50.9K
64

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 48 Part 1

سیکنڈ لاسٹ ۔(پارٹ 1)#
(ہمایوں اعیرہ اسپیشل😍😍😍🙈🙈🙈)
اعیرہ شام کو فریش ہوکے نکلی تو اسکے موبائل پہ ہمایوں کی کال آنے لگی۔۔
اعیرہ نے کال اٹھائ تو اگے سے ہمایوں نے کہا۔
الماری میں تمہارے لیہ ایک ڈریس ہے اسے پہن کے اچھا سا تیار ہوجاو ادھے گھنٹے میں تمہیں لینے آرہا ہو ۔
یہ کہہ کے ہمایوں نے کال کٹ کی تو اعیرہ نے اٹھ کر الماری میں سوٹ دیکھا وہ سوٹ نہی ڈارک ریڈ کلر اور بلیک کنٹراس کی ساڑھی تھی۔۔
اعیرہ نے ستائشی نظروں سے ساڑھی کو دیکھا اور تیار ہونے چلی گئ اور وہ اپنی تیاری کو فائنل ٹچ ہی دے رہی تھی کے باہر گاڑی کا ہارن بجا۔
اعیرہ اپنی ساڑھی سنبھالتے ہوئے باہر نکلی تو ڈنر سوٹ میں ہمایوں اپنے پورے جلوے کیساتھ کھڑا تھا سیم اعیرہ کے سوٹ کی میچنگ کرکے جہاں اعیرہ ہمایوں کو دیکھ کے حیران ہوئ تھی کیونکہ وہ ضرورت سے زیادہ ہینڈسم لگ رہا تھا وہی ہمایوں اعیرہ کو دیکھ کے پلکے جھبکانا بھول۔گیا۔
اعیرہ آہستہ آہستہ چل کے ہمایوں کے پاس آئ ہمایوں نے اسے اوپر سے نیچے تک دیکھا اور اس کیلیے گاڑی کا گیٹ کھولا اعیرہ گاڑی میں بیٹھی اور ہمایوں نے گھوم کے ڈرائیور سیٹ سمبنھالی اورگاڑی زن سےاگےبڑھادی ۔۔
ہمایوں کی نظریں کئ بار بھٹکی تھی اعیرہ پہ گئ مگر اعیرہ اسکی تو حالت ہی عجیب تھی وہ بار بار اپنے ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں مڑور رہی تھی ہمایوں اسکی گھبراہٹ اچھی طرح سمجھ رہا تھا۔۔
ہمایوں اعیرہ کو لے ایک فیمس ہوٹل میں آیا ایک خوبصورت ٹیبل پہ دونوں بیٹھے تھے ۔اعیرہ بہت کنفیوز تھی ہمایوں کی نظروں سے مگر آج ہمایوں اعیرہ اور اپنے درمیان اس جھجک کو ختم کرنے والا تھا چھوٹا سا کیک کاٹنے کے بعد اچھے سے ڈنر کےبعد ہمایوں اور اعیرہ لانگ ڈرائیو پہ گئے ۔ہمایوں کے ہر عمل سے اعیرہ کی سانسیں ضرورت سے زیادہ تیز ڈھرک رہی تھی۔۔
لانگ ڈرائیو کے بعد ہمایوں اور اعیرہ گھر پہنچے مگر جیسی ہی اعیرہ گاڑی سے اتر کے اندر جانے لگی ہمایوں نے اسے گودھ میں اٹھالیا۔
ہمایوں کی بے باک نظریں اعیرہ کو اپنے جسم کے اندر گڑتی ہوئ محسوس ہورہی تھی ۔
ہمایوں اعیرہ کو لے کر بیڈ روم کے اندر گیا تو اعیرہ دنگ رہ گئ کیونکہ باہر جاتے وقت تو یہ۔کمرہ سمپل تھا۔
ہمایوں نے اعیرہ کو نیچے اتارا تو اعیرہ کمرے کی سجاوٹ میں کھو گئ ہر جگہ خوشبو والی کینڈل جگہ جگہ گلاب کےپھولوں کے بوکے بیڈ پہ بھی جابجا گلاب کی پتیاں بکھری تھی
ہمایوں نے اپنا کوٹ اتار کے سائیڈ میں رکھا اور سانگ پلے کرکے اعیرہ کو کمر سے تھام کے اپنے قریب کیا اور گانے کے سانگ پہ اسکے ساتھ ڈانس کرکے لگا۔۔
٫٫٫
“تیری ڈھرکنوں سے ہی زندگی میری۔۔”
ہمایوں نے اعیرہ کو گول گول گھمایا۔۔
٫خواہشیں تیری اب دعائیں میری۔”
ہمایوں نے اعیرہ کی پشت کو اپنے سینے سے لگایا اور ہلکا ہلکا ہلایا۔۔
“کتنا انوکھا بندھن ہے یہ”۔
اعیرہ کے سیدھا کرکے ایک پل ہمایوں نے اعیرہ کو دیکھا جو نظریں نیچے کیہ کھڑی تھی مگر اسکا بلش چہرہ ہمایوں کی دل کی دھڑکن بڑھا رہا تھا۔۔
ہمایوں نے جھک کے اعیرہ کے چہرہ تھاما اور اسکے لبوں کو اپنے لبوں میں قید کرلیا۔
“تیری میری جان جو ایک ہوئ”
لوٹونگا یہاں تیرے پاس میں ہاں وعدہ ہے میرا مر بھی جاؤں کہی۔””
ہمایوں نے کس کرتے ہوئے اعیرہ کی ساڑھی ک پلو نیچے گرا دیا اور جھک کے اعیرہ کو گودھ
میں اٹھایا اور بیڈ پہ لیٹا دیا ۔
مگر اعیرہ کی آنکھوں سے بہتے آنسو دیکھ ہمایوں ایک دم شوکڈ ہوا اور اعیرہ پہ جھکے جھکے ہی اعیرہ سے پوچھا۔۔
کیا ہوا پرنسس رہ کیوں رہی ہو؟؟
اعیرہ نے روتے روتے ہمایوں سے کہا۔
مجھے ڈر لگ رہا ہے آپ سے ہمایوں پلیز یہ سب۔۔
ہمایوں نے اعیرہ کی کمر کے نچلے ہاتھ ڈال کے اسکی باقی کی ساڑھی اتار کے رکھی اور اسکے گردن پہ اپنے لب رکھے اور کہا۔
میں شوہر ہو تمہارا مجھے پتہ ہے تم بہت ڈر رہی ہو مگر یقین کرو میرا یہ میرا حق ہے تم صرف ایک بار مجھے پہ یقین کرو میں کچھ بھی غلط نہی کرونگا آج تک میں نے تم سے زبانی عشق کیا ہے آج اپنے عشق کو اپنے عمل سے تم پہ نچھاور کرونگا تم بس ڈرو نہی بس یہ محسوس کرو کے پھلے ہم۔دو جسم تھے مگر ہماری جان آج ایک ہونے والی ہے۔۔
ہمایوں کی باتیں سن کے اعیرہ نے تھوڑی دیر ہمایوں کو دیکھا اسکے کانوں میں فاطمہ کے الفاظ گونجے ۔۔
اعیرہ کبھی ہمایوں آپکے ساتھ کچھ بھی کرے جو اسکی نظر میں آپ سے پیار ک اظہار ہو تو نہ ڈرنا نہ رونا بلکہ آنکھیں بند کرکے بس ہمایوں پہ۔یقین کرنا ۔
اعیرہ نے ہمایوں کو دیکھتے دیکھتے اپنی آنکھیں بند کرلی۔
ہمایوں کو اعیرہ کی یہ خود سپردگی پہ توٹھ کے پیار آیا اس نے کسی قیمتی موتی کی طرح اعیرہ کو جہاں اپنے آپ میں چھپایا بلکہ آج اعیرہ کے جسم سے لے کر اسکی ہر سانس پہ اپنے پیار کی مہر لگا دی۔۔
جاری ہے۔۔