50.9K
64

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 48 Part 2

قسط نمبر 48#
سیکنڈ لاسٹ #(پارٹ 2)#
ہمایوں کی آنکھ فجر کی اذان کی آواز پہ کھولی ہمایوں اتھ کے بیٹھا اور اپنے برابر میں لیتی اعیرہ پہ اسکی نظر گئ ۔جسکی کل رات کی سپردگی اسکا ڈر ہمایوں کو بہت خوبصورت احساس لگا۔۔
ہمایوں نے اعیرہ کے ماتھے پہ اپنے لب رکھے جو ہمایوں کی ہی شرٹ پہن کے سوئ ہوئ کوئ معصوم سے گڑیا لگ رہی تھی۔۔
ہمایوں فریش ہوا اور نماز پڑھنے چلا گیا۔
اعیرہ کی آنکھ کھولی اسنے ہاتھ بڑھا کے گھڑی اٹھائ ٹائم دیکھا تو ابھی فجر کی نماز میں ٹائم تھا۔اس سے پہلے وہ بیڈ سے اتر کے فریش ہونے جاتی اسکی نظر اپنے حلیے پہ پڑی ایک دم اسکی آنکھوں میں رات کا سارا منظر گھوم گیا جہاں اسکے چہرے پہ جابجا حیا کے رنگ بکھرے وہی اسنے اپنے کپڑے دیکھے اور فورا ڈور کے الماری سے اپنے کپڑے لیہ اور فریش ہونے چلی گئ۔
فریش ہوکے اس نے نماز ادا کی اتنے میں ہمایوں بھی آگیا مگر اس میں اتنی ہمت نہی تھی کے وہ ہمایوں کو فیس کرسکے ۔۔وہ ہمایوں سے شرمائے شرمائے پھر رہی تھی کبھی بلاوجہ الماری کھولتی کبھی بلاوجہ صوفے پہ بیٹھتی ہمایوں اسکی حرکت دیکھ رہا اتھا ۔اور ساتھ ساتھ بہت مشکل سے اپنی ہنسی روک رہا تھا۔۔
ایک دم ہمایوں نے اعیرہ کو آواز دی۔۔
پرنسس ؟؟؟
اعیرہ جو اب کمرے سے باہر جانے لگی تھی ہمایوں کی بات پہ رکی اور کہا ۔۔
ج ی ۔ج۔۔ی ۔۔۔
ادھر او۔۔
ہمایوں کے بولنے پہ اعیرہ سست چال چلتی ہوئ ہمایوں کے پاس جاکے کھڑی ہوئ۔۔
ہمایوں نے کھینچ کے اعیرہ کو اپنی گودھ میں بیٹھایا اور کہا۔
کیوں نروس ہو مجھ سے دیکھ کیوں نہی رہی میری طرف۔؟؟
اعیرہ جو ہمایوں کی گودھ میں بیٹھ کے اسکی رہی سہی ہمت بھی کھوچکی تھی ہمایوں کی بات پہ ایک دم رونے لگی۔
ہمایوں نے روتی ہوئی اعیرہ کے آنسو صاف کیے اور کہا۔
کیا ہوا پرنسس کیوں رو رہی ہو یار؟مجھے بتاؤ ہم دوست بھی ہیں نہ بلا جھجک مجھ سے کہو ۔۔
اعیرہ نے ایک نظر ہمایوں کو دیکھا اور کہا۔
آپ نے کہا تھا ہم دوست ہیں اور دوستوں میں تو یہ سب مطلب نہی مطلب وہ ی ۔۔ہ۔۔۔یہ سب ۔۔تو ہم اس سے کرتے ۔۔ج۔۔س سے ۔پیا۔۔ر ممطلب۔۔
اعیرہ اپنی بات کہنے پہ کافی اٹک رہی تھی مگر ہمایوں سمجھ چکا تھا کے اعیرہ کیا کہنا چارہی ہے یہ سچ تھا ہمایوں نے اس سے وعدہ کیا تھا کے وہ اور اعیرہ دوست ہیں مگر کچھ بھی انکی شادی کو کافی مہینے ہوگئے تھے اور یہ جائز حق اسے اپنا نکاح بچانے کیلیے استعمال کرنا تھا۔
اس نے اعیرہ کی کمر سہلائ اور کہا۔
اچھا جو میں تم سے پوچھو اسکا جواب سچ سچ دینا بنا ڈرے پوچھو؟؟؟
ہمایوں کے بولنے پہ اعیرہ نے ہاں میں گردن ہلائی تو ہمایوں نے کہا۔
مجھ سے محبت نہی کرتی؟؟؟
ہمایوں کے پوچھنے پہ اعیرہ نے نہ میں گردن ہلائ۔
ہمایوں نے ایک بار کرب سے اپنی نکھیں بند کی اور کہا۔
اچھا کوئ بات نہیں یہ بتاؤ میں تمہارا شوہر ہو تم میری محبت ہو میرے کسی عمل سے تمہیں یہ لگا کے میں تم سے محبت نہی کرتا یہ پھر میں تم سے جنسی محبت کرتا ہو اب اتنی تو تم سمجھ دار ہو کے محبت اور جنسی محبت میں فرق جانتی ہو۔۔
اعیرہ کے دل میں ہمایوں کی باتیں گھر کرہی تھی۔ اعیرہ نے نفی میں گردن ہلائی تو ہمایوں نے کہا ۔۔
اعیرہ تم۔میڈیکل اسٹوڈینٹ ہونے کیساتھ ساتھ ایک مسلمان بھی ہو اپنی اسٹڈی کیلیے تم کتنی چیزیں سرچ کرتی ہو۔کبھی میں میاں بیوی کے رشتے کے بھی بارے میں سرچ کرنا اندازاہ ہوجائے گا کے میں نے ایسا کیوں کیا مگر ایک بات میری یاد رکھنا اعیرہ ہمیشہ ہمایوں اعیرہ کو اعیرہ جب کہتا تھا جب وہ بہت سیریس ہوتا تھا۔
تم مجھ سے محبت نہی کرو کوئ مسئلہ نہی مگر میں جانتا ہو الللہ نے نکاح کے دو بولو میں بہت طاقت رکھی ہے جب دو انجان لوگ ایک دوسرے سے محبت کرنے پہ مجبور ہوجاتے ہیں اس رشتہ میں بندھنے کے بعد پھر میں تو تم سے عشق کرتا ہو۔میری ہر سانس پہ الللہ کے بعد تمہارا حق ہے اور تمہاری ہر سانس پہ میرا۔تمہاری اور میری عمر میں بہت فرق ہے اعیرہ مگر الللہ نے ہمیں اس رشتہ میں پھر بھی باندھا ۔مگر اعیرہ تم جب بھی محبت ہو وہ مجھ سے ہونی چاہیے مجھے اپنے حصہ میں کسی بھی قسم کی شراکت منظور نہی اور تم تو پھر میرے دل کی حصہ ہو اگر دل کے حصہ میں کوئ اور حصہ شراکت کرے تو وہ ڈھرکنا چھوڑ دیتا ہے۔۔
اب چلو جلدی سے ریڈی ہوجاو میں اپنی پرنسس کیلیے خود ناشتہ بناونگا۔۔
یہ بول کے ہمایوں نے اعیرہ کے لبوں کو چوما اور اور اسکو گودھ سے اتار کے ناشتہ بنانےچلا گیا۔
مگر اعیرہ ساکت اور جامدہمایوں کی باتیں سوچنے لگی ۔
اور پھر جب اعیرہ نے واقعی میاں بیوی کا رشتہ پہچانا تو اسے ہمایوں کی باتیں سچ لگی۔ہمایوں کا اعیرہ کاکئیر کرنا رات کو آفس سے اکے دن بھر کی باتیں اسے بتانا دوپہر میں ہمیشہ اسے کھانے کے پوچھنا اعیرہ کا ہمایوں کا اتنی کئیر کرنا بہت اچھا لگتا تھا
اس رات کے بعد ہمایوں نے اعیرہ کو تنگ کیا مگر دوبارہ اپنا حق نہی مانگا وہ اعیرہ کی محبت کا انتظار کرنا چاہتا تھا۔۔
مگر ایک ہفتہ سے اعیرہ کے کئیر میں کمی آگئ تھی اب وہ کبھی راتوں کو دیر سے آتا کبھی جلدی چلا جاتا کبھی کبھی پورادن اسے کال نہی کرتا اور ان سب کی وجہ خالد صاحب کی ناساز طبیعت تھی جسکی وجہ سے ہمایوں کافی مصروف ہوگیا تھا اور اعیرہ جس کو ہمایوں کی پیار بھرے رویہ کی عادت ہوگئ تھی اسے ہمایوں کا یو اگنور کرنا بہت برا لگ رہا تھا مگر اعیرہ ہمایوں کو غلط سمجھ رہی تھی وہ بدلہ نہی تھا بس تھوڑا مصروف ہوگیا تھا۔

#

آج فری پریڈ تھا جب اعیرہ نے اپنی فیس بک اوپن کی مگر میسینجر پہ ایک ٹیکس دیکھ کے اسے حیرت ہوئ ۔اس نے ٹیکس اوپن کیا تو کسی ولی نام کی آئ ڈی سے سلام آیا ہوا تھا۔۔
اعیرہ تھوڑی حیران ہوئ ٹیکس کا جواب دینے سے پہلے اس نے ولی کی ائ ڈی کھولی۔
بیلک سوٹ میں ولی الللہ اعیرہ کو کافی ہنڈسم لگا اسکی تصویر دیکھ کے اعیرہ کے دل میں ایک نرم گوشہ جاگا مگر وہ فلحال اگنور کرگئ مگر اسکا ٹیکس اگنور نہی کرسکی اور اس نے سلام کا جواب دیا۔۔
ابھی جوب دے کے اعیرہ نیٹ بند کرنے والی تھی جب ولی اون لائن ہوا اور پرنسس کی آئ ڈی سے جواب دیکھ کے کافی حیران ہوا اور پھر لکھا ۔
کیسی ہیں آپ ؟
اعیرہ کو بھی دلچسپی ہوئ اور اسنے کہا۔
میں ٹھیک آپ کا ٹیکس آیا تھا تو اس لیہ میں نے جواب دیا ۔
جی جی ولی تھوڑی ایکسائٹیڈ ہوا اور کہا۔
جی وہ آپ اپنی برتھ ڈے والے دن اداس تھی اس لیہ میں پوچھا۔
ولی کے پوچھنے پہ اعیرہ نے کہا۔
وہ اصل میں میری فیلی ساری آؤٹ آف کنٹری تھے اور میں اپنے سمیسڑ کی وجہ سے جا نہی سکی تو۔
اوہ ولی نے پھر کہا اور پوچھا ۔۔
آپ کونسی۔کلاس میں ہیں ؟؟
میں میڈیکل اسٹوڈینٹ ہو۔۔
اوہ واہ کہاں سے ہیں اپ۔۔؟؟
ولی نے پوچھا۔
۔
ولی کے جواب پہ اعیرہ نے بتایا ۔۔
لاہور سے۔۔
بس پھر کیا تھا میسیجوں کا سلسلہ شروع ہوا ۔
کھانا کھایا نہی۔کھایا کہاں ہو سوئے گئ بلا بلا نہ ختم ہونے والا باتوں کا سلسلہ چل نکلا۔۔
اب کیفیت ایسی تھی کے نہ اعیرہ کو سکون آتا ولی سے بات کیہ بغیر نہ ولی کو اب دونوں کی باتیں ایک دوسرے کے نمبر پہ بھی ہونے لگی۔نہ اعیرہ کو دیکھنے والا کوئ تھا نہ ولی کو ۔۔
ہمایوں جو بزنس میں حد سے زیادہ مصروف ہوا اور اعیرہ پہ دھیان نہ دے پایا اعیرہ جیسے ہمایوں کے پیار کی عادت ہوگئ تھی اب وہ ہمایوں سے زیادہ ولی کی عادت ہوگئ۔تھی۔اج بھی جب دونوں دوپہر میں باتوں پہ مصروف تھے تب ولی نے کہا۔
اعیرہ ایک بات پوچو۔۔
ہاں پوچھو۔۔۔ولی۔۔
تم کتنے سال کی ہو اعیرہ۔۔؟؟
میں 17 سال کی ۔۔
اعیرہ کی بات پہ ولی کا ایک دم قہقہ گونجا جسے سن کے اعیرہ کے چہرے پہ ناگواری گزری اور اس نے کہا۔
اس میں ہنسنے کی کیا بات ہے ولی کے بچے۔۔۔
بس کردو اعیرہ بیوقوف بنانے کیلیے تمہیں اور کوئ نہیں ہی ملا۔۔
اچھا جی یہ بات ہے تو آؤ واٹس اپ پہ اور دیکھو مجھے ۔
اعیرہ کی بات سن کے ولی کی دل کی دھڑکن ایک دم بڑھی اور اس نے کہا ٹھیک ہے۔۔
واٹس اپ پہ جب اعیرہ نے اپنی تصویر بھیجی جیسے دیکھ کے ولی ایک دم ساکن ہوگیا۔وہ سچ میں بہت چھوٹی تھی ولی اس گرین آنکھوں الی گڑیا میں ایک دم کھوگیا۔۔
جبھی اعیرہ کا میسج آیا ۔
کیا ہوا اچھی نہی لگی میں۔۔
نہی اچھی تو ہے زرا ویڈیو کال پہ تو او۔۔
ولی کی فرمائش پہ اعیرہ ویڈیو کال پہ آئ اور اعیرہ کے حسن کو روبرو دیکھ کے ولی اپنا دل ہار بیٹھا کیونکہ وہ واقعی سچ مچ کی ڈول تھی جو مسکرا مسکرا کے ولی کو دیکھ رہی تھی اور ولی جو اعیرہ کو دیکھ ایک پل میں اپنا دل ہار گیا۔۔
وہ یہ بھی بھول گیا کے اس کے نام پہ کوئ لڑکی بیٹھی ہے جو اس سے خود سے زیادہ محبت کرتی ہے مگر جب نامحرم رشتوں سے سکون ملنے لگے تو پھر کسی کے احساس اور جذبات کی کوئ اہمیت نہی رہتی جب تک وہ ساتھ ہو کیونکہ جب کوئ ساتھ ہوتا ہے ہمیں نہ تو اسکی قدر ہوتی ہے اور نہ اسکی محبت کی ۔۔
اور بنا اعیرہ سے بات کیہ اس نے کال کٹ کردی۔۔۔
جاری ہے۔۔۔
See translation