Gunah Se Wapsi By Mariyam Imran Readelle50215 Episode 47 Part 2
Rate this Novel
Episode 47 Part 2
8 مہینے بعد۔۔
وہ سب کراچی ائیر پورٹ پہ کھڑے تھے ۔حمنہ فاطمہ اور آفتاب جو عمرہ کرنے کے بعد مونا کی طرف جانے والے تھے مگر انکے لوٹنے کا کوئ وقت مقرر نہی تھا۔مونا کے ہاں نہئے مہمان کی آمد تھی۔
جانا تو آفرین اور المیربھی چاہتے تھے مگر کچھ ایسی ہی گڈنیوز آفرین بھی دینے والی تھی المیر اور آفرین گھر پہ ہی رکے تھے جبکہ اعیرہ ہمیشہ کی طرح اپنی پڑھائی کی وجہ سے مجبور تھی مگر اعیرہ کا میلو ڈرامہ زوروشور سے جاری تھا ایک تو سب جارہے تھے مونا کےپاس دوسرا سب سے بڑا روگ اسے اپنی برتھ کا تھاجسمیں اسکا کوئ گھر والا شامل نہی تھا ۔۔
فاطمہ نے جہاں بہت ساری نصیحتیں اعیرہ کو کی وہی آفرین کو بھی اپنا خاص دیہان رکھنے کا کہا اور حمنہ کی نصیحتوں کی ٹوپو کا رخ ہمایوں کی طرف تھا۔۔
سب کو الوداع کرکے المیر اورافرین اپنے گھر کو نکلے اور ہمایوں اور اعیرہ لاہور کی طرف ۔۔
#
المیر اورافرین گھر پہنچے تو آفرین کافی اداس تھی جو المیر سے چھپی نہ رہ سکی آفرین جیسی ہی اپنے کمرے کی طرف جانے والی سیڑھیاں چڑھنے لگی المیر نے اسے گودھ میں اٹھالیا۔
آفرین نے المیر کی اس حرکت پہ اسےگھور کے دیکھا اورکہا۔
المیر نیچے اتارےاب میں اتنی بھی بیمار نہی آپ تو مجھے ایسے اٹھائے ہوئے ہیں جیسے میں مرنے ۔والی ہو۔۔
آفرین کی بات پہ المیر تیزی سے آفرین کو اپنے کمرے میں لے کر گیا اور بیڈ پہ لیٹا کے اسکے دونوں ہاتھ جکڑے اور اسکے گال کو دانتوں میں دباتے ہوئے کہا ۔۔
اب بولو کیا بکواس کررہی تھی ۔۔
المیر کی گرفت زرا تیز ہوئ تو آفرین نے فورا اپنے دونوں کان پکڑے اور کہا
اچھا نہ سوری مزاق کررہی تھی اففف المیر چھوڑے درد ہورہا ہے بہت۔۔
آفرین کی بات سن کے المیر نے اسکے گال چھوڑے اور کہا۔۔
اس سے کہی زیادہ درد مجھے تمہارے اس مزاق سے ہوا آج کے بعد کبھی ایسا مذاق کیا نہ تو ایسے لندن جاونگا آؤنگا نہی۔۔
المیر کی بات سن کےافرین کوشدت سےاحساس ہوا اپنی غلطی کا اس نے المیر سے معافی مانگی اور کہا۔
سوسوری المیر آئندہ ایسا مذاق کبھی نہی کرونگی پکا پلیز سوری۔
ایسےتو تمہیں معافی نہی ملنے والی سزا تو تمہیں ملے گی یہ بول کے المیر آفرین کے لبوں پہ جھک گیا۔
@#########
ہمایوں نے اعیرہ کو موبائل دلایا جسمیں فیسبک واٹس اپ سب تھا اعیرہ پڑھائ سے فری ہوتی توواٹس آپ پہ میسینجر پہ سب سےباتیں کرتی اس سے اسکی اداسی ختم ہوگئی تھی۔۔
اعیرہ نے ایک دو گروپ بھی لائک کیے ہوئے تھے جسمیں وہ اکثر پوسٹ کرتی ۔۔
ولی اور مشکبار میں آج بھی خاموشی کا راج تھا مگر ولی کبھی نہ کبھی بہک جاتا تھا ولی جووقت بیوی کو دینے والا ہوتا وہ اپنے موبائل کو دیتا کبھی گروپس میں لائک کرتا کبھی پوسٹ یا پھرواٹس اپ پہ فرینڈ۔ سے بات کرتا ۔۔
رابعہ کی طبیعت خراب تھی کچھ دنوں سے اس لیہ ولی مشکبار کو کاغان چھوڑ آیا تھا ۔اب اسکا زیادہ سے زیادہ وقت موبائل کیساتھ گزرتا۔۔
#
آج اعیرہ کی برتھ ڈے تھی مگر وہ بہت اداس تھی سب نے ہی اسے وش کیا تھا مگر وہ اپنی یہ برتھ ڈے اکیلے ہی گزارہی تھی ۔ہمایوں اعیرہ کی یہ برتھ ڈے بہت یادگار بنانا چاہتا تھا اس لیہ آج صبح سے ہی وہ غائب تھا
اعیرہ نے اپنے گروپ میں پوسٹ کی۔
آج میرا برتھ ڈے ہے مگر میں بہت اداس ہو ۔
یہ پوسٹ کرکے اعیرہ نے موبائل اوفف کردیا۔
#
ولی رات کا گھر آیا تو پورا گھر ہی سائیں سائیں کررہا تھا۔اس نے فریش ہوکے موبائل اون کیا اور فیسبک پہ اپنے گروپس میں چکر لگایا تو اسے وہاں اعیرہ کی پوسٹ دیکھی۔
ولی کو وہ پوسٹ بہت عجیب لگی بھلا اپنی برتھ ڈے والے دن کون اداس ہوتا ہے ۔ولی نے کچھ سوچتے ہوئے اعیرہ کے مسیجر پہ ٹیکس کیا۔۔
اسلام وعلیکم۔۔۔۔
جاری ہے
