Gunah Se Wapsi By Mariyam Imran Readelle50215

Gunah Se Wapsi By Mariyam Imran Readelle50215 Last updated: 4 September 2025

50.9K
64

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Gunnah Se Wapsi

By Mariyam Khan

رات کو ہمایوں کمرے میں آیا تو اعیرہ اپنے اسٹڈی کرنے میں مصروف تھی ۔ہمایوں نے بھی اسے چھیڑنا مناسب نہی سمجھا مگر ہمایوں شاکڈ جب ہوا جب اعیرہ نے صوفہ کو ہی اپنا بستر بنا لیا ۔اعیرہ جیسی ہی لیٹی ہمایوں اس کے سر پہ پہنچا اور کہا۔ پرنسس یہاں کیوں سو رہی ہو بیڈ پہ۔چلو۔۔ اعیرہ نے لیٹے لیٹے کہا۔ میں نے اپکے ساتھ نہی سونا آپ بہت ویسی حرکتیں کرتے ہیں کبھی یہں ہاتھ لگاتے ہیں کبھی وہاں اور آج آپ نے بیج روڈ پہ جو حرکت کی افف بندہ تھوڑا اپنی عمر کا ہی لحاظ کرلے۔۔ اعیرہ کی باتیں سن کے ہمایوں کے لب دھیرے سے مسکرائے تھے اوراعیرہ نے ہمایوں کو مسکراتا دیکھ سوچا ۔۔ یار یہ شخص مسکراتے ہوئے بہت ظالم لگتا ہے مگر پھر اپنا خیال جھٹکا اور کروٹ لے کے لیٹ گئ۔ ہمایوں جانتا تھا وہ کیوں نروس ہے ۔اس لیہ اس نے بنا لحاظ کیہ اعیرہ کی کمر میں ہاتھ ڈال کے اسے گودھ میں اٹھایا اعیرہ جو سمجھ رہی تھی ہمایوں اسکے منع کرنے پہ چپ چاپ چلا جائے گا مگر یہ اسکا وہم ہی تھا ہمایوں نے اسے بیڈ پہ لیٹایا اور اس پر جھکتے ہوئے انکھوں میں انکھیں ڈال کے کہا۔ یہ جو تمہاری باتیں ہیں نہ اسی نہ میرا دل برباد کیا ہے ابھی تک جو میں نے کیا یہ میں کرتا ہو وہ میرا حق ہے یہ بول کے ہمایوں نے جھک کے اعیرہ کو لبوں کو چوما اور پھر کہا۔ اور مجھ پہ الزام مت دو پرنسس رات کو خود مجھ سے چپکتی ہو میرے سینے پہ سر رکھتی ہو اور اگر میں کروٹ لو تو پھر مجھے سے چپکتی ہو یہ بول کے ہمایوں نے اعیرہ کے آگے گلے کی بندھی ڈوری کھولی اور وہاں اپنے لب رکھے اعیرہ دم سادھے ہمایوں کی ایک ایک کاروائ دیکھ رہی تھی۔۔ آج تو تم نے یہ جرات کرلی مجھ دور جاکے سونے کی آئندہ کبھی سوچا کرنا تو بہت دور کی بات ہے تو سانسیں چھین لونگا تمہاری یہ بول کے دوبارہ اعیرہ کے لبوں کو چوما ۔پھر کہا ۔۔ اور ہاں میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس ہوتے ہیں مگر افسوس ابھی تک میں نہ اپنی بیوی کا لباس بن پایا نہ تم میرا لباس بن پائ یہ بول کے ہمایوں نے اعیرہ کی کمر پہ ہاتھ ڈال کے اسے صحیح سے اپنے قریب کیا اور کہا۔ اور رہا سوال عمر کا تو میں ابھی تک تمہاری عمر کا لحاظ کررہا ہو ورنہ یہ دل بیچین ہے تمہاری روح میں بسنے کیلیے ۔ محبت نہی عشق کرتا ہو اعیرہ تم سے تمہاری دوری ہی سوحانے روح ہے ناراض ہو منظور ہے مگر نہ کبھی مجھ سے دور جانےکا سوچنا نہ۔کبھی میری محبت کا تماشہ بنانا اپنے اور تمہارے درمیان کی یہ دوری میں بہت جلد مٹانے والا ہو بس کچھ مہینے پھر تم خود مجھے دور جانے سے پہلے ہزار بار سوچوگی۔۔ ہمایوں اس پر سےہٹا اور اعیرہ کو کھینچ کے اپنے سینے سے لگالیا اعیرہ کا جسم ہلکا ہلکا کانپ رہا ہمایوں جانتا تھا کے یہ ایک ٹیلر اعیرہ کے لیہ بہت ضروری تھا تاکہ وہ اپنے اور ہمایوں کے رشتہ کی اصلیت سمجھ سکے۔ ہمایوں نے اعیرہ کی طرف دیکھا تو اس نے ڈر کے آنکھیں بند کرلی ہمایوں نے ایک بار پھر اعیرہ کے لبوں کو چوما اسکے بالوں میں اپنا چہرہ چھپایا اور سوگیا ۔ ہمایوں کی آنکھیں بند کرتے ہی اعیرہ نے آنکھیں کھولی اور وہ غور سے ہمایوں کا چہرہ دیکھنے لگی آج جو ہمایوں نے کہا یہ کیا کہی اعیرہ ڈری اور کہی اسے رشک ہوا اپنی قسمت پہ۔اور وہ ایسی ہی ہمایوں کو دیکھتے دیکھتے سوگئ۔۔