50.9K
64

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

اس سے پہلے صابر فاطمہ.کو گھسیٹ کے اپنی.گاڑی میں ڈالتا..ایک زور دار مکا صابر کی منہ پہ.پڑا مکا اتنا شدید تھا.کہ صابر کے ہاتھ سے فاطمہ کا ہاتھ چھوتا اور فورا اپنے منہ پہ گیا.جہاں ناک سے خون بہنے لگا تھا..فاطمہ موقع غنیمت جان کے فور پیچھے ہوئ جبکہ صابر نے پلٹ کے جب اپنے اوپر وار کرنے والے کو دیکھا تو حیران رہ.گیا کیونکہ سامنے آفتاب کھڑا تھا.گرجدار آواز میں آفتاب سے کہا…
سالے چھوڑونگا نہی.تجھے دیکھ لونگا یہ بول.کے صابر گاڑی میں سوار ہوکے فورا وہاں سے رفوچکر ہوگیا..
آفتاب نے جب مڑ کے فاطمہ کو دیکھا تو وہ وہاں سے غائب تھی…
آفتاب بھی اپنی منزل کی طرف چل پڑا..
¤¤¤¤¤¤¤¤¤
صابر کی.بھری کلاس میں بے عزتی ہوئ تھی.. وہ یونی کے باہر کھڑا فاطمہ کا ویٹ کررہا تھا تاکہ اسکی عزت کو دغدار کرکے اسکی زندگی خراب کردے مگر صابر جسے لوگ یہ بات بھول جاتے ہیں..کہ جو کسی کیساتھ غلط نہی کرتا الللہ.کبھی اسکے ساتھ غلط نہی.کرتا اس لیہ.الللہ.نے فاطمہ.کی.مدد کیلیے آفتاب کو وہاں بھیجا…
پیپر دیکے آفتاب نے فاطمہ کو بہت ڈھونڈا تاکہ اسکا شکریہ ادا کرسکے اور آفتاب کیلے فاطمہ.کو ڈھونڈنا مشکل بھی نہی تھا کیونکہ پوری یونی میں ایک وہی تھی جو ڈبل.نقاب کرتی تھی..
آفتاب جب فاطمہ کو ڈھونڈ کے تھک گیا.. تو مایوس ہوکے یونی کے باہر نکل کے جیسی.ہی.اپنی.کار میں بیٹھنے لگا.. سامنے اسنے ایک.لڑکے کو فاطمہ.کو گھسیتے دیکھا..اور آفتاب نے بروقت وہاں پہنچ کے نا صرف فاطمہ.کی.عزت بچائ بلکہ اسکا شکریہ بھی ادا کرتا مگر وہ فورا وہاں سے غائب ہوگئ…¤¤¤¤¤
.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
خالد اور شاہ زین آفس میں بیٹھے تھے کہ جبھی خلد نے شاہ زین سے پوچھا..
یار زین تو گاوں کب جائےگا تجھے تو جانا تھا نہ؟؟؟
زین نے.کام کرتے ہوئے مصروف سے انداز میں خالد سے کہا..
ہاں یار جاونگا زرا یہ مشتاق صاحب سے ایک بار اپنی.ڈیل فائینل.ہوجائے چاچی بھی کئ بار بولا چکی ہیں..
ہممم تو پھر کل تو ہے میٹنگ مشتاق صاحب دوپہر مین دیکھو کیا.ہوتا ہ؟؟
ہم سب اچھا ہوگا انشاءالللہ..
تھوڑی دیر بعد خاموش رہنے کے بعد زین نے خالد سے کہا..
ویسے تیری مینا کا کیا حال ہے…؟؟
خالد اور اسکی خالہ کی.بیٹی جو اس سے منسوب تھی اور بہت زیادہ بولتی تھی اس لیہ شاہ زین نے اسکا نام مینا رکھا تھا..
خلد نے.ہنستے ہوئے شاہ زین کو دیکھا اور کہا..
بہت اچھی ہے ماشاءالللہ بس خالہ چاہتی ہیں 6 مہینے کے اندر اندر وہ اسکے فرض سے سبکدوش ہوجائے…
ہاں یار تو ٹھیک ہی تو کہہ رہی ہیں خالہ 2 سال ہوگئے تمہارے نکاح کو اب تو بس رخصتی ہوجانی چاہیے اب تو کاروبار بھی اپنا ماشاءالللہ سیٹ ہے اپنا..
ہاں یار بولا ہے.میں نے خالہ کو جیسی اپکی مرضی…..
اور تیری کہانی کا.کیا.ہوگا..؟؟؟
خالد نے غور سے شاہ زین کا چہرہ دیکھتے ہوئے پوچھا..
وہی ہوگا جو منظور الللہ ہوگا..میں تو بس سجدوں میں اسے مانگتا ہو اب دیکھو کب الللہ.نصیب میں لکھتا ہے اسے یہ بول کے شاہ زین پھر سے اپنے کام میں مشغول.ہوگیا..
اور خالد نے صرف ہاں میں گردن ہلائ…
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
یونی.سے اکے فاطمہ دو دن بخار میں رہی..حمنہ نے ایک بار بھی کال کرکے اسکی طبیعت نہی پوچھی.. اس بات کا فاطمہ کو بہت افسوس ہوا..
آفتاب نے ان دو دنوں میں.فاطمہ کا بہت بیچینی سے ویٹ کیا.. دو دن سے آفتاب رات کو ٹھیک سے نہی سوپایا..ایک عجیب سی بے چینی تھی اسے..
پچھلے ڈیھڑ سال سے فاطمہ اور وہ کلاس فیلو تھے مگر کبھی اس نے اتنا نہی غور کیا ..کام سے کام رکھنے والا آفتاب کا اب کسی چیز میں دل نہی لگ رہا تھا..
¤¤¤¤¤
دو دن بعد فاطمہ اسے کلاس میں دیکھائ دی..آفتاب کو دل.کو فاطمہ کو دیکھ کے کافی سکون ہوا..کلاس کے بعد ابھی فاطمہ جاکے بیٹھی ہی تھی کے حمنہ نے اسکے پاس پہنچ کے غصہ بھری آواز میں کہا..
تمہیں کیا ضرورت تھی.. اس دن وہ تماشہ کرنے کی تمہیں پتا ہے صابر کو سمسٹر میں فیل کردی گیا.. تمہاری وجہ سے اسکی کتنی بے عزتی ہوئ پوری کلاس کے سامنے.؟؟
فاطمہ جو شاکڈ کی.کیفیت میں حمنہ کی.باتیں سن رہی تھی..جو یہ سمجھ رہی تھی کہ اسکی دوست دو دن اسکے.یونی نہ.آنے کی.وجہ پوچھے گی..مگر یہاں تو اسکی دوست لڑنے آئ تھی وہ بھی کسی اور کیلیے…
حمنہ کے خاموش ہوتے ہی فاطمہ بول پڑی..
تم.میری دوست ہو حمنہ یہ صابر کی..اور اگر تمہیں صابر کی اتنی فکر کیوں ہورہی.ہے یہ بھی میں اچھی طرح جانتی ہو کیونکہ وہ جیڈی کا دوست ہے… اگر تمہیں میرا بولنا اتنا ہی برا لگا تو اپنے دوست کے دوست سے جاکے پوچھو کے پرسوں وہ مجھے. اس شکایت کے بدلے مجھے اغواہ کرکے میرے ساتھ کیا کرنے والا تھا…اگر بروقت. آفتاب اکے مجھے نہی بچاتے تو یقینن یہ تو میں مر چکی.ہوتی یہ پھر اگر بدقسمتی سے اگر بچ بھی جاتی تو کسی کوٹھے کی زینت بنی ہوتی…
فاطمہ کی.بات سن حمنہ کا غصہ ساتویں آسمان پہ.پہینچ گیا..
اس نے فاطمہ.کو گھورا اور کہا
شرم.کرو فاطمہ اتنی.پردہ نشین بنتی ہو اتنی.الللہ رسول کی باتیں کرتی ہو..اتنا نہی پتا کسی.پہ بھتان لگانا کتنا بڑا گناہ ہے.. جیڈی کو بھی میں اچھی طرح جانتی ہو اور اسکے دوستوں کو بھی.انتہائ شریف انسان ہے صابر..
حمنہ.کی.بات سن کے فاطمہ نے طنزیہ تالی بجائ اور کہا..
جس جیڈی کی.اور اسکے دوست کی.حمایت کیلیے تم ڈیڑھ سال پرانی دوست سے لڑرہی ہو.. پتہ.ہے پوری یونی میں تم جیڈی کی گرل فرینڈ کے نام سے مشہور ہو..اور کسی عورت کیلیے کسی گالی سے کم نہی جب وہ کسی کی گرل فرینڈ کہلائے. عزت دار مرد وہی ہے جو کسی لڑکی کیساتھ محبت کے نام پہ.اسے اپنا نام دے نکاح کا رشتہ دے ناکہ گرل فرینڈ کا.اور اگر صابر پہ میں نے جھوٹا الزام لگایا تھا. تو اس وقت تم نے.اپنی آنکھیں کسی کو ادھار دی.ہوئ تھی جب وہ پرچہ صابر کی.جیب سے نکلے…
لوٹ آو حمنہ ان راستوں سے جہاں صرف کانٹوں اور رسوائ کے علاوہ کچھ نہی ورنہ یقین.کرو حمنہ اگر ان راستوں کے کانٹے تمیں گھاؤ دے گئے تو دنیا کا کوئ مرحم ان گھاؤ کو بھر نہہی پائے گا..
تم.میری.دوست تھی اور رہو گی صرف اتنا کہونگی تمہیں.اب اگر کسی سے دل.لگاہی.لیا ہے تو اسے بولو کے اپنا نام دے تمہیں پاک رشتہ باندھے تم سے..
ورنہ بے نام رشتہ اکثر گمنام گلیوں میں.گم.ہوجاتے ہیں.
یہ بول.کے فاطمہ کینٹین کی.طرف بڑھی. وہی حمنہ بھی اگے بڑھ گئ…
جبکہ.آفتاب جو آیا تو فاطمہ.کا شکریہ.ادا کرنے کا اور یہ بتانے کے وہ.اس محبت کرنے.لگا ہے ان.دو دنوں میں ایک.لمحہ بھی فاطمہ کی.آنکھوں نے اسکا پیچھا نہی چھوڑا.. مگر جب اس نے چھپ کے فاطمہ اور حمنہ کی باتین سنی اور خاص کر فاطمہ.کی باتیں .تو آفتاب سمجھ گیا کہ اسے اگے کیا کرنا ہے….
¤¤¤¤¤¤¤¤
حمنہ اج یونی سے گھر چلی گئ پورے راستے اسکے دماغ میں فاطمہ کی باتیں گونجنے لگی…اسکا اور جیڈی کا رشتہ تھا تو دوستی کا مگر حمنہ اسکو اپنا دل دے بیٹئ تھی…ابھی حمنہ رات میں اپنے بستر پہ.لیتی تھی…کہ.اسکے کمرے کی.کھڑکی بجی پہلے تو حمنہ کافی ڈرگئ..مگر جب اس نے ہمت کرکے کھڑکی سے نیچے جھانکا..تو جیڈی اسکی کھڑکی کے اگے نکلے سلپ پہ کھڑا تھا…
جیڈی کو اسیے کھڑا دیکھ کے حمنہ کا ہاتھ فورا اپنے منہ.پہ گیا. اس نے کھڑکی.کھولی اور جیڈی کو اندر لیا.اور کہا…
جیڈی تم پاگل ہو اتنی رات کو یہاں ایسے اگر گر جاتے ہو پتہ.ہے کتنی چوٹیں..ابھی حمنہ.کے الفاظ منہ مین ہی تھے کہ.جیڈی نے اسے کمر سے تھاما.اور اپنے لب اسکے ہونٹوں پہ رکھ کے اپنی پیاس بجھانے.لگا…حمنہ کی.تو سمجھ مین ہی نہی آیا کہ.ہوا کیا..جب حمنہ.کا سانس روکنے.لگا تو اس نے جیڈی کے سینے پہ ہاتھ رکھ کے اسے خود سے دور کیا..
دور ہوتے ہی.جیڈی نے غور سے حمنہ کا چہرہ دیکھا جو شرم سے سرخ.ہورہا تھا.. اچانک جیڈی کی نظر حمنہ کے حسسین سراپے پہ گئ.. شارت شرٹ اور شارت ٹراؤزر میں اسکی.دوھیا رنگت. دیکھ کے جیڈی کی نظریں اس پہ ٹھہر گئ..حمنہ نے جیڈی کی.نظروں کا مفہوم.سمجھ کے پاس رکھی شال اپنے.اوپر لپیٹی اور پرشکوہ نگاہوں سے جیڈی کو دیکھنے لگی حمنہ کی.اس حرکت پہ.جیڈی کے لبوں.پہ.مسکرائٹ اگئ..
اس نے آرام.سے حمنہ.کا.ہاتھ تھاما اور اسے بیڈ پہ.بیٹھاکے خود اسکے پیروں کی طرف بیٹھا اور اسکے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیہ اور کہا…
حمنہ کب کیسے پتہ نہی چلا کب تم میرے دل پہ حکمرانی.کرنے.لگی..بہت دور بھاگتا تھا میں اس محبت وحبت کے کھیل سے.مگر تم.نے مجھے ہرا دیا..آئ لو یو حمنہ میں تم.سے محبت کرنا.لگا ہو تم میری زندگی بنتی جارہی ہو..مجھے نہہی پتہ تم.مجھ سے محبت کرتی.ہو یہ نہی..مگر میں تم سے شاید عشق کرنے لگا ہو..یہ بات بولنے آیا تھا تمہں صبح تک.کا میں ویٹ نہی کرسکتا تھا..اور اپنے رشتے کو نام.دینے کیلیے میں کل.صبح ہی اپنے گاوں.کیلیے نکل رہا ہو تاکہ بابا اور اپنی اماں سے تمہارے لیہ بات کرسکو…چار پانچ دن لگ جائینگے.. جب میں واپس آونگا تو.مجھے تمہارا جواب سننا ہے .اپنا بہت زیادی خیال رکھنا کیونکہ جیڈی کی.جان بن گئ ہو تم…یہ بول.کے جیڈی نے پھر اسے گردن سے پکڑا اور اسے کے لبوں کو چوم لیا..اور پھر ویسے ہی کھڑکی سے غائب ہوا جیسے آیا تھا…
جیڈی کے جاتے ہی حمنہ کا بے ساختہ ہاتھ اپنے.لبوں پ گیا..اور وہ شرم سے بیڈ پہ گر کے اپنا منہ چھپا گئ….
جاری ہے..