Rate this Novel
Episode 19
حمنہ کے جسم.کا کوئ حصہ ایسا نہ تھا جس پہ جیڈی نے اپنے پیار کی مہر ثبت نہ.کی ..ہو بقول اسکے وہ اس سے بہت محبت کرتا ہے..حمنہ بنا شرٹ کے کمبل میں اپنا زنانہ کار جسم چھپائے. جیڈی کے سینے سے لگ کے سو رہی تھی..
اسے گھر سے نکلے تین گھنٹے ہو چکے تھے..یمنہ بیگم کو وہ بول کے آئ تھی..کہ اسے آنے میں دیر ہوجائے گی..مگر حمنہ نے خود گھر جانے کے سارے راستے اپنے ہاتھوں سے بند کیہ تھے.. اب کبھی وہ اپنی عزت کیساتھ اپنے گھر جا نہی جاسکتی…اپنے بابا کا مان اپنی ماما کی تربیت وہ جیڈی کے بستر پہ روندھ چکی تھی..
جیڈی اور حمنہ ابھی آرام ہی کررہے تھے کہ جیڈی کا موبائل بجا… اس نے سرسری سا اپنا موبائل دیکھاتو جھٹکے سے اٹھا اور فورا حمنہ کو اٹھایا اور کہا..
حمنہ حمنہ اٹھو.. صابر اور شہزاد کبھی بھی یہاں آجائینگے…اٹھو جلدی…
جیڈی کی بات سن کے حمنہ بھی ہر بڑا کے اٹھی اور فورا اپنیا بلاوز پہنا اور ساڑھی باندھی….جیڈی نے جلدی جلدی اسکی ہیلپ کی اور فور اسکو فلیٹ سے نکال کے دروازہ بند کیا اور فلیٹ کی دیوار پہ لگے حمنہ کے نام.کے وال پیپر اتارنے لگا..
جبکہ جیڈی کی اس حرکت پہ سیڑھیوں سے اترتی حمنہ یہ سوچنے پہ مجبور ہوگئ..
کہ جب سب کچھ اپنا وہ اسے سونپ چکی تو پھر دوستوں کے سامنے اسے اپنا بولنے مین جیڈی کو کیسے شرم جب پیار کیا تو دوستوں سے کیا چھپانا…
کیوں یہ.لڑکیاں نہی سمجھتی..جو اپ سے محبت کریے گا اپکی عزت پہلے کریگا..اگر کپڑے اتار کے ہی محبت کا ثبوت دیا جائے تو اسے محبت نہی ہوس کہتے ہیں..
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
نکاح کے جوڑے میں ہی فاطمہ نے عابایا پہنا اور نقاب کیا..
نقاب کرنے سے اسکی آنکھیں اور ظالم لگ رہی تھی..فاطمہ نے ڈھرکتے دل کیساتھ گھر کے باہر قدم نکالا..تو رائل بلیو قمیض شلوار کیساتھ آفتاب گاڑی کیساتھ ٹیک لگا کے کھڑا تھا. فاطمہ کو دیکھتے ہی اس نے اپنی.گاڑی کا فرنٹ ڈور کھولا..فاطمہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی گاڑی میں آکے بیٹھی ..آفتاب بھی ڈرائیونگ سیٹ پہ آکے بیٹھا اور گاڑی ایک جھٹکے سے آگے بڑھادی…
آفتاب گاڑی چلاتے ہوئے مسلسل فاطمہ کو مڑ مڑ کے دیکھے جارہا تھا.. جبکہ فاطمہ آفتاب کی نظروں کی تپش سے بہت کنفیوز ہورہی تھی.
اچانک آفتاب نے اسکا چوڑیوں سے لبریز ہاتھ ٹھاما اور گاڑی کے گہیر پہ اپنے ہاتھ کے نیچے رکھ لیا..اور ایک ہاتھ سے گاڑی چلانے لگا. فاطمہ مسلسل اپنا ہاتھ چھڑوانے کی جدوجہد میں تھی.جب فاطمہ اپنی تمام تر کوشش کر چکی تو آفتاب کی آواز گاڑی میں گونجی…
چھوڑنے کیلیے نہی تھاما یہ ہاتھ فاطمہ.اب موت ہی تمہارا .ہاتھ مجھ سے الگ کرسکتی ہے انشاءالللہ…
گاڑی سمندر کے قریب آکے روکی…
آفتاب نے اسکا ہاتھ پکڑ کے اسے گاڑی سے باہر نکالا اور تھوڑے فاصلہ پہ سجے ہٹ کی طرف بڑھا جیسے ریڈ اور وائٹ روز سے سجایا گیا تھا..آفتاب فاطمہ کی حالت کا اندازہ لگا سکتا تھا…آفتاب فاطمہ کا لے کے اس ہٹ میں. داخل ہوا..فاطمہ ہٹ کی خوبصورت دیکھ کے دنگ رہ گئ.. آفتاب نے ابھی تک فاطمہ کا چہرہ نہی دیکھا تھا..پہلے وہ اپنی محبت کا دل.کھول کے فاطمہ کے سامنے اظہار کرنا چاہتا تھا. .اس نے فاطمہ کو ہٹ میں رکھے خوبصورت سے سجے جھولے پہ بیٹھایا اور خود کرسی رکھ کے اس کے سامبے بیٹھ گیا..
اور اسکے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیہ اور غور غور سے اسکا چہرہ دیکھنے لگا…اور پھر آفتاب نے کہا..
پتہ ہے فاطمہ پچھلے دو سال سے ہم ایک دوسرے کے سامنے تھے مگر کبھی ایک دوسرے ک نام کے علاوہ اور کچھ نہی جانتے تھے. .جب تم نے بنا ڈرے میرے لیہ سچ بولا جسکا خمیازہ تمہیں صابر کی بدتمیزی کی صورت میں تم نے بھگتا اور پھر تم دو دن غائب رہی یقین مانو فاطمہ میرے دل کی.حالت عجیب تھی مجھے کچھ سمجھ نہی آرہا تھا کہ میرے ساتھ ہو کیا رہا ہے…بعد میں مجھے سمجھ آیا کہ.مجھے تم سے محبت ہوگئ. اور اسکا اظہار مین تم سے اس دن کرنے آنے والا تھا جب تم دو دن غائب رہنے کے بعد یونی آئ. مگر تمہاری اور حمنہ کی باتیں سنی تو مجھے فخر ہوا اپنی.محبت پہ بس پھر مجھے یہہی طریقہ سمجھ آیا.اور میں پھر تمہیں. ہمیشہ کیلیے اپنا بنایا اور اب اپنی بیوی سے اپنے دل.کا حال سنا دیا…
آفتاب بول کے چپ ہوا تو فاطمہ کے بولنے کا انتظار کرنے لگا..مگر اس نے تو جیسے اپنا سر اوپر نہ اٹھانے کی.قسم ہی کھا رکھی تھی..آفتاب نے لمبی سانس اور ٹھوڑی سے پکڑ کے اسکا چہرہ اوپر کیا.. تو فاطمہ کی آنکھیں آنسو سے لبریز تھی..آفتاب فورا اسکے برابر میں آکے بیٹھا اور اسکو سینے سے لگالیا..اسکا حق تھا شاید جبھی فاطمہ نے بھی اپنی مٹھی میں اسکی.قمیز جکڑی اور رونے.لگی..جب فاطمہ جی بڑھ کے رولی تو اپنا پوزیش کے احساس ہوتے ہی فور دور ہوئ..آفتاب فاطمہ کی اس حرکت پہ دل کھول کے مسکرایا اور کہا..
اگر دریائے سندھ بنا لیا ہو ان آنسوں سے تو پلیز اب تو مجھے اپنی بیوی کا چہرہ دیکھنے کی اجازت دے دو…
آفتاب کے بولنے پہ فاطمہ نے اپنے چہرہ ک نقاب ہٹایا..
فاطمہ کے چہرہ دیکھ کے آفتاب ساکت رہ گی اتنا خوبصورت اور معصومیت تھی فاطمہ کے چہرے پہ آفتاب نے سب سے پہلے الللہ کا شکریہ ادا کیا..
فاطمہ کی سو سو کرتی ناک اسپہ ناک کی نتھ آنکھوں کا مٹا مٹا کاجل آفتاب کا دل بے ایمان کرگئے..
آفتاب نے اگے بڑھ اپنے لبوں سے فاطمہ کے بہتے آنسو چنے تو فاطمہ لرز گئ..پھر دھیرے دھیرے وہ فاطمہ کے چہرے کے ایک ایک نقوش چھونے لگا. فاطمہ کے لبوں کے کو اپنے لبوں میں قید کرنے کے بعد اس نے جب کافی دیر تک فاطمہ.کے لب آذاد نہی کیے اور اسے سانس نے لینے.میں مشکل ہونے لگی..تو پھر فاطمہ نے اسکے سینے پہ.ہاتھ رکھ کے ہلکا سے اسے دھکا دیا اور لمبی لمبی سانس لینے لگی اور پرشکوہ نظر آفتاب پہ ڈالی.
آفتاب نے بھی ایک.آئیبرو اچکا کے اسے دیکھا اور کہا..
ظلم بیوی”
غلطی ہوگئ اج ہی رخصتی کروالیتا اب ایک مہینہ انتظار کرنا پڑے گا..مگر میرا جب دل کریگا میں اپنی بیوی سے پیار کرونگا ٹچنگ والا..
آفتاب اپنی.ہی دھن میں بولے جارہا تھا..جبکی فاطمہ اسکو تکنے میں مصروف تھی..اتنا خوبصورت اتنا چاہنے والا شخص اسکی کس نیکی کا صلہ تھا..آفتاب محسوس کرسکتا تھا کہ فاطمہ اسے مسلسل گھور رہی تھی…اس نے شرارتی مسکراہٹ لیہ فاطمہ کو کمر سے پکڑ کر اپنے قریب کھینچا اور کہا.قریب سے دیکھو نہ اپنے شوہر کو کیسا ہے..
آفتاب کی اس حرکت.پہ فاطمہ کا چہرہ اور بلش کرنے لگا.. اس نے شرم سے گردن جھکائ اور کہا…
گھر چلے دیر ہوگئ کافی….
آفتاب نے اس کے گالوں کو باری باری چوما اور کہا..تمہین مجھ سے محبت نہہی فاطمہ؟؟؟
آفتاب کے اچانک سوال پہ فاطمہ نے.گھبرا کے اسے دیکھا تو آفتاب اسکی.پریشانی سمجھ گیا اور کہا.
پریشان نہی ہو مزاق کررہا ہو.. مجھے پتہ یہ سب تمہارے لیہ نیا ہے مگر مجھے انتظار رہے گا تمہاری محبت کا. یہ بول کے آفتاب نے اس سے چھوڑا تو فاطمہ نے گردن جھکا کے اپنی.انگلیاں مرورتے ہوئے کہا..
میں الللہ سے ہمیشہ یہی دعا کرتی تھی کہ مجحے میرے محرم سے ہی محبت یو اس لیہ اب اپ میرے محرم ہے تو…
فاطمہ بول کے چپ ہوئ تو آفتاب نے حیران کن نظروں سے فاطمہ کو دیکھا اور سوچا کیا اج.کے دور میں بھی.ایسی.لڑکی ہے..
آفتاب نے اپنی پوکٹ سے ایک کیس نکالا اور اس میں سے رنگ نکال.کے ایسے پہنائ اور کہا..
انتظار رہے گا فاطمہ مجھے کہ تم مجھ سے لفظوں میں اپنی.محبت کا اظہار کرو..
فاطمہ نے اسکی بات پہ.ہاں میں گردن ہلائ..
تھوڑی دیر اور وہاں وقت گزار کے وہ.لوگ گھر آگئے…
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
حمنہ خوابوں میں بھی جیڈی کو اپنے ساتھ تصور کرنے لگی.جو گناہ کل رات وہ.کر آئ تھی اس سے واپسی نہ ممکن تھی..
کیونکہ ٹوٹا ہوا شیشہ اگر ٹوتھ جائے تو بھلے اس جو جوڑا جا سکتا ہے مگر جوڑنے پہ اسکی درار کو ختم نہی کیا جاسکتا…
مشتاق صاحب جنہوں نے اس خام خیال میں اپنی بیٹی کو ہر عیشوآرام مہیا کرے. اسکی.ہر غلط بات مسکرا کے ٹالی..انکی.نظر میں یہ.لاڈ پیار تھا..مگر اصل میں اس لاڈ پیار میں وہ اپنی پرورش کو ننگے پاؤں تپتی صحرا میں لے آیے جہاں صرف اسکے پاوں کو چھالے نصیب ہونے تھے.سکون بھر راستے نہی..
والدین بیشک اپنی اولاد سے لاڈ پیار کرے انکی.ہر ضرورت پوری کرے مگر وقفہ وقفہ سے اپنی اولاد کو اپنے عمل.سے انہیں یہ.احساس دلاتے رہیں کہ وہ ان سے پیدا ہیں انہوں نے پیدا نہی کیا والدین کو..
¤¤¤¤¤.¤¤¤¤
آفتاب نے فاطمہ کو یونی لیجانے اور چھوڑنے کی.زمیداری اٹھائ تھی اور کسی کو کوئ اعتراض بھی نہی تھا. ابھی وہ لوگ پارکنگ ایریا میں اپنی گاڑی سے نکلے ہی تھے.کے دور کھرڑی.حمنہ جو جیڈی کے آنے کا ویٹ کررہی تھی. فاطمہ اور آفتاب کے ایک ساتھ گاڑی سے نکلنے پہ.پہلے تو شاکڈ ہوئ .پھر کچھ سوچتے ہوئے ان دونوں تک.پہنچی ..فاطمہ حمنہ کو آتا دیکھ چکی تھی..اس سے فاطمہ.کچھ بولتی حمنہ بول.پڑی..
واہ واہ بھئ کیا ٹھاٹ ہے میڈم.کے ..
حمنہ کی.آواز قدرے اونچی تھی جسے سن کے پارکنگ میں موجود لوگ انکی.طرف متوجہ ہوگئے..
اس دن تو مجھے برا لیکچر دے رہی.تھی گناہ.کا ثواب کا محرم کا غیر محرم کا..جیڈی اور میرے بارے میں کافی باتیں کی.تھی.اور کیا کہا تھا تم نے کے میں جیڈی کی گرل فرینڈ ہو اور یہ.گالی.ہے میرے لیہ.تم آفتاب کی.کیا ہو. اب جو اسکے ساتھ اسکی.گاڑی سے نکلی.ہو.
کیا ہو آفتاب کی… حمنہ نے غصہ بھرے لہجہ میں بولی..
فاطمہ لبریر آنکھوں سے اردگرد دیکھا تو سب اسے ہی.دیکھنے میں مصروف تھے.. فاطمہ.کا دل.کیا کہ کاش وہ ابھی زمین کے اندر دھنس جائے..تو ادھر آفتاب جو غصہ میں کبھی حمنہ کو گھور رہا تھا تو کبھی فاطمہ.کو جو چپ چاپ حمنہ.کی.بکواس سنی.جارہی.تھی…اس سے پہلے حمنہ.کوئ اور بکواس کرتی. آفتاب بول.پڑا..
زبان ں سنھالو اپنی.حمنہ اب اگر تم.نے.میری بیوی کے خلاف ایک.لفظ بولا تو گدی سے زبان کھینچ لونگا تمہاری…فاطمہ گرل فرینڈ نہی میری بیوی.ہے کل ہی ہمارا نکاح ہوا ہے…
بیوی.کا لفظ سن کے حمنہ کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا..حمنہ نے بے یقینی کی.حالت فاطمہ کو دیکھا..آفتاب نے اسکی بے یقنی حالت دیکھی تو طنزیہ مسکراہٹ کیساتھ اسے دیکھا اور کہا..
اصل میں غلطی تمہاری نہی تمہاری گھٹیا سوچ کی.ہے اور فاطمہ نے صرف تمہیں سمجھایا تھا..تمہاری اور فاطمہ.کی ساری باتیں میں نے خود سنی تھی…تمہاری دوست اپنی نکاح والے دن بھی پاگلوں کیطرح تمیہیں کال کرہی تھی مگر تم شاید …خیر آئندہ میری بیوی کے متعلق کوئ بھی بکواس کرنے سے پہلے ہزار بار سوچنا.. یہ بول کے آفتاب نے روتی ہوئ فاطمہ کا ہاتھ پکڑا…اور اندر بڑھ گیا..
جبکہ دور کھڑا جیڈی صرف یہ تماشہ چپ.کرکے دیکھ رہا تھا…اس نے آکے ایک لفظ بھی حمنہ کی.حمایت میں نہی بولا..
حمنہ جیسی جانے کیلیے مڑی اسے جیڈی اپنی.کار کیساتھ کھڑا نظر آیا…
حمنہ غصہ میں اسکی طرف بڑھی اور کہا..
جیڈی تم یہاں.کھڑے ہو..وہ آفتاب وہاں مجھے اتنی سنا کے گیا.اور تم یہاں مزے سے کھڑے ہو..تم.نے کچھ بولا کیوں نہی اسے؟؟؟
حمنہ کی بات پہ جیڈی نے بیزاریت سے اسے دیکھا اور کہا..
یار میں کیا بولتا اسے وہ اپنی جگہ رائٹ تھا..فاطمہ بیوی ہے اسکی..
اور میں تمہاری کچھ نہی؟؟؟؟؟
ابھی تو کچھ نہی ہو حمنہ میں کس حیثیت سے اس سے لٰڑتا تمہارے لیہ..تم بیوی نہی ہو میری..اور پلیز یہ چھوٹی چھوٹی باتوں پہ لڑا مت کرا کرو مجھ سے…
یہ بول کے جیڈی اگے بڑھ گیا..اور حمنہ تو بس سوائے چپ چاپ اسے پیچھے چلنے کے علاوہ کچھ نہی کرسکی…
جاری ہے..
