96.2K
64

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1

ہمایوں ؟؟؟؟
ہمایوں جو آفس کیلیے بلکل ریڈی.تھا اور نیچے ناشتہ کیلیے آنے والا تھا.. حمنہ کی آواز پہ فورا اپنی اسپیڈ تیز کی اور نیچے پہنچا..
..جی مما اپنے بلایا……
ہاں بیٹا اپ گئے نہی گاؤں.؟؟
حمنہ کی بات سن کے ہمایوں کی مسکراہٹ سمٹی ..اور اسکی جگہ سنجیدگی نے لے لی.ہمایوں نے جوس کا گلاس لبوں سے لگایا.. اور چہرے پہ سخت تاثرات لاتے ہوئے کہا..
ماما اپکو پتہ ہے میری گاؤں نہ جانے کی وجہ… ہر بار اپ بار بار بول کے کیوں میرے زخموں کریدتی ہیں…؟؟
بیٹا 18 سال ہوگئے ہیں ہمیں حویلی چھوڑے ہوئے.. تمہارے دادا جو اپنی آخری سانسسیں گن رہے ہیں.. تمہیں دن رات یاد کرتے ہیں تمہاری پھپو.. تمہارے چاچا..ابھی حمنہ کی بات منہ میں ہی تھی کہ ہمایوں بول..پڑا..
کونسے دادا کی بات کر رہی ہیں آپ.. کونسا ددھیال ؟؟
بھول رہی ہیں آپ کس طرح پاپا کے مرنے کے بعد مجھے اور اپکو وہاں سے نکالا….
اگر پاپا کے دوست خالد انکل کا اڈریس .اپکے پاس نہی ہوتا تو کہاں لے کے جاتی اپ اپنے 10 سال کے بیٹے ا
کو….ہانیہ کی.موت اپ کیسے بھول گئ کہ امجد نے اکیساتھ کیا کیا…
ہمایوں چاچا ہیں وہ تمہارے تمیز سے نام لو …
بس کردے ماما بس کردے ہزار بار اپکو بول چکا ہو کہ میں کاغان کبھی نہی جاونگا…کبھی نہی کوئ نہی ہے میرا وہاں کوئ نہی…
..
ہمایوں میں معاف کرچکی ہو..ان سب کو….
ہان تو اپکا جگر ہے ماما..میرا نہی..
10 سال کا بچہ اتنا نہ.سمجھ نہی ہوتا کہ اسکے دماغ سے ماضی کو نکالا جاسکے…
محبت سب کرتے ہیں اپ نے بھی کی .مگر جب اپ پاپا کے نکاح میں آئ تو اپ نے پلٹ کے اس شخص کو نہی دیکھا..میں نے اپکو نمازوں میں روتے دیکھا ہے ماما جو گناہ.اپ سے انجانے میں ہوا اس کی سزا اپ بھگت چکی.. اپ اپنے الللہ کی گناہ گار تھی.. زمین کے انسانوں کی نہی تو سزا دینے کا حق بھی اپکو الللہ.کا ہے…. اور کیسی کو نہی..
اج شیرخان (دادا)بستر سے لگ گئے تو انہیں اج اپنے گناہ.یاد اگئے….
کتنے.لوگ ہیں ماما جو انکے ناجائز فیصلوں کی بھینٹ چڑھ گئے تو پھر اب بھگتے سب..
ہمایوں نے حمنہ کے سامنے اپنے دونوں ہاتھ جوڑے اور کہا.
خدا کے واسطہ ماما یہ دیکھ میرے جوڑے ہوئے ہاتھ.. میں کاغان کبھی نہی جاونگا میں جنید خان کا نہی..شاہزین خان کا بیٹا ..ہوں مجھے اج کے بعد وہاں موجود کیسی رشتہ کا بھی احساس نہی دلایے گا..پلیز..
یہ بول کے ہمایوں اپنے آفس کیلیے نکل گیا..
تو ادھر حمنہ سکتے کی حالت میں وہی رکھے صوفے پہ ڈھے گئ..¤¤¤¤¤
¤¤¤¤¤¤
مشتاق مینشن میں اج صبح ہی.نرالی تھی.. اس گھر کی.اکلوتی بیٹی حمنہ.کا اج ینورسٹی کا پہلا دن تھا..
ارے جلدی جلدی ہاتھ چلاو..بشیرن (نوکرانی) ابھی دونوں باپ بیٹی اجائینگے اور ٹیبل پہ بیٹھتے ہی شور مچا دینگے…. تم جلدی سے ناشتہ ٹیبل پہ.لگاؤ میں اٹھا کے اتی ہو دونوں کو….
جی بی بی جی….
¤¤¤¤¤¤¤
مشاق صاحب لاہور کے ایک عزت دار شہری تھے..انکا لیڈر کا کام اچھا خاصا چلتا تھا.. مشتاق صاحب اور یمنہ کی شادی مشتاق صاحب کے والد نے اپنے عزیزوں میں کی.تھی..مشتاق صاحب اکلوتے ہونے کے باوجود کافی سلجھے ہوئے انسان تھے…تو یمنہ بھی مشتاق صاحب کے نیچر سے میل کھاتی تھی اس لیہ انکا گھر سکون کا گہوارہ تھا…..
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
یمنہ بیگم جلدی جلدی سیڑھیاں چڑھ کے جلدی سے اپنے کمرے میں پہنچی تو مشتاق صاحب بلکل ریڈی کھڑے تائ باندھ رہے تھے .شیشہ میں سے یمنہ کا.عکس دیکھ کے انکے لب مسکرائے.. تائ کو ڈھیلا چھوڑ کے وہ یمنہ کی طرف مڑے.. یمنہ جب مشتاق کی تائ ڈھیلی دیکھی تو مسکراتےہوئے نفی میں گردن ہلائ .اور قریب آکے انکی تائ باندھنے لگی…اور ساتھ میں پرشکوہ جملہ بھی کہا….
اچھی خاصی تائ باندھ رہے ہوتے ہیں.مگر جیسی ہی میں کمرے میں آتی ہو..اپ مجھ سے تائ باندھواتے ہیں..
یمنہ نے تائ باندھ کے ایک پرشکوہ نظر مشتاق پہ ڈالی جو اسے ہی دیکھنے میں مصروف تھے…
یمنہ جیسی ہی جانے کیلیے مڑی مشتاق نے اسکا ہاتھ پکڑ کے اپنے قریب کیا اور کہا…
تمہارے وجود کی خوشبو جب صبح صبح محسوس کرتا ہو..تو بس پور دن اچھا گزرتا ہے.. کوئ نیکی کی تھی شاید میں نے جو الللہ نے اپ جیسی شریک حیات میری زندگی میں لکھی یہ بول کے مشتاق نے یمنہ کے ماتھے پہ.اپنے لب رکھ دیے ..یمنہ نے بھیگتی آنکھوں سے مشتاق کو دیکھا اور انکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کے کہا…
اور اپ شاید میری سالوں کی کی ہوئ عبادت کا صلہ ہے جو دنیا میں ہی الللہ نے مجھے دے دیا….
اب اپ جلدی سے نیچے آئے. ناشتہ بھی ٹھنڈا ہورہا ہے اور اپکو آفس سے دیر بھی ہورہی ہے.. میں زرا اپکی.لاڈلی کو اٹھا کے آو.. اج یونی کا پہلا دن ہے اسکا…
یہ بول کے یمنہ گئ تو مشتاق نے بھی اپنی تیاری مکمل.کی اور ناشتہ کی ٹیبل کی طرف چل پڑے..
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
میں جواں میں حسسیین….
میرے پاس کیا نہی ہو….
آنکھیں ملانے والے…
دل.کو چرانے والے جیون سے جانا نہی…
کمرے میں گونجتی موسقی کی آواز اور ساتھ میں حمنہ کی گانے کے بولو پہ جھولتی کمر..
اج اسکا یونی.کا.پہلادن تھا جلدی جلدی وہ یونی کیلے تیار ہورہی تھی.
کمر تک آتے بال گہری براون آنکھیں چھوٹی سی نک جسمیں ایک نگ کی.چھوٹی سے لونگ جسکو پہنے پہ یمنہ نے اچھی خاصی حمنہ کو باتین سنائ تھی جو اس نے ایک کان سے سن کے دوسرے سے ارا دی تھی….لمباقد گوری رنگت.. کوئ بھی حمنہ.مشتاق کی ایک جھلک.دیکھ کے دوبارہ دیکھنے کی خواہش ضرور کرتا…..
حمنہ.جلدی جلدی اپنی کتابیں سمیٹ کے بیگ میں ڈال رہی تھی جب یمنہ کمرے میں آئ..
اور کمرے میں بجتے میوزک کو سن کے انکا پارہ اچھا خاصا ہائ ہوگیا تھا..
حمنہ جو اپنے کمرے میں یمنہ کی موجودگی سے بے نیاز اپنے کام میں مگن تھی اچانک میوزک بند ہونے پہ وہ ایک دم رکی اور جیسی اس نے ٹیپ ریکارڈر کی طرف پلٹ کے دیکھا تو اسکی نظر یمنہ.کے لال بھبوکے چہرے کی طرف گئ..
..
حمنہ کتنی بار کہاں ہے یہ محنوسیت صبح صبح نہی بجا کرو مگر تم ہو کے میری کو بات نہی سنتی صبح صبح لوگ الللہ.کی.حمدوثنا کرتے ہیں مگر تمہیں کسی بات کا اثر نہی.ہوتا..نماز کیلیے اٹھاو تو تمہارے سرمیں درد ہوتا ہے یہ.سنتے ہوئے نہی.ہوتا….
یمنہ بیگم اچھا خاصا حمنہ پہ.برہم ہوگئ تھی….
حمنہ نے ایک.لمبی سانس لی اور کہا…
اور کم اون.ماما…
اپ صبح صبح ہی شروع ہوجاتی ہیں… مجھے پسند ہے میوزک سننا مگر اپ ہیں کے ہمیشہ میری ہر پسند کو رد کرتی ہیں…مجھے اپنی قبر میں جانا ہے…اپ نہی آئینگی وہاں بچانے مجھے پلیز موم مت دیا.کرے صبح صبح لیکچر….
حمنہ نے بیزاریت سے کہا.
تو یمنہ بیگم نے اسکی بات کے جواب میں کہا..
الللہ.کی حمدوثنا کا بولنا تمہین.لیکچر لگ رہا ہے یہ ساری نعمتیں اسی.کی عطا کردا ہے نہ شکرا پناہ مت کرو..یہ سب تمہارے پاپا کے لاڈ پیار کا نتیجہ ہے اجاو نیچے ناشتہ پہ تم دونوں کی ساتھ میں خبر لیتی ہو یہ بول کے یمنہ بیگم غصہ میں نیچے چلی.گئ ..
حمنہ نے پھر میوزک اون کیا اور یونی کیلیے تیار ہونے.لگی…
حمنہ تیار ہوکے جب ناشتہ کی ٹیبل پہ.پہنچی تو مشتاق پہلے سے ہی وہاں موجود تھی جبکہ یمنہ کچن میں تھی..
.
ا
ہائے پاپا……
حمنہ.نے.مشتاق صاحب کے گلے میں ہاتھ ڈال کے کہا..
یہ ہائے کیا ہوتا ہے سلام کرا کرو ہزار بار کہا.ہے اور یہ.کیا پہن کر آی ہو تم…
کچن سے نکلتی یمنہ نے جب حمنہ کو مشتاق سے ہائے بولتے سنا.. تو بول پڑی مگر رہی سہی کسر حمنہ کی ڈریسنگ نے ہوری کردی….
جینیز کی پیینٹ اور شرٹ اور گلے میں برائے نام.مفلر….اسکی ڈریسنگ کو دیکھ کے یمنہ کو تو مانو اگ ہی لگ گئ…
اس سے پہلے یمنہ اور کچھ کہتی….
مشتاق صاحب بول پڑے…..
کیا ہے یمنہ جب دیکھو ہماری بیٹی کے پیچھے پڑی رہتی ہو …
مشتاق یمنہ کو بول کے حمنہ کی طرف مڑے جو منہ پھلائے ٹیبل پر بیٹھ چکی تھی…
میرے بیٹی پہ.یہ ڈریس بہت اچھا لگ رہا ہے….
مشتاق صاحب کی بات سن کے حمنہ کے لبوں پہ.مسکراہٹ اگئ…اور اس نے مشتاق صاحب سے کہا….
تھینکیو پاپا اپ ورلڈ کے بیسٹ پاپا ہے ورنہ کچھ لوگوں کی تو لگتا ہے میں سوتیلی بیٹی ہو…
حمنہ کے بولنے پہ.جہاں مشتاق صاحب کا قہقہ گونجا..وہی.یمنہ نے افسوس سے اپنی گردن ہلائ…
جب وقت آئے گا تو پتہ چل جائے گا کہ ماں کیوں سمجھاتی تھی….
یمنہ یہ بول کے ناشتہ کرنے لگی…سب ہی ناشتہ میں مصروف تھے….
کہ حمنہ نے مشتاق کو مخاطب کرکے کہا…
پاپا اپنے کہاں تھا یونی میں ایڈمیشن ہونے کے بعد اپ مجھے موبائل دلائے گے…؟؟؟؟
ہاں بیٹا مجھے یاد ہے اج شام میں آفس سے واپسی پہ.میں اپنی گڑیا کا موبائل لیتے ہوئے آونگا…مشتاق صاحب نے مسکرا کے حمنہ کی بات ک جواب دیا.مشتاق صاحب کی بات سن کے حمنہ جوش سے ناشتہ کی ٹیبل سے اٹھی اور مشتاق صاحب کے گلے لگ گئ….
اور کہا…
اور تھینکو سو مچ پاپا…… اپ جلدی سے ناشتہ کرے میں اپنا بیگ لے کے آتی ہو یونی کیلیے دیر ہو رہی.ہے…
یہ بول کے حمنہ تیزی سے اپنے کمرے کی طرف ڈوری…
حمنہ کے جانے کے بعد یمنہ نے مشتاق سے کہا…
حمنہ کو موبائل دلا کے اپ اچھا نہی کر رہے… میں اسکے یونی جانے کے بھی حق میں نہی تھی کہا تھا اپ سے حمنہ کو اپنے گھر کا کرنے کا سوچے مگر اپ مانتے کہاں ہیں میری.. کل کو جو کوئ بھی رسوائ ہوئ اپ کے بے جا لاڈ کی وجہ سے مشتاق صاحب تو اسکا سارا الزام سراسر اپ پہ ہوگا…یمنہ یہ بول کے چپ ہوئ..
تو مشتاق صاحب کو خود کو مسکراتے ہوئے تکتا پایا..
مشتاق صاحب نے یمنہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور کہا
یمنہ تمہارا پریشان ہونا جائز ہے مگر تم یہ بھی تو دیکھو کہ وہ.ہماری اکلوتی بیٹی ہے یہ سب حمنہ کا تو ہے.. اور رہا سوال کسی بھی قسم.کی رسوائ کا. تو حمنہ میرا غرور ,میرا مان ہے جو کھی نہی ٹوتے گا.. بےجا پابندیا اولاد کو باغی کر دیتی ہے…
مشتاق صاحب کی باتیں جہاں یمنہ سن رہی تھی وہی سیڑھیوں پہ.کھڑی حمنہ بھی سن رہی… مشتاق صاحب بول کے چپ ہوے.. تو حمنہ فورا سیڑھیوں سے نیچے اتری .
اور کہا..
پاپا چلے ؟؟
حمنہ کی بات پہ مشتاق صاحب فورا کھڑے ہوئے..
حمنہ اگے بڑھ کے یمنہ کے گلے لگی اور خدا حافظ کہتی ہوئ.. مشتاق صاحب کے ساتھ یونی جانے کیلیے نکل.پڑی….
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ہمایوں.غصہ میں آفس پہنچا.. پورے راستے وہ اپنے ماضی کے 18 سال کو سوچتے ہوئے آیا..ایک ایک لمحہ کسی فلم.کی طرح اس کے سامنے چلنے لگا سکتہ جب ٹوتا جب آفس کے باہر اسکی کار آکے روکی…
ہمایوں تن فن کرتا آفس پہنچا اور بلاوجہ میں ادھر ادھر فائل کرنے لگا..
کہ جبھی آفس کا گیٹ ناکک ہوا اور ثنا اندر آئ….
…..