50.9K
64

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 31

جیڈی خونخوار نظروں سے اپنے گال پہ.ہاتھ رکھے حمنہ کو گھور رہا تھا…حمنہ نے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالی تو جیڈی کو ڈھونڈنے سے بھی حمنہ کی آنکھوں میں اس نے نہ بے بسی دیکھی نہ خوف ..
حمنہ نے ایک بار پھر جیڈی سے چیخ.کے کہا..
اج کے بعد میرے راستے میں آنے کی.کوشش کی.یہ میرے منہ لگے تو یقین مانو جیڈی عرف امجد خان وہ حال کرونگی..کہ نہ.سسہہ پاوگے نہ بتا پاوگے…
حمنہ یہ.بول کے چپ ہوئ تو اسے اپنے کندھے پہ کسی کے ہاتھ کا احساس ہوا حمنہ نے گردن گھمائ. تو شاہ زین چہرے پہ غصہ لیہ جیڈی کو گھور رہا تھا.. اور پھر حمنہ کے بعد جیڈی کی آواز ہال.میں گونجی…
یہ تو رہی میری بیوی کی دھمکی. ..تو اب میری باری….
یہ بول کے شاہ زین نے جیڈی کے تھوڑا قریب ہوا اور کہا..
نہ وہ اب اکیلی ہے نہ بے سہارا. اس پہ.ہاتھ ڈالنے سے پہلے ہزار بار سوچنا امجد آس پاس بھی دیکھے اس کے تو زندہ زمین میں گاڑ دونگا. اور تم جانتے ہو میں ایسا کرسکتا ہو…
یہ بول.کےشاہ زین نے تیزی سے حمنہ ک ہاتھ پکڑا اور اوپر جیسی ہی اپنے.کمرے میں جانے لگا راستہ.مین اسے ڈری سہمی سے نمرہ کھڑی دیکھائ.دی..شاہ زین نے اگے بڑھ کے اسے گلے سے لگایا اور کہا..تھوڑی.دیر بعد میرے کمرے میں آنا…گڑیا.اوکے..یہ بول.کے شاہ زین اگے بڑھ گیا..جبکہ نمرہ.ابھی بھی.حمنہ سے خوفزدہ تھی..
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
جیڈی کو تھپڑ پڑتا دیکھ رابعہ جہان شوکڈ تھی. وہی.نمرہ.کا بھی کچھ ایسا ہی حال تھا…ظفر جب کھا چکا تھا تو شاکڈ اور سہمی ہوئ رابعہ کو ہاتھ پکڑ کے اسے چلنے کو کہا..
مبشرہ نے ایک نظر امجد کے چہرے پہ ڈالی .اور اپنے کاموں کی طرف بڑھ گئ..
میری جان ہے تم.مین جیڈی میں تم سے بہت پیار کرتی ہے اور آخری سانس تک کرتی رہونگی…پلیز ناراض نہی ہونا مجھ سے کبھی چھوڑ کے نہ.جانا کبھی..
حمنہ کی آواز جیڈی کے کانوں میں گونجنے لگی..
جیڈی سکتے کی حالت میں کھڑا تھا..اس بار بھی اس نے یہی سمجھا کے ہر لڑکی کی طرح حمنہ یہ تو موت کو گلے لگالے گی بدنامی.کے ڈر سے یہ پھر ہمیشہ کی طرح غائب ہوجائے گی.مگر اج حمنہ کے ہاتھ کا تھپڑ کھاکے امجد خان کے سامنے اب تک کے اسکے سارے گناہ چلنے.لگے…جیڈی نے غصہ میں ایک.لات ڈائنگ ٹییبل کو ماری اور گاڑی کے کے باہر نکل.گیا..
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
حمنہ کے کمرے میں آکے شاہ زین کا ہاتھ چھوڑا اور واش روم.میں گھس گئ.. شاہ زین نے اج حمنہ کو اج نہی روکا. شاہ زین چاہتا تھا کہ.اج اسی کمرے میں حمنہ اپنا ماضی خود اپنے ہاتھوں سے ختم کرے…
حمنہ نے واش روم.میں جاکے اپنے منہ پہ بے شمار پانی کہ چھینٹے ماری اسکی آنکھیں اسکے رونے کی چغلی کھا رہی تھی..
اچانک سامنے لگے بڑے سے شیشے پہ حمنہ اور جیڈی کے قربت کے سین چلنے لگے…پھر مشتاق صاحب اور یمنہ بیگم.کا جنازہ.. ایک دم شیشہ بلینک ہوا. اور حمنہ کو خود کا عکس ابھرا..
دفن کردو اج اسی وادی میں اپنا ماضی حمنہ… نہی حمنی نہی تمہاری.کوککھ میں جیڈی کا بچہ ایک.اور عکس ابھرا…
ایک دم.دونوں عکس حمنہ.پہ.ہنسنے لگے…
حمنہ نے پاس پڑا واس اٹھایا اور پوری.شدت سے سامنے.لگے شیشہ پہ.دے مادا ایک جھٹکے سے سارے.کانچ کے ٹکڑے اسکے پیر میں آگے. حمنہ اپنے دونوں ہاتھ کانوں پہ رکھے اور چیخ.چیخ.کے کہا..
نہی.ہے یہ.جیڈی کا بچہ… نہی.ہے ..
یہ میرا بچہ ہے میرا..
باہر کھڑا شاہ زین شیشہ ٹوٹنے کی آواز سن چکا تھا…مگر پھر اج.اس نے حمنہ کو نہ رونے سے روکا نہ چیخنے سے روکا…
وہ بس بیڈ پہ سر جھکائے بیٹھا تھا.. اور حمنہ.کے باہر آنے کا ویٹ کررہا تھا…
تھوڑی دیر بعد واش روم.کا گیٹ کھولا..
حمنہ.ایک.نئے روپ میں باہر آئ.. اور شاہ زین جو سمجھ رہا تھا. وہ.باہر اکے اور روئے گی.. مگر اسکا اندازہ غلط نکلا..
اس نے بڑے آرام سے آکے شاہ زین سے کہا..
وہ واش روم کا شیشہ ٹوتھ گیا ہے تو دیکھ لینا پلیز… حمنہ کے اتنے ہلکے ریکشن پہ شاہ زین اسے آنکھیں پھاڑیں اسے دیکھنے لگا..
اسے ڈھونڈنے سے بھی اس میں پرانی والی.حمنہ نہی ملی اس نے ڈھیرے سے حمنہ کا ہاتھ پکڑا اور کہا…
تم ٹھیک ہو حمنہ؟؟؟
شاہ زین کی بات پہ حمنہ ڈھیرے سے مسکرائ مگر اسکی آنکھیں اب بھی آنسو لبریز تھی…
اس نے دھیرے سے شاہ زین سے کہا
“نشہ تھا اتر گیا”
دل تھا بھر گیا”
پیار تھا ختم ہوا”
انسان تھا بدل.گیا”
حمنہ کے ان جملوں میں شاہ زین اسکی ساری بات سمجھ گئ…اس نے ڈھیرے سے شاہ زین سے اپنے ہاتھ الگ کیہ اور کہا…
تمہی مجھے یہان لائے تھے نہ تاکہ.میں اپنا ماضی اپنے.ہاتھوں سے ختم کرو…
تو زین میں نے ماضی خالی.ختم.نہی.کیا اسے کھرچ کے اپنے دل.سے نکال دیا…
اج.میں خالی.حمنہ شا.
ابھی اس سے پہلے حمنہ اپنی.بات پوری کرتی کمرے ک دروازہ ناکک ہوا…
شاہ زین نے جاکے دھیرے سے دروازہ کھولا تو ڈری سہمی سی.نمرہ.کھڑی تھی…
شاہ زین نے اسے اندر آنے کو کہا تو پہلے اس نے زین کے کان میں ہلکی سی.سرگوشی کی.اور ..کہا
لالہ بھابھی اب بھی غصہ میں ہیں؟؟!
شاہ زین نے نمرہ کی.بات پہ.قہقہ لگایا.اور کہا..
نہی میری گڑیا آو اندر آو…
شاہ زین نمرہ.کو لے اندر بڑھا. تو حمنہ نت اگے بڑھ کے نمرہ کو گلے لگایا وہ سمجھ گئ.تھی کہ.نمرہ اس سے خوفزدہ ہے…
حمنہ نے جب اس باتیں کی.تو نمرہ.کو وہ بہت اچھی.لگی…
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
اور پھر شاہ زین اور حمنہ واپس کراچی آگئے…
انکے ولیمہ.میں وادی سے صرف رابعہ اور ظفر نے شرکت کی..
فاطمہ نے ولیمہ خوب انجوائے کیا.. مگر جب اسے ولیمہ کے اگلے دن پتہ.چلا کے تین دن پہلے آفتاب کی بات نہ.مان کے جو اپنی.مرضی چلائ تھی اس کے بدلے آفتاب نے جو اسے سزا دی..وہ سزا سنتے ہی اس نے آنکھوں میں آنسو لیہ سکتے کی.کیفیت میں اپنے گھر میں بیٹِھے شان سے آفتاب کو دیکھا…
جاری یے..