50.9K
64

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 47 Part 1

اعیرہ کی بھوک کی شدت سے رات میں آنکھ کھولی اعیرہ نے اپنے برابر میں دیکھا تو ہمایوں نہی تھا ۔۔اعیرہ تھوڑی فریش ہوکے باہر گئ تو حمنہ اور ہمایوں ٹیبل پہ بیٹھ کے کھانا کھارہے تھے۔
اعیرہ نے حمنہ کو سلام کیا۔
اعیرہ کی آواز سن کے ہمایوں اور حمنہ ایک دم چونکے۔
ارے پرنسس تم اٹھ گئ طبیعت کیسی ہے ؟؟
کچھ چاہیے تھا تو آواز لگا دیتی ۔۔
ہمایوں اپنی ہی دھن میں بولتا ہوا اعیرہ کے پاس آیا ۔مگر اعیرہ نے بنا اسکی طرف دیکھے بنا اسکی بات کا جواب دیے ٹیبل کی طرف قدم بڑھائے اور حمنہ کے برابر میں جاکے بیٹھ گئ ۔۔
ہمایوں نے ایک ائیبرو آچکا کے اعیرہ کو دیکھا اور
ہمایوں سمجھ چکا تھا کے میڈم کا پارہ ہائ ہے۔۔حمنہ کو دوپہر والے واقع کا علم نہی تھا وہ یہ سمجھ رہی تھی کے ہائے اسٹڈی کی وجہ سے اعیرہ تھک کے سوگئ ہوگئ مگر اعیرہ کا ہمایوں کو یو نظر انداز کرنا اورغصہ میں دیکھنا حمنہ کو سمجھ آگیا کے معملہ کچھ گڑبڑ ہے۔
حمنہ نے اعیرہ سےپوچھا۔۔
بیٹا آج تو آپ کالج سے آکے ماما سے ملی بھی نہی اور سوگئ تھک گئ تھی کیا۔؟؟؟؟
حمنہ کے سوال پہ ہمایوں نے بوکھلا کے اعیرہ کی طرف دیکھا اور نفی میں سر ہلایا ۔۔
اعیرہ نے غصہ سے ہمایوں کی طرف دیکھا اور کہا۔
ماما اپکے لاڈلے بیٹے نے بتایا نہی ہم دوپہر میں کہاں ایڈونچر کررہے تھے۔۔!؟؟
حمنہ اعیرہ کی باتوں میں چھپا طنز اچھا طرح سمجھ چکی تھی اس لیہ ہمایوں سے پوچھا۔
کہاں تھی اعیرہ دوپہر میں ہمایوں ؟؟
حمنہ کے بولنے پہ کچھ ایسا تھا کے ہمایوں نے آج ہونے والی غلطی حمنہ کو بتا دی ہمایوں بول کے چپ ہوا تو اعیرہ نے روتے ہوئے کہا۔
ماما اپکو پتہ ہے وہ لڑکے دیکھنے میں کتنے گندے تھے جو مجھے پکڑنے والے تھے اگر پولیس کے سائرن کی وجہ سے وہ لوگ نہ بھاگتے تو پتہ نہی میرا کیا ہوتا۔۔
حمنہ نے غصہ سے ہمایوں کی طرف دیکھا اور کہا ۔۔
تم سے اتنی بڑی۔لاپرواہی کیسے ہوگئ ہمایوں تمہیں اندازہ ہے کہ آج کیا ہوسکتا ہے تھا اوپر سے سب سے بڑی حماقت کے تم نے ابھی تک اعیرہ کو موبائل لاکے نہی دیا حد ہوتی ہے لاپرواہی کی آئندہ اگر ایسی لاپرواہی ہوئ تو مجھ سےبڑا کوئ نہی ہوگا۔۔
یہ بول کے حمنہ نے روتی اعیرہ کو سینے سے لگایا تو اعیرہ نےطنزیہ مسکراہٹ لیہ ہمایوں کی طرف دیکھا
اور ہمایوں نے خاموشی سے اپنی پلیٹ میں جھکتے ہوئے ہلکی سی سرگوشی کی۔
ہاں ویسے ڈانٹ پروانے میں دماغ چلتا ہے اور کسی چیز میں نہی چلتا کے شوہر ہو میں ۔۔

#

ولی کی آنکھ کھلی تو مشکبار کو اپنے سینے سے لگاپایا رات جو ہوا ولی نے بلکل ایسا نہی سوچا تھا ۔مگر اب جو ہو چکا تھا اسے بدلہ نہی جاسکتا تھا
ولی نے آہستہ سے مشکبار کو اپنے آپ سے الگ کیا تو مشکبار نے نفی میں گردن ہلائی اور دوبارہ اس سے لپٹ گئ کوئ اور احساس سے بھر پور انسان ہوتا تو یقین آج سجدہ شکر کرتے نہی کرتا جس لڑکی کی وہ اتنی انسلٹ کرچکا اس نے بنا اپنی آنا بنا اپنا غصہ لائے اپنا آپ اپنے شوہر کو سونپ دیا یہ سوچے بنا کے آگے اسکا شوہر اسکے ساتھ کیا پیار اور محبت کرے گا اور ابھی وہ جو نیند میں بھی اس سے الگ ہونے کا تصور نہی کرسکتی تھی۔۔
ولی نے مشکبار کی گردن کے نیچے ہاتھ رکھ کے اسے اٹھا کے تکیہ پہ لیٹایا تو بلا جھجک اسکی نظر مشکبار کی گردن پہ گئ جہاں جابجا ولی کے لبوں کے نشان تھے ولی فورا نظریں چرا گیا اور فریش ہوکے بنا مشکبار کو اٹھائے بنا ناشتہ کیے آفس چلا گیا۔
مشکبار اٹھی تو اس نے سوچا تھا کے اج ولی آفس نہی۔جائے گا اسے پیار سے اٹھائے گا اسکے لاڈاٹھائےگا اس سےاپنےہررویہ کی معافی مانگے گا اس کیلیے ناشتہ بنائے گا مگر سب ایک خواب ہی تھا۔۔
مشکبار فریش ہوئ اور بے دلی سے ناشتہ کرنےلگی۔
اورشام کا انتظار کرنا لگی ۔مگر وہ جو سمجھ رہی تھی کے اب سب ٹھیک ہو جائے گا مگر اسکی امید جب ٹوتی جب ولی کا میسج آیا کے رات کیلیے سوری میں بہک گیا تھا اور آج رات میں دیر سے آؤنگا میرا انتظار نہی کرنا۔۔مشکبار تھکے انداز میں وہی صوفے پہ بیٹھ گئ کچھ آنسو چپکے سے اسکی آنکھوں سے بہہ نکلے پھر بھی مشکبار نےہار نہی مانی اور اپنے رب کا سجدہ شکر کرنے جھک گئ۔۔

#

رات کو ہمایوں کمرے میں آیا تو اعیرہ اپنے اسٹڈی کرنے میں مصروف تھی ۔ہمایوں نے بھی اسے چھیڑنا مناسب نہی سمجھا مگر ہمایوں شاکڈ جب ہوا جب اعیرہ نے صوفہ کو ہی اپنا بستر بنا لیا ۔اعیرہ جیسی ہی لیٹی ہمایوں اس کے سر پہ پہنچا اور کہا۔
پرنسس یہاں کیوں سو رہی ہو بیڈ پہ۔چلو۔۔
اعیرہ نے لیٹے لیٹے کہا۔
میں نے اپکے ساتھ نہی سونا آپ بہت ویسی حرکتیں کرتے ہیں کبھی یہں ہاتھ لگاتے ہیں کبھی وہاں اور آج آپ نے بیج روڈ پہ جو حرکت کی افف بندہ تھوڑا اپنی عمر کا ہی لحاظ
کرلے۔۔
اعیرہ کی باتیں سن کے ہمایوں کے لب دھیرے سے مسکرائے تھے اوراعیرہ نے ہمایوں کو مسکراتا دیکھ سوچا ۔۔
یار یہ شخص مسکراتے ہوئے بہت ظالم لگتا ہے مگر پھر اپنا خیال جھٹکا اور کروٹ لے کے لیٹ گئ۔
ہمایوں جانتا تھا وہ کیوں نروس ہے ۔اس لیہ اس نے بنا لحاظ کیہ اعیرہ کی کمر میں ہاتھ ڈال کے اسے گودھ میں اٹھایا اعیرہ جو سمجھ رہی تھی ہمایوں اسکے منع کرنے پہ چپ چاپ چلا جائے گا مگر یہ اسکا وہم ہی تھا ہمایوں نے اسے بیڈ پہ لیٹایا اور اس پر جھکتے ہوئے انکھوں میں انکھیں ڈال کے کہا۔
یہ جو تمہاری باتیں ہیں نہ اسی نہ میرا دل برباد کیا ہے ابھی تک جو میں نے کیا یہ میں کرتا ہو وہ میرا حق ہے یہ بول کے ہمایوں نے جھک کے اعیرہ کو لبوں کو چوما اور پھر کہا۔
اور مجھ پہ الزام مت دو پرنسس رات کو خود مجھ سے چپکتی ہو میرے سینے پہ سر رکھتی ہو اور اگر میں کروٹ لو تو پھر مجھے سے چپکتی ہو یہ بول کے ہمایوں نے اعیرہ کے آگے گلے کی بندھی ڈوری کھولی اور وہاں اپنے لب رکھے اعیرہ دم سادھے ہمایوں کی ایک ایک کاروائ دیکھ رہی تھی۔۔
آج تو تم نے یہ جرات کرلی مجھ دور جاکے سونے کی آئندہ کبھی سوچا کرنا تو بہت دور کی بات ہے تو سانسیں چھین لونگا تمہاری یہ بول کے دوبارہ اعیرہ کے لبوں کو چوما ۔پھر کہا ۔۔
اور ہاں میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس ہوتے ہیں مگر افسوس ابھی تک میں نہ اپنی بیوی کا لباس بن پایا نہ تم میرا لباس بن پائ یہ بول کے ہمایوں نے اعیرہ کی کمر پہ ہاتھ ڈال کے اسے صحیح سے اپنے قریب کیا اور کہا۔
اور رہا سوال عمر کا تو میں ابھی تک تمہاری عمر کا لحاظ کررہا ہو ورنہ یہ دل بیچین ہے تمہاری روح میں بسنے کیلیے ۔
محبت نہی عشق کرتا ہو اعیرہ تم سے تمہاری دوری ہی سوحانے روح ہے ناراض ہو منظور ہے مگر نہ کبھی مجھ سے دور جانےکا سوچنا نہ۔کبھی میری محبت کا تماشہ بنانا اپنے اور تمہارے درمیان کی یہ دوری میں بہت جلد مٹانے والا ہو بس کچھ مہینے پھر تم خود مجھے دور جانے سے پہلے ہزار بار سوچوگی۔۔
ہمایوں اس پر سےہٹا اور اعیرہ کو کھینچ کے اپنے سینے سے لگالیا اعیرہ کا جسم ہلکا ہلکا کانپ رہا ہمایوں جانتا تھا کے یہ ایک ٹیلر اعیرہ کے لیہ بہت ضروری تھا تاکہ وہ اپنے اور ہمایوں کے رشتہ کی اصلیت سمجھ سکے۔
ہمایوں نے اعیرہ کی طرف دیکھا تو اس نے ڈر کے آنکھیں بند کرلی ہمایوں نے ایک بار پھر اعیرہ کے لبوں کو چوما اسکے بالوں میں اپنا چہرہ چھپایا اور سوگیا ۔
ہمایوں کی آنکھیں بند کرتے ہی اعیرہ نے آنکھیں کھولی اور وہ غور سے ہمایوں کا چہرہ دیکھنے لگی آج جو ہمایوں نے کہا یہ کیا کہی اعیرہ ڈری اور کہی اسے رشک ہوا اپنی
قسمت پہ۔اور وہ ایسی ہی ہمایوں کو دیکھتے دیکھتے سوگئ۔۔
مگر کہتے ہیں نہ وہ۔محبت ہی کیا جسمیں امتحان نہ ہو اور پھر غرور تو الللہ کو پسند نہی۔۔۔
جاری ہے ۔۔