96.2K
64

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 22

گرنے کی.آواز پہ.حمنہ نے پلٹ کے دیکھا تو مشتاق صاحب اپنے دل.پہ.ہاتھ رکھ کے نیچے گرے ترپ رہے تھے..حمنہ نے چیخ کے آواز دی…
پاپا… اور ڈورتی.ہوئ مشتاق صاحب تک.پہنچی اور زور زور سے چیخ کے مشتاق صاحب کے بیہوش وجود کو ہلانے.لگی.حمنہ.کی.چیخ وپکار سن کے کافی سارے لوگ وہاں جمع ہوگئے ان سب میں یمنہ بیگم تو سکتے کی حالت میں مشتاق صاحب کے بیہوش وجود کو تکنے لگی..
رش کو چیرتے ہوئے خالد اور شاہ زین اگے بڑھے.. شاہ زین نے مشتاق صاحب کو گودھ میں اٹھایا. اور ہسپٹل لے کےنکلا پیچھے سے خالد حمنہ اور یمنہ بیگم کو لے کے ہسپتال پہنچا…
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
شاہ زین نے گرے کلر کی شیروانی شیب تن کی.. خالد بار بار اپنے یار کے ہنستے اور پرجوش چہرے کی نظر اتار رہا تھا..وہ دل سے دعا کررہا تھا کہ اس کی یار کی خوشی صدا ایسی رہے…
شاہ زین اور خالد اور چند دوست اور انکی فیملی حمنہ ولا پہنچے تو مشتاق صاحب اور یمنہ بیگم نے انکا ہرتپاک استقبال کیا..
شاہ زین کے آتے ہی مشتاق صاحب حمنہ کو لینے گئے…کمرے میں گھستے ہی انہوں نے فاطمہ اور حمنہ.کی.باتیں سن لی..حمنہ کی.آخری کی بات سن کے انہیں لگا کہ انکا غرور انکا مان حمنہ نے بیچ چوراہے پہ.برہنا کھڑا کر دیا. انکا دل یہ بات برداشت نہی کر سکا اور انکو شدید قسم کا ہارٹ اٹیک ہوا..
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ہسپتال کے کوریڈور میں حمنہ پاگلوں کی.طرح آپریش ٹھیٹر کے دروازے سے لگ کے کھڑی تھی.. کچھ ایسا ہی حال یمنہ بیگم کا بھی تھا…شاہ زین تو سکتے کی حالت میں بیٹھا تھا اج کے دن کیلیے اس نے کیا سوچا تھا اور کیا ہوگیا…خالد بھی پریشان حال میں ادھر سے ادھر چکر لگا رہا تھا…
کہ.اچانک آپریشن کا دروازہ کھلا اور ڈاکٹر نے مایوس کن لہجہ میں کہا…
سوری.مشتاق صاحب اب اس دنیا مین نہی رہے ..کوئ گہرا صدمہ انکی.جان لے گیا..
ڈاکٹر کے بات سن کے حمنہ پاگلوں کی.طرح چیخ چیخ کے رونے لگی.جبکہ.یمنہ بیگم کا ایک بھی.آنسو نہی.نکلا..
حمنہ پاگلوں کی طرح زمین پہ بیٹھ کے رونے لگی.
حمنہ کی.حالت دیکھ کے شاہ زین اور خالد کی.آنکھیں بھی آنکھیں نم تھی..خالد نے جیسے تیسے کرکے یمنہ بیگم کو سنبھالا ہوا تھا..شاہ زین آہستہ چلتا ہوا حمنہ کے قریب پہنچا اور کہا..
حمنہ سنبھالو خود کو جیسی.الللہ.کی.مرضی ..
شاہ زین کا اتنا بولنا تھا کہ.حمنہ دیوانہ وار اسکے سینے سے لگ کے روتے روتے کہنے لگی..
زین میں نے میں اپنے بابا کی.جان لی.ہے شاہ زین میں مر کیوں نہی گئ یاالللہ مجھے اٹھالے میرے بابا واپس کردے.. اتنا بول کے حمنہ شاہ زین کی باہنوں میں جھول گئ..
حمنہ کے بیہوش ہوتے ہی شاہ زین نے اسے ہوش میں لانے کی بہت کوشش کی مگر ناکام رہا…
..
جیسے تیسے کرکے شاہ زین اور خالد مشتاق صاحب کی ڈیڈ باڈی کو لے گھر پہنچے. مشتاق صاحب کی.موت پہ.ہر آنکھ اشک بار تھی…حمنہ کو تو ہوش.ہی نہی تھا. اسے اسکے کمرے میں لیٹا دیا گیا..فاطمہ بھی پہنچ چکی تھی..اور وہ.حمنہ کیساتھ ہی.تھی..کاروباری لحاظ سے شیخ صاحب اور مشتاق صاحب کی.اچھی دعا سلام تھی..کفن میں لپٹے مشتاق صاحب کو دیکھ کے بھی یمنہ بیگم کی آنکھ سے آنسو نہی.نکلا…ہر فرد نے کوشش کرلی یمنہ کو رلانے کی مگر وہ.مشتاق صاحب کی میت کی ڈولی سے لگے بس انہیں تکے ہی جارہی تھی..
شاہ زین خالد اود آفتاب نے مشتاق صاحب کی.تدفین کی فرض باخوبی انجام دیا..آہستہ آہستہ سب جا چکے تھے.. شاہ زین خالد.. فاطمہ اور آفتاب اور آفتاب کی والدہ بھی روک گئ تھی
.
یمنہ ایک بار پھر بیہوش ہوگئ ڈاکٹر نے شاہ زین کو سخت ہدایات کی کے کسی طرح بھی یمنہ بیگم کو رلایا جائے مگر..ہر طرح کی.کوشش کے باوجود انکی آنکھ سے ایک آنسو نہی نکلا..شاہ زین آفتاب اور خالد ابھی ہال میں تھک ہار کے بیٹھے ہی تھے..کے حمنہ کی چیخنے کی آوازیں آنے لگی..وہ.لوگ ڈور کے حمنہ کے کمرے میں پہنچے تو فاطمہ نے بہت مشکل سے حمنہ کو قابو کررہی.تھی..
شاہ زین نے اچانک آگے بڑھ کے حمنہ کے منہ پہ زناٹے دار تھپڑ مارا…
کمرے میں ایک دم خاموشی سی چھاگئ…
کیا شور مچا کے رکھا ہے تم.نے چلے گئے ہیں تمہارے پاپا اب کبھی واپس نہی آئینگے..شاہ زین نے حمنہ کا چہرہ تھام کے کہا..
حمنہ نے آگے بھر کے بچوں کی طرح شاہ زین سے کہا..
زین میں میں نہ اپنے بابا کو دیکھنا ہے انہیں منانا ہے پتہ ہے وہ سوتے نہی ہیں میرے بغیر تم تم لے کے چلو مجھے قبرستان دیکھنا جاگ رہے ہونگے وہ…
دیکھو سنو آواز دے رہے ہیں مجھے دیکھو..آئ.آواز حمنہ حمنہ دیکھو آئ..
شاہ زین کی آنکھوں سے آنسو جاری ہونے.لگے اسے اگے بڑھ کر حمنہ کو سینے سے لگالیا..جبکی حمنہ کی حالت دیکھ کے فاطمہ بھی آفتاب کے سینے سے لگ کے رونے لگی…
کہ جبھی شاہ زین نے حمنہ کو خود سے الگ کیا. اسکے آنسو صاف کیہ اور کہا..
حمنہ اپنی.ماما کا تو سوچو کل رات سے انہوں نے کچھ نہی کھایا..نہ کسی سے بات کرہی ہیں نہ رو رہی ہیں…شاہ زین کی بات کا جواب اس سے پہلے حمنہ دیتی..آفتاب کی.امی ہانپتی کانپتی اوپر آئ..
آفتاب اپنی.امی کی.ایسی حالت دیکھ کے فورا انکی طرف لپکا..اور کہا.
کیا.ہوا امی اپ اتنی گھبرائ ہوئ کیوں ہے. ؟؟؟
وہ.وہ آفتابب یمنہ کے جسم میں کوئ حرکت نہی.ہورہی ..تابندہ بیگم کا اتنا بولنا تھا..
کہ.حمنہ دیوانہ وار بھاگتی ہوئ نیچے پہنچی.اس کے پیچھے سب ہی ڈورے.اپنی امی.کے کمرے میں پہنچ کے ایک دم وہ رکی اور آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی.ہوئ..یمنہ بیگم تک پہنچی اور انکا ہاتھ جیسی ہی اپنے.ہاتھ میں لینا چاہا.. تو یمنہ بیگم کے بے جان ہاتھ اسکے ہاتھ سے چھوٹ گیا..
حمنہ کی دلخراش چیخیں حمنہ ولا میں گونجی..
امی.امی نہہی نا یار ایسے ناراض نہ ہو اچھا میں اب پانچ وقت کی نماز پڑھونگی..اچھا چلے گانے بھی. نہی چلاونگی…اٹھے نہ امی امییییییی
شاہ زین سمیٹ باقی سب سکتے کی.حالت میں تھے ابھی تو وہ.لوگ مشتاق صاحب کو دفنا کے آئے تھے.. خالد بھاگ کے ڈاکٹر کو لے کے آیا..شاہ زین نے آگے بڑھ کے حمنہ کو قابو کیا..
ڈاکٹر نے یمنہ.بیگم کی نبض چیک کی اور نفی مین گردن ہلائ..
اس بار فاطمہ کی بھی چیخیں بلند ہوئ جبکہ حمنہ دیوانہ وار شاہ زین کا ہاتھ چھڑوا کے اپنی امی طرف بڑھی..
امی اتنی بڑئ سزا نہی امی.نہی مین کیسے رہونگی امییییی..
ایک بار پھر حمنہ ولا مین ماتم صفحیں بیچھی..
جاری ہے..