50.9K
64

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 46 Part 1

تھوڑی دیر بعد المیر ک ہاتھ آفرین کی بیک پہ گیا اس نے وہی زپ اوپن کردی جو اسنے ابھی تھوڑی دیر پہلے بند کی۔
المیرکی اس حرکت پہ آفرین کی سانسوں کی رفتار اور تیز ہوگئ المیر نےآفرین کے لب آزاد کیہ ۔افرین جو سمجھ رہی تھی المیر کی گستاخیاں ختم ہوگئی تو یہ اس کی بھول تھی المیر نے آفرین کو بانہوں میں اٹھاکے بیڈ پہ لیٹایا اور خود اس پہ جھک گیا شولڈر سے نیچے شرٹ کرکے جب المیر نے وہاں اپنے لب رکھے تو آفرین کی رہی سہی ہمت بھی جواب دے ہر لمحہ بڑھتی المیر کی گستاخیوں سے آفرین کا دل زور زور سے ڈھرک رہا تھا۔۔
مگر کچھ یاد آنے پہ اس نے المیر کا کندھا پکڑ کے اسے پیچھے کیا جبکہ المیر جسکی آنکھیں میں خمار دیکھ کے ہی آفرین کی آنکھیں شرم سے جھک گئ اور اس کا چہرہ بلش کرنے لگا جیسے دیکھ کے المیر کے لبوں پہ دلکش مسکراہٹ آگئ۔
آفرین کی اس حرکت پہ المیر نے سوالیاں نظروں سے آفرین کو دیکھا تو آفرین نے اسکی بات کا مفہوم سمجھ کے کہا۔۔
وہ المیر ماما کے کوئ گیسٹ آنے والے تھے شاید آنے والے ہونگے ماما نے کہا تھا بہت اسپیشل گیسٹ ہے ۔
اوہ وہ اسپیشل گیسٹ میں ہی ہوں یہ کہہ کے المیر نے دوبارہ اپنے لب افرین کی گردن پہ رکھ دیے آفرین پھر المیر کو کندھے سے پکڑ کے پیچھے کیا تو المیر نے چڑ کے کہا۔
اب کیا ہے۔؟؟
تم بہت چالاک ہو المیر؟؟؟
آفرین کے بولنے المیرکا چہرہ ایک دم سنجیدہ ہوا جیسے دیکھ کےافرین نے نگاہیں جھکا کے کہا۔۔
سوری ۔۔وہ میرا یہ مطلب نہیں تھا۔
آفرین۔ کو ایسا دیکھ کے المیرنے بہت مشکل سے اپنی ہنسی روکی اور کہا ۔۔۔۔
مگر جانمن اگر چالاک نہی بنتا تو تمہیں پاتا کیسے ایسے سوری مت کہو مجھے بس میری آفرین چاہیے جسکی ہر احساس اور جزبات پہ بس میرا حق ہو۔۔
المیرکی بات پہ آفرین نے نگاہیں اٹھا کے المیر کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
آفرین نے ایک دم موڈ بدل کر کہا۔
المیر افف بہت وزن ہے تمہارا اٹھو میرے اوپر سے مجھے سانس نہی ارہا ۔۔
المیر جو دوبارہ آفرین کے لبوں پہ جھکنے لگا تھاافرین کی بات سن کے ایک دم ایسے دیکھا تووہ بلکل سنجیدہ تھی مگر اسکی آنکھوں میں شرارت دیکھ کےالمیر سمجھ گیا تھا کے وہ مزاق کررہی ہے۔
المیر نے اسکے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں قابوکیا اور اسکے لبوں پہ جھکتے ہوئے کہا۔
ابھی بتاتا ہو وزن کسے کہتے ہیں ۔۔
دونوں کی ہنسی آج آفتاب مینشن نیںگونج رہیی۔۔
(محبت اگر سچی ہو تو سامنے والے کے دل میں ایک نہ ایک دن آپکی محبت پنپے گی ضرور تھوڑا وقت اور اپنے الللہ پہ یقین )مریم عمران###

#

آج مونا اور عالم کی برات تھی ۔اعیرہ اور ہمایوں اعیرہ کے سیمسٹر کی وجہ سے جو مایوں کے ایک دن پہلے ختم ہوا تھا ۔اس لیہ وہ مایوں والے دن پہنچے تھے۔
جسکا غصہ بچارے ہمایوں کو بھگتنا پڑا۔۔
اعیرہ اور ہمایوں نے پورے مایوں المیر سے بات نہی کی تھی جسکی وجہ المیر کا بنا بتائے جانا تھا۔
مگر تھوڑی بہت جدوجہد کے بعد بلآخر معملہ ٹھنڈا ہوا۔۔
مونا آفرین سب ہی تیار ہوکے حال پہنچ چکے تھے۔۔
صرف اعیرہ رہ گئ تھی جیسے لینے ہمایوں پالر پہنچا ۔۔
ہمایوں بلیک ڈنر سوٹ میں ملبوس اپنی گاڑی سے ٹیک لگا کے کھڑا تھا جب اعیرہ بلیک ساڑھی میں اتی دیکھائی دی ۔ہمایوں نے جب اعیرہ کو دیکھا تو بلکل ساکن ہوگیا اعیرہ کوئ اور جہاں کی لگ رہی تھی ہائ ہیل ہاتھوں میں بلیک چوڑیاں سائیڈ و میسی جوڑا اور ساڑھی جو ایسی پہنی گئ تھی جسمیں اعیرہ کا کوئ جسم جھلک نہی رہا تھا ۔۔
اعیرہ ہمایوں کے سامنے جاکے کھڑی ہوئی اور کہا ۔
چلے ہمایوں دیرہوگی کافی ۔
اور ہمایوں جو اعیرہ کو حسن کو دیکھنے میں مگن تھا ایک دم ہوش کی دنیا میں واپس آیا اور کہا۔
ہاں چلو ۔۔۔
ہمایوں نے اعیرہ کے لیہ گیٹ کھولا اور خود بڑبڑاتا ہوا اپنی سیٹ پہ بیٹھا۔
یہ لڑکی ہر دفعہ میرے اندر سوئے ہوئے شوہر کو جگاتی ہے اور گاڑی اسٹارٹ کردی ہمایوں کی بربراہٹ اعیرہ باآسانی سن چکی تھی جیسے سن کے اعیرہ کے لب دھیرے سے مسکرائے ۔۔
ساری شادی خیروعافیت سےنمٹ گئ شاندارولیمہ کےبعد مونا انگلینڈ چلی گئ۔۔
اعیرہ مونا کے اتنے دور جنے سے کافی اداس تھی۔مگرپھر اپنی پڑھائی میں اتنی مصروف ہوئ اسے کسی کا ہوش ہی نہی رہا۔

#

افتاب مینشن کی شادی نبٹی تو خان حویلی میں شادی کا ہنگامہ شروع ہوگیا۔۔
ضامن اور زوباریہ کہ رخصتی پہلے ہوئ زوباریہ کے کہنے پہ کیونکہ وہ اپنے بھائ کی شادی انجوائے کرنا چاہتی تھی۔۔۔ ۔
بلیڈ ریڈ شراے میں مشکبار پہ کمال کا روپ آیا تھا تو بلیک شیروانی میں ولی بھی کسی سے کم نہی لگ رہا تھا ۔
ساری رسموں کےبعد مشکبار کو ولی کے کمرے میں بیٹھایا گیا ۔
مشکبار جو شاید یہ سمجھ رہی تھی کے ولی کا رویہ اس سے بدل جائے گا مگر یہ اسکی سب سے بڑی بھول تھی۔
ولی کمرے میں آیا بنا مشکبار پہ نظر ڈالے چینج کرکے بیڈ پہ کروٹ لےکے لیٹ گیا۔
اس توہین پہ مشکبار کے آنسو بہنےلگے اس نے ڈرتے ڈرتے ولی کے کندھے پہ ہاتھ رکھا ولی ایک جھٹکے سے اٹھا اور مشکبار کا ہاتھ سختی سے دبا کے کہا ۔۔
سوچنا بھی نہی کبھی تمہیں اپنے دل میں اپنی زندگی میں کوئ۔مقام دونگا۔
میں نے یہ شادی صرف اپنی بہن کی خوشیوں کی وجہ سے کی ہے اوریادرکھنا مشکبار اس بند کمرے کے حالات اگر باہر میں نے کسی کے منہ سے سنے تو اپنی بربادی کی وجہ تم خود ہوگئ۔۔یہ بول کے ولی نے جھٹکے سے مشکبار کا ہاتھ چھوڑا
اور کروٹ لےکے سوگیا۔۔
مشکبار نےبہتی آنکھوں سےولی کی پشت کو گھورا اور سوچا۔
“تجھے پیار کیا تو توہی بتا۔
ہم نے کیا کوئ جرم کیا۔
اور جرم کیا تو بھی بتا تیرے جرم کے جرد کی کیا ہے سزا٫”””
مشکبار نے چینج کیا اور خاموشی سے ولی کی پشت کو گھورتے گھورتے سوگئ۔۔
جاری ہے۔۔