Rate this Novel
Episode 15
جیڈی اج یونی پہنچا تو اسکے ہاتھ میں گلاب کے پھولوں.کا.ایک.گلدستہ تھا..اس کا انتظار کرتے شہزاد اور صابر نے جب جیڈی جے ہاتھ میں پھول دیکھے تو ان دونوں کو کافی حیرانی ہوئ.. کیونکہ اتنے سالوں میں ان دونوں نے .کبھی جیڈی کو کسی.لڑکی کیلیے اتنا سیریس نہی دیکھا…
وہ.تینوں کینٹین پہنچے اپنا اپنا آڈر دینے کے بعد جیڈی نے شہزاد سے کہا.
تجھے کچھ کام بولا تھا کرا تونے؟؟؟
ہاں یار نکال لی.تیری نیو گرل فرینڈ کی ہسٹری…
اوئے گرل.فرینڈ ہوئ نہی ابھی ہونے والی ہے..چل جلدی سے ہسٹری بتا.. جیڈی نے اسے ٹوکتے ہوئے کہا…
نام حمنہ مشتاق, اپنے ماں باپ کی.اکلوتی اولاد.. بہت ضدی اکڑو غصہ والی..مشتاق صاحب کا لیڈر کا کاروبار جو بہت زوروشور سے چل رہا رہا ہے.. ایک مہینے بعد پورے 22 سال.کی ہوجائے گی رہاش ڈیفینس.. بلاک A
دوست صرف ایک وہ بھی اسی یونی.کی شاید نام اسکا فاطمہ ہے .ہماری کلاس فیلو جو پردہ نشین ہے پوری جلاس میں جو ہر وقت اسکے ساتھ رہتی ہے .حمنہ کافی ماڈرن ہے..گھومنے پھرنے کا بہت شوق ہے…یہ ہے حمنہ مشتاق کی.ہستری
یہ بول کے شہزاد نے جب جیڈی کو دیکھا..تو اس کے لبوں پہ.مسکراہٹ تھی…
صابر اور شہزاد دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ..
جیڈی نے ایک دم.کھڑا ہوا اور کہا..
میں تو چلا اپنی جان کو منانے ناراض ہے نہ بہت..یہ.بول.کے جیڈی حمنہ کی.کلاس کی.طرف چل پڑا ..
جبکہ وہ دونوں بس اسے جاتے ہوئے دیکھنے لگے..
جیڈی حمنہ کی.کلاس کے پاس پہنچا تو پتہ چلا کلاس ختم ہوچکی.ہے …
جیڈی حمنہ کو ڈھونڈتا. یونی کے لان میں پہنچا تو وہاں اسے وہ فاطمہ کیساتھ بیٹھی دیکھائ دی…جیڈی نے ان دونوں کے پاس اکے سلام کیا اور کہا..
پلیز حمنہ ایک بار میری بات سن لو .مجھے اکیلے میں تم سے بات کرنی ہے…
جیڈی کی بات سن کے فاطمہ نے اپنا سامان سمیٹا اور کہاں…
حمنہ بات سن کے کیٹین آجانا میں وہی ہو..
فاطمہ کے جاتے ہی حمنہ نے اپنے دونوں ہاتھ سینے پہ.باندھے اور جیڈی کو دیکھتے ہوئے کہا..
بولو کیا بولنا ہے.؟؟؟
جیڈی نے لمبی سانس ہوا میں چھوڑی اور کہا…
پلیز حمنہ میں اپنی اس دن کی.حرکت کیلیے بہت شرمندہ ہو..پلیز مجھے معاف کردو اپ اور یہ گل دستہ اگر اپنے ایکسپٹ کرلیا تو میں سمجھونگا کہ اپنے.مجھے.معاف کردیا..
یہ بول کے جیڈی چپ ہوا تو حمنہ نے ایک نظر اسے دیکھا اور اگے کو بڑھ گئ..
حمنہ نے نہ تو اسکی سوری ایکسپٹ کی اور نہ اسکا گل دستہ حمنہ کے جاتے ہی جیڈی ہارے ہوئے انسان کی طرح ڈھیلے ڈھالے انداز میں وہی گھاس پہ بیٹھ گیا.اور دور تک جاتی حمنہ کو دیکھنے لگا..اسے تھوڑی دیر بعد اپنے دونوں دوست آتے دیکھائ دیے…دونوں نے ہی.جیڈی.کا اترا چہرہ دیکھا تو سمجھ گئے کے بات نہی بنی..
حمنہ کینٹین پہنچی تو فاطمہ کو اپنا منتظر پایا…
فاطمہ نے.حمنہ کو سوالیاں نظروں سے دیکھا مگر بولی.کچھ نہی…
تھوڑی دیر بعد حمنہ نے خودی اسے بتایا کہ.سوری بولنے آیا تھا..
میں نے ایکسپٹ نہی کی.فاطمہ نے صرف ہاں میں گردن ہلائ..
پھر ایسا سلسلہ چل.نکلا کہ.جہان حمنہ جاتی وہی اسے ایک ریڈ گلاب ملتا اور سوری کا کارڈ.. یونی اور کلاس ہو کینٹین ہو ہر جگہ اور اب تو اسکے کمرے میں بھی ریڈ گلاب اور سوری ک کارڈ ملتا..
یہ سلسلہ تقریبا ایک مہینہ چلا.حمنہ نے بہت بار جاننے کی.کوشش کی کے کون ہے جو اسے روز کئ بار کارڈ اور پھول بھیجتا..
ایک بار حمنہ وقت سے پہلے یونی پہنچ گئ. تو اس نے اپنے کلاس پہ.اپنی سیٹھ پہ جیڈی کو پھول اور کارڈ رکھتے دیکھا…تو اسے کافی حیرانی.ہوئ کہ ایک سوری کیلیے جیڈی نے یہ سب کیا..
اج وہ.اکیلی یونی آئ تھی کیونکہ فاطمہ کی.امی.کی طبیعت ٹھیک نہی تھی یہ بات اس نے حمنہ کو ptclسے کال کرکے بتای تھی..
ابھی حمنہ یونی.کے لان.میں بیٹھی ہی تھی کہ پھر سامنے درخت پہ لگا سوری کا کارڈ دیکھا.. حمنہ اٹھ کے درخت کے پاس گئ تو کارڈ کے ساتھ ایک.گلاب بھی تھا..
حمنہ نے کارڈ اور گلاب لے کے پہلے ادھر ادھر دیکھا.. اور پھر مسکرادی کہ.جبھی.اسے اپنے پیچھے سے جیڈی.کی اواز آئ..
تمہاری مسکراہٹ بہت خوبصورت ہے حمنہ. اور شکریہ میری سوری ایکسپٹ کرنے کیلیے..
جیڈی کی آواز پہ.حمنہ نے پلٹ کے دیکھا تو وائٹ کاٹن کے سوٹ اور بلیک پشاوری چپل بالوں کو سلیقے سے سیٹ کیہ حمنہ کو وہ اچھا خاصا ہنڈسم لگا..
جیڈی کی بات پہ حمنہ ایک بار پھر مسکرائ اور کہا..
اب کوئ اتنے مان سے منائے تو مان جانا چاہیے…
یہ بول کے حمنہ وہی درخت سے لگی بینچ پہ بیٹھ گئ تو جیڈی بھی اسکے برابر میں اکے بیٹھا اور اپنا ایک ہاتھ اگے بڑھا کے کہا..
جیڈی..خان
حمنہ نے مسکراکے اسکا ہاتھ تھاما اور کہا..
حمنہ مشتاق….
جیڈی نے حمنہ.کا ہاتھ ہلکا سا دبا کے چھوڑا تو حمنہ کی ہارٹ بیٹ ایک دم تیز ہوئ..
حمنہ..
جیڈی نے ایک بار پھر اسے پکارا…
ہممممم…
میں نے بہت لڑکیوں فلرِٹ کیا ہے مگر یقین مانو تو تم جو فلرٹ کرنے پہ.میرے ساتھ کیا..مجھے یقین ہوگیا تم.باقی لڑکیوں سے بہت مختلف ہو..ورنہ جیڈی کھبی کیسی لڑکی کے پیچھے نہی آیا..تم.میں پتہ نہی ایسا کیا تھا جو تمہارا غصہ مجھے برا لگنے کے بجائے بہت اچھا لگا..سب لڑکیوں کو تمہارا جیسا ہونا چاہیے اگر پہلی بار میں ہی لڑکی فلرٹ کرنے والوں کو سبق سیکھا دے تو دوبارہ انکی ہمت نہ ہو..
یہ بول.کے جیڈی چپ ہوا تو حمنہ نے کہا..
شاید تم ٹھیک کہہ رہے ہو..
ہمممم..اچھا اب میں چلتا ہو کلاس ہے میری..
یہ بول کے جیڈی جانے لگا تو حمنہ اسکی.پشت کو گھورتی رہی..کہ جبھی ایک دم جیڈی مڑا اور الٹے قدم اٹھاتے ہوئے حمنہ کو پیار بھری نظروں سے دیکھنے لگا جیڈی کی نظروں میں کچھ ایسا تھا کہ حمنہ اپنی نظریں جھکا گئ.
.
پھر تو جیسے سلسلہ چل.نکلا جہاں یونی.میں حمنہ کو جیڈی دیکھتا یہ جیڈی کو حمنہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کے مسکراتے تھے….
فاطمہ یہ سارا منظر خاموشی سے دیکھتی تھی.. کیونکہ فاطمہ بہت جلد حمنہ کہ فطرت سمجھ چکی تھی..کی حمنہ کو سمجھانا فضول ہے وہ کرتی وہی تھی جو اسکا دل کرتا تھا…
اج ان لوگوں کو یونی میں پور ایک سال ہوگیا تھا..
اب جیڈی اور حمنہ ایک دوسرے کو دیکھ کے مسکراتے نہی تھی بلکہ کئ بار کینٹین میں ان دونوں کی ملاقات بھی ہوتی تھی اور یہ ملاقات صرف دوستی کا رشتہ نبھارہی تھی.مگر دیکھنے والوں کو پکا یقین تھا..کہ بہت جلد یہ رشتہ محبت میں بدلنے والا تھا..
اج انکی یونی کا پہلا سمسٹر تھا..امتحانی کمرے میں سب ہی پیپر دینے میں مصروف تھے ..کہ جب پیپر کرتی فاطمہ نے اپنے اگے بیٹھے لڑکے کو دیکھا جو نقل کررہا تھا..
فاطمہ اگنور کرکے دوبارہ اپنا پیپر کرنے لگی کہ جبھی اگے بیٹھے لڑکے نے ٹیچر کے روانڈ سے گھومتے ہی وہ.پیپر اپنے سامنے والے لڑکے کی طرف اچھال دیا..
سامنے بیٹھا لڑکا اس آفت پہ.ایک دم بوکھلا کہ جبھی ٹیچر اسکی طرف آئے اسکی ڈیکس پہ.رکھا پیپر اٹھا کے پڑھنے لگا…پیپر پڑھتے ہی ٹیچر کی.گرجدار آواز امتحانی.کمرے میں گونجی…
یہ.کیا ہے ؟؟
لڑکا گھبراتا ہوا کھڑا اور کہا.. .
جی سر….
کیا نام ہے اپکا ؟؟؟
سر آفتاب شیخ…
شرم.آنی چاہیے اپکو سارا سال تو تم.لوگ پڑھتے نہی.ہو اور پیپروں میں چیٹنگ کرکے پاس ہوجاتے ہو..تم لوگوں کی وجہ سے پڑھنے والے بچے پیچھے رہ جاتے ہیں…
سر مگر میں نے چیٹنگ نہی کی یہ میرا پیپر نہی ہے…یہ.تو میرے پاس پتہ.نہی.کہاں سے آکے گرا ہے سر میرا یقین کرے..
پورے کلاس میں سناٹا سا چھاگیا..کیونکہ سب ہی.جانتے تھے کہ آفتاب انکے کلاس کا سب سے لائق اسٹوڈینٹ تھا تو پھر یہ سب سب کیلیے ایکسپٹ کرنا مشکل.ہورہا تھا…
جب آفتاب کے لاکھ بولنے بھی ٹیچر نے آفتاب کی.ایک نہ سنی اور اسکو لے کے پرنسپل کے آفس جانے لگے جبھی حال میں آواز گونجی…
سر چیٹنگ آفتاب نے نہی.کی بلکہ صابر نے کی.ہے…
فاطمہ.کے اواز پہ.سب نے ہی.اسے حیران.نظروں سے دیکھا جبکہ.آفتاب نے بھی مڑ کے فاطمہ.کو دیکھا…حمنہ بھی شاکڈ تھی کیونکہ صابر جیڈی کا بہت اچھا دوست تھا..
فاطمہ کی.بات پہ ٹیچر نے گھوم کے فاطمہ.کے پاس آئے اور کہا..
تم اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتی ہو کہ آفتاب نے چیٹنگ نہی.کی…؟؟؟؟
سر میں خود اپنے آگے بیٹھے صابر کو چیٹنگ کرتے ہوئے دیکھا تھا..اپ.ابھی اسی وقت صابر اور آفتاب کی.چیکنگ کرلے سچ سب کے سامنے آجائے گا…
فاطمہ کے بولنے پہ جہاں صابر نے اسے خونخوار نظروں سے دیکھا وہی آفتاب اسکا مشکور تھا کیونکہ اگر اج فاطمہ سچ نہ بتاتی تو آفتاب کا پورا سمسٹر ضائع ہوجاتا..
فاطمہ.کے کہنے پہ ٹیچر نے دو لڑکوں کو.آفتاب اور صابر کی.چیکنگ کرنے کو کہا.
اور سچ سب کے سامنے آگیا کیونکہ صابر کے پاس دو تین اور پیپر نکلے تھے جبکہ آفتاب کے پاس کچھ نہی…
صابر کو اس حرکت پہ.ناصرف تین دن کیلیے یونی سے سسپینڈ کیا گیا بلکہ سمسٹر میں بھی فیل کردی گیا..
یونی سے آف ہوتے ہی فاطمہ پوائنٹ پہ کھڑی اپنی بس کا ویٹ کررہی تھی کہ.جبھی ایک بلیک کرولا اسکے پاس آکے روکی.. اس میں سے صابر اترا ..جسکو دیکھ کے فاطمہ.کی.ہوایاں اڑ گئ..
اسنے زبردستی فاطمہ کا ہاتھ پکڑا اور کہا..
بہت شوق ہے نہ سچائ کی دیوی بنے کا اج دیکھ میں تیرا کیا حال.کرونگا ..نہ.تو سہہ پائگی.. نہ بتا پائیگی….
یہ بول کے صابر اسے زبردستی اپنی گاڑی میں ڈالنے لگا..
جاری ہے…
