Rate this Novel
Episode 20
پوری یونی ٹائم میں آفتاب نے فاطمہ سے بات نہی کی. فاطمہ کی سمجھ میں نہی آرہا تھا کہ آفتاب کو آخر ہوا کیا ہے…
یونی سے واپسی پہ گاڑی خاموشی سے اپنے راستوں پہ.گامزن تھی..فاطمہ راستوں کا تعین کررہی تھی. یہ راستہ فاطمہ کے گھر کو نہی.جاتا تھا..فاطمہ چاپ چاپ گاڑی مین بیٹھی رہی جبکہ آفتاب کے بھینچے جبڑوں سے وہ.اندازہ لگاسکتی تھی کہ وہ بہت غصہ.میں ہے تھوڑی اور خاموشی کے بعد فاطمہ نے ہمت کرکے آفتاب سے پوچھا..
آفتااا بب کیا. اااپپ ناررراض ہیں مجھ سے؟؟؟
فاطمہ کے کے سوال پہ.آفتاب نے گردن گھما کے اسے دیکھا اور اسکا جواب دینے کے بجائے خود ایک سوال کرڈالا…
یہ راستہ تمہارے گھر کو نہی جاتا پھر بھی تم.نے مجھ سے ایک بار بھی نہی پوچھا کہ میں تمہیں کہاں لیے کے جارہا ہو.
کیوں؟؟؟؟؟
آفتاب کا سوال سن کے پہلے تو فاطمہ.نے حیران ہوکے اسے دیکھا اور پھر اسکے جواب دیا.
کیونکہ اپ میرے شوہر ہیں. اپکا حق ہے مجھ پہ اور سب سے بڑی بات مجھے اپ پہ بھروسہ ہے جبھی تو اپ کیساتھ ہو. اس یقین کیساتھ کے اپ میری حفاظت کرینگے..اور شوہر بیوی تو ایک دوسرے کا لباس ہوتے ہیں دونوں کا ایک دوسرے پہ یقین ہوتا ہے جبھی تو یہ رشتہ چلتا ہے..
فاطمہ بول کے چپ ہوئ تو افتاب نے اچانک گاڑی روکی.. فاطمہ نے.جب گاڑی رکنے پہ.ادھر ادھر نگاہ ڈورائ تو وہ ساحل سمندر پہ تھے…
آفتاب نے غصہ سے فاطمہ.کو اپنی طرف کھینچا اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال.کے کہا..
بتاو فاطمہ تو پھر تم.کیوں حمنہ کی.بکواس سنتی رہی.؟
. کیوں تم نے اسے یہ نہی بتایا کہ ہمارا رشتہ کیا ہے؟؟؟
.. کیوں تم چپ رہی جب میں تمہارے ساتھ تھا…تمہیں بھروسہ نہی تھا کیا مجھ پہ کیوں تم نے نہی بتایا کہ میں تمہارا کون ہو..کیوں تم.نگاہ جھکا.کے رونے لگی..تمہاری خاموشی نے مجھے چور بنا دیا ایک دوٹکے کی لڑکی کے سامنے آفتاب شیخ کو اپنے جائز رشتہ کی وضاحت دینی پڑی فاطمہ کیونکہ تم.کو مجھ پہ بھروسہ نہی.تھا..تم.سمجھتی تھی میں بھی تمہارا تماشہ دیکھنے والوں میں سے ہو…
..
آفتاب کے آخری جملے پہ فاطمہ جو گردن جھکا کے رونے میں.مصروف تھی اچانک گردن اٹھائ اور نفی میں گردن ہلانے.لگی…
آفتاب نے فورا اسے اپنے سینے میں بھینچ لیا تو فاطمہ روتے روتے کہنے لگی..
اااپ پہ تو مجھے خود سے زیادی بھروسہ ہے. بس اتبے سارے لوگوں میں کنفیوز ہوگئ سمجھ نہی آیا کیا کہو..
فاطمہ کے بولنے پہ.آفتاب نے اسے خود سے الگ کیا.نقاب اتار کے . اپنے دونوں ہاتھوں سے اسکے آنسو صاف کیہ اور کہا..
فاطمہ تم آفتاب شیخ کی.اب خالی محبت نہی عزت بھی ہو دنیا میں ایسے کئ مقام.آئینگے جنکا تمہیں سامنا کرنا ہے. میں اپنی فاطمہ.کو مظبوط دیکھنا چاہتا ہو..حالت کا مقابلہ کرنا سیکھو فاطمہ اب تمہارے ساتھ تمہارا شوہر کھڑا ہے..تمہاری طرف ہر بری نیت سے بڑھنے والی انگلی میں توڑ دونگا.اب اگر میں نے اب تمہیں کسی کے سامنے روتا دیکھا تو میں تم سے کبھی بات نہی کرونگا..
اتنا بول کے آفتاب نے اسے پھر سے اسے گلے سے لگایا اور کہا.
ابھی ہم لوگ شاپنگ پہ جائینگے جو میری فاطمہ کو چاہیے ضد کرکے اپنے شوہر سے لے گی..لے گی. نہ ؟؟
آفتاب نے فاطمہ سے الگ ہوکے پوچھا تو وہ مسکرا دی..
مگر یار ابھی تو ایک چیز میں بھول گیا؟؟؟
آفتاب نے اپنا سر کھجاتے ہوئے پریشان کن لہجہ میں کہا…
کیا بھول گئے آفتاب اپ کیا بہت ضروری چیز تھی..؟؟
فاطمہ بھی اسکی پریشانی میں پریشان ہوکے پوچھنے لگی…
ہاں نہ اور وہ یہ..
اتنا بول کے آفتاب نے فاطمہ کے چہرے کو تھاما اور اسکے لبوں پہ جھک گیا….تھوڑی دیر کے بعد جب اس نے فاطمہ کے لب آزاد کیے تو فاطمہ کے لبوں کی لپسٹک آفتاب کے لبوں پہ اور مونچھوں کی سائیڈ پہ لگ چکی تھی..آفتاب یہ بات جانتا تھا. مگر انجان بن کے جیسی ہی.گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا..فاطمہ نے فورا اسے روکا اور کہا…
آفتاب وہ صاف تو کرلے. فاطمہ نے نگاہ جھکائے ہوئے شرمیلے لہجے میں آفتاب سے کہا..
کیا صاف کرلو کیا کچھ لگ گیا ہے مجھے تو کچھ نظر نہی آرہا…
یہ بول.کے آفتاب نے اپنی مسکراہٹ چھپائ اور دوبارہ گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا..
کہ جبھی فاطمہ نے جھجکتے ہوئے گاڑی میں پڑے ٹیشو باکس میں سے ٹیشو نکالا اور آفتاب کے لبوں سے اپنی لپسٹک صاف کرنے لگی.. جبکہ آفتاب اپنی بیوی.کی معصوم صورت اپنے دل میں اتار رہا تھا.جب لپسٹک صاف ہوگئ تو فاطمہ نے شرما کے اپنا نقاب لگایا تو آفتاب نے.جھک کے اسکی پیشانی چومی اور کہا..
love you my life and wife
اور گاڑی اسٹارٹ کرکے شاپنگ سینٹر کی طرف موڑ لی…
¤¤¤¤¤¤¤
شاہ زین کے انکار کے بعد رابعہ بہت چپ چپ رہنے لگی تھی..نورین بیگم اپنی بیٹی کی.حالت سے اچھی طرح واقف تھی…مگر وہ یہ چاپتی تھی کے جتنی جلدی ہو. رابعہ یہ حقیقت تسلیم کرلے کے شاہ زین اسکا نہی..
اور شاید وہ یہ بات سمجھ چکی تھی جبھی.. نورین بیگم.کی بہن کے بیٹے کاآیا ہوا رشتہ وہ قبول کرچکی تھی..ظفر رابعہ کو بچپن سے پسند کرتا تھا. مگر رابعہ کی آنکھوں میں ہمیشہ اس نے شاہ زین کی محبت دیکھی تھی.. مگر رابعہ کی حامی پہ جہاں ظفر کو خوشی ہوئ وہی. اس نے سوچ لیا تھا کہ.اپنی محبت سے وہ رابعہ کے دل سے شاہ زین کی.محبت نکال دیے گا…
رابعہ کے ہاں کرنے بعد نورین بیگم نے امجد کیساتھ ہی رابعہ کی بھی شادی کی تاریخ رکھ دی تھی..رابعہ کے رشتہ کی بات جب شاہ زین تک پہنچی تو اسے کافی.خوشی ہوی…
¤¤¤¤¤¤¤
مشتاق صاحب .اور شاہ زین خالد کے درمیان کاروباری تعلقات بہت اچھے چل رہے تھے.. مشتاق کو یہ دونوں کافی سلجھے ہوئے لگے…ایک بڑی ڈیل کے بعد مشتاق صاحب نے ان دونوں کو اپنے گھر ڈنر کی آفر کی تھی جو دونوں نے خوشی خوشی قبول.کرلی …
حمنہ یونی سے آکے سوئ تو شام میں اسکی آنکھ کھلی..کیونکہ حمنہ یونی کم جیڈی کے فلیٹ پہ زیادی پائ جاتی.. اج ان دونوں کے ناجائز تعلاقات بنائے 1 مہینہ دن ہوچکے تھے.اس ایک مہینے میں جیڈی حمنہ کے جسم سے کھیل کے اسے کئ بار یہ بتا چکا تھا کہ وہ اسے کتنا چاہتا ہے
حمنہ فریش ہوکے نیچے آئ تو یمنہ کو کچن میں ماسی کے ساتھ مصروف پایا..کچن میں طرح طرح کے کھانوں کی خوشبو پھیلی.ہوئ تھی..
ارے ماما اتنے کھانے کوئ مہمان آرہا ہے کیا؟؟
حمنہ نے تجسس سے کام کرتی یمنہ بیگم سے پوچھا..
یمنہ نے ایک نظر حمنہ.کو دیکھا اور پھر دوبارہ کام.میں مصروف ہوتے ہوئے کہا…
ہاں تمہارے پاپا کے خاص مہمان آرہے ہیں.. جاو اوپر ریڈی ہو اور طریقہ کے.کپڑے پہنا. ..یمنہ کی بات سن کے حمنہ اوپر تیار ہونے چلی گئ..ایک گھنٹہ بعد شاہ زین اور خالد مشتاق صاحب کیساتھ ان کے گھر میں موجود تھے..
یمنہ بیگم سے باری باری خالد اور شاہ زین ملے.. ابھی وہ لوگ باتوں میں ہی مصروف تھے کے حال میں ایک نسوانی آواز گونجی..
اسلام وعلیکم…
حمنہ نے ہال کے اندر آتے ہی بلند آواز میں سلام کیا..تو خالد اور شاہ زین دونوں نے چونک پہلے ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر حمنہ کو.. حمنہ بھی شاہ زین کو دیکھ پہلے تو چونکی اور پھر مسکرا کے ان کو سلام کیا..
مشتاق صاحب نے اٹھ کے حمنہ کے کندھے پہ.ہاتھ رکھا اور کہاں..
یہ ہے میری بیٹی حمنہ..
پاپا میں پہلے شاہ زین سے مل چکی ہو.. حمنہ کی بات پہ جہاں یمنہ اور مشتاق صاحب نے حیران ہوکے ان دونوں کو دیکھا وہی خالد نے ہلکی.آواز میں شاہ زین کے کان میں سرگوشی کی…
لے بھئ مشتاق صاحب تو تیرے سسر نکلے.. خالد کے بولنے.پہ.شاہ زین اسے گھورا اور پھر مشتاق صاحب کو اپنی اور حمنہ کی.ملاقات کا بتایا …
کھانا بہت ہی خوشگوار ماحول مین کھایا.گیا..حمنہ پرپل کلر کی قمیض شلورا میں سیدھا شاہ زین کے دل میں اتر رہی تھی..
بار بار شاہ زین کی نظر بھٹک کے حمنہ کے چہرے کا طواف کررہی تھی..خالد نے کئ بار اسکے پاوں پہ اپنا پاوں مار کے شاہ کو یہ.احساس دلایا کے ہم حمنہ کے باپ کے سامنے بیٹھے ہیں..
¤¤¤¤¤¤¤
رات میں یمنہ بیگم ساری کام سے فارغ ہوکے جب اپنے کمرے میں پہنچی تو مشتاق صاحب کو گہری سوچ میں گم پایا..
کیا سوچ رہے ہیں مشتاق؟؟؟
یمنہ کے پوچھنے پہ مشتاق صاحب نے ایک گہری سانس لی اور کہا..
میں سوچ رہا ہو وہ جو شاہ زین آیا تھا اج وہ کیسا رہے گا حمنہ کیلیے…؟؟
ارے مشتاق صاحب اپنے میرے دل کی بات کہہ دی.. بہت اچھا اور سلجھا ہوا لگا مجھے شاہ زین اپ بات کرے پتہ کرے اس سے اسکی فیملی وغیرہ کا…
ہم پوچھتا ہو اس سے…
یمنہ بیگم نے مشتاق صاحب کی ہاں میں ہاں ملائ..اور سونے کیلیے لیٹ گئ…
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
اج پھر حمنہ یونی اف کرکے جیڈی کے فلیٹ میں تھی..کل جیڈی گاؤں کیلیے نکل رہا تھا اس لیہ اج اس نے حمنہ.کو ملنے فلیٹ پہ بلایا تھا..
حمنہ جیڈی کے سینے پہ سر رکھ کے لیٹی تھی کہ. کی حمنہ نے جیڈی سے پوچھا..
جیڈی تمہارے والدین مان تو جائینگے نہ؟؟
ہاں ہاں کیوں نہی بس تم مجھے وہاں کال نہی کرنا. یں انہیں منا کے بہت جلد لے آونگا..یہ بول کے جیڈی حمنہ کے لبوں پہ.جھک گیا..اور جب ہٹا تو حمنہ نے پھر پوچھا..
جیڈی تم.وہاں جاکے مجھے بھول تو نہی جاوگے نہ؟؟
حمنہ کے سوال پہ جیڈی نے سنجیدگی سے حمنہ کا چہرہ دیکھا اور پھر نفی میں گردن ہلائ…
اور پھر جیڈی گاوں چلا گیا…حمنہ کو ہزار دلاسے دے کر..اج جیڈی کو گئے ہوئے دس دن ہوچکے تھے نہ وہ خود آیا اور نہ اسکی.کوئ کال.. ابھی حمنہ انہیں سوچوں میں گم.یونی.کے گارڈن میں بیٹھی تھی جیسی ہی کینٹین جانے کیلیے کھڑی ہوئ ایک دم چکرا کے زمیں بوس ہوگئ..
فاطمہ جو کب سے حمنہ کو اکیلے بیٹھا دیکھ کے اس کے پاس جانے کا سوچ رہی تھی ایک دم حمنہ کے بیہوش ہونے پہ بھاگتی ہوئ اس تک.آئ..آفتاب جو اپنی.کلاس لے.کے نکل رہا تھا..فاطمہ کو ایسے گھبراتے ہوئے بھاگتا دیکھ کے وہ بھی اسکے پیچھے بھاگا…
گارڈن میں کافی اسٹوڈینٹ کا رش لگ چکا تھا..فاطمہ ان سب کو چیرتی ہوئ حمنہ تک پہنچی اور اسے ہوش میں لانے کی کوشش کرنے لگی..آفتاب کو وہاں دیکھ کے فاطمہ نے روتے روتے آفتاب کو اسے ہسپتال لیجانے کو کہا..
آفتاب نے بنا ٹائم ضائع کیا حمنہ کو اپنی باہنوں میں اٹھایا اور اسے.لے کر ہسپتال جانے کیلیے نکلا. …
آفتاب اور فاطمہ ہسپتال کے کوریڈور میں بے چینی سے اندر حمنہ کا چیک اپ کرتی ڈاکٹرنی کا ویٹ کرہے تھے.. کہ ایک نرس نے باہر اکے فاطمہ سے کہا..کہ ڈاکٹر نے اسے اندر بلایا ہے..آفتاب کے اشارے پہ وہ اندر ڈاکٹر کے روم مین گئ تو حمنہ سامنے اسٹیچر پہ.لیتی تھی اور ہوش میں تھی..ڈاکٹر نے فاطمہ کے آتے ہی پوچھا…
یہ اپکی.کون ہیں..فاطمہ نے ایک نظر حمنہ کو دیکھا تو وہ ایسے ہی دیکھ رہی تھی..
سسٹر ہے میری..فاطمہ کے بولنے پہ ڈاکٹر نے کہا..
انکی شادی کو کتنا ٹائم ہوا؟؟
ڈاکٹر کے سوال پہ فاطمہ نے ایک نظر حمنہ کو دیکھا اور پھر ڈاکٹرنی کو..اور کہا..کیا مطلب میم میں سمجھی نہی…
اپکی بہن پریگنٹ ہیں.
جاری ہے….
