Rate this Novel
Episode 10
شاہ زین خالد کیساتھ مارکیٹ آیا تھا.. کچھ شاپنگ کرنے ابھی وہ.لوگ اپنے کپڑے دیکھ ہی رہے تھے.. شاہ زین کے نمبر پہ اسکے کام کے ریلیٹڈ بندے کی کال.آگئ. اسے سننے کیلیے وہ دکان سے باہر نکلا.. اور باتیں کرنے میں اتنا مگن ہوگیا کہ اسے پتہ ہی نہی چلا کہ کب وہ سیڑھیوں کے اتنے قریب آگیا…اگر بر وقت حمنہ اسے نہ تھامتی تو یقین اج وہ زندہ نہ.ہوتا….
¤¤¤¤
تھوڑی دیر بعد جب حمنہ نے اپنے آنکھیں کھول کے دیکھا تو شاہ زین اس کے اوپر جھکا اسی کو تکنے میں مصروف تھا…
حمنہ نے ماتھے پہ.تیوری چڑھا کے غصہ میں تھوڑی بلند آواز میں کہا…
اوہ بہیرے انسان ہٹو میرے اوپر سے..حمنہ کی بات سے شاہ زین فورا ہوش کی دنیا میں واپس آیا. اور فورا حمنہ پہ سے اٹھا…اور حمنہ کی طرف ہاتھ بڑھایا تاکہ اسے اٹھنے میں مدد کرے حمنہ نے ایک.نظر اسے دیکھا اور ایک نظر اسکے بڑھے ہوئے ہاتھ کو..حمنہ نے اس کے ہاتھ پہ.اپنا ہاتھ رکھنے کے بجائے خود اٹھنے کو فوقیت دی…
حمنہ جیسی ہی کھڑی اسے ڈوھنڈتی فاطمہ اس تک پہنچی تو خالد بھی شاہ زین کے پاس پہنچ گیا…اا سے پہلے شاہ زین اس کا شکریہ ادا کرتا. حمنہ پھٹ پڑی…
بات سنے مسٹر اپ بہرے تو نہی ہیں کب سے آوازیں دے رہی ہو.. اتنا مگن ہوکے کون بات کرتا ہے لاحول والہ قوت…
انسان اس پاس بھی نظر ڈورارے کہ میں کہا.کھڑا ہو…اگر میں اپکو بروقت نہی کھینچتی تو یقینن ان سیڑھیوں سے اپکا قیمہ باہر اتا…
فاطمہ اور خالد جو ساری سیٹویشن سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے کہ فاطمہ حمنہ سے پوچھ بیٹھی .
حمنہ ہوا کیا ہے..بتاو تو. ؟؟؟؟؟
فاطمہ کی.بات سن کے حمنہ.نے شاہ زین کی طرف اشارہ کیا اور اسے تھوڑی دیر پہلے ہونے والا قصہ بتایا..جیسے سن کے جہان فاطمہ ڈری وہی خالد کا بھی حال ایسا تھا. جبکہ شاہ زین تو حمنہ.کو بس مسکرا کے دیکھ رہا تھا…
حمنہ دو منٹ شاہ زین کو دیکھا اور جانے کیلیے مڑنے لگی تو شاہ زین نے اسے آواز دی اور گھوم کے حمنہ کے آگے آیا اور کہا…
آئ ایم رئیلی سوری مس حمنہ وہ غلطی میری ہے وہ اصل میں بات کرتے کرتے مجھے پتہ ہی نہی چلا کے کب میں اپنی زندگی.. اوہہہ میرا مطلب ہے اپنے موت کے اتنا قریب آگیا…اپکا بہت بہت شکریہ اپنے میری جان بچائ.. بائے دا وے میں شاہ زین.خان. یہ بول کے شاہ زین نے حمنہ کی طرف ایک بار پھر ہاتھ بڑھایا…
جیسے حمنہ نے مسکرا کے تھاما اور کہا..ائ ایم حمنہ مشتاق…
اوکے مجھے لیٹ ہورہا ہے یہ بول کے حمنہ فاطمہ کو لے کے چلی گئ…
خالد جو خاموشی سے شاہ زین کی ساری کاروائ دیکھ رہا تھا.. شرارتی مسکان لیے شاہ زین کے قریب آیا اور اسکے کندھے پہ.ہاتھ رکھ کے کہا.
لگتا ہے میرا یار کو محبت ہوگئ..اور شاہ زین جو حمنہ کو جاتے ہوئے مسلسل دیکھ رہا تھا..خالد کی بات پہ ہلکا سا مسکرا کے خالد کو دیکھا اور ایک ادا سے کہا…
“شمع ہوئ ہے روشن جلنے لگے پروانے.
آغاز تو اچھا ہے انجام خدا جانے””
شاہ زین کے شعر پڑھنے پہ خالد نے مسکرا کے شاہ زین کو کہا…
واہ میرے یار پہلی ملاقات میں غالب بن گیا..ایسا نہ ہو دوسری ملاقات میں دولہا بن جائے…….
خالد کی بات سن کے دونوں کا ایک ساتھ قہقہ گونجا اور دونوں شاپ کی جانب چل پڑے..
جبکہ.شاہ زین نے ہلکی سی سرگوشی کی..
“حمنہ”
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
جیڈی یونی سے اپنے فلیٹ پہ آیا تو بار بار اسکے سامنے حمنہ کا چہرہ گھومنے لگا.. اس نے جو اج جیڈی کیساتھ کیا اتنی آسانی سے جیڈی بھولنے والا نہی تھا.. مگر کچھ تو تھا..جو جیڈی خاموش تھا…
¤¤¤¤¤¤
اس واقعہ کے بعد نہ تو حیڈی یونی آیا اور نہ ہے اپنے دوستوں سے ملا….دو دن بعد اسکے دوست اسکے فلیٹ پہ پہنچے تو جیڈی کی حالت دیکھ کے چونک گئے…ہر وقت کٹ شٹ میں رہنے والے جیڈی کی حالت بلکل عجیب سی تھی..لال آنکھیں.بکھرے بال. بڑھی ہوئ شیو..اور دو دن پرانے کپڑے پہنے ہوئے جیڈی.کو دیکھ. وہ دونوں بہت پریشان ہوئے مگر بولے کچھ نہی…
جیڈی نے ان دونوں کیلیے کافی بنائ.. ابھی وہ دونوں کافی پی رہے تھے. ..کہ جیڈی نے کہا…
یار مجِھے تم لوگوں کو کچھ بتانا.ہے …
جیڈی کے بولنے پہ.شہزاد اور صابر نے ایک دوسرے کو دیکھا ..شہزاد نے جیڈی سے کہا….ہاں بول کیا بولنا ہے ویسے بھی تو دو دن سے یونی سے غائب تھا…ہمیں تو اتنی ٹینشن ہورہی تھی…مگر تیرے غصہ کا سوچ کے ہم تجھ سے ملے نہی..اج بھی صابر نے کہا تو میں آیا.. اب بتا کیا بات کرنی ہے..
جیڈی نے ایک لمبی سانس لی اور.. کہا..
یار مجھے حمنہ سے محبت ہوگئ…
جیڈی کی بات سن کے جہاں کافی پیتے ہوئے صابر کے منہ سے کافی باہر آی.. وہی شہزاد بھی منہ کھولے جیڈی کو گھور رہا تھا…
صابر کافی کا کپ نیچے رکھ کے کھڑا. ہوا اور جیڈی کا ہاتھ پکڑ کے کھڑا کرکے کہنے لگا…
چل جیڈی چل تجھے ڈاکٹر کے پاس لیکے چلو مجھے لگ رہا ہے تیری طبیعت خراب ہے جبھی بہکی بہکی باتیں کررہا ہے….
جیڈی نے اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ سے چھڑوایا اور کہا…
کیا کررہا ہے چھوڑ یار…
کل جب میں نے حمنہ سے فلڑٹنگ کی بدلہ میں جو اسنے جو میرے ساتھ کیا… مجھے ایسا لگا میری تلاش ختم ہوگئ..
یہ وہی.ہے جسیے میں ڈھونڈ رہا تھا…
شہزاد جو کافی دیر سے چپ بیٹھا تھا بول پڑا…
ایک لڑکی کی جان لے کے پتہ نہی کتنوں کی زندگیوں سے کھیل اب تجھے محبت کا بھوت چڑھا ہے..باقی لڑکیوں میں اور جیڈی حمنہ مشتاق میں زمین آسمان کا فرق ہے….
شہزاد کی بات سن کے جیڈی نے اپنے فیس کے ایکسپریشن کنٹرول کیہ اور کہا…
جبھی تو شاید مجھے اس سے محبت ہوگئ…یہ.سب سے الگ ہے…سب میرے چہرے پہ مرتے تھی..اس نے میرے چہرے پہ ہی پانی پھینکا…بس حمنہ مشتاق ہی اب میری زندگی ہے جیسے ہر قیمت پہ.میں حاصل کرونگا….جیڈی کے ارادے جان کے صابر اور شہزاد نے چپ رہنے میں ہی.عافیت جانی….
جاری.ہے…
