50.9K
64

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 35

جیڈی دروازہ سے لگ کے نیچے بیٹھ گیا اور زور زور سے رونے لگا مگر حمنہ نے نہ.دروازہ کھولا نہ.معافی مانگی..اپنے شوہر کی.حالت دیکھ کے مبشرہ کی آنکھوں سے بھی آنسو جاری تھے مگر فالوقت وہ حمنہ کا درد اسکا غصہ سمجھ سکتی تھی..
حمنہ بیڈ پہ بیٹھے غصہ سے بے دردی سے اپنی بہنے والے آنسو صاف کرنے.لگی جب کمرے میں پھر ایک بار آواز گونجی…
معاف کرنے سے الللہ خوش ہوتا ہے. حمنہ دل.بڑا کرو امجد کو معاف کردو ..
حمنہ نہ آواز پہ اپنا سر اٹھا کے دیکھا تو شاہ زین وائٹ کپڑوں میں سامنے حمنہ کو ہی دیکھ رہا تھا .
شاہ زین کی موت کا حمنہ کو گہرا صدمہ ہوا تھا بقول اسکے کے شاہ زین اسے دیکھتا تھا خالد کئ بار اسے سمجھا چکا تھا.کہ یہ.اسکے دماغ کا خالی.خلل ہے. مگر حمنہ نہ تو ڈاکٹر کے پاس گئ نہ ہی اسے شاہ زین دیکھنا بند ہوا.
حمنہ نے شاہ زین کی طرف دیکھا اور کہا..
یہ تم کہہ رہے ہو شاہ زین یہ جاننے کے باوجود کے امجد کی وجہ سے ہمارا آشیانہ تباہ..ہوگیا..؟؟؟؟
میں بیوہ ہوگئ میرا بچہ یتیم میری بیٹی مجھ سے چھین گئ میرا شوہر میرا پیار تم اج اسکی وجہ سے دنیا میں نہی.ہو…
حمنہ میری اور ہانیہ کی.موت ایسے ہی لکھی تھی. تمہارے ساتھ جو ہوا وہ قسمت کا فیصلہ تھا..حمنہ معاف کردو اسے.. .
معاف کرنے سے کیا تم مل جاوگے واپس؟؟؟
حمنہ نے شاہ زین سے عجیب بیوقوفانہ سوال کیا…
اور کیا معاف نہ کرنے سے میں واپس آونگا..
حمنہ الللہ معاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ہمارے نبّی نے بھی کتنے لوگوں کو معاف کردیا تھا سوچنا ضرور..
یہ بول کے شاہ زین کی پرچھائ غائب ہوگیا…
حمنہ کچھ دیر تک تو اس جگہ کو دیکھتی رہی جہاں ابھی شاہ زین کی پرچھائ تھی پھر کچھ سوچ کر دروازہ
کھولا تو جیڈی دیور سے ٹیک لگا کے ہی رو رہا تھا اور ہلکی ہلکی آواز میں بول رہا تھا..
معاف کردو حمنہ معاف کردو..
میں تمہیں معاف کیا اپنے الللہ کیےلے اپنے شاہ زین کیلیے.
حمنہ کی آواز پہ امجد نے ایک دم سر اٹھا کے دیکھا اور فورا کھڑے ہوکے دیوانہ وار حمنہ کی طرف لپکا مگر حمنہ اس سے فاصلہ پہ ہوئ
کیا کہا حمنہ ایک بر پھر کہو…؟؟؟
حمنہ نے غور سے امجد کو دیکھا کہی. سے بھی اسے اس میں پرانے جیڈی کی.جھلک تک نہی دیکھی. اس نے پھر کہا..
میں تمہین معاف کردیا امجد…
حمنہ کا بولنا تھا کے جیڈی کی آنکھوں سے ایک بار پھر آنسو جاری ہوگئے. اس نے فورا مبشرہ.کی طرف مڑا اور کہا.
سنا تم نے مبشرہ مجھے حمنہ نے معاف کردیا آج مجھے اس گناہ.سے واپسی کا راستہ مل گیا..
شکریہ حمنہ تم نے مجھے معاف کرکے کتنا بڑا سکون دیا..
امجد یہ بول کے چپ ہوا تو اس کی نظر سامنے کھڑے ہمایوں پہ.پڑی.اس سے پہلے امجد اس تک پہنچتا ہمایوں نے چیخ کے کہا..
وہی رک.جاؤ امجد خان دنیا تمہیں معاف کرسکتی ہے مگر ہمایوں خان نہی.کبھی نہی یہ بول کے ہمایوں تیزی سے اپنے کمرے کی.طرف ڈورا ..
اور امجد سمجھ چکا تھا کے اسکا امتحان ابھی باقی.ہے..
¤¤¤¤¤¤¤¤
اج ہمایوں 24 سال کا ہوگیا..پڑھنے کساتھ ساتھ اس اپنے پاپا کا بزنس بھی سنھالا تھا..ثنا سے اسکی دوستی اور گہری ہوگئ..دونوں ایک ساتھ ہی اپنی اسٹڈی مکمل کی مگر ہمایوں کچھ وقت کیلیے اپنی تعلیم مکمل.کرنے کراچی چلا گیا.وہاں اسکی ملاقات المیر سے ہوئ جس سے اس کی اچھی خاصی دوستی ہوگئ تھی…
فاطمہ اور آفتاب ا15 سال بعد پاکستان لوٹ آئے تھے.. آفتاب کا اپنے والدین کے انتقال کے بعد وہاں دل.نہی لگا اور پرمینٹ کراچی سیٹل ہوگیا..آفتاب نے شاہ زین کے گھر کے کئ بار چکر لگائے مگر ہر بار مایوس ہوا..ان پندرہ سالوں میں سب سے اسکا کانٹیکٹ ختم ہوگیا تھا..
¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ہمایوں کے کراچی میں رہنے کے دوران ثنا کی ملاقات کاشف سے ہوئ جو کب محبت میں بدلی ثنا کو پتہ نہی چلا ہمایوں کی دوستی اسکا اپنا پن مخلص اسکا کئیر کرنا کاشف کے آنے کے بعد کئ غائب ہوگی تھا..وہ ثنا جو روز ہمایوں سے کال کرنے کا کہتی اب کئ کئ دن ہمایوں کی کال اٹینڈ نہی کرتی..
کراچی پہنچے پہ ہمایوں کی.رضامندی سے حمنہ نے ثنا کے رشتہ کی بات خالد سے کی .خالد نے یہ رشتہ باخوشی قبول کرلیا مگر حمنہ کے.کہنے پہ.خالد نے اسے حمنہ کا ماضی اور ہمایوں کی اصل حقیقت سب بتا دی..باپ کے اگے ثنا کچھ بولی نہی مگر وہ.کاشف کے علاوہ کسی سے شادی کرنے کا سوچ نہی سکتی تھی..
اج ہمایوں کی برات تھی حمنہ اسکی خوشی کا اندازہ اسکے چہرے سے لگا سکتی تھی.اب اسے شاہ زین دیکھنا بہت کم ہوگیا تھا..مگر اج کے دن اسے شاہ زین کی شدت سے یاد آئ تھی..
حویلی سے کسی کو بھی بوللایا نہی.گیا..
امجد نے اس دن کے بعد سے حمنہ کو ہر مہینہ باقاعدگی سے شاہ زین کی جائیداد کا کی کمای کا حصہ اسے پہنچاتا مہینے میں ایک بار حمنہ.حویلی ایک بار ضرور ہوکے آتی تھی شاہ زین اور ہانیہ.کی.قبر پہ.بھی جاتی تھی مگر ہمایوں نے 10 سال کی.عمر سے جو حویلی چھوڑی تو اج تک وہ.پلٹ کے نہی گیا.
اسی بنا پہ اج حویلی سے کوئ نہی آیا..کئ بار امجد نے ہمایوں سے معافی مانگی مگر ہر بار ناکام رہا..
ہمایوں حال میں.برات کے ساتھ ثنا کا انتظار کرکے تھک گیا وہی خالد کو بھی ثنا سے پالر سے واپسی کا نتظار تھ. مگر جب اسے پتہ چلا کے ثنا کسی کے ساتھ بھاگ گئی تو اس بھری محفل میں ہمایوں کو ایسا لگا کے کسی نے اسکے کپڑے اتار دے ہو..وہی خالد کو بھی اسی وقت اٹیک ہوا..
اس حادثہ کے بعد ہمایوں بہت بدل گیا. آفس کے کاموں میں اس نے اپنے اپکو بہت مصروف کرلیا جب کبھی اسے ثنا کی.یاد آتی تو وہ اسموکنگ کرتا المیر اسکی کیفیت سے باخوبی واقف تھا..
کچھ دنوں بعد جب اسے ثنا کی.کال آئ اور اس نے یہ وجہ بتائ ہمایوں کو کے وہ.کسی ایسے بندے کیساتھ شادی نہی کرسکتی جو کسی.کی نجائز اولاد ہو.. ثناکی بات ہمایوں کی دنیا ہلادی اب وہ اتنا بھی بچہ ناسمجھ نہی تھا جوناجائز کا مطلب نہی سمجھتا ہو..
جب اسے.حمنہ سے پوچھنے پہ سچائ معلوم ہوئ. تو اس نے روتی ہوئ حمنہ کو گلے لگایا..جہاں اس کے دل.میں شاہ زین کی.محبت کئ گناہ.بڑھ گئ وہی امجد خان کیلیے نفرت اس سے بھی زیادہ..
ثنا کی عاشقی کا بھوت کاشف کے ساتھ امریکہ جانے کے تین مہینے بعد ہی اتر گیا اور وہ طلاق لے کے واپس اپنے باپ.کی دہلیز پہ آگئ..کچھ عرصہ بعد ہی مگر خالد نے اپنی.اکلوتی بیٹی کو معاف کردیا..مگر ہمایوں کے دل.میں ثناکیلیے اب کوئ.جزبات نہی رہے..
جاری ہے..