Rate this Novel
Episode 26
فاطمہ کی باتوں سے شاہ زین ہوش میں آیا اچانک اسے اپنے الللہ سے حمنہ کے متعلق ساری.دعائیں یاد آنے لگی..حمنہ.کی.حقیقت اج جسطرح اسکے سامنے آئ تھی…شاہ زین کی دل کی دنیا اجڑ چکی تھی..
شاہ زین نے کار کا دروازہ کھولتے ہوئے کرب سے اپنی آنکھیں بند کی تو چپکے سے اسکے آنسو بہہ نکلے..بے دردی سے شاہ زین نے اپنی آنکھیں رگڑی اور گردن گھما کے حمنہ کو دیکھا جو تقریبا پہاڑ کے قریب پہنچ چکی تھی.اچانک شاہ زین کی.نظر آسمان کی طرف گئ اور بس شاید یہی گھڑی تھی اسکزندگی کے فیصلے کی..
اس نے زور سے گاڑی کا دروازہ بند کیا اور اپنی پوری طاقت لگا کے حمنہ کی طرف ڈورا.. شاہ زین کو حمنہ کی طرف ڈورتے ہوئے.دیکھ خالد اور آفتاب نے بیک وقت فاطمہ.کی.طرف دیکھا.. اور آفتاب کو سمجھ آیا کہ.کیوں فاطمہ نے اسے اس وقت حمنہ کی.حمایت میں بولنے سے روکا تھا…
شاہ زین جب حمنہ کے قریب پہنچا تو وہ تقریبا اپنی.موت کے قریب تھی اس نے جھٹ حمنہ کا.ہاتھ پکڑ کے نیچے اتار اور ایک زناٹے دار ٹھپر اسے دے مارا…
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
حمنہ بے یقینی کی.حالت میں شاہ زین کو دیکھنے لگی..اسے سمجھ نہی آیا کہ ہر دفعہ یہ شخص اسکو بچانے کیسے پہنچ جاتا ہے..
شاہ زین نے اگے بڑھ کے حمنہ کا ہاتھ پکڑ کے اسے جھٹکا دیا اور کہا..
کیا.کرنے جارہی تھی تم.حرام موت مرنے جارہی تھی..اپنا نہی تو اپنے بچہ کو تو سوچو…
حمنہ نے ایک جھٹکے سے شاہ زین سے اپنا ہاتھ چھڑوایا اور کہا…
شاہ زین جب اس بچے کا باپ ہی نے اس بچے کہ ذمیداری قبول نہی کی..مجھے عیاش عورت کہا…وہ عورت جس نے اپنا سب کچھ اس پیار کے نام پہ.اس شخص کے نام.کردیا جسکا نام تک مجھے پتہ نہی..تو پھر کیا کروگی میں زندہ رہ کے کیوں رہو میں زندہ..؟؟؟
اور تم.تم بھی تو اس جیڈی.. اوہ مطلب امجد خان کے بھائ ہونا. تم.بھی تو مجھے بدچلن سمجھ رہے ہوگے.
تم تم مجھے کیوں بچایا مجھے…
میری جیسے لڑکی کو جینے کا کوئ حق نہہی..جس نے کل.کی.محبت کیلے اپنا ماں باپ کی تربیت کو اس محبت کے بستر پہ روند ڈالا.. جسکی بدنامی کا سوچ کے ہی اسکا باپ اس دنیا سے چلا گیا. جسکی ماں خاموش محبت مر گئ…
مجھے مرنے دو شاہ زین مرنے دو حمنہ نے روتے روتے شاہ زین کے آگے ہاتھ جوڑ دیے. اور وہی گھٹنوں کے بل بیٹھ گئ.ہاتھوں میں اپنا منہ چھپا کے رونے لگی….
شاہ بھی اسی کے انداز میں زمین پہ.بیٹھا اور حمنہ کے ہاتھ اس کے چہرے سے ہٹاتے ہوئے کہا…
پانچوں انگلیاں برابر نہی ہوتی..تم نے.محبت کی حمنہ ہان مگر تمہارا طریقہ غلط تھا..تم ایک ماں بنے جارہی.ہو. تم کیسے اپنے بچہ جس نے ابھی آنکھیں بھی نہ.کھولی جسکو یہ.نہی.پتہ کو اسکا وجود کیا ہے جو اپنی مان کی خوشبو ابھی سے محسوس کرتا ہے…حمنہ پلیز اس بچے کیلیے ہی جیو کسی ایک جیڈی پہ.دنیا ختم.نہی ہوتی…
بولنا بہت آسان ہے زین مجھ جیسی بدکردار لڑکی کون اپنی زندگی بنائے گا..ہم جیسی لڑکیوں کا ٹھکانہ.یہ تو قبر ہوتی.ہے یا پھر کوٹھہ. اور میں موت کو گلے لگانا زیادہ پسند کرونگی…
حمنہ کی.بہتی آنکھیں بے شک اسکے دل کا حال کہہ رہی تھی .جبکہ حمنہ نے جب شاہ زین کی طرف دیکھا تو وہ رو رہا تھا..
شاہ زین نے آگے بڑھ کے حمنہ کی آنکھوں میں دیکھا اور کہا.
کیوں حمنہ میری آنکھیں تمہیں نہی بتاتی میرے دل.کا حال.. بچپن سے اکیلا رہا ہو ہو حمنہ. ..بس اب سکون چاہتا ہو.. حمنہ جو بے یقینی سے شاہ زین کی آنکھیوں میں.اپن عکس دیکھ رہی تھی.
فورا اپنی.آنکھیں جھکا گئ..
شاہ زین نے پھر کہا…
مین تمہیں اپنانا چاہتا ہو.. اس بچے کو اپنا نام.دینا چاہتا ہو..پلیز حمنہ مان جاؤ انکار مت کرنا….
کبھی نہی سنا تم نے.کبھی نہہی.حمنہ نے اتنے چیخ کے کہا..کہ ایک پل کیلیے شاہ زین کو لگا وہ.اپنے.حواسوں میں نہی..
مجھے بھیگ کی زندگی.قبول نہی مسٹر شاہ زین خان کے ایک بھائ نے عزت کو روندھا تو دوسرا مرہم لگانے.آگیا ..
یہ بول کے حمنہ تیزی سے وہاں سے جانے لگی تو وہ تینوں وہی.کھڑے تھے..حمنہ نے.ایک نظر فاطمہ.کو دیکھا اور پھر گاڑی کی.جانب بڑھ گئ.جبکہ شاہ زین وہی.اسی.پوزیشن میں بیٹھ کے ہچکیوں سے رونے لگا جسکو چپ کرانے کا حوصلہ کسی میں نہی تھا…
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
مبشرہ کمرے میں آکے بیڈ پہ بیٹھ گئ اسے اندازہ نہی تھا
کہ.اس کا رشتہ ایسسے انسان سے جوڑا گیا ایسا انسان اسکا مجازی خدا ہے..جو زناکار ہے.
مبشرہ.کی.آنکھوں سے تیزی سے آنسو بہنے لگی. .حمنہ .کے جاتے ہی جیڈی جو کب سے کھڑکی پہ.کھڑا تھا. اندر آتے ہی.مبشرہ کو زارو قطار روتا دیکھا تو شیشہ کے پاس کھڑے اپنے بال بناتے ہوئے پو چھا…
کس کے سوگ میں آنسو بہا رہی ہو؟؟؟
جیڈی کی.آواز سن کے مبشرہ نے اپنے آنسو صاف کیہ اور جیڈی کے روبرو آتے ہوئے کہا..
اپنی قسمت پہ.رو رہی کہ.ایک.زناکار کیساتھ مجھے باندھ دیا گیا…
میرے جسم کو چھونے والا میرا شوہر ایک زنا کار ہے؟؟؟
مبشرہ کی بات سن کے جیڈی نے ایک جھٹکے کے اسکے بال.مٹھے میں لیہ اور کہا..
کیا بکواس کرہی ہو زرا پھر سے کہو…
مبشرہ نے جھٹکے سے اپنے بال جیڈی کی مٹھی سے آزاد کروائے اور کہا..
ہاں ہاں تم زناکار تو ہی.حمنہ کے جیڈی ہو. کوئ عورت بھلے کتنی ہی.ماڈرن ہوجائے مگر اسے پتہ ہوتا ہے کہ اس کے بچے کا باپ کون ہے تمہیں شرم نہی آئ
مسٹر جیڈی یاد رکھنا الللہ کی.لاٹھی بے آواز ہوتی ہے..
اور زنا قرض ہوتا ہے امجد خان..
جو بہن. بیٹی.. بیوی.کی صورت میں الللہ وصول کرتا ہے یاد کرکھنا.
یہ بول کے مبشرہ کمرے سے باہر چلی گئ…
جاری.ہے…
See translation
