96.2K
64

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2

ہمایوں جو اپنا سارا غصہ آفس کی فائل پہ نکال رہا تھا.. دروازے کی ناکک پہ ایک دم رکا …
دروازے پہ کھڑی ثنا کو دیکھ کے ایک دم اسکے ماتھے پہ.غصہ کی لکیرے ابھری مگر وہ فورا ہی اپنے فیس ایکسپریشن پہ قابو پاتے ہی نارمل ہوا اور کہا…
یس کم ان….
اجازت ملتے ہی ثنا اندر آی…
شولڈر کٹ بال.. لمبی ناک.. چھوٹی بھوری آنکھیں.. یہ تھی ثنا خالد…
بنا آستینوں کی شارٹ شرٹ..گہرا گلا..اور شارٹ کیپری…
ہمایوں نے ایک.نظر اسکی طرف دیکھا اور دوبارہ اپنے کام میں لگ گیا…
. ثنا جو اج خصوصی اس ڈریس میں ہمایوں سے ملنے آئ تھی…تاکہ اپنے حسن سے اسے اپنی طرف راغب کر سکے تین سال پہلے کی گئ اپنی اس غلطی کو ہمایوں کا ساتھ پاکے ایک بار پھر سدھار سکے…
مگر ثنا خالد یہ بات بھول گئ تھی..کہ ہمایوں خان کے ایمان کو ڈگمانا مشکل ہی نہی نہ ممکن ہے…
….
تھوڑی دیر خاموشی کے بعد ثنا نے ہمایوں کو مخاطب کیا…
ہمایوں..؟؟؟؟…
..
ہاں بولو…ہمایوں نے مصروف انداز میں بنا اسکی طرف دیکھے جواب دیا….
اپنا اپ ایسا اگنور کرنا…ثنا کے تن بدن میں آگ لگا گیا…..
یمایوں ایک نظر دیکھ تو لو مجھے کب سے بیٹھی ہو یہاں..؟؟؟؟
تمہیں لگتا ہے ثنا کے تمہار پہناوا اس قابل ہے کے میں تمہں دیکھو…اور ویسے بھی مجھے استعمال شدہ چیزوں کو گھورنے کا کوئ شوق نہی…
گھورا ان چیزوں کو جاتا ہے جو صرف اپکی.ہو ہر دکان کی.نمائش نہی…
تم جس ڈریسنگ میں یہاں آی ہو.. اس آفس کا ایسا کوئ ورکر نہی جس نے تمہارے جسم کا ایکسرے نہ.کیا ہوا…تو پھر ایسا کیا بچا تم میں جو مجھ پہ دیکھنا لازم ہے…
…
ہمایوں کی بات سن کے ثنا نےغصہ سے ٹیبل پہ.ہاتھ مارا اور کہا….
..
تم میری انسلٹ کررہے ہو ہمایو….
ہمایوں نے غصہ سے ثنا کے ہی انداز میں ٹیبل پہ ہاتھ مارا اور کہا…
انسلٹ کا مطلب بھی جانتی ہو تم مس ثنا..اوہ آئ ایم سوری.مسسز ثنا آصف….اسکی آواز اتنی روب دار تھی کہ دومنٹ کیلیے ثنا کو سانپ سونگھ گیا…
وہ میرا ماضی تھا ہمایوں بار بار اسکا نام لے کے کیوں میرے زخموں پہ.نمک چھڑکتے ہو…ثنا نے شرمندگی سے کہا…
ماضی کو بھولنا اسان نہی ہوتا…خاص کر کے جب جب وہ کسی کی تکلیف ک باعث ہو…
اب تم جا سکتی ہو میرے آفس سے…یہ بول.کے ہمایوں ریلکس ہوا ..
تو ثنا پھر غصہ میں چیخی…بھولو مت یہ میرے ڈیڈ کا آفس ہے….
ہمایوں چلتا ہوا اسکے پاس آیا اور کہا…
طلاق کے بعد لگتا ہے اپنی.یاداشت بھی تم.نیویارک میں بھول کے آگئ ہو…
..
تمہارے ڈیڈ کا آفس نیچے گروانڈ فلور پہ ہے اگر وہاں تک تم چل کے نہی جا سکتی تو… معزور لوگوں کیلیے یہاں بہت فیسیلیٹی ہے….
کہو تو ڈیمو دو…ہمایوں نے ایک ادا سے ثنا کے روبرو ہوکے کہا…
ثنا نے غصہ سے ہمایوں کا کالر پکڑا اور چیخ کے کہا….
تم میرے ہو ہمایو. اور میں تمہیں حاصل کرکے رہونگی….
ہمایوں نے پہلے ثنا کے ہاتھوں کو دیکھا جس سے اس نے ہمایوں کا کالر پکڑا ہوا تھا. اور پھر ثنا کو جسکی آنکھیں غصہ میں لال تھی…ہمایوں نے ایک جھٹکے سے اسکا ہاتھ اپنے کالر سے ہٹایا.اور اسی ہاتھ کو موڑ کے ثنا کی کمر پہ.لےجاکے ثنا کو دیوار سے لگایا اور اسکے کان کے پاس سرگوشی کی….
نو بے بی ایسا سوچنا بھی نہی. میں کوئ کھلونا نہی جیسے جب چاہا دل بہلایا.. اپنے مطلب کے لیہ استعمال کیا اور پھر پھینک دیا…جس ہمایو کو تم بھری محفل میں رسوا کرکے گئ تھی اس ہمایوں میں اور اس ہمایو میں زمین آسمان کا فرق ہے.. ناخنوں سے کھرچ کے اپنے دماغ سے یہ بات نکال دو کے اب تم ہمایوں کو پھر ایک بار حاصل کرسکتی ہو…
“تیری تجوری کا سونا نہی…
دل ہے ہمارا کھلونا نہی…*
یہ بول کے ہمایوں نے ایک جھٹکے سے ثنا کو چھوڑا اور کہا..
اب تم.جا سکتی ہو یہاں سے دفعہ ہو جاو..اپنی شکل لے کے میں تمہارا لحاظ ابھی تک صرف خالد انکل کی وجہ سے کررہا ہو ورنہ میں تمہیں اچھی طرح بتاتا کے ہمایوں خان کیا چیز ہے..
now get.out.. i say get out…
ہمایوں کی گرجدار آواز سن کے ثنا ایک دم ڈر کے پیچھے ہوئ اور دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی ہوئ دروازے تک آئ اور پلٹ کے ایک بار پھر ہمایوں کو دیکھا…
جو پھر سے فائلوں میں گم.ہوچکا تھا..
بھورے بال نیلی آنکھیں..لمبا قد روشن پیشانی….لمبی ناک…..گھنی بریڈ اس پہ گھنی مونچھیں… ہمایوں خان مردانہ وجاہت کا شہکار…
جسکو ثنا نے خود اپنے ہاتھوں سے گوایا تھا….
ثنا کے آفس سے نکلتے ہی ہمایوں نے اسکی پشت کو گھورا اور ایک تلخ مسکراہٹ اسکے لبوں پہ آگئ…اور کیوں نہ آتی اسکی پہلی پسند جو تھی…..
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
حمنہ یونیورسٹی پہنچی تو وہاں ضرورت سے زیادہ ہجوم تھا ہر کوئ اپنی اپنی کلاس ڈھونڈنے میں لگا تھا.. یونیورسٹی میں بھی کافی لوگوں نے حمنہ کا ایکسرے کیا مگر اسے کسی چیز سے بھی فرق نہی پڑا وہ انکوئری آفس پہنچی تو وہاں ضرورت سے زیادہ رش دیکھ کے….حمنہ کا چہرہ ایک دم اتر گیا… اس سے پہلے وہ روتی.اپنے کندھے پہ کسی کا لمس محسوس کیا اور جب پلٹی تو تو ایک لڑکی جو فل.حجاب میں تھی.. مگر حمنہ کو اسکی آنکھیں دیکھ کے اندازہ ہوگیا کہ وہ واقعی حسین ہوگی..
..اسلام وعلیکم…..
میرا نام فاطمہ ہے…میں کافی دیر سے اپکو پریشان دیکھ رہی تھی تو سوچا اپ سے اپکی پریشانی پوچھ لو…
حمنہ کو اسکی آواز کافی پیاری لگی…
مگر اس نے اسکے سلام کا جواب تو نہ دیا یہ بات فاطمہ نے کافی محسوس کی مگر بولی کچھ نہی.. حمنہ نے اپنی.پریشانی اسسے ضرور بتائ….
ہاے میں حمنہ..میں اکاوئنٹنگ ڈیپارٹ کی ہو کلاس ہی نہی مل رہی میری اور یہاں انکوائری آفس میں اکے تو رہی سہی ہمت بھی جواب دے گئ…
یہ بول کے حمنہ نے معصوم سی شکل بنائ تو.. فاطمہ.کو ہنسی آگئ..اور اس نے کہا…
ارے اپ تو میری ہی کلاس فیلو نکلی….
فاطمہ کے بولنے پہ حمنہ نے اسے سوالیاں نظروں سے دیکھا…
فاطمہ نے اسکی نظروں کا مفہوم سمجھ کے کہا..
میرا مطلب ہے حمنہ میں بھی اکاونٹنگ کی.ہی اسٹوڈینٹ ہو…
فاطمہ کی بات سن کے حمنہ نے ایک لمبا سانس کھینچا اور کہا…
چلو شکر ہے یہاں کوئ تو اپنا ہے یہ بول کے حمنہ نے فاطمہ کی طرف ہاتھ بڑھایا اور کہا…
اب تم مانو یہ.نہ مانو مگر حمنہ اور فاطمہ اب دوست ہیں…
حمنہ نے اتنے پیار سے کہا..کہ فاطمہ ایک بار پھر ہنسی اور حمنہ کا ہاتھ تھام لیا…..
دونوں اپنی کلاس میں پہنچی تو پوری کلاس ہی بھری تھی دونوں نے بہت مشکل سے ایک سیٹ ڈھونڈی اور وہاں جاکے بیٹھ گئ…
¤¤¤¤¤¤¤¤
جاری ہے…