96.2K
64

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 29

حمنہ اور شاہ زین کی.مایوں کی.رسم چل رہی تھی..
مگر فاطمہ کی.نظر مسلسل آفتاب کو ڈھونڈ رہی تھی..
تابندہ بیگم اور شیخ صاحب نے جب حمنہ.اور شاہ زین کی رسم.کی. .تو پھر باری.فاطمہ اور آفتاب کی.باری آئ ..
تابندہ بیگم نے فاطمہ سے کہا…
فاطمہ جاؤ آفتاب کو بلا کے لاؤ…
جی.امی ابھی بلاتی ہو…
فاطمہ پریشان حال سی سارے گھر میں آفتاب کو ڈھونڈ رہی تھی. .ایک ہاتھ سے اپنا غرارہ سنبھالے. وہ پریشان سے سارے گھر میں چکر لگا رہی تھی.جبکہ آفتاب گھر کے سب سے بڑے پلر سے لگ کے کھڑا فاطمہ کی.ساری.کاروائ دیکھ رہا تھا…
آفتاب کو فاطمہ کا خود سے اسکو دور کرنا بہت ہرٹ کیا… وہ.ناراض تھا فاطمہ سے اس لیہ.اس کے سامنے.نہی.آراہا تھا…
فاطمہ کی.روتی شکل دیکھ کے آفتاب کو اس پہ.رحم آیا اور جب وہ ٹیرس کی سیڑھیاں چڑھنے لگی. پیچھے آکے آفتاب نے ایک دم اس سے پو چھا…
اوپر کیا کرنے جارہی ہو..؟؟
آفتاب کے ایک دم بولنے پہ فاطمہ ڈر کے ایک دم مڑی. تو آفتاب آنکھوں میں ناراضگی لیہ اسے ہی.دیکھ رہا تھا..
فاطمہ ٹریس کی سیڑھیاں جو وہ دو اسٹیپ اوپر چڑھی تھی. نیچے اتری..اور اپنے ہاتھ کی.انگلیاں اپس میں مروڑتی ہوئی.کہنے لگی..
وہ امی بلا رہی.ہیں ہمیں رسم کرنے کیلیے. ..
فاطمہ.کی.بات سن کے آفتاب اس کے قریب آیا اور دھیرے سے کہا..
جب تمہیں میرے چھونے سے تم مجھے شرم کیساتھ ساتھ میری حد بھی مجھے یاد دلاتی.ہو ..تو اتنے لوگوں کے سامبے میرے ساتھ بیٹھ کے رسم.کرتے ہوئے شرم نہی آیے گی تمہیں…
آفتاب کے.لہجہ میں ناراضگی فاطمہ.صاف محسوس کرسکتی.تھی..
اس سے پہلے فاطمہ.اپنی.صفائ میں کچھ بولتی آفتاب اسٹیج کی.جانب چل.پڑا اور فاطمہ اس کے.پیچھے…
مایو کی رسم ساتھ خیریت سے اپنے اختتام کو پہنچی.. حمنہ بہت تھک چکی تھی اس لیہ لیٹے ہی سو گئ.
آفتاب کی بات سن کے فاطمہ کی ساری مسکراہٹ جیسے کہی غائب ہوگئ تھی..وہ بھی بنا کپڑے بدلے بے دلی سے بیڈ پہ.لیٹ گئ اور اپنی آنکھیں بند کری مگر ان آنسو کو نہ.روک سکی جو آفتاب کی بے رخی سے بہہ نکلے..
حمنہ کو سوئے تقربا آدھا گھنٹہ ہو تھا. اور وہ بہت گہری نیند میں سورہی تھی جب اس کے کمرے کے دروازے کا.لاک گھما اور کوئ خاموشی سے اندر آیا..
فاطمہ کو اپنے کمرے میں کسی کی موجودگی کا احساس ہوا تو وہ فورا اٹھ کے بیٹھ گئ اور جب اپنی دائیں جانب دیکھا تو آفتاب کو خود کو تکتا پایا..آفتاب کو دیکھ کے اس کے انسو میں اور تیزی آگئ..آفتاب نے ڈھیرے سے اسے اپنے سینے سے لگالیا…
شاہ زین آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا. حمنہ.کے قریب پہنچا..تو دشمن جان دنیا سے بے خبر سو رہی تھی..اچانک شاہ زین کی.نظر اسکے ہاتھوں کی مہندی پہ.گئ..وہ.آرام سے حمنہ کے پاس آیا اور غور سے اسکے ہاتھوں کی.مہندی دیکھنے لگا.
اچانک اس نئے رشتہ کے تحت جو اج الللہ.کی.مرضی سے ان دونوں کے درمیان قائم ہوا تھا. حمنہ کے ہاتھ کی.ہتیلی پہ.اپنے لب رکھ دے اور مہندی کی.خوشبو اپنے اندر اتارنے لگا..
اسکے ہاتھ کو دھیرے سے چھوڑا. تو شاہ زین کی نظر حمنہ کے کھلے ہونٹوں پہ.گئ. دل.کے ہاتھوں مجبور ہوکے شاہ زین نے جھک کے باری باری حمنہ کے دونوں لبوں کو اپنے.لبوں میں ہلکا سا دبایا…شاہ زین کی اس حرکت میں حمنہ.تھوڑا سا کسمسائ تو شاہ زین فور پیچھے ہوا..اچانک کروٹ لینے سے حمنہ کے.پیٹ پر سے اسکی قمیض ہٹ گئ..یہ دیکھ کے شاہ زین کے لبوں پہ ایک دلکش مسکراہٹ آئ اور اس نے حمنہ کی.قمیض پیٹ پر سے تھوڑی اور اوپر کی…
آفتاب نے ڈھیرے فاطمہ کو الگ کیا تو دنگ رہ گیا..اسکا مٹا مٹا سا کاجل ہلکی.ہوئ لپسٹک. چؤٹیا میں سے نکلتے بال آفتاب کا دل بے ایمان کررہے تھے.. اسکا دل چیخ چیخ کے اج کوئ گستاخی.کرنے کاکہہ تھا..اور اسکا حق بھی تھا کیونکہ بیوی تھی وہ اسکی..
افتاب تھوڑا سا کھسک کے فاطمہ کے سامنے بیٹھا اور کہا.
میر چھونا برا لگتا ہے فاطمہ.؟؟؟
آفتاب کے سوال پہ فاطمہ نے فورا نفی مین گردن ہلائ اور کہا..
میرا وہ مطلب نہی تھا. آفتاب وہ بس آئ ایم سوری میں اپکی ناراضگی برداشت نہی کرسکتی……
فاطمہ کو یو بچوں کیطرح روتا دیکھ کے آفتاب نے جھک کے اسکو لبوں کو اپنی.گرفت میں لیا اور فاطمہ پہ.جھک کے اسکو بیڈ پہ گرادیا.آفتاب کے پیار میں اج شدت تھی یہ بات فاطمہ کو اپنے ہونٹوں کی.تکلیف سے معلوم..ہوئ .
آفتاب نے دھیرے دھیرے فاطمہ.کے دوپٹہ بنا اس سے پوچھے اس کے گردن سے ہٹایا اور وہان اپنے لب رکھ دیے دھیرے آفتاب کا ہاتھ فاطمہ کے پورے جسم.پہ چلنے لگ آفتاب کا جہاں دل.چاہتا وہ وہان فاطمہ.کے جسم پہ.اپنے لب رکھنے لگا..
آفتاب کے اج اس شدت والے روپ سے فاطمہ کو خوف آنے لگا.. مگر وہ دوبارہ اسے ناراض کرنے کا رسک نہی لے سکتی.تھی..
آفتاب نے جیسی ہی فاطمہ کی بیک.کی زپ اوپن کی فاطمہ کا تو مانو سانس ہی رک گیا..اس نے اپنے اوپر جھکے آفتاب کے کندھے پہ.اپنے ہاتھ سے دباؤ ڈالا. اس سے پہلے فاطمہ اج آفتاب کو اس کا حق وصول.کرنے سے روکتی..
ایک دم فاطمہ.کے کمرے کا دروازہ بجا…
شاہ زین نے حمنہ کی قمیض اوپر کرکے اسکے پیٹ پہ پہلے اپنا ہاتھ رکھا بعد میں اپنے لب اور دھیرے سے کہا..
مائے بے بی کم فاسٹ ائ ایم ویٹنگ… یہ بول کے شاہ زین حمنہ کے پاس سے دھیرے سے اٹھا اور جیسے آیا تھا ویسے کمرے سے نکل گیا.
شاہ زین کے جاتے ہی.حمنہ نے پٹ اپنی آنکھیں کھولی جو بھگیی ہوئ تھی. .اور شاہ زین کے آخری کے الفاظ یاد کرکے بے ڈھرک اسکا ہاتھ اپنے پیٹ پہ.اس جگہ گیا جہاں.کچھ دیر پہلے شاہ زین کے لب تھے..
دروازے کی.آواز پہ بھی آفتاب کا خمار نہی ٹوٹا اور وہ دیوانہ وار یوہی فاطمہ.کو پیار کرنے مین مگن رہا.فاطمہ نے آفتاب کے سینے پہ.ہاتھ رکھ کے ہلکا سا اسے اپنے اوہر سے اٹھانا چاہا.. آفتاب نے اس کی.گردن کو اپنے لبوں سے آزاد کرکے سوالیان نظروں.سے فاطمہ.کو دیکھا..تو اس نے کہا..
دروازے پہ کوئ.ہے آفتاب…
فاطمہ کے بولنے پہ.آفتاب اسے الگ ہوا اور اپنے بال سسنوارتا ہوا..پردے کے پیچھے چھپ گیا..
فاطمہ کی.بیک اوپن تھی.. اس لیہ اس نے اپنے ڈوپٹہ سے اپنے اپ کو کور کیا.دروازے کا گیٹ کھولا تو وہاں کوئ نہی تھا..شاید دروازے پہ.جو کوئ بھی تھا دروازہ نہ.کھلنے پہ خودی چلا گیا..
فاطمہ دروازہ بند کرکے اندر آئ ..تو آفتاب بھی پردے کے پیچھے سے باہر نکل آیا.
فاطمہ کا چہرہ فل بلش کررہا تھا اسکے چہرے کی.لالی آفتاب کے چہرے پہ ایک حسیین مسکراہٹ لے آئ.اس نے فاطمہ کا ڈوپٹہ اتارا اور اسے گھما کے اسکی شرٹ کی زپ بند کرنے لگا.
زپ بند کرکے آفتاب نے فاطمہ کو پیٹ سے تھام کے خود سے قریب کیا اور کہا…
آئندہ اگر تم نے مجھے خود سے دور کیا تو انجام کی زمیدار تم خود ہوگی..میں ماما پاپا کو جلدی بولونگا رخصتی کا کیونکہ اج کے بعد میرا خود پہ کنٹرول کرنا بہت مشکل.ہوجائے..گا
یہ بول کے آفتاب نے ایک بار پھر فاطمہ کے کندھے کو اپنے.لبون سے چھوا اور کمرے سے چلا گیا…
آفتاب کے جاتے ہی.فاطمہ کا کب سے رک سانس بحال ہوا اور وہ.انہیں کپڑوں میں سو گئ…
جاری ہے..