Rate this Novel
Episode 18
گاڑی سے ٹیک لگائے کھڑے شخص کے روپ میں جب فاطمہ نے آفتاب کو دیکھا تو اسے شدید جھٹکا لگا..وہ یہی سوچنے پہ.مجبور ہوئ کہ.ایسی کیا بات اس کے آفتاب کے درمیان میں ہوئ. جسکی بدولت آفتاب نے اپنا رشتہ اسکے گھر بھیج دیا..
اچانک فاطمہ کے دماغ میں یہ خیال کوندھا کہ.کہی صابر والی.حرکت کے بعد آفتاب نے اس پہ.ترس کھا کے یہ سب کیا..ادھر فاطمہ.اپنی سوچوں میں گم.تھی..مگر نگاہ.مسلسل آفتاب پہ.تھی..اپنے اوپر کسی کی.نظروں کی تپش محسوس کرکے آفتاب نے جیسے ہی پلٹ کے دیکھا تو سوائے کھڑکی پہ ہوا سے جھولتے پردے کے علاوہ کچھ نہی دیکھا..ادھر آفتاب دوبارہ اپنی پوزشن پہ موڑا تو .کھڑکی کے پیچھے کھڑی فاطمہ کا ہاتھ بے ڈھرک اپنے دل پہ.گیا..
آفتاب کی فیملی کے جاتے ہی نعیمہ بیگم نے فورا شکرانہ کے نفل پڑھے مگر فاطمہ کو سوائے پریشانی کے کچھ نہی.ہوئ سونے پہ.سہاگہ جب اسے یہ.پتہ چلا کے تین دن بعد نکاح اور اگے سمسٹر سے ہہلے رخصتی تو فاطمہ کی.رہی سہی کسر بھی جواب دے گئ..اس نے پکا ارادہ کرلیا تھا. یونی میں آفتاب سے بات کرنے کا. مگر اسکے ارمانوں پہ.پانی تب پھرا.جب نعیمہ بیگم نے اسے یہ.کہا کہ جب تک نکاح نہی ہوجاتا وہ.یونی نہی.جائے گی..
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
منگنی کی.تیاری زورشور سے خان حویلی.مین جاری تھی. شاہ زین بھی منگنی والے دن خان حویلی میں پہنچ چکا تھا .امجد سے مل.کر اس نے اسے مبارک باد دی مگر امجد کو شاہ زین سے پچپن سے ہی الللہ واسطہ کا بیر تھا..مگر شاہ زین نے اسے ہمیشہ چھوٹا بھائ.. سمجھا..
نورین بیگم نے شاہ زین سے رابعہ اور اسکے رشتہ کی بات کی. جسے شاہ زین نے سہولت سے انکار کردیا. اس نے صاف کہا کہ میں اب کے اصرار پہ رابعہ سے نکاح کر بھی لو مگر اسے وہ محبت اور عزت نہی دے پاونگا جسکی وہ حقدار ہے.. نورین بیگم نے جب شاہ زین سے اسکی پسند پوچھی تو وہ چاہ کر بھی حمنہ کا نام نہی لے پایا کیونکہ فلحال وہ یکطرفہ محبت پہ.کوئ رشتہ نہی بنانا چاہتا تھا. اسے یقین تھا کہ اگر محبت سچی ہو تو الللہ بھی مدد کرتا ہے اس نے اپنے الللہ.کی ہی.مدد مانگی تھی..
“اور بے میرے الللہ کا فرمان ہے.”
ہم دعاؤں سے لکھی ہوئ تقدیر بھی بدل دینگے..
¤¤¤¤¤¤¤¤
حمنہ کے یونی کے دن بہت بور گزر رہے تھے..جیڈی گاؤں گیا ہوا تھا. اور فاطمہ سے وہ اپنے تعلقات خراب کرچکی تھی..فاطمہ نے کبھی اسے کسی چیز کیلیے ایک بار سے زیادہ نہی ٹوکا..حمنہ کا دل بھلے فاطمہ کی غیر حاضری پہ مچل رہ تھا مگر اسکی انا ان کی دوستی کے درمیان آچکی تھی …
“اور جس رشتہ میں آنا آجائے.. اس سے رشتہ سے منہ موڑ ہی لینا ہی بہتر ہے…کیونکہ رشتہ ضرورت ہونا چاہیے مجبوری نہی..
جیڈی جب بھی گاؤں جاتا حمنہ کو سخت یدایت کرکے جاتا کے کال نہ کرے..مگر جو سوال جیڈی پوچھ چکا تھا حمنہ اسکا جواب دینے کیلیے حمنہ اتنی بے چین تھی کہ ایک دن کا صبر اس سے نہی ہوا.. کیونکہ پرسو جیڈی کو آجانا تھا..
حمنہ نے بہت سوچ سمجھ کے جیڈی کو کال ملائ جو کافی بجنے کے بعد نہی اٹھائ گئ..اور دوبارہ کرنے پہ حمنہ کو جیڈی کا موبائل بند ملا…
¤¤¤¤¤¤¤¤
امجد جو اکتائ حالت میں منگنی کرنے اسٹیج پہ بیٹھا.تھا..الگے الگ منگنی کی رسم ادا کی گئ…ابھی مبشرہ کے والد امجد کو رنگ پہنا کے ہٹے ہی تھے کہ امجد کا موبائل بج پڑا…
موبائل پہ نمبر دیکھ کے امجد کے لبوں پہ فریبی مسکرائٹ اگئ..وہ کال اٹھانے کے غرض سے اسٹیج سے اترا اور لان کے پار اس جگہ پہنچ گیا. جہاں مبشرہ کی رسم ادا کی جارہی تھی..امجد نے.جیسے ہی کال اٹھانے لگا بے ساخستہ اسکی نظر سامنے دلہن کے روپ میں بیٹھی مبشرہ پہ گئ.دو منٹ کیلیے امجد مبشرہ کا حسن دیکھ کے ساکت رہ گیا..اس نے اپنا بجتا ہوا موبائل بند کیا اور واپس اپنی جگہ پہ آگیا..
¤¤¤¤¤¤¤¤
اج آفتاب اور فاطمہ کا نکاح تھا.. فاطمہ صبح سے ہی اج حمنہ کو کال کررہی تھی..اپنا غصہ ایک طرف رکھ کے اج اپنے اتنے خاص دن پہ اسے اپنے پاس بلانا چاہتی تھی.. مگر حمنہ نے اسکی ایک بھی کال ریسیو نہء کی.
آفتاب نے اونج اور ریڈ کلر کے کنٹراس کا بہت ہی خوبصورت شرارہ فاطمہ کیلیے خود پسند کیا..
فاطمہ کے والدین کے دل مایوس نہی ہو اس لیہ گھر میں نکاح کا نتظام کیا گیا جو صرف چند قریبی رشتہ داروں پہ مشتمل تھا…فاطمہ نے جب تیار ہوکے اپنے اپکو شیشیہ میں دیکھا تو دنگ رہ گئ کیونکہ وہ کہی سے بھی خود کو پہچان نہی پارہی تھی.
جیڈی اج گاوں سے واپس آگیا تھا اس نے کال کرکے حمنہ کو اپنا جواب سسننے کیلیے اپنے فلیٹ پہ بولایا تھا..حمنہ.نے اسے لاکھ کہا سمجھایا کے وہ مغرب کے بعد اپنے گھر سے نہی نکل سکتی مگر جیڈی نے اسے لاسٹ وارننگ دی اور کہا.اگر تم آج نہی آئ تو سمجھ لیا میرا اور تمہارا تعلق ختم…
حمنہ نے یمنہ بیگم سے فاطمہ.کی سالگرہ کا بہانہ کیا اور کہا کے وہ نہی مناتی مگر میں اسے جاکے سرپرائز دونگی.. یمنہ بیگم کو فاطمہ شروع سے ہی بہت پسند تھی اس لیہ حمنہ کو انہوں نے اجازت دے دی.
حمنہ نے ریڈ کلر کی ساڑھی پہنی اچھی سے تیار ہوئ اور جیڈی کے گھر کیلیے نکل گئ
جیڈی کے فلیٹ پہ پہنچ کے وہ.کتنے ہی آدمیوں کی نظروں میں آئ کیونکہ اس نے ڈریسنگ ہی.ایسی پہنی تھی..حمنہ جیڈی کے فلیٹ اندر داخل ہوئ تو حیران دہ گئ پورے فلیٹ کو ریڈ روز سے سجاگیا تھا اور ہر دیوار پہ.بڑا بڑا حمنہ آئ لو یو لکھا..جیڈی اسکا ہاتھ پکڑ کے اپنے بیڈ روم میں لے گیا ..روم میں داخل.ہوتے ہی.جیڈی نے اسے اپنی.باہنوں میں اتھایا..حمنہ تو جیڈی کی اس اچانک حرکت پہ.ایک دم گبھراگئ..
جیڈی نے اسے آرام سے اپنے بیڈ پہ.لیٹایا اور کہا…اب سننا ہے مجھے تمہارا جواب.
حمنہ کمرے کے خوابناک ماحول کو دیکھ کے کافی گھبرائ مگر پھر اس نے فورا اپنے دل کی تیز ڈھرکتی ڈھرکنوں پہ قابو پایا اور کہا..
جیڈی آئ لو یو..
حمنہ کا اتنا بولنا تھا کہ جیڈی بے ساختہ حمنہ لے.لبوں کو چوم لیا..اور اپنی پیاس بجھانے لگا..دھیرے دھیرے جیڈی کے لب حمنہ کے گردن پہ اگئے..حمنہ میں جیڈی کے خمار میں بہکنے لگی…جیڈی کا ہاتھ اس کے ساڑھی کے پلو پہ گیا اور اس نے اسکی ساڑھی کا پلو اسکے شولڈر سے آزاد کردیا..
فاطمہ کے سر پہ.لال.رنگ کا ڈوپٹہ اڑیا گیا..اور نکاح خواں کے کمرے.میں آتے ہی.اسکا چہرہ ڈھانپ دیا گیا. اور پھر فاطمہ.کا نکاح پڑھانا شروع کیا گیا..
فاطمہ بنت کامران کیا اپکو آفتاب شیخ سے 10 لاکھ حق مہر سکہ رائجلوقت نکاح قبول.ہے؟؟؟
جیڈی کے پلو گرانے پہ.حمنہ نے فورا اسے اپنے اپ دور کیا اپنا پلو صحیح کرکے کھڑی ہوئ اور شرم سے سرخ چہرہ لیہ جیڈی سے کہا..
مجھے اب جانا چاہیے جیڈی دیر ہوگئ کافی. حمنہ جیسے جانے کیلیے کھڑی ہوئ جیڈی نے اسکا ہاتھ پکڑ کے روکا اور کہا..
مجھ پہ.بھروسہ نہ تم نے میری.محبت میرے جزبات کی قدر نہی تمہیں پتہ ہے اج میں کتنا خوش ہو اور یہ خوشی.میں تمہیں پیار کرکے سلیبریٹ کرنا چاہتا تھا. اور خوشی یہ تھی.ماما اور بابا اس مہینے کے لاسٹ میں آنے والے ہیں ہمارے رشتہ جوڑنے مگر شاید میرا حق نہی تم پہ.. یہ بول کے جیڈی نے حمنہ کا ہاتھ چھوڑا تو حمنہ فورا اسکے سینے سے لگ گئ اور کہا..
اآئ ایم سو سوری جیڈی مجھے پہلے کیوں نہی.بتایا تم نے.. یہ بول کے وہ جیڈی کے سینے سے لگی رہی تو جیڈی نے اسکی گردن پہ.اپنے.لب رکھ دیے اور ایک بار پھر اسکا پلو نیچے گرایا اور کہا..
پیار کرنے دیتی تو بتاتا نہ یہ بول کے جیڈی نے حمنہ کے بلاوس کی زیب کھولی اور اسکے گودھ پہ اٹھا کے بیڈ پہ.لیٹایا اور خود اسکے لبوں پہ.جھک گیا اور اپنا پیار بتانے لگا جو وہ حمنہ سے کرتا تھا..
فاطمہ نے قبول ہے کہا..اور فاطمہ فاطمہ کامران سے فاطم آفتاب بن گئ..نکاح کے بعد آفتاب نے فاطمہ.کے والدین سے اجازت مانگی اسے باہر لے کے جانے کیلے..
جو فاطمہ.کے والدین نے ہنستے ہنستے دے دی.
نعیمہ بیگم.نے.اندر اکے آفتاب کا پیغام فاطمہ کو دیا اور یہ بھی کہا کہ آفتاب نے کہا ہے کہ جسطرح تم نقاب میں باہر نکلتی تھی ایسی ہی اسکے ساتھ جانا
..
جاری ہے…
