Rate this Novel
Episode 30
قسط نمبر 30#
اگلے.دن.برات.کا دن.جہاں.حمنہ کا روتے ہوئے گزرا وہی.فاطمہ کی آنکھیں بھی حمنہ کے والدین کو یاد کرکے نم تھی…
حمنہ.کی.طبیعت کا لحاظ کرتے ہوئے شاہ زین نے بیوٹییشن کا گھر میں ہی انتظام کردیا…ریڈ اور سلور کلر کے شرارے میں جس کے دامن میں بہت پڑا سا ریڈ کلر کا گلاب جو حمنہ.کے پیٹ پہ.جاکے.کھلتا تھا…
اس پہ.مغلیہ جیولری پہنے حمنہ واقعی کسی مغلیہ دور کی شہزادی ہی.لگ رہی تھی..تو ادھر شاہ زین نے ریڈ کلر کی شیروانی.کساتھ سلور قلا پہنا تھا. شاہ زین کی.نظر کئ بار بوا جو حمنہ کے گھر کی سب سے پرانی ملازمہ تھی. اتاری…تھی
حمنہ کی.شادی.کی.ساری شاپنگ شاہ زین کی پسند کی تھی…
جیولری اور سوٹ کو دیکھ کے حمنہ شاہ زین کہ.پسند کو سراہے بنا نہ.رہ سکی….
فاطمہ نے روئیل بلیو کلر کی.لونگ میکسی.پہنی تھی جسکے ساتھ ہم رنگ کا حجاب سے فاطمہ نے اپنا ہیڈ کور کیا ہوا تھا. اور بلیڈ ریڈ کلر ڈوپٹہ اورے ہلکے سے میک.اپ کیساتھ فاطمہ بھی کسی.سے کم نہی.لگ رہی تھی..
آفتاب اج حمنہ.کی.طرف سے ایک بھائ کی حیثیت سے شریک ہوا تھا..اپنے سابقہ رویہ کی معافی کے بعد حمنہ اور آفتاب کے درمیان بہن بھائ کا ایک خوبصورت رشتہ قائم ہو گیا تھا…
آفتاب نے.بلیک کلر کا ڈنر سوٹ پہنا تھا..
حمنہ فاطمہ.کی.امی اور تابندہ بیگم.کیساتھ ہال کیلیے نکل.چکی تھی…فاطمہ اپنے.کمرے سے اپنی.چادر لیے کے جیسی نکلنے.لگی آفتاب نے ایک دم اسکا ہاتھ پکڑا اور کھینچ کے اسے دیوار سے لگا دیا…
فاطمہ دو منٹ کیلیے ڈری …آفتاب نے اوپر سے نیچے تک فاطمہ کا جائزہ لیا اور کہا…
اتنا.کیوں تیار ہوئ تم؟؟؟
آفتاب کی بات سن کے فاطمہ ایک.دم.گھبرائ اور کہاں..
کیا مطلب میک.اپ بہت زیادہ اوور ہوگیا.کیا آفتاب.. ہٹے زرا مجھے دیکھنے دے..
یہ.بول.کے فاطمہ.نے آفتاب کو پیچھے کیا..مگر آفتاب پیچھے ہونے کے بجائے تھوڑا اور قریب ہوا اور کہا..
میرا کہنے کا مطلب یہ.ہے کہ.اتنا تیار ہوئ ہو. کچھ تو اپنے شوہر پہ رحم.کھاو. کیوں اسکا ایمان.بار بار خراب کرتی ہو..
آفتاب کی بات پہ فاطمہ نے شرما کے اپنا چہرہ جھکایا اور کہا…
کبھی کسی شوہر کا اپنی بیوی کو دیکھ کے ایمان خراب ہوا ہے؟؟
ہاں نہ.آفتاب شیخ کا اپنی بیوی کو دیکھ کے ہوا ہے کیوں اسکی بیوی ابھی پرمینٹ اسکے پاس نہی.آئ نہ..
اففف آفتاب جانے دے سب جا چکے ہیں ہال حمنہ ویٹ کررہی ہوگی میرا…
ہمم ہاں تو جانے دو تم اپنے شوہر کیساھ جانا مگر اس سے پہلے مجھے اس لپسٹک کا ٹیسٹ چیک.کرنا ہے جو تم.نے لگائ ہے..
یہ بول.کے آفتاب جیسی ہی فاطمہ کے.لبوں پہ جھکا فاطمہ نے فورا اسکے لبوں پہ.ہاتھ رکھا اور کہا..
آفتاب اتنی.محنت سے میں نے یہ.لپسٹک لگای ہے نہ.کرے نہ پلیز خراب ہوجائے گی…
یہ بول کے آفتاب کے لبوں سے فاطمہ نے ہاتھ ہٹایا آفتاب نےپیار سے فاطمہ کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیا اور کہا..
خوش نصیب ہو تم.فاطمہ شکر مناو کے تمہارا شوہر تمہارے لبوں کی.لپسٹک خراب کرتا ہے تمہاری.آنکھوں کا کاجل نہی.. اس سے پہلے فاطمہ اسکی بات کا مطلب سمجھتی آفتاب دھیرے سے اسکے لبوں پہ.جھک چکا تھا فاطمہ محسوس کرسکتی کہ اج اسکے پیار میں شدت نہی.. نرمی اور عزت تھی..
تھوڑی دیر بعد آفتاب نے فاطمہ کے لبوں کو آزاد کیا..
اور کہا..
ہمم ٹیسٹ تو زبردست ہے لپسٹک کا باقی کی.لپسٹک میں فنکش کے بعد اور ٹیسٹ کرونگا..کیونکہ.آئ لو چیری…
شرم سے آفتاب کی قربت سے فاطمہ کا چہرہ فل ریڈ ہوگیا.. فاطمہ نے دھیرے سے آفتاب کو الگ کیا اور کہا..
اپ بہت خراب ہے آفتاب. .
فاطمہ کی بات پہ آفتاب دل.کھول کے مسکرایا اور کہا..
جبھی تو کہتا ہو جلدی سے رخصت ہوکے آجاو.. پھر تمہیں پتہ چلے گا کہ میں کتنا خراب بچہ ہو. یہ بول کے آفتاب نے فاطمہ کو آنکھ ماری اور کہاں..
گاڑی میں ویٹ کررہا ہو. اور ہان آفتاب جاتے جاتے مڑا اور کہا.
چیک کرلو اپنی
.جانمن کی.لپسٹک خران نہہی کی.ہاں.مگر فنکش کے بعد میں پورا میک اپ خراب کرنے والا ہو تیار رہنا..یہ بول کے آفتا. نیچے گیا..تو فاطمہ.نے کسی.احساس کے تحت آئینہ میں اپنا اپ دیکھا اور واقعی لپسٹک ایک.انچ بھی نہی.ہلی تھی…
¤¤¤¤¤¤¤¤¤
برات کا شاندار اسقبال.کیا گیا..خالد نے بھی آتے.ہی.حمنہ کی.سائیڈ لے لی تھی. اور بھر پور طریقے سے اپنا فرض نبھا رہا تھا..
شاہ زین کو آئے ابھی کچھ دیر ہی.ہوئ تھی کہ.ایک دم ہال کی.لائٹیں اوف ہوئ ایک فوکس لائٹ حمنہ اور سکے ساتھ آتی.فاطمہ پڑی. جہاں شاہ زین حمنہ کے سراپے کو دیکھ کے دنگ رہ گیا وہی.فاطمہ کو دیکھ آفتاب دل.کھول کے مسکرایا.
حمنہ کے جیسی اسٹیج تک لایا گیا..شاہ زین نے کھڑے ہوکے اسکے آگے اپنا ہاتھ دیا. حمنہ نے پہلے شاہ زین کے پھیلے ہوئے ہاتھ کو دیکھا اور پھر ایک.نظر اسکے چہرے کو… تھوڑی سے جھجک کے ساتھ حمنہ نے شاہ زین کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے دیا..
شاہ زین حمنہ کے ہاتھوں میں لرزش صاف محوس کرسکتا تھا. جب بیٹھنے کے بعد بھی شاہ زین نے حمنہ کا ہاتھ نہی چھوڑا تو حمنہ نے گردن جھکائے جھکائے ہلکی آواز میں کہا.
زین ہاتھ چھوڑے میرا شاید میں اسٹیج چڑھ چکی ہو…
حمنہ کے بولنے پہ.شاہ زین نے ہلکا سا دبا کے حمنہ کا.ہاتھ چھوڑ دیا..
فوٹو سیشن کا دور شروع ہو اور پھر حمنہ.کی.طبیعت کو مد نظر رکھتے ہوئے رخصتی کا شور اٹھا. حمنہ نے ایک الوداعی نظر حمنہ پہ ڈآلی.. ایک ٹیس اٹھی.اسکے دل میں اور حمنہ حمنہ ولا چھوڑ کے حمنہ شاہ ولا آگئ…
فاطمہ نے بھی کمال کی چالاکی کی.اور آفتاب کی.لاکھ آنکھیں دیکھانے کے باوجود اج اپنے گھر چلی گئ…ولیمہ.کی.تقریب چونکہ تین دن بعد کی تھی اس لیہ فاطمہ نے اج آفتاب کی کسی دھمکی.کا اثر نہی.لیا….
¤¤¤¤¤¤¤
شاہ زین کی.گاڑی خالد ڈرائیو کررہا تھا. شاہ زین کی نظر تو سامنے تھی مگر تھا وہ.کسی گہری سوچ میں گم حمنہ کو تو حاصل.کرلیا تھا اس نے مگر کیا جو بھروسہ ایک مرد نے اسکا توڑا تھا کیا وہ شاہ زین دوبارہ اپنے اوپر حمنہ سے کروا پائے گا…
خالد بیک مرر سے شاہ زین کی چہرے کے ایکسپریش سے اندازہ لگا سکتا تھا. کہ شاہ زین کسی گہری سوچ میں گم.ہے…
گاڑی حمنہ شاہ ولا کے قریب روکی..
گاڑی سے اتر کے شاہ زین نے حمنہ کی.طرف والا دروازہ کھولا..اج کے دن شاہ زین حمنہ کیساتھ اکیلے رہنا چاہتا تھا اس لیہ بنگلے کے نوکر واچ مین کو اس نے چھٹی دی ہوئ تھی.گاڑی سے خالد اترا اور شاہ زین کے گلے لگتے ہوئے دھیرے سے کہا…
“جو دوسروں کی.زندگیوں سے کانٹے چنتے ہیں..
انہیں کبھی خود کانٹوں کا سامنا کرنا نہی.پڑتا..”
خالد کی بات سن.کے شاہ زین دھیرے سے الگ ہوا تو اسکے لبوں پہ.ایک.حیسسین مسکراہٹ تھی..
خالد گاڑی.لے.کے نکلا تو شاہ زین نے ایک بار پھر حمنہ.کا ہاتھ تھاما. شاہ زین کے ہاتھ تھامتے ہی حمنہ نگاہ اٹھا کے شاہ زین کو دیکھا مگر وہ حمنہ.کی.نگاہوں کو اندیکھا کرلے گھر کے اندر چلا گیا…
بنگلہ.جتنا باہر سے خوبصورت تھا .اندر سے اپنی.مثال اپ تھی. گھر کے اندر قدم رکھتے ہی شاہ زین نے چپکے سے دیوار سے لگی ایک رسی.کھینچی تو دھیروں گلاب کی.پتیوں نے حمنہ کا.استقبال کیا…
تھوڑی دیر کیلیے ہی سہی مگر شاہ زین حمنہ کے لبوں پہ.مسکراہٹ لانے میں کامیاب ہوا تھا…
حمنہ اپنے ایک ہاتھ سے اپنا شرارہ تھامے پورر گھر کا.نظارہ کررہی تھی اور شاہ زین اسکے پیچھے چل چل.کے اسکا..
ایک جگہ جاکے حمنہ رکی اور سامنے دیور پہ دیکھ کے حمنہ کی.آنکھوں میں آنسو جمع ہونے.لگے…
سامنے دیوار پہ بہت بڑی انلاج ہوئ
مشتاق صاحب اور یمنہ بیگم کی تصویر تھی جسکے درمیان ہنستی مسکراتی حمنہ کی.تصویر تھی..یہ تصویر شاہ زین نے حمنہ کے گھر کی بوا سے حاصل کی تھی.جو اسکی.انٹر میں انے والی پوزیشن کی تھی..بے ڈھرک حمنہ کا ہاتھ اس تصویر پہ.گیا..اور اس نے دھیرے سے اپنی آنکھیں بند کرکے کھولی اور مسکرادی..
اس سے زرا فاصلہ پہ شاہ زین کی.اپنے والدین کیساتھ اسطرح کی.پک تھی حمنہ نے اس تصویر کو بھی بہت غور سے دیکھا.
اسیی کئی تصویریں شاہ زین نے پوری ہال مین لگای تھی..حمنہ جب سارآ بنگلہ اور ساری سجاوٹ دیکھ چکی تو شاہ زین کی طرف مڑی اور کہا.
بہت پیارا ہے یہ سب کچھ. ..حمنہ کی بات سن کے شاہ زین اسکے قریب آیا مگر وہ حمنہ.کا پیچھے ہونا دیکھ چکا تھا.
پاس آکے شاہ زین نے کہا..
شکر ہے تمہاری آواز تو سنی. چلو آؤ ہمارا کمرہ.اوپر ہے..
اور حمنہ کی سوئ ہمارے کمرے پہ.اٹک.گئ…
شاہ زین اگے اور حمنہ.اسکے پیچھے پیچھے اوپر چڑھنے لگی..
اپنے کمرے کے پاس پہنچ کے شاہ زین نے اس کیلیے کمرے کا دروازہ کھولا
دروازہ کھلتے ہی.حمنہ.کی.نظر بے ڈھرک سامنے کی.دیوار پہ.لگی اپنی.اور شاہ.زین کی.تصویر پہ.گئ. اور حمنہ.نظر چرا گئ…پورے کمرے کو نہایت خوبصورتی سے سجایا گیا. جگہ جگہ بڑے پھولوں کے بوکیڈ تھے.
شاہ زین کمرہ کا دروازہ بند کرکے ایک دم.حمنہ.کے.ہیچھے آکے کھڑا ہوگیا..
حمنہ.جو اپنی.ہی.دھن میں.پلٹی ایک دم شاہ زین کے سینے سے تکراگئ اس سے پہلے وہ گرتی شاہ نے اسے کمر تھام کے کہا.دیھان سے یار کیا.کرتی ہو ابھی کچھ ہوجاتا ہمارے بے بی کو..شاہ زین کے بولنے کی.دیر تھی کہ.حمنہ.ایک جھٹکے سے اس سے دور ہوئ اور کہا..
کیوں کررہے ہے یہ.سب زین یہ ہی تمہاری حقیقت ہے یہ پھر تمہارا بھی دبل چہرہ ہے ایسی لڑکی جو پہلے ہی.اپنی.عزت ک سودا کر چکی ایک.ناجائز رشتے مین بندھ کے گھن نہی آتی تمہین مجھ سے..
حمنہ کو بولنا تھا کہ.شاہ زین نے ایک.دم غصہ میں حمنہ کے اگے اپنے.ہاتھ جوڑے اور بول.پڑا..
یہ دیکھو حمنہ میرے جڑے ہوئے ہاتھ مجھے تم سے گھن نہی آتی.نہی.آتی.نہی آتی. کتنی بار بولو…میں تم سے جب سے محبت کرتا ہو جب مجھے تمہارے نام.کے علاوہ کچھ نہی.پتہ تھا…تمہارے ایک.جھلک مجھے تم سے محبت کرنے.پہ.مجبور کر گئ…
یہ بول.کے شاہ زین نے حمنہ کا.ہاتھ پکڑ کے اسے بیڈ پہ.بیٹھایا اور کہا..
“مرد کی عزت اس کالے کپڑے کی طرح ہے جس پہ اگر خون کا دھبا بھی لگ جائے. تو کسی.کو نہی دیکھتا..
اور عورت کی عزت اس سفید کپڑے کی.مانند ہے جس پہ.اگر پانی کا دھبہ بھی لگ جائے تو لوگوں کو بد نما لگتا ہے “
یہ مت سمجھنا کہ.میں تمہیں طعنا مار رہا ہو. یہ آخری.بار ہم تمہارے ماضی کے بارے میں بات کررہے ہیں.مجھے نہی جاننا تم.کیا تھی شادی سے پہلے..کی.کیا.تم نے شادی سے پہلے..تمہارے گناہ.کی.سزا الللہ تمہیں دے چکا حمنہ. تو پھر میں یہ یہ دنیا والوں کو کوئ حق نہی تمہیں مجرم کہنے کا خدا کے واسطے حمنہ مین تمہارے ساتھ بہت حسین زندگی گزرانا چاہتا ہو.. یہ میرا بچہ ہے شاہ زین نےاچانک حمنہ کے پیٹ پہ.ہاتھ رکھ کے کہا..تم.سے شادی کرکے میں تم.پہ.کوئ ترس نہی.کھایا نہ.احسان کیا..تم.میری دعاوں کا ثمر ہو..مجھے صرف تم سے مطلب ہے حمنہ تمہارے ماضی سے نہی
اور جو تم.نے کہا کہ میرے دو چہرے ہیں تو اسکا جواب تو تمہیں جب ملے گا جب تم.میرے ساتھ رہوگی.محبت کے جواب ضروری نہی کے بدلے محبت ملے مگر مجھے سکون تو دے سکتی ہو حمنہ خود کو خوش رکھ کے.. تمہارا بھروسہ ایک مرد نے توڑا ہے.. میں بھی ایک.مرد ہو تمہیں جتنا ٹائم لینا ہے لے لو میں ساری زندگی تمہارا انتظار کرسکتا ہو بس ایک رشتہ مجھے دے جاو
یہ بول کے شاہ زین نے حمنہ کے ہاتھ چھوڑ کے اسکے اگے ہاتھ کیا اور کہا..
دوستی کا اور یقین.مانو میں بہت اچھا دوست ثابت ہونگا..
شاہ زین نے تھوڑا لہجہ.مین شرارت سموئے کہا..تو حمنہ بھی.ہلکا سا مسکرائ اور کہا..
ایک بار ایک اور جوا کھیلنے جارہی.ہو شاہ زین اور اس بار میں ہارنا.نہی چاہتی..
نہی.ہاروگی. کیونکہ مجھے جیتنے کا جنون ہے..
مسسز شاہ زین..
چلو کافی.تھک.گئ.ہو چینج کرکے سوجاو.. یہ بول.کے شاہ زین چینج کرنے چلا گیا چینج کر کے کمرے میں آیا تو حمنہ اپنا ڈوپٹہ اور جیولری اتر چکی تھی..شاہ زین کی.نظر جب حمنہ کے سراپے پہ گئ تو نگاہ چرا گیا..
حمنہ چینج کر کے بیڈ پہ آئ.تو شاہ زین سو چکا تھا..حمنہ بھی اسکے برابر میں آکے چپ چاپ.لیٹ گئ.
.¤¤¤¤¤¤
صبح شاہ زین کی.آنکھ کھلی تو حمنہ اسکے برابر میں ہی سورہی تھی. دل تو بہت کیا اسکا حمنہ کو پیار کرنے کا مگر وہ حمنہ کا بھروسہ توڑنا نہی.چاہتا تھا خاموشی سے اٹھا فریش ہوکے نماز پڑھی اور کہی چلا گیا…
شاہ زین کے اٹھنے کے کافی دیر بعد حمنہ.کی آنکھ کھلی. بیڈ پہ نظر پڑتے ہی حمنہ کی نظر واش روم پہ.گئ مگر وہ بھی خالی تھا..
حمنہ.فریش ہوکے نیچے آئ تو شاہ زین کسی سے ہنس ہنس کے باتیں کررہا تھا. کچن کے قریب آکے حمنہ نے دیکھا تو بوا کچن مین کھڑی شاہ زین کے ساتھ ہنس ہنس کے ناشتہ بنا رہی تھی..
بوا کو دیکھ کے حمنہ نے خوشی سے کہا…
ارے بوا اپ.. ؟؟
حمنہ کہ.آواز پہ.وہ دونوں ایک دم چونکے. بوا نے.اگے بڑھ کر حمنہ کو گلے سے لگایا اور کہا…
ہان بیٹا شاہ زین صبح صبح مجھے یہاں لے آیا..
اور
اور یہ اج سے ہمارے ساتھ رہینگی آگے کی بات شاہ زین نے مکمل کی..
¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ناشتہ سے فارغ ہوکے شاہ زین نے حمنہ سے کہا کہ وہ تیار ہوجایے ہمین کہی جانا ہے..حمنہ کے پوچھنے پہ جب شاہ زین نے اسے بتایا کہ وہ لوگ کہان جا رہے ہیں تو وہ ایک دم گھبرا گئ شاہ زین نے اسکی گھبراہٹ دیکھی اور پیار سے اسکے گال سہلاتے ہوئے کہا..
تم اپنا ماضی.خود اپنے ہاتھوں سے ختم.کروگی. تاکہ پھر کبھی اسکی وجہ سے تم تکلیف میں نہ آو
اور ڈرنے کی ضرورت نہی تم شاہ زین کی بیوی ہو
اور وادی میں کوئ ایسا نہی جو شاہ زین خان کی.عزت کی طرف انگلی اٹھائ.. تمہاری طرف اٹھنے والی ہر انگلی میں جڑ سے اکھاڑ دونگا…
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
صبح ہی سے نوین بیگم نے خان حویلی.میں افراتفری مچائ ہوئ تھی..
سب کو یہ.پتہ.تھا کہ.شاہ زین اپنی دلہن کساتھ آرہا ہے مگر اسکی دلہن کون ہے وہ صرف نوین اور مبشرہ.جانتے تھے..
دوپہر کے کھانے پہ.نوین بیگم نے رابعہ اور ظفر کو بھی بلالیا تھا..
ان.لوگوں کو آئے ابھی تھوڑی دیر ہوئ تھی کہ شاہ زین کے آنے کی.اطلاع ملی…
جیڈی جو آرام سے اپنے صوفے پہ.براجمان ہوکے شاہ زین کی آنے والی بیوی کو دیکھنے کے چکر مین بیٹھا تھا
مگر اس کے پیروں کے نیچے سے زمین جب نکلی جب شاہ زین کا ہاتھ پکڑے حمنہ اسکے ساتھ اندر آئ..
رابعہ.جہاں خوش تھی وہان شوکڈ بھی نوین اور مبشرہ نے دل کھول کے حمنہ کا استقبال کیا.
نمرہ سو رہی تھی اس لیہ اسکی ملاقات حمنہ سے نہی ہوئ..رابعہ اور ظفر نے ایک ساتھ ان دونوں کو شادی.کہ مبارک باد دی.
جبکہ شیر خان نے حمنہ کو دیکھ کے کوئ خاص رسپونس نہی دیا..
کھانے کی ٹیبل پہ سب اپنے کھانے میں مگن تھے جبکہ جیڈی کی نظر مسلسل حمنہ پہ تھی..جیڈی کو وہ.پہلے سے زیادہ حسین لگی..
کئ بار حمنہ نے جیڈی کے یو دیکھنے پہ حمنہ نے اپنا غصہ.کنٹرول کیا..
شاہ زین بھی جیڈی کی ساری حرکت دیکھ رہا تھا مگر چاہتا تھا اس بار حمنہ خود جیڈی کو سبق سیکھاے اور اسکو یہاں لانے کا مقصد بھی شاہ زین کا یہی تھا..
کھانے کے بعد شیر خان جہاں اٹھ کے ٹیبل سے گئے وہی نوین بیگم بھی انکے پیچھے گئ..
حمنہ کھانے سے فارغ ہوکے ہاتھ دھوکے جیسے ہی ہال.میں انٹر ہونے لگی پاس سے گزرتے جیڈی نے ہلکی سی آواز میں کہا..
کیا بات ہے بڑی جلدی بدل لیا اپنا بستر اور مرد دونوں مجھے زیادہ کیا شاہ زین پورا کرتا ہے تمہارا.. جیڈی کے الفاظ تھے یہ تیزاب جو ایک بار پھر حمنہ کے کردار پہ جیڈی نے پھیکے..
یہ بول کے جیڈی جیسی ہی اگے بڑھنے لگا..حمنہ نے تیزی سے اسکا کندھا پکڑ کے گھمایا اور ایک زناٹے دار ٹھپڑ اسکے منہ پہ دے مارا
جیڈی کے منہ پہ حمنہ کے ہاتھ سے پڑنے والے تھپڑ کی.گونج وہاں بیٹھے ہر نفوس نے سنی..
جیڈی.کو ٹھپڑ پڑتا دیکھ نہ شاہ زین نے.کوئ ریکٹ کیا..نہ.مبشرہ نے..
اور ظفر تو مسکراہٹ کیساتھ کھانے میں میشغول رہا..
حمنہ نے اگے بڑھ کر جیڈی کا گریبان پکڑا اور چیخ کے کہا..
پیار کے نام پہ عورت کی عزت سے کھیلنے والے مرد نہی نہ مرد ہوتے ہیں..
جنکے گھر میں بہنیں یہ بیٹیاں ہوتی ہیں وہ باہر کی.لڑکیوں کی.عزت روندھتے نہی.
دنیا مکافات عمل ہے جیڈی ایسا نہ ہو تمہارے گناہ کی.سزا تمہارا کوئ.اپنا بھگتے…
اور ہاں کیا کہاں تم نے.مجھے عیاشی کا ٹوکڑا..
تم مرد سمجھتے کیا ہو خود کو..
تم مردوں کو اپنی.مردانگی دنیا کو دیکھانے کیلیے ہم.عورتوں کی.ہی.ضرورت پڑتی.ہے…کوئ مرد بنا عورت کے اپنی.مردانگی ثابت نہی.کرسکتا…
جاری ہے..
