50.9K
64

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 36 Part 1

“ترستی ہیں نگاہیں میری..
تکتی ہیں راہیں تیری..
چاہیے پناہ میں تیری.”””
ہمایوں کو اج کراچی سے آئے اسے ایک مہینہ ہوگیا تھا مگر المیر نے نہ تو کوئ کال کی.نہ کوئ کونٹیک.. ہمایوں نے اپنے موبائل میں اعیرہ کی سالگرہ کی پک چپکے سے لی تھی جسی دن رات وہ دیکھتا رہتا تھا..ہمایوں پانچ وقت کا نمازی تھا.اکثر دعا میں اعیرہ کو مانگتے وقت اس کے ہاتھ ضرور کانپتے تھے..کیونکہ اس نے اپنے لیہ دعا مانگنا بہت پہلے چھوڑ دی تھی..مگر اپنے الللہ کے اگے سجدہ کرنا نہی چھوڑا. ابھی اس نے حمنہ سے اعیرہ کے متعلق کوئ بات نہی کی تھی جب تک وہ المیر کی طرف سے کوئ مکمل بات نہی جان لیتا وہ اپنی زندگی کا یہ چیپٹر کسی کے سامنے کھولنا نہی چاہتا تھا…
ابھی ہمایوں موبائل میں اعیرہ کی پک دیکھنے میں مگن تھا کہ دروازہ ناک ہوا اور ثنا اندر آئ. ہمایوں جو اعیرہ کی پک دیکھ کے مسکرا رہا تھا ثنا کو دیکھ کے ایک دم سٹپٹایا اور موبائل بند کرکے فورا سیدھا ہوا. ہمایوں کی حرکت ثنا سے پوشیدہ نہ رہ سکی.. وہ مسکرا کے ہمایوں کے سامنے بیٹھی اور چہرے پہ جھوٹی مسکراہٹ سجائے ہمایوں سے پوچھا..
ایسا کیا ہے موبائل میں ؟؟جو دیکھ کے اکیلیے اکیلے مسکرایا جارہا ہے ہمیں بھی دیکھاو…
ثنا نے ایک ادا سے کہا..مگر اس کے دل میں جو خدشہ تھا وہ دل سے دعا کررہی تھی کے ایسا نہ ہو..
ہمایوں نے مسکرا کے نفی میں گردن ہلائ اور ثنا کی لائ ہوئ فائل دیکھنے لگا اور کہا..
ابھی وقت نہی آیا کے میں تمہیں بتاو جس دن میری دعا قبول ہوگی سب سے پہلے تمہیں بتاونگا یہ وعدہ میرا..
ابھی تم.مجھے یہ بتاو کے لندن والی ڈیل.کا کیا ہوا ؟؟؟
ثنا کا پوچھا گیا سوال جس خوبصورتی سے ہمایوں نے گھمایا تھا..ثنا اندر ہی اندر اپنا غصہ کنٹرول کرکے ہمایوں کو کہا..
میں یہ بتانے آئ تھی کہ ڈیل فائنل ہوگئ.ہے اور اس مہینے کے لاسٹ میں ہماری لندن کی.فلائٹ ہے..
اوکے پھر تم اس پراجیکٹ کی ڈیٹیل کلیکٹ کرکے فائل تیار کرلو میں جب تک لندن جانے سے پہلے اپنے یہاں کے سارے کام نبٹالو کیونکہ پتہ نہی وہان کتنا وقت اور لگ جائے…
..¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
یہ چاہتا کیا ہے تم سے اور کیوں تمہارے پیچھے پڑا ہے..کاشف نے انتہائ غصہ کے عالم میں آفرین سے پوچھا..
کاشف اور آفرین کافی شاپ میں اج ملے تھے کیونکہ آفرین
المیر کی دھمکی سے کافی ڈر گئ تھی اور اج اس نے کاشف کو المیر کے بارے میں سب بتا دیا تھا…
مجھے کیا پتہ یہ مصیبت کہاں سے میرے گلے پڑھ گئ.تمہیں بولا تھا میں نے اپنے پیرنٹس کو بھیجو مگر مجھے لگتا ہے تم میرے ساتھ سیریس نہی..آفرین نے بھی غصہ کے عالم میں کاشف کو کھڑی کھڑی سنا دی…
آفرین سریسلی تم ایسا کہہ رہی ہو شاید بھول رہی تم کے میں آیا تھا تمہارے والد محترم سے ملنے کیا کہہ کے انہوں مجھے ریجیکٹ کیا کہ میں بیروزگار ہو انکا دل نہی مان رہا تمہارا ہاتھ میرے ہاتھ میں دینے کا.اور رہی سوال میرے والدین کی تو تم.جانتی ہو وہ گاوں میں رہتے ہیں اگر میں انہیں ملوانے لاتا تو شاید تمہارے والد ہمین گیٹ سےہی رخصت کردیتے…
.
کاشف اپنی بات بول.کے چپ ہوا تو آفرین بھی گردن جھکا گئ جبکہ کہی نہ کہی کاشف المیر سے ڈر گیا تھا کیونکہ وہ نہ صرف کاشف کو رنگے ہاتھوں پکڑ چکا تھا بلکہ اسکے کرتوتوں سے بھی واقف ہوچکا تھا. مگر کاشف کسی صورت میں آفرین جیسی موٹی اسامی کو اپنے ہاتھ سے جانے نہی دے سکتا تھا. اس لیہ اس نے سوچ لیا تھا کے اسے آگے کیا کرنا ہے…¤¤¤¤¤¤¤
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
کیا ہوگیا آفرین 2 دن سے تم.مجھے اگنور کررہی ہو ؟؟
کس بات پہ ناراض ہو مجھ سے..
مونا نے اج پھر آفرین سے روک کے پوچھا جو دو دن سے نہ تو اس سے بات کررہی تھی اور نہ ہی اسکی طرف دیکھ رہی تھی…
اپنے بھائ سے پوچھو جس نے میری زندگی عزاب بنا کے رکھی ہے جہاں میں جاتی ہو میرے پیچھے اجاتا ہے کیا یہ تمہاری ماں نے اسے سیکھایا ہے کے دوسروں کی بہن بیٹیوں کو تنگ کرو. .میری زندگی ہے چاہے کسیے بھی گزاروں اسے کیا تکلیف ہے ؟؟
میرے لیہ کیا صحیح ہے کیا غلط یہ مجھے زیادہ بہتر پتہ ہے بچی نہی ہو یہ دیکھو میرے جڑے ہوئے ہاتھ آفرین نے ایک دم اسکے آگے اپنے ہاتھ جوڑ دیے..
اپنے.بھائ کو بول دو الللہ.کے واسطہ میری زندگی میں مداخلت مت کرے میں کاشف سے بہت محبت کرتی.ہو اسے کسی قیمت پہ نہی چھوڑونگی..
یہ بول کے آفرین آگے بڑھ گئ..اور پیچھے مونا کو پریشان حالت میں چھوڑ گئ..
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
رات میں کھانے کے بعد مونا المیر کے کمرے میں غصہ میں پہنچی.المیر جو لپ ٹاپ پہ کام میں مصروف تھا. مگر مونا کو ایسے اپنے کمرے میں آتا دیکھ فور کھڑا ہوا اور مونا سے پوچھا..
کیا بات ہے مونا تم اسطرح میرے کمرے میں سب خیریت تو ہے.؟؟
اپکو شرم.نہی آتی کسی کی بہن بیٹیوں کو تنگ کرتے ہوئے اسے فالو کرتے ہوئے اسکی زندگی میں مداخلت کرتے ہوئے. ؟؟؟
المیر سمجھ گیا وہ کس کی بات کررہی ہے.. اس نے ریلکس انداز میں مونا کو کندھے سے تھام کے اپنے بیڈ پہ.بیٹھایا اور کہا.
تم نے یک طرفہ بات سنی.ہے مونا یہ آدھا سچ ہے….
مطلب آفرین ٹھیک کہی رہی تھی اپ کے بارے میں.اپ ایسی حرکت کروگے میں کبھی سوچ بھی نہی سکتی تھی بھائ….
تم کچھ نہی جانتی مونا. .
ایسا کیا ہے.جو اپ یہ سب کرنے پہ مجبور ہیں..
مونا کے بولنے پہ المیر نے سب مونا کو بتا دیا…
المیر کی بات سن کے مونا نے بے ڈھرک اپنا سر تھام لیا اور کہا..
تو بھای اپ.کیوں پرائے پھدے میں اپنی.ٹانگ ارا رہے ہیں کرنے دے اسے یہ اسکی زندگی ہے..
ہاں کرنے دیتا مگر اب نہی کیونکہ محبت کیساتھ ساتھ اب وہ میری ضد بن چکی ہے..
مونا حیرت سے اپنے بھائ کو دیکھنے لگی اٹھ کے المیر کے پاس آئ اور کہا.
بھائ محبت میں ضد نہی چلتی وہ.کسی سے محبت کرتی ہے کسی کی محبت سے اسکی.محبت چھین کے کوئ سکون سے نہ رہتا..
ہاں مونا نہی رہتا اگر کاشف اچھا انسان ہوتا اور میں زبردستی انکو الگ کررہا ہوتا اندازہ نہی تمہیں کتنی.لڑکیوں کو وہ بلیک میل کرچکا.. میں آفرین سے محبت کرتا ہو اور سب سے پہلے ہم اپنی محبت کو حفاظت کرتے ہیں..
افف بھائ مجھے تو کچھ نہی ارا سمجھ اپکی وجہ سے میری دوست مجھ سے دور ہوگئ..
.کوئ بات نہی سوئیٹ سسٹر بھابھی بن کے مل.لینے اس سے اس گھر میں بہت جلد ..
اففف ایک اپ اور ایک اپکا وہ دوست جسکو اپنے سے 12 سال کی.چھوٹی لڑکی سے محبت ہوگئ. وہ معملہ بھی اپکو حل کرنا ہے اور ایک بات اور سوئیٹ بھائ مونا آفتاب اپکی اس مسئلہ میں کوئ مدد کریگی ایسی کوئ امید مت رکھنا اوکے شب خیر..
یہ بول.کے جیسی ہی مونا المیر کے کمرے سے جانے کیلیے مڑی سامنے کھڑے نفوس کو دیکھ کے جہاں مونا لڑکھڑائ..وہی دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے المیر کے ہاتھ سے لیپ ٹاپ بھی نیچے چھوٹتے چھوٹتے بچا…
جاری ہے..