Gunah Se Wapsi By Mariyam Imran Readelle50215 Episode 36 Part 2
Rate this Novel
Episode 36 Part 2
فاطمہ کو دروازے پہ کھڑا دیکھ المیر اور مونا دونوں کی حالت خراب ہو گئ تھی..مونا نے مڑ کر ایک غصیلی نظر المیر پہ ڈالی..
فاطمہ نے اندر آکے دروازہ بند کیا اور آرام سے چلتی المیر کے پاس آئ اور کہا..
تمہیں لگتا ہے تم صحیح کررہے ہو آفرین کیساتھ..؟؟؟
فاطمہ کی بات سن کے المیر اور مونا سمجھ چکے تھے کے انکی ماما انکے درمیان ہوئ ساری گفتگو سن چکی ہے. اس لیہ المیر کا کچھ بھی فاطمہ سے چھپانا اب ناممکن تھا..
المیر نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور کہا.
ماماا سکے علاوہ اور کوئ چارہ نہی میں آفرین سے محبت کرتا ہو اگر کاشف واقعی ایک اچھا انسان ہوتا تو میں سچ میں اپنی محبت کو لےکے ان دونوں کے درمیان میں سے ہٹ جاتا.
یہ بول کے المیر فاطمہ کے پیروں میں بیٹھ گیا اور کہا..
مگر میں چاہتا ہو اپ اور پاپا آفرین کے گھر جلد ازجلد میرا رشتہ لے کر جائے. کیونکہ کاشف جان چکا ہے میرا ارادہ اور وہ یہ بھی جانتا ہے کے میں اسکے بارے میں سب جانتا ہو اب مزید میں کاشف کو آفرین کیساتھ نہی چھوڑ سکتا..
فاطمہ نے المیر کی بات پوری دیھان سے سنی اور مسکرا کے کہا
ایسا ہے تو کل ہی ہم اپنی بہو کا دیدار کرنے چلتے ہیں..
فاطمہ کی بات سن کے المیر خوشی سے فاطمہ.کے گلے لگ گیا اور کہا.
شکریہ ماما اپ بیسٹ ہو..
جہاں المیر کی بات سن کے فاطمہ مسکرائ وہی.مونا میں نے نفی.مین گردن ہلائ اور فاطمہ.کے برابر میں بیٹھتے.ہوئے کہا..
ماما مگر اپکو ندازہ نہی آفرین بھائ سے کس حد تک نفرت کرتی ہے..
کوئ بات نہی مونا نکاح کے رشتہ میں الللہ نے طاقت ہی اتنی رکھی ہے کہ دو اجنبیوں کو بھی ایک دوسرے سے محبت ہوجاتی ہے باشرطیکہ کے دونوں.ایک دوسرے سے مخلص ہو.
جہاں فاطمہ کی بات سن کے المیر اور مونا سوچ رہے تھے وہی فاطمہ کے دماغ میں ماضی کا حمنہ اور شاہ زین کا رشتہ چلنے.لگا.اور پھر اپنا اور آفتاب کا..
لیکن المیر وہ جو مونا بول رہی تھی کے تمہارے کسی دوست کو اپنی سے 12 سال چھوٹی.لڑکی پسند آگئ ہے.کون سا دوست ہے وہ تمہارا اور وہ لڑکی کون ہے.؟؟؟
فاطمہ کی.بات سن کے المیر اور مونا دونوں نے ایک دوسرے کا چہرہ دیکھا اور پھر المیر نے فاطمہ.کو ہمایوں کے ایکسیڈینٹ سے لے کر اعیرہ سے محبت کرنے تک ثنا کا دھوکا سب بتا دیا..
فاطمہ بیگم جب المیر کی بات سنی تو ایک دم چپ ہوگئ.المیر نے فاطمہ کو چپ دیکھا تو بول.پڑا..
ماما ہمایوں بہت اچھا ڈیسنٹ لڑکا ہے ہر لحاظ سے وہ اعیرہ کے لائق ہے بس ایک عمر کا مسئلہ ہے ماما ہمایوں لاہور جاتے ہوئے مجھ سے بول کے گیا ہے کے اگر اپ کو اور پاپا کو کوئ اعتراض ہو تو وہ کبھی اعیرہ.کا خیال اپنے دل میں نہی لائے گا..
المیر کی بات سن کے فاطمہ کے سامنے ہمایوں کا سراپا لہرایا ہمایوں کو پہلی بار دیکھ کے وہ چونکی تھی. کیونکہ ہمایوں شاہ زین کی.کاپی تھی..
فاطمہ چپ چاپ ان دونوں کے درمیان میں سے اٹھی اور دروازہ کی طرف بڑھنے لگی.فاطمہ کو جاتا دیکھ المیر کو ہمایوں کیلیے کافی افسوس ہوا وہی مونا کی.حالت بھی کچھ المیر جیسی ہی تھی.کہ تبھی فاطمہ جاتے جاتے پلٹی اور المیر سے کہا.
ہمایوں کو کال کرکے بول دو اس جمعہ کو اپنے والدین کیساتھ آئے..
فاطمہ کی بات سن کے المیر جہاں شوکڈ ہوا وہی خوش بھی وہی تیزی سے آگے بڑھ کے فاطمہ کے گلے لگا اور کہا.
ماما مجھے امید تھی اپ ہمایوں کو سمجھینگی..مگر ماما اسکے والد نہی صرف ماما ہے ..ہاں انہی کیساتھ آجائے…
یہ بول کے فاطمہ کمرے سے نکل.گئ تو المیر نے مونا کے سامنے اکڑ کے اپنا فرضی.کالر جھاڑا مونا نے ایک جمائ لی اور المیر سے کہا..
اتنا مت اڑو ابھی اعیرہ دا باڈر پار کرنا باقی ہے اوکے شب خیر..مونا تو بول.کے چلی گئ مگر المیر کو سچ میں پریشان کرگئ..
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
فاطمہ نے آفتاب کو سارہ صورتحال سے اگاہ کردیا تھا. فاطمہ نے صبح ہی آفرین کی والدہ.کو کال کرکے اپنے آنے کا کہا..
آفتاب آفرین کے والد سے حیثیت میں کئ زیادہ گنا تھا..اس لیہ جب آفرین کی ماما نے کمال کو آفتاب شیخ کے آنے کا بتایا تو وہ کافی حیران ہوئے اور اپنی بیوی کو بول دیا کے انکے استقبال میں کوئ کمی نہی رہنی.چاہیے..
صبح جب آفرین یونی جانے کیلیے تیار ہورہی تھی تو ناعیمہ بیگم نے نہ صرف اسے یونی جانے سے منع کیا بلکہ اچھا سا تیار ہونے کو کہا اس نے بہت کہا کے وہ یونی سے جلدی آجائے گی.مگر ناعیمہ بیگم نے اسے سخت تنبی کی اور گھر میں رکنے کو کہا.آفرین کو یونی نہ جانے کی.اتنی ٹینشن نہی تھی جتی اج کاشف سے نہ.ملنے کا افسوس تھا..
صبح سے ہی ناعیمہ بیگم تیاریوں میں مصروف تھی وہی آفرین کو رہ رہ کے کاشف کا خیال آرہا تھا..
دوپہر تک آفتاب کی.فیملی کمال کے گھر پہنچ چکی تھی. ناعیمہ.بیگم.نے.کافی عزت سے انہیں اپنے ڈرائنگ روم.مین بیٹھایا اعیرہ تو عابد کیساتھ باتوں میں لگ گئ جبکہ المیر کی.نظر اس دشمن جان کو تلاش کررہی تھی..مونا نے جب المیر کو کسی کو ڈھونڈتے ہوئے دیکھا تو ہلکے سے المیر کے کان میں سرگوشی کی اور کہا..
جسکا انتظار کررہے ہونا وہ تمہارے جینا حرام.کردے گی کیونکہ تم اس سے اج اسکی محبت چھیننے آئے ہو..
مون کی بات سن المیر نے اسے گھور کے دیکھا اور کہا.
تمہاری جیسی بہن ہو تو دشمن کی کیا ضرورت..
بول لو المیر مگر میری.نظر میں تم غلط ہو یہ بول کے مونا وہاں سے اٹھ گی.
ابھی وہ لوگ باتوں میں مصروف تھے کے مونا چائے لے کر اند آئ. المیر کی نظر تو آفرین پہ ہی ٹک گئ جو ریڈ اور بلیک کلر کے سوٹ پہ تیار ہوئ سیدھا اسکے دل میں اتر رہی تھی..
آفرین نے جب المیر کی فیملی کو بیٹھا دیکھا تو اسے عجیب سے گھبراہٹ ہوئ ابھی وہ سب کے چائے سرو کررہی تھی کے فاطمہ نے ناعیمہ سے اپنے آنے کا مقصد بتایا. ناعیمہ تو فاطمہ کی بات سن کے بہت حیران ہوئ اور ساتھ مین خوش بھی کے تبھی سب لوگ کانچ ٹوٹنے کی آواز کی طرف متوجہ ہوئے جہاں آفرین جو مونا کو چائے سرو کررہی تھی فاطمہ کی بات سن کے جہاں اسکے ہاتھ سے چائے کا کپ.ٹوتا وہی اس نے آنکھوں میں آنسو لیہ المیر کی.طرف بے یقینی کی حالت میں دیکھا اور الٹے پاوں وہاں سے بھاگ گئ..
جاری ہے….
