Gunah Se Wapsi By Mariyam Imran Readelle50215 Episode 42 Part 2
Rate this Novel
Episode 42 Part 2
افرین کے تھپڑ مارنے پہ المیر جہاں شوکڈ ہوا وہی اسکا ہاتھ بے دھڑک اپنے گال پہ گیا۔۔
افرین نے اگے بڑھ کے المیر کا کالر پکڑا اور کہا۔
صحیح کہا تھا کاشف نے کے تمہیں خالی میرے جسم کی حوس ہے۔تو ٹھیک ہے پھر کرلو اپنی حوس پوری اور اتارو میرے گلے سے یہ نکاح کا طوق جو کسی پھانسی کے پھندے کی طرح میری گلے کے ساتھ میری روح پہ بھی
ڈالا ہے۔۔
روک کیوں گئے اوو کرو لگاو مجھ پہ اپنی مہر دیکھاو اپنے شوہر ہونے کی طاقت دیکھاو ۔۔
افرین اتنی زور سے چیخی کے اسکے گلے کی نسیں پھولنے لگی۔۔
افرین نے ایک جھٹکےںسے المیر کا کالر چھوڑا اور کہا۔
نفرت کرتی میں تم سے تمہاری سوچ سے زیادہ اپنی اوقات سے زیادہ سنا تم نے یہ بول کے افرین نے اپنا چہرہ صاف کیا اور فاطمہ کی بات سسنے نیچے چلی گئ۔۔
افرین کے جانے کے بعد المیر وہی گھٹنوں کے بل زمین پہ بیٹھ گیا۔
المیر کےکانوں میں افرین کے الفاظ گونجنے لگے۔
المیر جو یہ سمجھ رہا تھا کے افرین کو کاشف سے دور کرکے اس سے اپنا بیوی بناکے اسے اتنا مجبور کردے گا کے وہ اس سے محبت کرنے پہ مجبور ہوجائے گی۔۔
مگر اج المیر کو شدت سے احساس ہوا کے محبت کوئ پھول نہی جیسے زبردستی توڑ کے اپنے پاس رکھ لیا جائے اور جب دل کرے اسکی خوشبو کو سونگھا۔جائے
محبت امتحان مانگتی ہے ۔اپنا اسیر جب کسی کو بناتی ہے دل کے ساتھ روح پہ بھی اپنی مہر لگادیتی ہے ۔
اور شاید المیر نے اپنی محبت کو زبردستی پا تو لیا تھا مگر اسکی محبت کا امتحان ابھی باقی تھا جو المیر کے ساتھ ساتھ افرین کو بھی دینا تھا کیونکہ بقول اسکے وہ بھی تو کاشف سے محبت کرتی ہے۔۔
#
صبح ہمایوں فجر کی نماز پڑھ کے ایا تو اعیرہ نماز پڑھنے کے بعد جانماز پہ ہی سوئ ہوئی تھی۔۔اعیرہ کو دیکھ کے ہمایوں کے لبوں پہ دلفریب و مسکراہٹ اگئ۔
اس نے اعیرہ کو جھک کے گودھ میں اٹھایا اور بیڈ پہ لیٹاکے اسکے برابر میں لیٹ کے اپنا ایک ہاتھ پہ اپنا سر روکھا اور اسکو دیکھنے لگا اور پھر دیکھتے دیکھتے اعیرہ کے کھلے لبوں کو اپنے لبوں میں دبا لیا ۔۔
اتنے دونوں میں ہمایوں یہ بات جان چکا تھا کے اعیرہ نیند کی بہت پکی ہے ۔
اعیرہ کو لبوں کو ہمایوں نے ازاد کی تو نظر اسکی گردن پہ پڑی جو ہمایوں نے ڈوپٹہ سے ازاد کردی تھی۔۔
ہمایوں نے جھک کے وہاں اپنے لب رکھے کے مدہوش ہونے لگا اس سے پہلے ہمایوں اپنے حواس کھوتا موبائل پہ لگا الارم بج پڑا اعیرہ جو الارم بجنے سے زرا سے کسمسائ تھی ہمایوں نے فورا اعیرہ کی گردن سے اپنے لب ہٹائے اور تیزی سے اٹھ کے الماری سے اپنے کپڑے نکالنے لگا۔اعیرہ جو الارم بجنے سے تقریبا اٹھ چکی تھی۔۔
ہمایوں نے انجان بن کے اسے کہا۔۔
اعیرہ جلدی سے ریڈی ہوجاو اج تمہارے کالج میں اڈمیشن کروانا ہے۔۔
یہ بول کے ہمایوں واش روم گھس گیا۔
اعیرہ اٹھ کے ڈریسنگ کے پاس ائ ڈریسنگ پہ رکھا اپنا کیچر اٹھا کے اپنے بال باندھے کے جیسی ہی پلٹی کے ایک دم کسی چیز کو دیکھ کے ایک دم پلٹی اعیرہ نے غور سے شیشیے میں اپنی گردن دیکھی جہاں ریڈ گول سرکل میں نشان تھا اعیرہ نے نشان پہ اپنا ہاتھ رکھا مگر وہ نشان ٹس سے مس نہی ہوا۔
اعیرہ ابھی اپنے نشان کوغور سےدیکھنے میں مگن تھی کے ہمایوں واش سے نکلا ۔تو اعیرہ کو دیکھا جو اپنی گردن کو دیکھنے میں مصروف تھی ہمایوں جو سمجھ چکا تھا کے اعیرہ کیا دیکھ رہی مگر انجان بن کےپوچھا۔۔
کیا ہوا پرنسس کیا دیکھ رہی ہو۔۔؟؟
ہمایوں کے بولنے پہ اعیرہ ایک دم چونکی اور کہا۔۔
دیکھے ہمایوں یہ میری گردن پہ کیا ہوا؟؟
اعیرہ کے بولنے پہ ہمایوں نے جاکے دیکھا اور کہا۔۔
ارے ایسی کسی چیز نے کاٹ لیا ہوگا تم پریشان نہ ہو جلدی ریڈی ہوجاو جانا بھی ہے۔۔
یہ بول کے ہمایوں تیار ہونے لگا تو اعیرہ بھی سر جھٹک کے تیار ہونے چلی گئ ۔جبکہ اعیرہ کے جاتے ہی ہمایوں کے لبوں پہ دلفریب مسکراہٹ اگئ۔۔
#
ہمایوں نے اعیرہ کا ادمیشن
میڈیکل کالج میں کروایا اسکی خواہش تھی ڈاکٹر بننے کی جو المیر نےہمایوں کو بتا چکا تھا۔
اعیرہ کی۔پوزیشن دیکھ کے کالج والوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا تھا اعیرہ اور ہمایوں کالج سے فارغ ہوئے ۔تو ہمایوں اعیرہ کو شاپنگ اور کالج ک ضروری سامان دلانے لے گیا
ہمایوں نے اعیرہ کو کافی شاپنگ کرائ اعیرہ ہمایوں کا۔ہاتھ پکڑے گھوم رہی تھی ۔ہمایوں کو یہ دیکھ کے کافی خوشی ہوئ دیر سےہی صحیح مگر اعیرہ اپنا رشتہ ہمایوں کے ساتھ سمجھنے لگی تھی۔۔
ہمایوں اسے سب چیزیں دلا کے گھر چھوڑ کے افس کیلیے نکلا کے راستہ میں اسے ایک کال ائ جیسےسنتے ہی جہاں ہمایوں کو خوشی ہوئ وہی حیرانی بھی۔۔
ہمایوں افس جانے کے بجائے کافی شاپ پہنچا تو عالم کو اپنا انتظار کرتا پایا۔
عالم سے ملکےجب ہمایوں بیٹھا تو ہمایوں نے عالم سے کہا ۔۔
تو تو چلا گیا تتھا میرے ولیمہ کے دوسرے دن انگلینڈ تو پھر واپس کسی کام سے ایا ہے۔کیا۔؟؟
ہمایوں کی بات سن کے عالم نے ایک لمبی سانس کھینچی اور کہا۔
دل تو پاکستان میں ہہی رہ گیا تھا اس لیہ واپس انا پڑا۔۔
کیا مطلب عالم کھل کے بات کر۔
یار ہمایوں تیری سالی نے مونا نے دل لےلیا میرا ۔۔
وہ پہلی نظر میں دل۔دھڑکا گئ۔ہےمیرا اب تو اسے میری زندگی میں شامل کرے گا ۔
ہمایوں جو کافی۔کا اڈد دے کےموبائل میں مگن تھا عالم کی بات پہ ایک دم اچھلا اور کہا
تیرا دماغ خراب ہوگیا ہے میں ایسسا کچھ نہی کرونگا ہمایوں نے ایک ادا سے اپنے سامنے بیٹھے شخص کو گھور کے دیکھا اور کافی کا کپ اپنے لبوں لگایا۔۔
عالم نے ایک ائیبرو اٹھا کے ہمایوں کو دیکھا اور کہا۔۔
تیرے تو اچھے بھی کرینگے ورنہ ماما کو تو میں یہہی بولونگا کے ہمایوں نے پسند کی میں نے ہاں کردی۔۔
عالم۔کی بات سن کے ہمایوں کی کافی ایک دم چھلکی اور اس نے ہلکی اواز میں غرا کے کہا۔۔
تیرا دماغ خراب ہوگیا ہے۔۔
انٹی میری جان لیلنگی ۔۔
تم سمجھ کیوں نہی رہا عالم وہ مجھ سے چار سال چھوٹی ہے اور تو اس سے ایک سال چھوٹا بات نہی بنے گی۔
اسے یہ بتائے گا کون کے میں اس سےچھوٹا ہو۔میرےڈیل ڈول دیکھ کسی اینگل سے میں چھوٹا نہی۔لگونگا اس سے۔۔ذ
ہمایوں نے اپنے دونوں ہاتھ اس کے سامنے جوڑے اور کہا۔
چل جا بھئ یہ دیکھ میرے جڑے ہوئےہاتھ سوری معزرت میں تیری مدد نہی کرسکتا میں مونا سے جھوٹ نہی بول سکتا ۔۔
ہمایوں کی بات پہ عالم نے ایک ائئبرو اٹھا کےہمایوں کو دیکھا اورکہا۔
وہ بھئ کیا کہنے اپ تو مسجد کی اینٹ بن گئے خودتو جھوٹ بھول کے اپنے سے کی سال چھوٹی
بیوی لےائےمیری باری ائے تو جھوٹ سچ یاداگیا۔
میں محبت کرتا ہو اعیرہ سے عالم ۔۔
تو میں کونسا انڈا بیجتا ہو جو مجھے محبت نہی ہو سکتی۔۔
اور دل ائ بچی پہ تو لڑکی کیا چیز ہے عالم نےجل کے اخری میں ہمایوں کو دیکھ کے کہا۔
میری باری میں تو ننھا کاکا بن گیا۔وہ بھئ کیا بات ہے۔۔
افف ہمایوں نے ایک لمبی سانس لی اور کہا۔
توبات سمجھ نہی رہا عالم مونا کبھی نہی۔مانے گی یہ بات جان کے کے تواس سے چھوٹا ہے۔
عالم نے ہمایوں سے کہا۔
تو اسےبتائے گا کون میری بھائ توکوشش تو کر ایک بار تو اسے شامل کروادے میری زندگی میں باقی مسئلہ میرا مما کو بھی میں منا لونگا بس تورشتہ کی بات چلا اب تجھے ڈول کی قسم۔۔
او یہ ڈول کون ہےبھئ ہمایوں حیران ہوکے عالم کو دیکھ کےکہا۔
اعیرہ اور کون اب تجھے کیا لگتا ہے جو مجھ سے بھی اتنی چھوٹی ہو اسے میں بھابھی بولاو توبہ کر۔۔وہ بھی جب وہ اتنی۔کیوٹ ڈول جیسی ہو۔
عالم کی بات سن کے ہمایوں کے لب دھیرے سےمسکرائے اوروہی عالم نےخوش ہوکے کہا۔
ہائےےےے صدقہ لڑکا ہنسا توسمجھ پھنسا
۔
جاری ہے
