50.9K
64

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 46 Part 2

صبح ولی کی آنکھ کھلی تو اپنے ہاتھ کسی کی قید میں پایا پوری طرح بیدار ہوا تو پتہ چلا کے مشکبار اسکا ہاتھ اپنے سینے سے لگا کے سورہی ہے۔۔
ایک پل کیلیے ولی مشکبار کے ہوشرابا حسن کو دیکھ کے چونکا ولی نے آگے بڑھ کے مشکبار سے اپنا ہاتھ الگ کیا اور جیسی ہی اسے سیدھا لیٹانے لگا ایک بار پھر اسکی نظر مشکبار کے سراپے پہ بھٹکی اس نے آگے بڑھ کے مشکبار کے چہرے پہ سے اس کے بال ہٹائے اس بات کا اقرار وہ کرتا تھا کے مشکبار بہت خوبصورت ہے اور آج اس بات پہ اسے پکا یقین ہوگیا۔۔
ولی نے ایک انجانے احساس کے تحت جیسے ہی مشکبار کے لبوں کے قریب اپنے لب رکھنے چاہا وہ فورا چونکا اور تیزی سے اٹھ کے واش روم چلا گیا۔

#

ولیمہ سے فارغ ہوکے جہاں زوباریہ اور ضامن کاغان میں ہی رہے وہی ولی اور مشکبار کراچی والے گھر میں شفٹ ہوگئے ولی نے اپنے باپ کی خواہش کے آگے سر جھکایا تو ب
امجد بھی اسکی خواہش پہ کے وہ۔کراچی میں سیٹل ہوکے فلحال اپنا کاروبار وہی سیٹ کرنا چاہتا ہے سر خم کیا۔۔
جہاں سب ہی سمجھ رہے تھے کے انہوں نے اپنے بچوں کی خوشیاں انکی جھولی میں ڈال دی ۔۔شیر خان بھی اپنے بچوں کی شادی دیکھ کے کافی خوش تھے انکی صحت میں کافی بہتری آئ تھی ۔۔
مگر دو لوگ جو ایک ساتھ ایک کمرے میں ہونےکے باوجود ایک مضبوط رشتہ بیگانوں کی طرح نبھا رہے تھے۔۔
ولی اپنے کاروبار بڑھانے میں اتنا مگن ہوا کے کراچی آکے وہ یہ بھی بھول گیا کے وہ اپنے ساتھ ایک جیتی جاگتی لڑکی لایا تھا جو اسکی بیوی تھی۔۔
ولی صبح جاتا اور رات دیر تک گھر آتا مشکبار نے بھی اپنے ہونٹ سی لیہ تھے اب نہ وہ ولی سے اپنے حق ک مطالبہ کرتی نہ ہی کوئ شکوہ اپنے گھر والوں کو اپنے ہر عمل اپنی ہر بات سے وہ یہ بات سمجھا چکی تھی کے وہ بہت خوش ہے ۔۔

#

آج آفس میں سخت ترین شیڈول ہونے کی وجہ سے ہمایوں کو دوپہر کے کھانے کا بھی وقت نہی ملا ۔اس نے حمنہ سے فون کرکے کھانے کا پوچھا کیونکہ اسکی طبیعت ایسی تھی کے جلدی کھانا کھا کے انہیں دوائ لینی تھی ۔۔
ابھی ہمایوں آفس سے کھانے کیلیے نکل ہی رہا تھا جب اس نے اپنے ڈرائیور کو کال کرکے پوچھا کے اس نے اعیرہ کو گھر چھوڑا یہ نہی مگر اس کے پیروں کے نیچے سے زمین تب نکلی جب ڈرائیور نے کہا۔۔
سر اپنے ہی تو کہا تھا کے میں اعیرہ کو اج کالج سے خود پک کرونگا سر اس لیہ میں گیا ہی نہی۔
ڈرائیور کی بات سن کے ہمایوں پریشان کن حالت میں نیچے پارکنگ لاٹ کی طرف بڑھا یہ سچ تھا کے اس نے ہی ڈرائیور کو بولا تھا اعیرہ کو اج خود لانے کا کیونکہ آج وہ اعیرہ کے ساتھ ٹائم اسپینڈ کرنا چاہتا تھا۔
گاڑی چلاتے ہوئے ہمایوں بار بار گھڑی دیکھ رہا تھا کیونکہ اعیرہ ک کالج اوف ہوئے دو گھنٹے ہوگئے تھے اوپر سے موسم کے تیور بھی خراب لگ رہے تھے وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری تھا۔۔
اوپر اعیرہ ابھی تک لاہور کے راستوں سے واقف نہی تھی۔۔
ہمایوں اعیرہ کے کالج پہنچا تو ایک تو کالج کے مین گیٹ پہ۔تالا تھا دوسرا بارش بھی زوروشور سے جاری تھی۔ہرطرف سناتے کا راج تھا۔
اعیرہ کے پاس اب تک موبائل نہی تھا اور ہمایوں کو اپنی اس حماقت پہ آج بہت غصہ آرہا تھا۔۔
ہمایوں تیز بارش میں دیوانہ وار اعیرہ کو کالج کے آس پاس ڈھونڈ رہا تھا بار بار اوازیں دے رہا تھا مگر بے سود۔
اتنی تیز بارش میں بھی ہمایوں کے آنسو تیزی سے بہہ رہے تھے ہمایوں تھک ہار کے گاڑی کی طرف بڑھ ہی رہا تھا جب اس کی نظر درخت کے پیچھے گئ جہاں کو گھٹنوں میں سر دیے بیٹھا تھا۔۔
ہمایوں تیزی سے درخت کی طرف گیا وہاں پہنچ کے ہمایوں کو ایسا لگا جیسے اسے کسی نہ زندگی کی نوید سنا دی۔۔
اعیرہ گھٹنوں میں سر دیے رونے میں مصروف تھی ۔جب ہمایوں نے اسے پکارا ۔۔
اعیرہ ۔۔
ہمایوں کی آواز سن کے اعیرہ نے تیزی سے سر اٹھا کے دیکھا تو اپنے سامنے ہمایوں کو کھڑا پایا ۔۔
اعیرہ تیزی سے اٹھ کے ہمایوں کے گلے سے لگ گئ ہمایوں نے بھی اسے زور سے اپنے سینے میں جکڑ لیا۔
اعیرہ نے روتے روتے کہا۔
اااپ۔۔ک۔۔ہا۔۔۔تھے ۔وہ۔۔لڑکے ۔۔مجھےے۔۔یہ بول کے اعیرہ تیزی سے ہمایوں سے الگ ہوئ اور اسے مارتے ہوئے کہنے لگی۔۔
آپ بہت برے ہیں میں آپ سے کبھی بات نہی کرونگی اب بہت برے ہیں ہمایوں۔۔۔
میں میں ماما سے آپکی شکایت کرونگی۔۔دیکھیے گا
ہمایوں جو خاموشی سے اعیرہ کی مار بھی کھا رہا تھا اور بار بار اپنے سامنے اپنی۔جان متاع کو دیکھ رہا تھا ۔ہمایوں کو شدت سے احساس ہورہا تھا کے اس نے کتنی بڑی غلطی کی تھی۔کیونکہ اعیرہ بہت ڈر گئ ۔ہمایوں نے اعیرہ کر جھٹکے سے اپنے قر یب کیا اور بنا اعیرہ کا سوچے برستی بارش میں آج اپنی خواہش پوری کردی ۔اعیرہ کے بھیگتے لبوں پہ پنے لب رکھ دیے اور اسے کمرے سے تھام کے اونچا کرلیا۔
اعیرہ جو ہمایوں سے بہت غصہ تھی ہمایوں کی اس حرکت پہ ایک دم ساکن ہوگئ نہ اس نے ہمایوں کو اپنے آپ سے الگ کیا نہ ہی کسئ۔مزاحمت کی۔۔
ہمایوں نے اعیرہ کے لبوں کو آزاد کرکے نیچے اتارا اور اسکا چہرہ تھام کے کہا ۔۔
سو سوری شونا میری پرنسس میں واقعی بھول گیا میری جان مجھ سے غلطی ہوگئی پلیز مجھے معاف کردو ۔ہمایوں ناجانے کیا کیا بولے جارہا تھا۔۔
مگر اعیرہ آج صاف دیکھ سکتی تھی ہمایوں کی زندگی میں اپنی اہمیت ۔مگر اس سے زیادہ وہ دیکھ نہی پائ اور بیہوش ہوکے اعیرہ ہمایوں کی بانہوں میں جھول گئ۔۔۔
جاری ہے ۔

ہمایوں اعیرہ کے بیہوش وجود کو لے کر گھر میں داخل ہوا اور زور زور سے حمنہ کو بلانے لگا۔
ہمایوں کے بولنے پہ ایک نوکرانی بھاگتی ہوئی اور کہا ۔۔
ہمایوں صاحب بڑی بی بی دوائ کھا کے سورہی ہیں اب بولے تو اٹھادو نوکرانی ہمایوں کی گودھ میں اعیرہ کے بیہوش وجود کو دیکھ کے فکر مندی سے بولی۔۔
نہی تم تھوڑی دیر میں دودھ گرم کے لوو۔۔
اچھا صاحب۔۔۔۔
ہمایوں اعیرہ کو لے کمرے میں پہنچا اور فورا اے سی بند کیا اپنے کپڑوں کی پرواہ کیہ بغیر وہ اعیرہ کے کپڑے لے کے اس کے پاس پہنچا۔۔
کوئ جھجک تھی جو وہ اعیرہ کو ہاتھ نہی لگا پارہا تھا مگر پھر سوچ کے اس نے اعیرہ کا عبایا اترا اور اسکی شرت اتر دی۔۔مگر اعیرہ کے وجود سےوہ نظرچرا گیا۔
اعیرہ کے کپڑے بدلوانے کے بعد ہمایوں نے نوکرانی سے دودھ منگوایا اور جیسے تیسے کرکے اعیرہ کو دودھ کے ساتھ میڈیسن کھلا دی اور خود اسکا وجود اپنی باہنوں میں سمیت کے جیسی لیٹںا اعیرہ اور ہمایوں سے چپک گئ ہمایوں غور سے دیکھنے لگا اگر آج وہ وقت پہ نہ پہنچتا تو ناجانے اعیرہ کہاں ہوتی یہ سوچ کے ہی ہمایوں کی روح فنا ہونے لگی تھی۔۔
ہمایوں نے ایک بار اعیرہ کے لبوں پہ اپنے پیار اور شدت کی مہر لگائی اور سوگیا۔اسے نہ یہ فکر تھی کے اس نے کھانا کھایا یہ نہی اسے تو فکر تھی تو بس اپنی پرنسس کی ۔۔جو اسکی باہنوں میں تھی۔۔

#

آج ولی جلدی آگیا موسم کو دیکھتے ہوئے مگر جب وہ گھر آیا تو ہمیشہ کی طرح نہ تومشکبار اسکی راہ میں کھڑی تھی نہ اس کے لیہ چائے وغیرہ لائ سارے گھر کو چیک کرکے جب وہ کمرے میں پہنچا تو مشکبار گھٹری بنے سورہی تھی۔
ولی نے اسے دو تین بار پکارا مگر جب وہ ٹس سے مس نہ ہوئ ولی نے جب اسکے ماتھے پہ ہاتھ رکھا تو وہ بخار میں پھک رہی تھی۔۔
ولی نے فورا ڈاکٹر کو کال کرکے بلایا ڈاکٹر نے ولی کو بتایا انہیں دو تین دن سے بخار ہے اتنی بےاحتیاطی اچھی نہی۔۔
ڈاکٹر کے جانے کے بعد ولی نے مشکبار کے لیہ دودھ گرم کے ساتھ کچھ کھلاکے اسے میڈیسن دی تو وہ تھوڑی ہوش میں آئ بخار میں پھکتا چہرہ ڈوپٹہ سے بے نیاز وجود اوپرسے اسکی نیلی آنکھوں کیساتھ ساتھ اسکےبکھرے بال جو کمر سے نیچے بکھرے پڑے تھے۔۔
ولی غور سے اسکے ایک ایک نقوش دیکھ رہا تھا۔۔
مشکبار ولی کی آنکھوں سے کافی کنفیوز ہورہی تھی۔۔مشکبار نے دل میں کہا ۔۔
ویسے تو دیکھتے نہی اور اب دیکھ رہے ہیں جیسے آنکھوں میں ایکسرے فکس ہو ۔یہ سوچتے ہوئے مشکبار نے اپنے بال سمیٹنے کیلیے جیسے ہی بال ہاتھ میں لےکر اوپر کرنا چاہے اسکے ہاتھوں میں درد کی ایک لہر اٹھی جسکی وجہ سے مشکبار کےبال اسکے ہاتھ سے چھوٹ کے دوبارہ بکھر گئے ۔
ولی جو یہ سب دیکھ رہا تھا اٹھ کے مشکبار کےپاس ایا اوراسکے بال سمیٹنے لگا مشکبار کی تو مانو سانس ہی رک گئ ۔ولی نے جیسے ہی اسکی گردن سے بال اٹھائے تو اسکے بیک کی زپ ہلکی سی اوپن تھی ولی کی نظر بار بار بٹھک رہی اور پھر کچھ بارش کا اثر تھا کچھ رشتہ کہ کشش تھی ۔ولی نے مشکبار کے بال آگے کو کرکے اسکی۔گردن پہ اپنے لب رکھ دیے ۔مشکبار کی آنکھیں ایک دم بند ہوگئ وہ تو اس بنجر زمین کی طرح تھی جس پہ آج اسکا من چاہا شوہر اپنی۔پیار کی برسات کررہا تھا۔
ولی نے اسکی بیک کے زپ پوری اوپن کرکے اسے بیڈ پہ لیٹاکے خود اپنی شرٹ اتار کے مشکبار کے وجود کو اپنے حصار میں قید کرلیا۔۔مشکبار کے لبوں کو دیکھتے ہوئے اس نے بلا جھجک مشکبار کے لبوں پہ اپنے لب رکھ دیے اور مشکبار کے چہرے پہ جگہ جگہ اپنے لب رکھنے لگا مشکبار کا جسم جو بخار کی شدت سے گرم ہورہا تھا ولی کی باہنوں میں آکے ایک دم برف جیسا یخ ہوگیا۔ولی نے پوری طرح آج مشکبار پہ اپنا حق جتایا۔نہ۔کوئ۔غصہ تھا نہ کوئ آنا کبھی ولی کے پیار کرنے کے انداز میں شدت آتی کبھی نرمی ۔۔اور اسی طرح آج ولی اور مشکبار میں جو آنا کی دیوار تھی شاید وہ گر چکی تھی۔۔
مگر کیا واقعی مشکبار کا انتظار ختم ہوگیا تھا کیا واقعی ولی نے اسے اپنی زندگی میں جگہ دے دی تھی یہ پھر ولی خالی جزبات کی رہ میں بہا تھا یہ تو آنے والا وقت ہی بتانے والا تھا۔