50.9K
64

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 33 Part 1

نمرہ کے برہنہ وجود کو دیکھ جیڈی نے فورا اپنی آنکھیں بند کی اور رخ.موڑ گیا..جبکہ شیر خان نے اپنے کندھے کی.چادر اتار کے اسے وجود پہ.ڈالی اور اسے باہنوں میں اٹھایا.
شیر خان جسکے ہاتھ کبھی نہی.کانپے کسی پہ ظلم کرتے ہوئے..کبھی کسی بے بس لڑکی جسکی عزت سے وہ کھیلتا تھا. رحم نہی آیا..
اج اپنے ہی.خون کو کسی درندگی کا نشانہ.بنا دیکھ کے اسے کے بے جان وجود کو باہنوں میں اٹھاتے ہوئے نہ صرف اس کے ہاتھ کانپے تھے بلکہ اس کی.چال بھی ڈگمگارہی تھی..
شاہ زین جو ان لوگوں.کے.پیچھے جنگل.پہنچا .نمرہ.کا وجود جو شیر خان کی.بانہوں میں تھا دیکھ کے تیزی سے اسکی طرف بڑھا مگر چادر سے چھلکتی نمرہ کی ننگی ٹانگوں کو دیکھ کے وہ.سمجھ گیا. کے نمرہ پہ کیا قیامت گزر چکی. وہ الٹے قدم تیزی سے واپس مڑا اور باہر کھڑے آدمی کو غصہ میں چیخ.کے کہا..
دفعہ ہوجاو سارے یہاں سے ایک بھی آدمی مجھے یہاں نہ.دیکھے..شاہ زین کی گرجدار آواز اج پہلی بار وادی میں گونجی.
انکا ساتھ آیا ہر آدمی واپس مڑ گیا. جیڈی سکتے کی حالت میں جیپ کے ٹائر سے ٹیک لگائے اکڑو بیٹھا تھا…
جو شیر خان پوری.وادی میں اپنی دہشت جمائے بیٹھا تھا.
کتنہ.ہی عورتوں کی عزت اپنے ہاتھوں سے روندھ چکا تھا..اج قدرت کے انصاف پہ خاموش تھا..جبکہ جیڈی کی حالت بھی شیر خان سے کم.نہی تھی..
شاہ زین بہتی آنکھوں سے گاڑی چلا رہا تھا نہ اسے کوئ راستہ میں پڑا پتھر دیکھ رہا تھا نہ.کوئ گڈھا..کئ بار اسکی.گاڑی.حادثہ.کا شکار ہوتے ہوتے بچی تھی..
جہاں.نمرہ.میں سب کی.جان تھی. وہی شیر خان کو بھی اپنی.اس بیٹی سے خاص لاگاو تھا…
نمرہ.کو وجود حویلی پہنچا تو کہرام مچ گیا..جس جس نے بھی نمرہ کی.حالت دیکھی کانوں کو ہاتھ.لگایا..جبکہ.نوین بیگم کو تو ہوش ہی نہی تھا…وہ.تو بس بیہوش تھی. اور رابعہ بار بار دیوانہ وار اپنی بہن کے چہرء کو چھو کر دیکھ رہی تھی..
اور پھر وہ گڑیا سب کو روتا بلکتا چھوڑ کے مٹی کی آغوش میں جا سوئ…
¤¤¤¤¤¤¤¤¤
حمنہ نے شاہ زین کو حویلی.جانے کے بعد کئ بار فون کیا مگر شاہ زین کا نمبر مسلسل بند تھا..حمنہ کو عجیب سے وہمو نے آن گھیرا..
اج شاہ زین کو حویلی گئے ہوئے چھٹا دن تھا..رات کو حمنہ نے ہمایوں کو سلا کے ایک بار پھر شاہ زین کا نمبر ملایا. مگر ہر بار کی.طرح شاہ زین کا نمبر بند ملا..ابھی وہ.سونے.کیلیے لیٹی کے ایک دم دروازہ بجا…
حمنہ نے.گھڑی میں ٹائم دیکھا تو رات کے نو بج رہے تھے..اس نے بہت ہمت کرکے گیٹ کھولا تو سامنے شاہ زین کھڑا تھا.
حمنہ اسے دیکھ کے.کافی حیران ہوئ اس سے پہلے وہ شاہ زین سے کوئ سوال کرتی.. شاہ زین نے ایک.نظر اس پہ ڈالی اور اپنے.کمرے کی طرف بڑھ گیا..
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
..نمرہ.اداس سی اج دوپہر میں اسی جگہ بیٹھی گل خان کو یاد کررہی تھی. وہ اس سے ناراض ہوکے اس وجہ سے گیا تھا کیونکہ نمرہ ہمیشہ اس سے دوپہر میں جنگل میں ملتی.تھی جبکہ وہ ہمیشہ نمرہ سے رات میں ملنے پہ.اصرر کرتا کیونکہ.اسے دوپہر میں اسے پکڑے جانے کا.خدشہ ہوتا.. جب نمرہ نے گل.خان کے اتنے اصرار کرنے پہ.بھی اسکی بات نہی مانی تو وہ ناراض.ہوکے چلا گیا.اج اسے کافی عرصہ بیت گیا..نمرہ گل خان سے محبت کرنے لگی تھی اس سے اسکی دوری برداشت نہی ہورہی تھی. کتنی بار اسے نے گل خان کو کہا اپنے گھر رشتہ بھیجنے کو مگر ہر بار وہ یہی کہتا کہ وہ اسکے باپ کے سامنے جانے کے قابل نہی ہے..
نمرہ ابھی ان ہی سوچوں میں گم تھی کہ جب اسے اپنے.پیچھے کسی.کی موجودگی.کا احساس ہوا..نمرہ نے نے پلٹ کے دیکھا تو دنگ رہ.گئ وہ کافی عرصہ بعد گل خان کو اپنے سامنے دیکھ رہی تھی..
گل خان کو دیکھتے ہی وہ ڈور کے گل خان کے گلے لگ گئ..اور شکوہ.کرنے لگی..
گل خان نے نہ.اسے تھامنے کیلیے اسے کمر سے پکڑا نہ اسے دلاسہ دیا.
نمرہ تھوڑی دیر بعد گل خان سے الگ ہوئ تو گل نے اس سے کہا. .
جب میری کسی بات کی تمہارے نظر میں کوئ اہمیت نہی تو یہ رونا دھونا کس لیہ..
میرا آج بھی.تقاضا یہ ہی اگر مجھ سے محبت کرتی.ہو تو میری مجبوری کو سمجھو..اج رات مجھ سے ملنے آوگی.اسی جگہ اگر تم.اج نہی آئ تو پھر میرا اور تمہارا ہر تعلق یہی ختم یہ بول کے گل.خان چلا گیا..
گھر آکے نمرہ کافی دیر تک گل خان کو سوچتی رہی..اور پھر وہ اپنے پیار کے آگے مجبور ہوگئ..
رات میں وہ سب کے سونے کے بعد اسنے اپنے.اپکو ایک کالی.چادر میں.لپیٹا اور گل خان سے ملنے چلی گئ..
گل خان جو جنگل میں نمرہ.کی.راہ تک رہا تھا اپنے سنے نمرہ.کو دیکھ کے ایک دم خوش ہوا.
اسنے نمرہ کو ایک دم اپنے گلے سے لگالیا..اور دھیرے دھیرے اسکی چادر کھسکانے لگا..نمرہ کے دل میں عجیب سے وحشت ہوئ. ایک دم اس نے گل خان کو خود سے دور کیا اور کہا.
یہ غلط ہے گل خان میں اب چلتی ہوں…یہ بول.کے نمرہ.جیسی ہی جانے کیلیے مڑی گل.خان نے اگے بڑھ کے اسکا.ہاتھ پکڑا اور ایک زناٹے دار ٹھپڑ اسکے منہ پہ.مارا..اور اسکے بالوں کو اپنی.مٹھی میں جکڑ کر کہا..
ابھی کہاں.. ابھی تو تو اپنے باپ کے گناہ.کی.سزا بھگتے گی ..
گل خان کے بولنے پہ نمرہ نے آنکھوں میں آنسو لیہ گل کو بے یقینی کی.حالت میں دیکھا..
گل خان ایک منٹ کیلیے نمرہ کی آنکھوں میں دیکھنے لگا اسے لگا شاید وہ غلط کررہا ہے.
مگر اچانک اسے کے سامنے اسکی بہنوں کی.برہنہ.لاشیں جو شیر خان کی.درندگی کا ثبوت تھی اور اسکے باپ کی گولیوں سے چھلنے وجود دیکھا تو اسکے آنکھوں میں خون اتر آیا..وچاہ کر بھی شیر خان سے بدلہ نہی لے سکتا تھا اس لیہ اس نے شیر خان کی بیٹی کو اپنا نشانہ بنایا ہ شاید الللہ.نے اس کی زندگی رکھی تھی جو اس دن وہ.کسی کام سے شہر گیا ہوا تھا..
اور بس پھر اس نمرہ کے منہ پہ کپڑا بندھا اور اسے مسلسل دو دن اپنی درندگی کا نشانہ بنایا اور جب اس نے دیکھا کہ نمرہ.کے وجود بے جان ہو چکا تو اس نے نمرہ کو اسی حالت میں جنگل میں چھوڑا جس حالت میں اسکی بہنیں تھی اور سامنے پہاڑی سے کھائ مین کودھ کے اپنی جان دے دی کیونکہ اسکی زندگی کا مقصد پورا ہو چکا تھا…
اور اب اس دنیا میں اسکا کوئ اپنا نہی تھا جسکے لیہ وہ جیتا….
جاری یے..