Rate this Novel
Episode 11
(حال)
صبح ثنا.کی آنکھ کھولی تو س نے اپنے اپکو ہما کے گھر میں پایا…
اٹھنے.کی لاکھ کوشش کے باوجود ثنا اٹھ نہی پائ.. سر میں اٹھتی ٹیسیں..کی وجہ سے ثنا کو پورا سر گھوم رہا تھا…ابھی وہ اٹھنے کی جدوجہد میں تھی.. کہ ہما بھاپ اڑاتی کافی کا کپ.لیے کے.کمرے میں داخل ہوئ…
…
کمرے میں داخل ہوتے ہی.ہما نے کافی.کا کپ.سائیڈ میں رکھا اور ثنا کو دیکھ کے پر جوش آواز میں کہا….
گڈمارننگ میری جان اب کیسا فیل کررہی ہو؟؟؟
ہما کے سوال پہ ثنا نے اکتائ نظروں سے اسے دیکھا اور کہا…
اب بہتر ہو.. میں یہاں مطلب کیسے.. ؟؟؟
.
ہما اسکے سامنے والے چھ سٹر صوفے پہ بیٹھی اور کہا…
یار ثنا تم نے.کل.کافی ڈرنک.کرلی تھی..
جیسی تم جانے کیلیے کھڑی ہوئ ویسی ہی بیہوش ہوگئ..میرے تو ہاتھ پاوں پھول گئے. میں مجبورا اپنے بوائے فرینڈ کا کال کی ا..س نے میرے مدد کی تمہیں میرے گھر تک پہنچانے میں…تمہارا وولٹ تو مجھے نہی.ملا ..ہاں موبائل ملا.. تھا..اور میں نے انکل کو کال.کرکے بول دیا تھا کہ میری طبیعت خراب ہے اس لیہ تم.میرے گھر میرے پاس رکوگی…اب اگر تمہیں نشے کی حالت میں تمہارے گھر لیے کے جاتے تو انکل کا ریکشن تم.جانتی ہو…
ہما کی بات سن کے ثنا نے ایک لمبی سانس لی.اور اسے کہا..
شکریہ ہما میرا ساتھ دینے کیلیے.. اور سائیڈ میں رکھا کافی کا کپ اٹھا کے سپ.لیا ہی تھا کہ ڈور بیل.کی آواز پہ.دونوں چونکے….
ارے اس وقت کون آگیا….ہما اچھی طریقے سے جانتی تھی کہ نومی.ہی.ہوگا..مگر ثنا کے سامنے انجان بنے.کا ناٹک کرکے دروازے کا.کھولنے گئ اور ساتھ میں ثنا کو فریش ہوبے کا بھی بول گئ..
¤¤¤
گیٹ کھولتے ہی نومی کا مسکراتا چہرہ ہما کو دیکھا.. اس نے جھک کے ہما کے لبوں کو ہلکا سا چھوا اور کہا…
گڈ مارننگ میری جان کیسی ہو… ؟؟
نومی کی گستاخی پہ ہما ہلکا سا شرمائ اسے اندر آنے کا راستہ دیتے ہوئے کہا.
بلکل ٹھیک.. ناشتہ کیا تم نے نومی؟؟؟
ارے نہی نہ میری جان تمہارے پیارے پیارے ہاتھوں سے کرونگا…
یہ بول کے نومی مسکرایا…
تو ہما مسکراتے ہوئے کچن کی.طرف جانے لگی. جب نومی نے فلیِٹ میں ادھر ادھر نظر گھومتے ہوئے.. کچن میں ناشتہ بناتی ہما سے پوچھا…
تمہاری فرینڈ کی طبیعیت کیسی ہے اب اٹھ گئ کیا؟؟؟؟
ابھی ہما نومی کی بات کا جواب دیتی کہ ثنا اسے کمرے سے نکلتی.ہوئ دیکھائ دی..
ثنا وہاں بیٹھ کے نومی کا شکریہ ادا کیا مگر نومی کی.نظر تو اسکے نکھرے نکھرے سراپے پہ ٹھر گئ…
ٹیبل پہ ہما کے ناشتہ رکھنے پہ نومی ہوش میں. آیا…
ہما اور نومی ناشتہ کرنے میں مصروف تھے.. مگر ثنا کسی گہری سوچ میں گم اپنے چائے کے کپ پہ گول گول انگلیاں پھیر رہی تھی…ہما نے اور نومی دونوں نے پہلے اسے دیکھا اور پھر ایک دوسرے کو..
کہ جبھی ہما نے ثنا کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھا اور کہا..
پریشان نہی ہو ثنا سب ٹھیک ہوجائے گا…نومی نے ثنا سے کہا…
ثنا اگر اپ مائیینڈ نہ کرے تو کیا میں جان سکتا ہو کہ اپ کس بات کو لے اتنی پریشان ہیں..کیونکہ جس کنڈیشن میں کل میں اپکو بار سے لایا تھا ایسی حالت یہ.تو دل توٹنے پہ ہوتی ہے یہ پھر شدید غصہ کے عالم… اگر اپ چاہے تو مجھے بتا سکتی ہیں کیا پتہ میرے پاس اپکی پریشانی کا حل.ہو..
ثنا انے یک نظر اسے دیکھا اور کہا میں نے خود اپنے پاوں پہ کلہاڑی ماری ہے… اب شاید کچھ نہی ہوسکتا میں اسے کبھی بھی پا نہی سکتی…یہ بول کے ثنا کی آنکھوں سے آنسوجاری ہونے لگے..
ثنا کو روتا دیکھ نومی نے بیزاریت سے اسے دیکھا.. مگر پھر اپنا فیس کے ایکپریشن نارمل کرتے ہوئے. ہما سے کہا..
ہما تم ہی بتاو اسٹوری ہے کیا ثنا کی؟؟؟
نومی کے پوچھنے پہ ہما نے ثنا کے ماضی سے لیہ کے کل ہوئ ہمایوں سے ثنا کی ملاقات کا سارا حال احوال سنا دیا…
ہما کی پوری بات سن کے اور خاص کر یہ سن کے ثنا شادی شدہ ہے..نومی کو کافی برا لگا. مگر فلحال وہ اس مچھلی کو سمندر میں گھومنے کی.اجازت دے سکتا تھا.. کیونکہ نومی کے مطابق ابھی اس مچھلی کو چارا کھلانا بہت ضروری..تھا..
فلحال نومی نے ابھی اپنامعملہ سائیڈ پہ رکھا اور ثنا کا دل جیت نے کی تھانی…
نومی.نے دونوں ہاتھ آپس میں جوڑ کے ٹیبل پہ.جھکا اور کہا…
دیکھو ثنا یہ کام تھوڑا مشکل ہے مگر ناممکن نہی..اپ ایک بار پھر اسکینطرف دوستی کا ہاتھ بڑھاو.. فلحال ابھی اسکا اعتماد جیتنے کی.کوشش کرو..پھر کچھ ایسا کرو کہ جب اسے شادی.کی آفر کرو تو اسے لگے اس دنیا میں اپ سے بڑا ہمدرد اسکا کوئ نہی…
ثنا نے کنفیوزن سی حالت میں نومی کو دیکھا اور کہا..
تم.کیا کہنا چاہ رہے ہو؟؟؟
نومی.مجھے سمجھ نہی آرہا…
دیکھو ثنا اپ اتنی ننھی منھی نہی کہ اپکو میری بات سمجھ نہی آرہی ہو..کچھ ایسا کرو جس کی وجہ سے وہ اپ سے شادی کرنے کیلے یہ تو اپنی مرضی سے تیار ہوجائے..یہ پھر مجبوری کے تحت…
کوئ.ایکسیڈینٹ .جو جان بوجھ کے کروایا جائے جس میں خالی معزور ہوجائے..یہ پھر کچھ ایسا جسکا بدلے میں عزت دار لڑکے کے پاس سوائے شادی کرنے کے علاوہ کو آپشن نہی ہوتا..
اپ سمجھ گئ نہ میری بات…نومی نے کافی ریلکس انداز میں کرسی کی پشت سے ٹیک لگائ. نومی کی باتیں جہاں ہما کو سمجھ میں آچکی تھی.. وہی ثنا کافی حد تک ڈر گئ تھی..اس نے نومی سے کہا.
نومی تمہیں لگتا ہے یہ سب کرنا ٹھیک ہوگا…؟؟؟
اوہ کم اون ثنا..اپ نے وہ.کہاوت تو سنی ہوگی…
every thing fair in love and war..
محبت اور جنگ میں سب جائز ہے…
لیکن مجھے یہ سمجھ نہی آرہا تم.میری اتنی ہیلپ کیوں کررہے ہو.؟؟
.
ثنا نے نومی کو جانچتی نظروں سے دیکھتے ہوئے.کہا
ثنا کی بات پہ.نومی کے لبوں پہ ہلکی سی مسکرائٹ آئ اور اس نے کہا.
کیونکہ اج سے ہم فرینڈ ہے نہ…یہ بول.کے نومی نے اپنا ہاتھ اگے بڑھایا…تو ثنا نے گھور کے پہلے نومی.کو دیکھا اور پھر ہما کو… اور پھر مسکرا کے اسکا ہاتھ تھام لیا…
(اور ان بیوقوف لڑکیوں کو کون سمجھائے کہ ایک لڑکا اور ایک لڑکی کبھی دوست نہی بن سکتے جو اپ سے محبت کریگا وہ کبھی.کیسی اور لڑکی سے دوستی نہی کریگا..کیونکہ اسکی دشمن اسکی دوست اسکا سب کچھ صرف اپ ہونگی.)مریم عمران#
..
اور ہما کو وقت بہت جلد یہ بات بتانے والا تھا….
¤¤¤¤¤¤¤¤¤
اسکول جوائن کرنے بعد اعیرہ. انعم. عاطف اور عابد میں کافی اچھی دوستی ہوگئ تھی.. مگر یہ دوستی صرف اسکول تک تھی…کیونکہ فاطمہ اس بات سے سخت اعتراض تھا…کہ انکی بیٹیاں لڑکوں سے دوستی کرے…
دو ہفتے بعد میٹرک کے بورڈ کے امتحان ہونے والے تھے..
سب ہی.دل وجان سے اپنی اپنی پڑھائ میں لگے تھے….
تو ادھر المیر نے آفرین کی ساری انفارمیشن نکال لی تھی ..اور المیر پتہ چلا کہ آفرین کسی مین انٹرسٹڈ ہے..
مگر وہ.لڑکا آفرین کے لیہ صحیح نہی تھا..کیونکہ آفرین کیساتھ اسکا کئ لڑکیوں سے آفئیر تھا…اسکا پیشیہ ہی یہ تھا. کہ پہلے لڑکیوں کو اپنے محبت کے جال.میں پھنساتا اور پھر انکی وڈیو بنا کے ان سے پیسوں کی.ڈیمانڈ کرتا..
مگر المیر کی سمجھ میں نہی آرہا تھا کہ.کیسی یہ بات آفرین تک.پہنچائے.
نومی.کے پلین کے مطابق ثنا نے نہ صرف ہمایوں سے معافی.مانگی بلکہ اسکی طرف دوستی کا.ہاتھ بڑھایا…جیسے ہمایوں نے خوشی خوشی تھام لیا…
ثنا نے نہ صرف اپنی ڈریسنگ درست کی بلکہ آفس بھی جوائن کرکے ہمایوں کو اس بات ک یقین دلایا کہ وہ.کافی چینج ہوچکی ہے…
ثنا کے بدلاو کو دیکھ کے ہمایوں کو بہت خوشی ہوئ…
….ہمایوں اپنے آفس. میں بیٹھا ثنا کیساتھ کوئ پراجیکٹ ڈسکس کررہا تھا کہ جبھی اسکا موبائل رنگ ہوا..موبائل پہ.چمکتا ہوا نمبر دیکھ کے ہمایوں کے چہرے پہ ایک دلکش مسکراہٹ آگئ جو ثنا سے نہ چھپ سکی…اس نے ثنا کو ایکسکیوز کرکے المیر کی.کال اٹینڈ کرکے اسپیکر پہ ڈالی اور کہا…
ہیلو میرے جگر کی حال ہے؟؟
ہمایوں کی بات سن کے المیر بھی مسکرا اٹھا اور کہا…
کہاں ہے.کمینے انسان یونی اوفف ہونے کے بعد بلکل بدل گیا..کراچی کو تو بلکل بھول گیا…کب آیے گا کراچی یار.. سال.ہوگیا ہے تجھے کراچی آئے ہوئے..
ہمایوں اور المیر یونی فرینڈ تھے. ہمایوں رہتا تو لاہور میں تھا مگر اس نے بزنس کی پڑھائ کراچی سے ہی حاصل کی..
بس تو سمجھ تیری خواہش پوری ہوگئ…کیونکہ ایک ہفتہ بعد میں کام کے سلسلے میں کراچی آرہا ہو..
ہمایوں کی بات سن کے المیر کو کافی خوشی یوئ اور اس نے کہا…
ہاں ٹھیک ہے جلدی آ مگر اس بار تو پورا ایک.ہفتہ کراچی میں رکے گا…
اوکے ڈن..
ہمایوں اور المیر ابھی اپس میں باتیں کررہے تھے.. کہ ثنا ایکسکیوز کرکے باہر آگئ..اور اس نے فورا نومی کو ہمایوں کا کراچی جانے.کا بتایا..
جسکے بدلہ نومی نے جو پلین ثنا کو اسے بتایا.اس کو سن کے ثنا نے صرف اتنا ہی.کہا..
نومی ہمایوں کا ذیادہ نقصان نہی ہونا چاہیے.
اوکے مائے ڈئیر.
نومی ثنا کی.کال.کٹ کر کے کراچی میں.موجود اپنے بندے کو کال.کرکے کام سمجھایا اور کہا..
یاد رکھنا صڑف معزور ہونا چاہیے.. میں اسکی پکک کل تک تمہیں سینڈ کردونگا.
جاری ہے…
