Gunah Se Wapsi By Mariyam Imran Readelle50215 Episode 42 Part 1
Rate this Novel
Episode 42 Part 1
اعیرہ کی شادی کے بعد سب کی زندگی معمول پہ اگئ ۔ناشتہ کی ٹیبل پہ پوری افتاب فیملی ناشتہ کرنے میں مگن تھی۔جب افتاب نے ناشتہ کرتی افرین کو مخاطب کیا۔۔
افرین؟؟؟
جی انکل۔۔
بیٹا تم یونی کب سے جانا شروع کروگی؟؟؟
افتاب کے سوال پہ افرین کی نگاہ فورا المیر کی طرف اٹھی المیر بھی اسی کو گھور رہا تھا ۔مگر یہ بات افتاب سے نہ چھپ سکی افتاب نے پھر افرین سے کہا۔۔۔
افرین تم کل مونا کیساتھ یونی جاوگی اور اپنی۔پڑھائ پر توجہ دوگی شادی ہوگئ اسکا یہ مطلب نہی کے بلکل ہی اپنا خواہشیوں کا گلا گھوٹ دو تم اس گھر کی بہو نہی بیٹی ہو بلا جھجک تم مجھ سے ہر بات کہہ سکتی ہو میں تمہارا بھی پاپا ہو اور اج کے بعد مجھے انکل نہی پاپا بولنا۔۔
افتاب کی بات پہ سب کےلبوں پہ مسکراہٹ ڈور گئ جبکہ المیر اب بھی افرین کو گھورنے میں مگن تھا۔اسے ڈر تھا کے یونی جاکے افرین پھر اصف سے تعلق نہ بڑھا لے اس لیہ اس نے افرین کو بہت پہلے وارن کردیا تھا کے وہ یونی نہی۔جائےگی۔۔
افتاب جس کی نظر مستقل المیر پہ تھی جو افرین کو گھورنے میں مصروف تھا۔۔اور فاطمہ افتاب کا غصہ سے بھرا چہرہ دیکھ کےسمجھ چکی تھی کے اب المیر کی خیر نہی۔۔
افتاب ناشتہ کی ٹیبل پہ سے اٹھا اور جاتے جاتے المیر سے کہا۔
ناشتہ سے فری ہوکے میرے کمرےمیں انا المیر۔۔
المیر جو اب بھی افرین کو گھورنے میں مگن تھا۔افتاب کےبولنے پہ ایک دم بوکھلایا اور کہا۔۔
جی پاپا بس ایا۔۔
اتوار کا دن تھا تو سبھی ناشتہ کرکے اپنےاپنے کمروں میں چلے گئے ۔اور المیر افتاب کےکمرے میں۔۔
المیر نے کمرے کا دروازہ ناک کیا تو افتاب نے اسے اندر انے کی اجازت دی
المیر کمرے کے اندر گیا توافتاب بہت غصہ کے عالم میں صوفے پہ بیٹھے تھے جبکہ فاطمہ گردن جھکائے بیڈ پہ ۔۔
االمیر کو دیکھ کے افتاب صوفے پہ سے اٹھ کے المیر کےسامنے ایا اور کہا۔۔
یونی کی بات پہ افرین کو کیوں گھور گھور کے دیکھ رہے تھے۔۔؟؟؟
افتاب کی بات پہ المیر نےنگاہ اٹھا کے اپنے باپ کو دیکھا اور بہت دھیمی اواز میں کہا۔
پاپا میں نہی چاہتا افرین یونی جائے۔۔۔
المیر کی بات پہ۔جہاں افتاب نے حیران ہوکے المیر کو دیکھا کچھ ایسا ہی حال فاطمہ کا بھی کا تھا کیونکہ ان دونوں نے ہی اپنے بچوں کی پرورش اس انداز میں کی تھی کے جسمیں اولین ترجعی عورت کی عزت تھی۔۔اسکی خواہشوں کا احترام تھا۔
مگر المیر کی اس بات پہ دونوں نے ہی۔حیران کن نظروں سے المیر کو دیکھا اورافتاب نے پھر المیر سے پوچھا..
وجہ جان سکتا ہو اس چھوٹی سوچ کی تمہاری؟؟
افتاب نے بہت مشکل سے اپنے غصہ کنٹرول کرکے المیر سے پوچھا۔
پاپا وہ ماما بھی اکیلی ہوتی ہے اب مونا بھی یونی جائیگی تو ماما اکیلی ہوجائے گی۔۔
اوہ ہیلو میرا نام مت لو میں اکیلی نہی ہوتی گھر میں نوکروں کی پوری فوج ہے اپنے مطلب کی بات کرو کس وجہ سے افرین یونی نہی۔جائے۔
المیر کی بات پہ اس سے پہلے افتاب جواب دیتا فاطمہ بھڑک گی۔۔
افتاب نے ایک نظر المیر پہ ڈالی اور کہاافسوس ہے کے تمہاری سوچ اتنی چھوٹی ہے وہ بھی اس لڑکی کےمعملے میں بقول تمہارے جس سےتم محبت کرتے ہو۔۔
افتاب بول کے فاطمہ کی۔طرف مڑا اورکہا۔
ضروری کام سے جارہا فاطمہ ہو سکتا ہے لنچ پہ نہ او۔۔
یہ بول کے افتاب کمرے سےنکلا تو فاطمہ تیزی سے المیرکی طرف بڑھی اور اسکاںرخ اپنی طرف موڑکےکہا۔۔
کیا بات ہے ؟؟؟
ادھر دیکھو میری طرف سچ سچ بتاو مجھے ۔
المیر نے ایک نظر فاطمہ کو دیکھا اور سوچا اگر وہ بتا بھی دے فاطمہ کو افرین کو یونی نہ بھجنے کی وجہ توپوری اسٹوری انہیں بتانی پڑے گی جسکا نتیجہ کیا نکلے گا یہ المیر خود بھی نہی جانتا تھا۔فلحال اس نے اصل بات دبائ اورکہا بھی تو چڑ کے صرف اتنا۔۔
ارے ماما ایسی ہی بول دیا تھا مجھے کیا پتہ تھا وہ لیڈی ڈائنا کوکچھ منع کرنے پہ ہٹلر پاپا مجھ پہ دفعہ لگادینگے وہ بھی چھوٹی سوچ کا لقب ۔۔یہ بول کےالمیر کمرے سے نکل گیا تو فاطمہ بھی تھک ہار کے بیڈ پہ بیٹھ گئ۔۔
##########
افتاب کی بات سن کے افرین تو مانو ہواوں میں اڑنے لگی کہی نہ کہی المیر کا شک صحیح تھا کیونکہ افرین کو یونی جانے سے زیادہ اپنی محبوب سے ملنے کی جلدی تھی۔افرین ابھی اپنے گھر کال کرکے اپنی کتابیں بھیجنے کا بولا افرین کے چہرے سے اسکی خوشی ک اندازہ لگایا جاسکتا تھا۔
کمرے میں اتا المیر افرین کا خوشی سے بھرپور چہرہ دیکھ کےبہت مشکل سے اپنے کھولتے خون کو کنٹرول کیا ۔
افرین کال کٹ کرکے جیسی ہی پلٹی المیر کو کمرےمیں دیکھ کے وقتی طور پہ ڈری مگر المیر کا غصہ سے بھرا چہرہ دیکھ کے اسےبہت سکون ملا کیونکہ وہ جان چکی تھی کے یہہ غصہ کس بات کا ہے اس نےایک طنزیہ مسکراہٹ المیر کی طرف اچھالی اور سائیڈ سے نکلنے لگی۔افرین کی مسکراہٹ جیسے دیکھ کے المیر بھر پور طریقے سے بھنوٹ ہوگیا اور سایئڈ سےنکلتی افرین کو کھینچ کےبیڈ دھکا دیا اور اسکے اوپر جھک کےاسکے دو ہاتھ اپنے ہاتھوں میں جکڑے اور کہا۔
بہت خوشی ہے اپنے یار سے ملنے کی؟؟
افرین جو المیر کی اس حرکت پہ ایک دم بوکھلا گئ تھی المیر کی بات پہ اسکے لبوں پہ دلفریب مسکراہٹ ائ اور اس نے اپنے ہاتھ کو المیر کے ہاتھوں سےچھڑواتے ہوئے المیر کی انکھوں میں انکھیں ڈال کے کہا۔
ہاں جلدی ہے اپنے یار کے دیدار کی اسکی باہنوں میں سمانے کی۔۔
افرین کی بات سن کے المیر نے اپنے گرفت اسکے ہاتھوں پہ اور سخت کی اور کہا۔
میرے ضبط کو اور مت ازماو افرین ابھی کے ابھی عزت سے خود پاپا کو جاکے منع کرو کے تم۔یونی نہی جارہی۔۔
کبھی نہی۔مسٹر المیر جیسے تم نے میری کسی بات کا بھرم نہی رکھا زبردستی مجھے اپنی اس محنوس زندگی میں شامل کیا ہے نہ تو بھول جاو عزت وعزت اب دیکھو تماشہ مسٹر المیر تم جیسوں کو تو وہاں جاکے مارنا چاہیے کے نہ تم سہہ پاو نہ بتا پاو۔۔افرین اس وقت مکمل طور پہ المیر کے رحم وکرم پہ تھی مگر المیر یہ بات نوٹ کرچکا تھا کے اج نہ افرین کےلہجہ میں ڈر ہے نہ اسکی انکھوں میں۔۔
تم نے مجھ سے میری محبت چھینی میرا سکون چھینا میرے زندگی بربادکردی تم کیا سمجھتے ہو۔میں کوئ الللہ میاں کی گائے ہو جو تمہارا ہر ظلم چپ چاپ برداشت کرونگی ابھی توجنگ شروع ہوئ ہے مسٹر المیر میں چاہتی ہو کے تم غصہ کرو لڑو جھگڑو میرےیونی جانے پہ مجھ سےتاکے پتہ چلے سب کو کے تم نےکیا کیامیرےساتھ ۔۔افرین کا بس نہی چل رہا کے وہ اپنی زبان سے وہ ساری لفظ المیر کے سامنےبولے جو وہ المیر سے نفرت کی صورت میں اپنے اندر دفن کررہی تھی
المیر نے ایک نظر افرین کی انکھوں میں دیکھا جہاں صرف بغاوت ہی بغاوت تھی۔۔
المیر نے اسکے دونوں ہاتھ اوپر کرکے اپنے ایک ہاتھ میں پکڑے نازک سی کلائ افرین کی کسی مڑے ہوئے نوٹوں کی طرح المیر کے ہاتھ میں سماگئ۔۔
المیر نے افرین کے لبوں کو فوکس کرتے ہوئے کہا۔
چلو جانمن تمہں اج بتا ہی دیتے ہیں کے جنگ کییسے کہتے ہیں ابھی تم نے کہا نہ کے مجھ جیسے لوگوں کو وہاں مارنا چاہیے جہاں ہم نہ سہہ پائے نہ بتا پائے ۔تو کچھ ایسا ہی ٹریلر اج تمہیں میں دیکھاتا ہوں کچھ ایسا ہو اج تمہارے ساتھ نہ تم سہہ پاو نہ اپنے یارکو بتا پاو ۔۔افرین جو ابھی کچھ دیر پہلے شیرنی بنکے لفظوں کے تیر المیر کی ذات پہ برسا رہی تھی جسکی انکھوں میں ابھی چندسیکنڈ پہلے المیر کو صرف بغاوت نظر ارہی تھی اب وہاں صرف ڈر تھا ۔۔المیر نے ایک نظر افرین کےسہمے ہوئے وجود کو دیکھا اور پھر اسکے لبوں پہ جھک گیا۔دھیرے سے اسکے گلےکا ڈوپٹہ ہٹایا افرین کی انکھوں سے انسو جاری تھے ۔وہ لاکھ مزاحمت کے باوجود اپنے لبوں کو المیر کے لبوں سے ازادنہی کراپائ المیر کا ہاتھ جب افرین کے پیٹ پہ گیا افرین کی رہی سہی کسر بھی جواب دے گئ اس سے پہلے المیر کوئ اور گستاخی کرتا ایک دم کمرے کا دروازہ بجا۔المیرنے ایک دم افرین کےلبوں کو اذاد کیا اوراسکا منہ دبا کےکہا اگر زرا سی بھی اوازای تو پھر اپنا حال دیکھنا۔۔یہ بول کے المیر نے اگےبڑھ کے دروازہ کھولا تو مونا کھڑی تھی جس نے صرف اتنا کہا۔۔
بھائ ماما بولا رہی ہے افرین بھابھی کو۔۔
اچھا تم چلوواش روم میں ہے وہ اتی ہے ابھی۔۔
المیر کا جواب سن کے مونا واپس مڑی۔۔
مونا کے جاتے ہی المیر دروازہ بند کرکے جیسی ہی مڑا افرین نے ایک زناٹے دار ٹھپڑ المیر کے منہ پہ دے مارا۔۔
جاری ہے۔
۔
