Gunah Se Wapsi By Mariyam Imran Readelle50215 Episode 39 Part 1
Rate this Novel
Episode 39 Part 1
اج کمبائند مایوں کا فنکشن تھا..آفرین نے فل یلو رنگ کا شراراہ پہنا تھا جس پہ پھولوں کا زیور پہنے آفرین پہ کمال کا روپ آیا تھا.تو ادھر وائٹ کاٹن کا سمپل سوٹ پہنے المیر آفرین کی ٹکر پہ تھا..
آفرین نےگھونگٹ کیا ہوا تھا اس لیہ المیر اسکا چہرہ نہی دیکھ پایا باری باری سب نے رسم کی جب کھانا کھلا تو المیر نے آفرین کے قریب ہوکے ہلکی سی سرگوشی کی..
یہ ظلم ہے جانمن چہرہ تو دیکھا دو پلیز..
المیر کی ایسی باتوں پہ آفرین نے غصہ سے اپنی مٹھایا ں بھینچی اور کہا.
جب کفن میں لپٹی ہونگی تو دیکھ لینا میرا چہرہ کیونکہ تمہارے ساتھ زندگی گزارنے سے بہتر میں مرنا پسند کرونگی اور بہت جلد میں یہ.کرونگی..
المیر جس نے آفرین کی آواز سننے کیلیے ہلکا سا مزاق کیا تھا مگر آفرین نے اسکی بات کا جو جواب دیا.المیر کے پیروں کے نیچے سے زمین کھسک گئ
اسکے سارے موڈ کا بیرا غرق ہوچکا تھا..
تھوڑی دیر بعد ہمایوں اور اعیرہ کی.رسم ہوئ سب نے ہی رسم کی.مگر حب المیر نے اعیرہ کو مٹھائ کھلانا چاہی تو نہ تو اس نے منہ کھولا اور نہی اس نے المیر کی طرف دیکھا..
المیر کی آنکھیں بھگینے لگی مگر ہمایوں نے اسے اشارہ.کیا تو وہ خاموشی سے اسٹیج سے اتر گیا..
مایوں کا فنکشن اپنے.اختتام کو پہینچا ..سب ہی.خوش تھے سوائے دو نفوس کے آفرین کی اج کی رات پھر آنسو میں کٹی کیونکہ.کل.اسے المیر کی.ہوجانا تھا کاشف کو اس نے اج بہت بار کال کی مگر کاشف نے اس کی ایک بھی کال ریسو نہی کی وہ جو سمجھ رہی تھی کے وہ.کافی اداس ہوگا اس لیہ میری کال.اٹینڈ نہی.کررہا مگر اسے کیا معلوم وہ اج اپنی رنگینوں میں مست ہے…
رات کو اعیرہ چیج کرکے باہر آئ تو موناکے ساتھ ساتھ المیر بھی اسکے کمرے میں موجود تھا..
اعیرہ نے اسے ایک نظر دیکھا اور پھر اسے اگنور کرکے لیٹنے لگی.کے المیر نے تیزی سے اعیرہ کو گودھ میں اٹھاکے ڈریسنگ پہ بیٹھایا اور کہا…
میری ایک بار بات تو سن لو گڑیا اگے پھر تمہاری مرضی میں کبھی تمہارے سامنے نہی آونگا…
المیر کی بات سن کے اعیرہ نے غصہ میں منہ پھیرا .المیر سمجھ گیا کے وہ بات سننے کیلیے ریڈی ہے..
دیکھو گڑیا مانا میں نے اپنے دوست کی سفارش کی لیکن یقین مانو میں نے نہی بولا اتنی جلدی شادی کا چاہو تو سامنا کروانے کیلے تیار ہو یہ بات ہمایوں کو بھی نہی پتہ تھی یہ حمنہ آنٹی کی خواہش تھی.اور رہا سوال ہمایوں کا تو وہ سچ میں تم سے محبت کرتا ہے جب اس نے مجھ سے تمہارا ذکر کیا تو صاف بولا تھا نہ انکل آنٹی پہ اس رشتہ کا زور دینا نہ اعیرہ پہ اگر کوئ نہی مانا تو میں اپنی.محبت لے کے سائیڈ میں ہوجاونگا..میں اپنی گڑیا کیلیے اگر خود سے بھی ڈھونڈتا تو ہمایوں جیسا نہی ڈھونڈ پاتا..ہربار اپنی زندگی کی چھوٹی سی چھوٹی بات تم نے مجھ سے پو چھ کے کی تو تم نے یہ کیسے سوچ لیا کے تمہارا بھائ تمہارے لیہ کوئ غلط فیصلہ لے گا اور باقی اب بھی اگر تم مجھے نارض ہو تو ٹھیک ہے میں تمہارے سامنے نہی آونگا..
یہ بول کے المیر اعیرہ کے سامنے سے ہٹ کے اسکے بولنے کا ویٹ کرنے لگ جبکہ مونا تو اپنی نیل کو فنشنگ دے میں مصروف اس نے صاف اس معملے میں المیر کی.مدد کرنے سے انکار کردیا تھا..
اعیرہ ڈریسنگ سے نیچے اتری اور اپنا ڈوپٹہ اوڑھا اور کمرے سے باہر جاتے ہوئے کہا.
اسی وقت المیر بھائ اپ مجھے گول گپے اور آئسکریم کھلانے لے کے کر چل رہے ہیں اور پرمیشن اپ لینگے امی سے یہ بول کے اعیرہ کمرے سے باہر نکلی. المیر کی خوشی کا تو کوئ ٹھکانہ نہی رہا.المیر نے یاہو کا نعرہ لگا اور باہر کی طرف بولتے ہوئے.گیا..
ارے ہاں میری گڑیا چلو چلو..
مونا نے ایک گہری سانس لی اور کہا..
دو بہن بھائ ہی سائیکو ہے ایک میں ہی پورے گھر میں انٹلیجنٹ ہو افف مونا یو آر سو اسمارٹ…
یہ بول کے مونا بھی انکے پیچے چل.پڑی..
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
اج برات کا دن تھا صبح ہی آفرین اور اعیرہ کی مہندی لگ چکی تھی دونوں کی.ہی مہندیوں کا رنگ کافی گہرا آیا تھا. دوپہر میں گھر میں ہی اعیرہ اور ہمایوں کا نکاح ہوا..نکاح نامہ پہ سائن کرتے ہوئے اعیرہ کی ہارٹ بیٹ کافی تیز تھی ..کچھ ایسا ہی.حال ہمایوں کا بھی تھا اس نے سوچا نہی تھا اسکا الللہ اس پہ یو مہربان ہوگا..
نکاح کے بعد اعیرہ المیر اور مونا کے گلے لگ کے بہت روئ حبکہ اسکے سارے فرینڈ اسکے لیہ کافی خوش تھے..
سب سے آخر میں وہ.فاطمہ سے مل.کے خوب روئ تو کچھ ایسا حال فاطمہ کا بھی تھا. فاطمہ نے اعیرہ کو ہمایوں اور اسکے رشتہ کے بارے میں کافی کچھ سمجھایا سوائے ان دونوں کے حقوق کے..
المیر کی برات کافی دھوم دھام سے آئ تو ادھر کمال صاحب نے بھی برات کا پرتپاک استقبال کیا.
بلیڈ ریڈ اور ڈارک گرین کلر کے شرارے میں آفرین جب دلہن بنی تو خود کو پہچان نہی پائ تو ادھر ایمبرلیڈ گرین کلر کی شیروانی میں المیر بھی کسی ریاست کا شہزادہ لگ رہا.تھا..
مونا اور اعیرہ نے.حجاب کے ساتھ ایک جیسی میکسی پہنی تھی جنکا کلر ایک تھا.ہمایوں نے بلیک سمپل شیراونی پہنی تھی اور اعیرہ نے حال میں یہ بات نوٹ کی تھی کے کافی.لڑکیوں کی نظر ہمایوں پہ تھی.
نکاح پہ سائن کرتے وقت آفرین نے کرب سے اپنی آنکھیں بند کی تھی..جبکہ ادھر المیر کی خوشی تو اسکا چہرہ دیکھ کے ہی پتہ چل رہی تھی..
رخصتی.کے وقت آفرین اپنے باپ کے گلے نہی لگی اور یہ بات سب نے ہی نوٹ کی.. آفرین سب سے ناراض ہوکے المیر کے سنگ رخصت ہوگی..
ہمایوں نے اجازت لے کے اعیرہ کو اپنی گاڑی میں اکیلےبٹھایا..
اعیرہ نے لاکھ فاطمہ سے منتیں کی.مگر فاطمہ نہی مانی اور وہ واپسی میں اکیلی ہمایوں کیساتھ گاڑی میں بیٹھ گئ.مگر صحیح مانو میں اسے ڈر تب لگا جب گاڑی گھر کے بجائے کسی اورراستے پہ مڑی..
¤¤¤¤¤¤¤¤¤
آفرین کو ساری رسموں کے بعد المیر کے کمرے میں بیٹھایا گیا.سب کے جاتے ہی آفرین نے اپنی جیولری وغیرہ اتاری اور فورا ڈریس چینج کرکے کمرے کی کھڑکی کے پاس آکے کھڑی ہوگئ..
المیر ادھے گھنٹہ کے بعد آیا تو اسے اپنی سوچ کی طرح ہی آفرین اس سے سادے حلیہ میں ملی..
وہ چینج کرکے آیا جب بھی آفرین اسی پوزیشن میں کھڑی ملی…
المیر نے آفرین کے کندھے پہ.ہاتھ رکھا تو آفرین نے فورا چونک کے پیچھے ہوئ اور غصہ میں المیر کو دیکھ کے کہا..
ہوگئے خوش کرلیا مجھے حاصل تو اب بتاو مسٹر المیر کہان سے شروع کروگے اپنی حوس پوری کرنا کیا اتارو پہلے اپنی قمی.ضض.
ابھی آفرین کے الفاظ منہ میں ہی تھے کے المیر نے اسے کھینچ کے دیوار سے لگایا اور اسکا دائیں بائیں ہاتھ رکھ کے کہا..
میں نے تم سے محبت کی.ہے آفرین اگر کاشف تمہارے لیہ اچھا ہوتا تو. اس سے پہلے امیر کچھ کہتا آفرین نے چیخ کے کہا..
نام مت لو میری محبت کا اپنی گندی زبان سے وہ تم سے لاکھ گناہ اچھا ہے. تمہاری طرح گھٹیا نہی جس نے اپنی ضد کی وجہ سے کسی سے اسکی محبت چھینی..
آفرین کی بات سن کے المیر کی آنکھیں بھیگنے لگی اور اس نے بہت ہلکی آواز میں سرگوشی کی..
آفرین زبان سنبھالو اپنی جانتی ہو یہ سب تم اپنے شوہر کو بول رہی ہو..
ارے تم شوہر صرف نام.کے ہو آئ سمجھ. آفرین کا اتنا بولنا تھا کے المیر نے ایک نظر اسے دیکھا اور بے دردی سے اسکے لبوں پہ جھک گیا..آفرین نے اسکے سینے پہ مکے مارے اسے پیچھے ہٹانے کی.کوشش کری مگر نکام رہی بلکہ الٹا المیر نے اسکے دونوں ہاتھوں کو اپنی گرفت میں لے کے دیور سے للگادیا..کافی دیر بعد اس نے آفرین کے لبوں کو اپنے لبوں سے آزاد کیا..
اس نے ایک نظر آفرین کے لبوں کو دیکھا اور پھر اسنے آفرین کے لبوں کی پھیلنے والی لپسٹک صاف کی اور کہا.آئندہ میرے سامنے سوچ سمجھ کے بات کرنا ورنہ تمہیں ڈیمو دے کے بتا دو گا کے میں شوہر نام کا ہو یہ کام.کا..
یہ بول کے المیر مڑا تو آفرین دوبارہ غصہ میں دھاڑی..
ایک.مہینے کے اندر تم سے چھٹکارا پاونگی اور اپنی.محبت کو پاونگی..
آفرین کی بات سن کے المیر جیسی ہی پلٹا تو آفرین نے فور ڈر کے اپنے لبوں پہ.ہاتھ رکھا..آفرین کی اس حرکت پہ المیر نے بہت مشکل سے اپنی.ہنسی روکی اور کہا..
کرکے دیکھ لو یہ بھی موت تم سے جدا کرسکتی ہے ..تمہیں کسی اور کے لیہ چھوڑونگا یہ بھول ہے تمہاری
ماردونگا تمہیں جب تم میری نہی تو کسی کی بھی نہی.اور میں ایسا کرسکتا ہو یہ تو تم اب تک جان چکی ہوگی…
یہ بول کے المیر بیڈ پہ جاکے لیٹ گیا جبکی آفرین ڈرتے ڈرتے صوفے پہ جاکے لیٹ گئ..
جاری ہے..
