50.9K
64

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 27

نہ.خان حویلی والوں کا رویہ وادی والوں کیساتھ بدلہ..نہ.ہی حمنہ کی انکار ہاں میں بدلی….
حمنہ کے انکار کے بعد شاہ زین نے بلکل چپ سادھ لی تھی..آفس کے کاموں میں خود کو اتنا غرق کرلیا..کہ خود کا بھی دیھان نہی رکھتا.. خالد بہت منتیں کرلے کھانا کھلا دے تو ٹھیک ورنہ دو دو وقت کا کھانا گل.کر جاتا..بڑھی شیو.. بکھرے بال.. دو تین دن پرانی شرٹ..
ایک چیز کا اضافہ اور ہوا تھا.. شاہ زین نے سگریِٹ پینا شروع کردی جسکی.مقدار بہت بڑھ گئ تھی…
فاطمہ اور آفتاب جو حمنہ کے اکیلے پن کی.وجہ سے روز اسکے ساتھ تھوڑا وقت گزرا کرتے تھے…شاہ زین کی.حالت دیکھ کے حمنہ سے کھلم کھلا ناراضگی کا اظہار کیا تھا کئ بار حمنہ نے آفتاب فاطمہ.دونوں کو کال.کر چکی تھی مگر 15 دن ہونے کو آئے تھے نہ تو دونوں.آئے تھے اور نہ ہی ان دونوں نے.حمنہ کی.کوئ.کال.اٹینڈ کی…
¤¤¤¤¤¤¤
خالد جو کب سے آفس میں شاہ زین کا ویٹ کررہا تھا.. کافی کال.بھی.کی شاہ زین کو مگر نہ.تو اس نے کوئ کال ریسیو کی اور نہ.ہی اسکا کوئ جواب آیا…خالد کو تھوڑی گھبراہٹ ہوئ .کیونکہ اجکل جو شاہ زین کی حالت چل رہی تھی خالد کو ڈر تھا کہ.کہی.اسککی طبیعت خراب نہ ہو..
اور اسکا اندازہ صحیح نکلا..
کافی دیر دروازہ بجانے کے بعد جب شاہ زین نے فلیٹ کا دروازہ نہی.کھولا تو اس نے پھر ایکسڑا چابی.جو شاہ زین اکثر فلیٹ کے اوپر بنے بلاک میں رکھتا تھا..
خالد نے ہاتھ مار کر چابی اٹھائ اور لوک کھول کے اندر داخل ہوا..
اسکا اندازہ صحیح نکلا..شاہ زین بیہوش اپنے کمرے کے کارپیٹ پہ اوندھا پڑا تھا..
شاہ زین شاہ زین ..خالد نے پاگلوں کی.طرح اسے آوازیں دی مگر بیکار
خالد نے جیسے تیسے کرکے شاہ زین.کو بیڈ پہ.لیٹایا .شاہ زین کا پورا جسم بخار میں پھونک رہا تھا. ..خالد نے فورا ڈاکٹر کو کال کی.اور اسکے بعد آفتاب کو…
¤¤¤¤¤¤¤¤¤
فاطمہ.یونی کے گارڈن میں بیٹھی آتے جاتے اسٹوڈینٹ کو دیکھ رہی تھی مگر کسی گہری سوچ میں گم تھی…
آفتاب اپنی کلاس لے کے نکلا تو سیدھا یونی کے گارڈن کی طرف گیا. کیونکہ فاطمہ اور آفتاب نے یہ طے کیا ہوا تھا کہ.جس کی بھی کلاس پہلے ختم ہوگی وہ.گارڈن میں دوسرے کا ویٹ کرے گا…
آفتاب فاطمہ کے برابر میں آکے بیٹھا مگر جب اس کے جسم میں کوئ حرکت نہی.ہوئ اور اسکا انداز سوچ میں گم ہی.رہا تو آفتاب نے ہلکا سا اسکی طرف جھک کے کہا…
کیا سوچ رہی ہے میری معصوم بیوی؟؟؟
آفتاب کی آواز پہ.وہ ایک دم.مسکرائ اور کہا..
زندگی بھی کیا چیز ہے آفتاب. ایک وقت تھا جب حمنہ کے پاپا.اسکو اپنا غرور مانتے تھے..وہ.حمنہ جسکو اپنے آپ پہ.غرور تھا..جو جیڈی سے اتنی.محبت کرتی تھی کہ.اس نے مجھ سے بھی تعلق توڑ ڈالا اور اج دیکھو اتنے بڑے بنگلے میں اکیلی.ہے ..ایک جھوٹی محبت کی شان میں وہ.فقیرنی بن گئ جسکے پاس اپنا دکھ ہلک کرنے کیلیے کسی اپنے کا کندھا بھی..نہی…
کندھا تو ہے فاطمہ مگر حمنہ کو شاید اب اسکی ضرورت نہی…آفتاب کے بولنے پہ.فاطمہ.سمجھ گئ کے اسکا اشارہ کس طرف ہے…
اس سے پہلے فاطمہ کچھ بولتی.
آفتاب کے نمبر پہ.کال.آنے لگی…
کال یس کرتے ہی آفتاب نے بات سنی.اور کٹ کرتے ہی فاطمہ.کو دیکھا جو سوالیاں نظروں سے اسے ہی.دیکھ رہی.تھی.
لگتا ہے فاطمہ.تمہاری دوست اب کسی کی.جان لیے گی..
یہ بول کے فاطمہ کو آفتاب نے اپنے ساتھ چلنے کو کہا…
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
فاطمہ.اور آفتاب شاہ زین کے گھر پہنچے تو ڈاکٹر شاہ زین کا چیک اپ کررہے تھے.. چیک اپ کے بعد ڈاکٹر نے خالد سے کہا..
کافی ٹایم بھوکا رہنے اور بہت زیادہ اسموکنگ کی وجہ سے انکا دل نارمل انداز میں نہی ڈھرک رہا..ہارٹ بیٹ کم ہونا اور بخار کا تیز ہونا اچھی بات نہہی اگر ایسا ہی.رہا تو انکی جان بھی جا سکتی.ہے…
ڈاکٹر نے یہ بول کے خالد کو میڈیس کا پیپر دیا اور چلے گئے.
خالد وہی.اپن سر تھام کے بیٹھ گیا..اپنے دوست کی یہ.حالت دیکھ کے اسکا دل.کیا حمنہ کا گلا ڈبا دے..
آفتاب اور فاطمہ.کافے دیر وہاں بیٹھے..فاطمہ.نے شاہ زین کیلیے سوپ بنایا ..اور شاہ زین کا گھر بھی سمیٹا. اس دوران فاطمہ نے سوچ لیا تھا کہ کیسے حمنہ.کا دماغ درست کرنا ہے.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
حمنہ گارڈن میں بیٹھی کسی گہری سوچ میں گم.تھی ..کے اسی وقت گیٹ کھلا اور آفتاب کی.گاڑی اندر آئ.. آفتاب سے پہلے فاطمہ کار سے باہر نکلی…اور غصہ میں حمنہ کی.طرف بڑھی..بنا نقاب کے حمنہ اندازہ لگا سکتی.تھی فاطمہ کے چہرے کو دیکھ کے معملہ کچھ گڑبڑ ہے…فاطمہ نے تیزی سے حمنہ.کا.ہاتھ پکڑا اور اسے گھیسٹی.ہوئ.اندر لےجانے لگی…
ارے فاطمہ.ہوا کیا ہے ہاتھ تو چھوڑو میرا ایسے کہاں لے کے جارہی ہو؟؟؟
حمنہ اس سے سوال پہ سوال کررہی تھی مگر فاطمہ نے اسکے کسی سوال.کا جواب نہی دیا اور حال میں لے جاکے جھٹکے سے صوفے کے پاس اسکا ہاتھ چھوڑا.
حمنہ ایک دم.صوفے پہ.بیٹھی اور سوالیاں نظروں سے فاطمہ.کو دیکھنے لگی..
فاطمہ.نے.غصہ.میں گھورا اور کہا…
تم اپنی.اپ کو سمجھتی کیا ہو.؟؟؟. ایک.انسان تمہیں تمہارے سارے عیب کیساتھ قبول.کررہا.ہے..وہ.بھی ترس کھا کے نہی تم.سے.محبت کرکے..تم مین کس بات کی.اکڑ ہے.حمنہ. تمہارے ایک انکار کی.وجہ سے شاہ زین اج موت کے منہ میں ہے. ..
میں نے کسی کو نہی.کہا..کے میرے پیچھے مرے..
حمنہ نے فاطمہ کے بات کے بدلے صرف اتنا کہا..
تم کیسے چھپاوگی اپنے.اندر پلنے والے اس وجود کو اج.نہی.کل یہ سب کے سامنے آیے گا. جسمانی طور پہ.بھی اندرونی.طور پہ.بھی…عزتوں سے سب کھیلتے ہیں حمنہ مگر عزت سے اپناتا کوئ.کوئ ہے..تمہیں شاید الللہ ایک.موقع اور دے رہا ہے گناہ سے واپسی کے سفر کا مان جاو حمنہ شاہ زین کا ساتھ قبول.کرلو ورنہ.ساری زندگی.پشتاوگی..کیونکہ قسمت ایک بار دستک دیتی ہے بار بار نہی تمہاری ایک.ہاں تمارے ساتھ دو زندگیاں اور سنوار سکتی. ہے.شاہ زین کا ساتھ قبول.کرلو. ورنہ اس بچے کی زندگی بربار ہونے کی.وجہ صرف تم.ہوگی..معاف کرنا حمنہ میری بات کڑوی ضرور ہے مگر ایک ناجائز بچے.کو یہ.معاشرہ قبول.نہی.کرتا…یہ بول.کے فاطمہ ایک.لمحہ وہاں نہی رکی..فاطمہ کی.باتین ساری رات حمنہ کے دماغ میں گردش کرنے.لگی…صبح اٹھ کے اس نے سب سے پہلے شاہ زین کے فلیٹ کا رخ.کیا..
¤¤¤¤¤¤
خا لد سڑے ہوئے منہ کیساتھ شاہ زین کو ناشتہ.کروا رہا تھا..شاہ زین کو صاف پتہ.لگ رہا تھا کہ خالد اس سے ناراض ہے…دو تین چمچ دلیے کے کھانے کے بعد شاہ زین نے خالد سے پوچھا..
تو کس خوشی میں نارض محبوبہ بنا ہوا ہے…؟؟
شاہ.زین کا بولنا تھا کے خالد پھٹ پڑا…
کسی ایک.کے انکار پہ تو اپنی زندگی سے کھیل گیا سالے مجنو میری.زرا بھی فکر نہی.اگر تجھے کچھ ہوجاتا تو..
یہ بول.کے خالد کی.آنکھیں بھیگنے لگی. شاہ زین نے فورا اٹھ کے اسے گلے سے لگایا اور کہا…
جانتا ہو یار مگر کیا.کرو حمنہ کے علاوہ.کسی اور کا ساتھ اس دل.کو گوراہ نہی مگر اب میں.نے سوچ لیا ہے.بس اب اور نہی.میں یہان سے امریکہ شفٹ ہوجاونگا ہمیشہ کیلیے لیہ…
خالد اسکی دلی.کیفیت سمجھ سکتا تھا اس لیہ کچھ کہا نہی…دلیہ ختم.کرکے خالد نے شاہ زین کو میڈیسن دینی.چاہی تو اس نے منع کردیا اور کہا کے وہ.آرام.کرنا چاہتا ہے..خالد نے بھی بنا بحس کے شاہ زین کی بات مان لی اور کمرے سے نکل.گیا کمرے سے نکلتے مین ڈور کی اواز پہ.جب خالد نے دروازہ کھولا تو حمنہ کو سامنے دیکھ کے.حیران ہوا.
شاہ. زین کے کمرے کی.طرف جاتے ہوئے حمنہ کافی ٹینس تھی.مگر ڈھرکتے دل.کے ساتھ وہ.شاہ زین کے کمرے مین داخل ہوئ اور چپ چاپ آنکھیں بند کرکے لیتے ہوئے زین کو دیکھنے لگی..
دروازے کھلنے پہ.شاہ زین.کی.نیند تھوڑی ڈسٹرب ہوئ.اور اس نے بند آنکھوں سے ہی.کہا..
یار خالد کہا بھی تھا ابھی دوائ نہی.کھان….جب کوئ آواز خالد کی.نہی آئ تو شاہ زین نے اپنی انکھیں کھولی.
باقی کی بات شاہ زین کے.منہ میں ہی.رہ.گئ. کیونکہ آنکھیں کھلتے ہی.اسکی.نظر سادے سے بیلک سوٹ میں ملبوث حمنہ پہ.پڑی
اپنے سامنے حمنہ.کو دیکھ کے وہ.کافی حیران ہوا اور جیسی ہی.اٹھنے کی.کوشش کرنے.لگا حمنہ.نے اگے بڑھ کے اسے سہارا دے کے بیٹھایا اور کہا…
بچے نہیں ہیں اپ جو ضد لگالی.ہے اپنے.اپنی.صحت کا تو دیھان رکھے اپ..
ضد تو اپنے بھی.لگالی.ہے ..حمنہ اپ.مان جائے میری.بات..شاہ نے لہجہ میں پیار سموئے حمنہ سے کہا..حمنہ نے ایک.نظر شاہ زین کو دیکھا اور کہا..
مجھ سے گھن نہی آتی زین اپکو. جب میں اپنے والدین کی نہی ہوئ تو اپکی.کیا ہونگی. یہ خوف نہی اپکو.. حمنہ نے نم.لہجے میں زین سے کہا..
زین نے اسکی بات پہ.صرف اتنا کہا..
مجھے میرے یار کی یاری سے مطلب ہے اسکے فیل سے نہی..
حمنہ.نے.ایک.نظر اسے دیکھا اور کہا..
میں محبت کرچکی ہو زین..
کس نے کہا کے دوبارہ محبت نہی.ہو سکتی حمنہ..
یہ سمجھوتہ.ہوگا زین.
میں رشتہ بنالونگا حمنہ موقع تو دو..
حمنہ نے ایک نظر اسے دیکھا اور کہا.
مجھ سے بہتر مل جائے گی اپکو..
تم.بھی تو مل سکتی ہو..
اور بس حمنہ وہی.ہار گئ اور کہا…
ٹھیک ہے بہت شوق ہے ایک ایسی لڑکی سے شادی کرنے کا جسکی نظر میں اب کوئ خوشی معنے نہی رکھتی تو ٹھیک ہے میں تیار ہو..مجھ سے کسی بھی قسم کی.توقع نہی رکھیے گا…
یہ بول کے نہ صرف حمنہ تیزی سے زین کے کمرے سے بلکہ فلیٹ سے نکل گی..
اور اسکے جاتے ہی.پہلے تو شاہ زین نے خوشی سے اپنی آنکھیں بند کرکے دوبارہ.لیٹا اور دھیرے سے کہا..
ایک بار آؤ تو جان شاہ زین میری زندگی میں خود سے محبت کرنی نہ سیکھادی تو کہنا.
نام کے آگے خان میں نے شوقیاں نہی.لگایا..
جاری ہے..