Rate this Novel
Episode 5
مونا کو دروازے پہ.کھڑا دیکھ جہاں المیر نے کہا..
لو ہوگیا سیاپا….وہی اعیرہ کو بھی سمجھ نہی آیا کہ اج کے دن کو وہ.کس نام سے یاد کرے…
مونا جو سینے پہ.ہاتھ باندھے کافی دیر سے ان دونوں کی باتین سن رہی تھی اور اپنا غصہ زبط کررہی تھی..آہستہ سے دروازہ بند کرکے ان تک آئ اور المیر سے کہا…
اعیرہ کا تو سمجھ میں آتا ہے مگر تم اج پھر اسکی غلط حمایت لے رہے ہو.. تمہیں کیا لگتا ہے… ماما کو پتہ نہی لگے گا…جس بچے کی آنکھ یہ پھوڑ کے آئ ہے..مونا نے غصہ سے اعیرہ کو گھور کے دیکھا….اسکے والدین یہان نہی آئینگے….
اور تم اعیرہ میٹرک کی اسٹوڈینٹ ہو تم کوئ بچی نہی ہو 16 سال میں لگ جاوگی اس سال اب تم یہ اپنی بچکانہ حرکتیں بند کرو… اگر پرنسپل نے ماما کو بلوالیا. اب ایسا تو ہو نہی سکتا کہ ماما تمہارے اسکول نہی جائے.. کچھ اندازہ ہے تمہیں کہ تمہارے ساتھ ماما کیا کرینگی…اور تمہارے ساتھ ساتھ یہ تمہارا ہمدرد بھی ماما کے ہاتھوں اچھے اچھے کلمات سے نوازا جائے گا
..یہ بول کے مونا لمبی سانس لے کے وہی بیڈ پہ بیٹھ گئ… اور اپنا سر تھام لیا…
جبکے.مونا کی بات سن کے المیر کو بھی اچھی خاصی پریشانی ہوگئ.. جبکہ اعیرہ نے دوبارہ اپنے رونے کا سین اون کردیا..
مونا نے اعیرہ کو روتا دیکھا تو فورا اسکا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا اور اسنے کھڑے ہوکے اعیرہ کو گلے سے لگایا اور کہا….
اعیرہ میری جان.. رو نہی. اپ دیکھو نہ اگر معملہ اسکول کے اندر خالی زبانی لڑائ کا ہوتا تو رفعہ دفعہ ہوجاتا مگر اپنے ہاتھ کا استعمال کیا اور وہ ًبھی غلط استعمال.کیا…
اعیرہ مونا سے الگ ہوئ اور روتے روتے کہا…تو آپی غلطی اسکی بھی تھی میں نے خاماخای لڑائ تو نہی کی
….
ہاں ہوگی اسکی غلطی میں کب اسکی غلطی ماننے سے انکار کررہی ہو مگر اپ دیکھو اپنے اسکی آنکھ پہ مارا ہے ..اسنے تو اپ پہ.ہاتھ نہی اٹھایا…نہ..؟؟؟
.
مونا کی.بات سن کے اعیرہ چپ.ہوئ تو المیر بول پڑا..
یار مونا کچھ تو حل نکالو اس مسلہ کا.. ؟؟؟؟
دیکھو ایک آئڈیا ہے اگر تم.دونوں عمل کرو تو…ماما کو پتہ بھی نہی چلے گا..اور معملہ بھی یہی ختم ہوجائے گا…
المیر اور اعیرہ نے ایک ساتھ کہا..
ہم تیار ہے….
مونا نے مسکر کے ان دونوں کو دیکھا اور کہا…
کل تم.اور اعیرہ عابد کے گھر جاکے ایکیسوز کرو. تاکہ یہ بات وہی رفعہ دفعہ ہوجائے.. اور اعیرہ تم خاص کر عابد سے سوری بولوگی….
واو ڈیٹس گریڈ آئیڈیا…
المیر نے پرجوش ہوکے کہا…..
جبکہ اعیرہ مونا کا مشورہ سن کے ہی اور پریشان ہوگئ…
ان دونوں نے جب اعیرہ.کو یو پریشان دیکھا تو مونا نے.پوچھا…
کیا ہوا اعیرہ تم آئیڈیا پسند نہی آیا؟؟؟
اعیرہ نے مونا کی طرف دیکھا اور لمبی سانس لے کے بیڈ پہ.بیٹھ کے ٹھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھ کے مونا اور المیر کو باری باری دیکھا اور کہا…
ایسی بات نہی ہے آپی..
تو پھر؟؟؟
اسکا گھر نہی پتہ کیا؟؟
ارے نہی اپی اسکا گھر تو اسکول کی اگلی گلی میں ہیں..میں نے اسکول سے واپسی پہ کئ بار اسے اس گلی میں جاتے دیکھا ہے…
تو پھر کیا مسلہ ہے پری..؟؟؟
المیر نے پریشان لہجہ میں اعیرہ سے پوچھا…
بھائ میں نے کئ بار کلاس میں عابد کو بات کرتے سنا ہے کہ وہ اپنی بڑی بہن سے بہت اٹیج ہے. اور اسکی بہن بھی اپکی طرح جیسے اپ مجھ پہ.جان دیتی ہو.اپنے بھائ پہ جان دیتی ہے…
تو اسمیں پریشان ہونے کی.کیا بات ہے؟؟؟ اعیرہ .
المیر نے پوچھا…
پریشانی کی تو بات ہے بھائ ااسکی بہن غصہ کی بہت تیز ہے..یک دو بر وہ سکول.اکے کافی میلو ڈرامہ لگا چک ہیں بہت زیادہ..میں اور اپ اگر ایکسکیوز کرنے گئے تو ہماری تو سنے گی.نہی.الٹا ہمیں اور سنائیگی….
اعیرہ بول کے چپ ہوئ تو المیر بھی اعیرہ کی بات سن کے گھبرا گیا..کیوں کہ کبھی المیر کا کسی لڑکی سے پالا نہی پڑا سوائے اسکی اپنی بہنوں سے….
تو اس میں گھبرانے کی کیا بات ہے میں چلونگی نہ تم.لوگوں کیساتھ..
مونا کے اچانک بولنے پہ جہاں اعیرہ مسکرائ وہاں..المیر بھی پرسکون ہوا…
مگر ایک ٹینشن اور ہے….
مونا نے کہا….
…
اعیرہ اور المیر نے ایک ساتھ کہا….
اب کونسی ٹینشن…
ماما کو کیا بہانہ کرکے جائنگے ہم.. ماما ضرور سوال کرینگی… .؟؟
اسکی ٹینشن تم.دونوں نہی لو وہ میں سنبھال لونگا…
المیر نے ریلکس ہوکے کہا…
.¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
بس کردو ثنا اور کتنی ڈرنک کروگی اپنی حالت دیکھو..
کراچی کا مشہور بار جہاں ثنا مسلسل شراب نوشی کر رہی تھی…
…
اور اسکی دوست مسلسل اسکو روک رہی اور ساتھ میں کوفت میں بھی مبتلا تھی..اگر اسکو ثنا کے پیسوں کا لالچ نہی ہوتا..تو وہ اسے اس حال میں ہی چھوڑ کے چلی جاتی…
ت..م….نہی.ج.نتی….
ہما…
اس نے.ااا..ج..میری..ب..ہ..ت.ا..نس..لت.کی…
می…وہ..صر..ف.میرا………
اگے کی بات ثنا سے بولی نہی گئ.. اور وہ بیہوش ہوگی..جبکہ اسکے ساتھ ہما کی.نظر ااکے پاس پڑے اسکے پرس پہ تھی..
اس نے کال کرکے اپنے بوائے فرینڈ کو بلایا…
دونوں نے اسے گاڑی میں ڈالا..
اور گاڑی ثنا کے بجائے ہما کے گھر کی طرف موڑ دی…
سارے راستے ہما کا بوائے فرینڈ بیک مرر سے ثنا کے وجود کو گھورتا رہا جو ہر طرح سے اپنی نمائش کرارہا تھا جبکہ ہما ثنا کے پرس میں موجود پیسے گننے میں مصروف تھی..
جاری ہے…
