Rate this Novel
Episode 34
شاہ زین اور ہانیہ کے گرتے ہی حمنہ کی چیخ خان حویلی ہلا گئ. .
جیڈی حواس باختہ نیچے کو ڈورا حمنہ بھی دیوانہ وار اسکے پیچھے لپکی .جبکہ شاہ زین اور ہانیہ کو گرتا دیکھ ہمایوں وہی کمرے میں بیہوش ہوچکا تھا.
جیڈی دیوانہ وار نیچے باغ میں پہنچا تو ہانیہ کو سر بری طرح پتھر سے ٹکرانے کے باعث اس کی وپی موت ہو چلی تھی جبکہ اس سے چند فاصلہ پہ شاہ زین پڑا تھا جس کے سر سے تیزی سے خون بہہ رہا تھا..
جیڈی فورا اسکی طرف لپکا اور اسکا سر اپنا ہاتھ میں.لے کے گودھ میں رکھا اور روتے روتے کہنے لگا..
شاہ زین میں نے جان بوجھ کے نہی کیا قسم سے مجھے نہی.پتہ تھا تمہارے ساتھ ہانیہ تھی تم کنارے پہ کھڑے تھے شاہ زین مجھے معاف کردو شاہ زین مجھے معاف کردو..
شاہ زین نے ایک نظر اٹھا کے جیڈی کو دیکھا اور کہنا چاہا..
ا. ج.. د مین. نے تمہیں معاااااف..کی….ابھی وہ اپنی بات مکمل کرتا حمنہ جو ہانیہ.کی بے وجان وجود کو دیکھ کے سکتے کی حالت میں تھی اچانک کسی احساس کے تحت شاہ زین کی طرف مڑی اور جیڈی کی گودھ میں رکھے شاہ زین کا سر اپنی.گودھ میں رکھا
اور کہا..
چلو شاہ عزت سے کھڑے ہوجاو کل واپس جانا ہے نہ ہمایوں کی سالگرہ بھی ہے چلو جانو کھڑے ہو. یہ بول.کے حمنہ نے دیوانہ وار اسکا چہرہ چوما شاہ زین نے ایک نظر مسکرا کے اسے دیکھا اور شاہ زین کی گردن ایک طرف ڈھلک گئ..
شاہ زین کی.موت ہوتے ہی جیڈی ایک دم لڑکھڑا کے پیچھے ہوا کھڑا ہوا پھر گرا اور دیوانہ وار اندر بھاگتا چلا گیا…
شاہ.زین کی کے بے جان وجود کو حمنہ نے جھنجھوڑ ڈالا اور چیخ.چیخ کے کہا.
اٹھو شاہ زین میرا تمہارا علاوہ کوئ نہی شاہ زین اٹھو.. دیکھو تنگ مت کرو شاہ زین ہانیہ حمنہ کا بلکنا بھی خان حویلی میں کہرام لے آیا..
¤¤¤¤¤¤¤¤¤
شاہ زین اور ہانیہ کی.موت کو شیر خان نے حادثاتی موت قرار دیا..
ہانیہ کی تدفین پہلے ہی کردی گئ تھی کیونکہ اسکی.حالت بہت خراب تھی.
شاہ زین کی میت کو جب حویلی کے صحن مین رکھا گیا تو حمنہ پھر دیوانہ وار اسکی طرف لپکی اور زور زور سے کہنے لگی…
جھوٹے انسان زندگی بھر کے ساتھ کا وعدہ کیا تھا مجھے کس کیلیے چھوڑ کے گئے شاہ نہی کرو آجاو واپس میں کیسے جیونگی تمہیں پتہ ہیں نہ مجھے ڈر لگتا ہے اکیلے گھر میں شاہ زینننننننننن
اور حمنہ وہی شاہ زین کے جنازے کے پاس بیہوش ہوگئ..
شاہ زین کی تدفین کے دوسرے دن حمنہ کو ہوش آیا. وہ پھر شاہ زین کو ایک بار پھر یاد کرکے رونے لگی تبھی اسے اچانک ہمایوں کا خیال آیا.وہ جیسی اپنے بیڈ سے اٹھ کے جانے لگی..مبشرہ نے اسکا.ہاتھ پکڑ کے دوبارہ بیڈ پہ.لیٹایا..
مبشرہ.کو دیکھتے ہی حمنہ پھٹ پڑی.اور. کہنے لگی..
کہاں ہے تمہارا شوہر جس نے میرے شوہر اور میری بچی کی جان لی کہاں ہے وہ..حمنہ کی بات پہ مبشرہ نے شرم سے اپنی آنکھیں جھکا لی.کیونکہ کل.رات ہی جیڈی کی دماغی حالت عجیب تھی..
وہ بھاگ کے تیزی سے اپنے کمرے میں آیا اور دروازے سے لگ کے رونے لگا.مبشرہ نے اسے ایسا روتا دیکھ فورا اسکی طرف لپکی.. جیڈی نے مبشرہ کو دیکھتے ہی فورا اسکی گودھ میں چھپ گیا اور کسی بچے کی طرح کہنے لگا..
مبشرہ میں میں نے شاہ زین اور اسکی بیٹی کو مار دیا وہ دیکھو وہ دونوں باپ بیٹی مجھے گھور رہی ہیں..مبشرہ دیکھو وہ.بچی وہ ہانیہ مجھے گھور رہی ہے دیکھو..
مبشرہ جیڈی کی بات سن کے ایک دم سکتے میں آگئ.اس نے جیڈی کے بتانے جب پلٹ کے دیکھا تو وہاں کوئ نہی تھا..
پھر جیڈی ایک دم زور زور سے ہنسنے لگا پھر ایک دم.رونے لگا..
اور کہا میں مار دیا میں مار دیا اوووو اب کیا ہوگا اوو یہ بول کے جیڈی زور زور سے رونے لگا اور بیہوش ہوگیا…
جاری ہے..
شاہ زین اور ہانیہ کے گرتے ہی حمنہ کی چیخ خان حویلی ہلا گئ. .
جیڈی حواس باختہ نیچے کو ڈورا حمنہ بھی دیوانہ وار اسکے پیچھے لپکی .جبکہ شاہ زین اور ہانیہ کو گرتا دیکھ ہمایوں وہی کمرے میں بیہوش ہوچکا تھا.
جیڈی دیوانہ وار نیچے باغ میں پہنچا تو ہانیہ کو سر بری طرح پتھر سے ٹکرانے کے باعث اس کی وپی موت ہو چلی تھی جبکہ اس سے چند فاصلہ پہ شاہ زین پڑا تھا جس کے سر سے تیزی سے خون بہہ رہا تھا..
جیڈی فورا اسکی طرف لپکا اور اسکا سر اپنا ہاتھ میں.لے کے گودھ میں رکھا اور روتے روتے کہنے لگا..
شاہ زین میں نے جان بوجھ کے نہی کیا قسم سے مجھے نہی.پتہ تھا تمہارے ساتھ ہانیہ تھی تم کنارے پہ کھڑے تھے شاہ زین مجھے معاف کردو شاہ زین مجھے معاف کردو..
شاہ زین نے ایک نظر اٹھا کے جیڈی کو دیکھا اور کہنا چاہا..
ا. ج.. د مین. نے تمہیں معاااااف..کی….ابھی وہ اپنی بات مکمل کرتا حمنہ جو ہانیہ.کی بے وجان وجود کو دیکھ کے سکتے کی حالت میں تھی اچانک کسی احساس کے تحت شاہ زین کی طرف مڑی اور جیڈی کی گودھ میں رکھے شاہ زین کا سر اپنی.گودھ میں رکھا
اور کہا..
چلو شاہ عزت سے کھڑے ہوجاو کل واپس جانا ہے نہ ہمایوں کی سالگرہ بھی ہے چلو جانو کھڑے ہو. یہ بول.کے حمنہ نے دیوانہ وار اسکا چہرہ چوما شاہ زین نے ایک نظر مسکرا کے اسے دیکھا اور شاہ زین کی گردن ایک طرف ڈھلک گئ..
شاہ زین کی.موت ہوتے ہی جیڈی ایک دم لڑکھڑا کے پیچھے ہوا کھڑا ہوا پھر گرا اور دیوانہ وار اندر بھاگتا چلا گیا…
شاہ.زین کی کے بے جان وجود کو حمنہ نے جھنجھوڑ ڈالا اور چیخ.چیخ کے کہا.
اٹھو شاہ زین میرا تمہارا علاوہ کوئ نہی شاہ زین اٹھو.. دیکھو تنگ مت کرو شاہ زین ہانیہ حمنہ کا بلکنا بھی خان حویلی میں کہرام لے آیا..
¤¤¤¤¤¤¤¤¤
شاہ زین اور ہانیہ کی.موت کو شیر خان نے حادثاتی موت قرار دیا..
ہانیہ کی تدفین پہلے ہی کردی گئ تھی کیونکہ اسکی.حالت بہت خراب تھی.
شاہ زین کی میت کو جب حویلی کے صحن مین رکھا گیا تو حمنہ پھر دیوانہ وار اسکی طرف لپکی اور زور زور سے کہنے لگی…
جھوٹے انسان زندگی بھر کے ساتھ کا وعدہ کیا تھا مجھے کس کیلیے چھوڑ کے گئے شاہ نہی کرو آجاو واپس میں کیسے جیونگی تمہیں پتہ ہیں نہ مجھے ڈر لگتا ہے اکیلے گھر میں شاہ زینننننننننن
اور حمنہ وہی شاہ زین کے جنازے کے پاس بیہوش ہوگئ..
شاہ زین کی تدفین کے دوسرے دن حمنہ کو ہوش آیا. وہ پھر شاہ زین کو ایک بار پھر یاد کرکے رونے لگی تبھی اسے اچانک ہمایوں کا خیال آیا.وہ جیسی اپنے بیڈ سے اٹھ کے جانے لگی..مبشرہ نے اسکا.ہاتھ پکڑ کے دوبارہ بیڈ پہ.لیٹایا..
مبشرہ.کو دیکھتے ہی حمنہ پھٹ پڑی.اور. کہنے لگی..
کہاں ہے تمہارا شوہر جس نے میرے شوہر اور میری بچی کی جان لی کہاں ہے وہ..حمنہ کی بات پہ مبشرہ نے شرم سے اپنی آنکھیں جھکا لی.کیونکہ کل.رات ہی جیڈی کی دماغی حالت عجیب تھی..
وہ بھاگ کے تیزی سے اپنے کمرے میں آیا اور دروازے سے لگ کے رونے لگا.مبشرہ نے اسے ایسا روتا دیکھ فورا اسکی طرف لپکی.. جیڈی نے مبشرہ کو دیکھتے ہی فورا اسکی گودھ میں چھپ گیا اور کسی بچے کی طرح کہنے لگا..
مبشرہ میں میں نے شاہ زین اور اسکی بیٹی کو مار دیا وہ دیکھو وہ دونوں باپ بیٹی مجھے گھور رہی ہیں..مبشرہ دیکھو وہ.بچی وہ ہانیہ مجھے گھور رہی ہے دیکھو..
مبشرہ جیڈی کی بات سن کے ایک دم سکتے میں آگئ.اس نے جیڈی کے بتانے جب پلٹ کے دیکھا تو وہاں کوئ نہی تھا..
پھر جیڈی ایک دم زور زور سے ہنسنے لگا پھر ایک دم.رونے لگا..
اور کہا میں مار دیا میں مار دیا اوووو اب کیا ہوگا اوو یہ بول کے جیڈی زور زور سے رونے لگا اور بیہوش ہوگیا…
جاری ہے..
