50.9K
64

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 41 Part 1

ولیمہ کی تقریب زوروشور سے جاری تھی ۔ہمایوں اور اعیرہ کی جوڑی کو ہر کوئ سرا رہا تھا۔مونا کافی دیر سے ڈسٹرب تھی اسے مسلسل ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ کسی کی نگاہوں کا مرکز بنی ہوئ ہے۔مونا لاکھ کوششں کے باوجود اس تک پہنچ نہی پائ تو ادھر مونا کو نروس سا سارے ہوٹل میں گھومتا دیکھ کسی کے لبوں پہ حسین مسکراہٹ ائ تھی۔اعیرہ نے بھی ہمایوں کے ساتھ دل کھول کے پکس بنوائ مگر جںب فوٹوگرافر کوئ ایسے پوز کا اعیرہ کو یہ ہمایوں کو بولتا جیسے کرنے سے وہ دونوں اپس میں چپک کے قریب ہوتے یہ ہمایوں اعیرہ کو چھوتا اعیرہ کا دل کافی زور سے ڈھرکتا ہمایوں کا اعیرہ کا ججھکنا کافی خوش کرتا وہ جو پل میں شیرنی بن جاتی تھی ہمایوں کی قربت سے کافی گھبرارہئ تھی ہمایوں جان بوجھ کے اسکے ضرورت ے زیادہ قریب اتا۔۔
ولیمہ کی تقریب اپنے اختتام کو پہنچی۔۔اگلے دن شام میں المیر لوگ واپس کراچی کیلیے نکل رہے تھے۔۔
ولیمہ سےواپسی پہ سب نے ہی الگ رونق لگالی جبکہ اعیرہ مونا اور افرین تینوں اعیرہ کے کمرے میں ہی تھی جبکہ ہمایوں اور المیر ٹیرس پہ۔کھڑے اسموکنگ کررہے تھے ۔جب ہمایوں نے کافی دیر سے کھڑے خاموش المیر سے پوچھا۔۔
کیا بات ہے المیر جب سےتو ایا ہے میں نوٹ کررہا ہوتو بہت خاموش ہے اور بھابھی سے بھی کھینچا کھینچا ہے کیا بات ہے۔۔؟؟؟
ہمایوں کے سوال پہ المیر پھیکی سی ہنسی ہنسا اور کہا۔۔
میں اسکے قریب کب تھا ہمایوں کہتے ہیں الللہ دلوں کے حال جانتا ہے میں افرین کے ساتھ مخلص تھا جبھی الللہ۔نے اسے میری شریک حیات بنایا میں سمجھ رہا تھا نکاح کے بعد افرین کو بھی مجھ سے محبت ہوجائے گی۔مگر ہمایوں ہربار ایسا لگتا ہے جیسے وہ مجھ سے بہت دود ہوگئ ہے پتہ نہہی یار اسکی بے رخی اسکی خاموشی کیسے کٹے گا اسکے ساتھ زندگی کا سفر میں تو ابھی سے تھکنے لگا ہو۔یہ بول کے المیر نے افسردگی سےجلتی سیگریٹ کو اپنے پیروں تلے روند ڈالا۔۔
المیر میری کچھ سمجھ نہی ارہا ہوا کیا ہے تو تو کبھی کسی بات سے نہی گھبرایا تو پھر اج تو ایسی مایوسی کی بات کیوں کررہا ہے کوئ بات ہوئ ہے مجھے بتا ہمایوں نےالمیر کے کندھے پہ۔ہاتھ رکھ کے پریشان کن لہجے میں المیر سے پوچھا ۔۔ہمایوں کے پوچھنے پہ المیر نے شادی کی رات سے لے کر لاکٹ والے حادثہ تک سب ہمایوں کوبتا دیا۔۔
المیر کی بات سن ہے ہمایوں نے ایک ٹھنڈی اہ بھری اور کہا
دیکھ ہمایوں میں نے پہلے ہی کہا تھا کے ان کی زندگی میں نہی گھس مگر تونے اپنی کی اگر دیکھا جائے تو تونے اپنا سوچا ہمایوں کے ایسا بولنے پہ المیر نے افسوس بھری نظر اس پہ ڈالی ہمایوں المیر کی باتوں کا مفہوم اچھی طرح سمجھ رہا تھا مگر فلحال اسنے المیر کی نظروں کو نظر انداز کیا اور کہا۔۔
عورت اگر ایک بار کسی سے محبت کرلے تو انجام کی پراوہ نہی کرتی افرین اصف سے محبت کرتی تھی تو یہ بات اچھی طرح جانتا ہے کاشف افرین کیساتھ مخلص تھا یہ نہہی یہ وہ نہی جانتی تھی وہ بس اتنا جانتی تھی کے کاشف انکی محبت ہے تو اندھی کیطرح انکی زندگی میں ایا اور طوفان کی طرح تونے افرین کی محبت سے اسے الگ کیا اور اپنی زندگی میں شامل کرلیا ۔اگر تو پہلے افرین کے سامنے کاشف کی سچائ لاتا تو شاید اج تیری شادی شدہ زندگی کا منظر کچھ اور ہوتا۔بہرحال جو ہوگیا اج نہی تو کل اصف کی سچائ انکے سامنے اجائے گی ۔تو نے اب جب اتنا بڑا اپنی زندگی بھر کی خوشیوں کا جوا کھیلا ہے تو اب اپنے جیتنے کا انتظار کر ہار نہی مان الللہ نے نکاح کے رشتے میں بہت طاقت رکھی ہے اگر ایک کی طرف سے بھی اس رشتہ کا نبھانے کی چاہ ہو جنون ہو تودنیا کا کوئ بھی سرد جھونکا اسے توڑ نہی سکتا تو فکر مت کر بس الللہ سے دعا کر سب ٹھیک ہوجائے گا۔
ہمایوں کی باتیں کافی حد تک المیر کو سکون پہنچا چکی تھی اس نے اگے بڑھ کر ہمایوں ک گلے لگایا اور دل سے اسکا شکریہ ادا کیا۔
تھوڑی دیر بعد المیر نےہمایوں سے اسکے اور اعیرہ کی ناراضگی کا پوچھا۔
المیر کی بات پہ ہمایوں دھیرے سے مسکرایا اور کہا۔
بس سمجھ لے شیرنی کے گلے میں گھنٹی باندھ لی ہے تیرے یار نے۔
ہمایوں کی بات المیر نے قہقہ لگایا اور کہا۔
دیھان سےمیرے یار شیرنی نےجس دن گھنٹی کھولی سب سے زیادہ تجھے زخمی کرے گی۔۔
ایسی نوبت نہی ائےگی انشاءالللہ اب چل کل تجھے واپس کراچی بھی جانا ہے۔۔
دونوں ہی ٹیرس سے اپنے اپنے کمروں کی طرف چل پڑے۔۔
افرین اور مونا اپنے اپنے کمروں میں جا چکی تھی۔
ہمایوں کمرے میں ایا تو اعیرہ ولیمہ کے ڈریس میں ہی سورہی تھی۔۔ہمایوں نے ایک بھر پورنظر اس پہ ڈالی اور اسکی جیولری اتار کے اسے صحیح سے لیٹایا کئ بار ہمایوں کی۔نظر اعیرہ کے حسین سراپے پہ بھٹکی مگر وہ نظرے چرا گیا اعیرہ کے کپڑے بدلنے کی غلطی ہمایوں نے ہرگز نہی کی کیونکہ وہ جانتا تھا کے کے اگر اس نے ایسا کیا تو پھر وہ اعیرہ کا بھروسہ کبھی جیت نہی پائے گا۔۔
ابھی ہمایوں کو انکھیں موندھے تھوڑی دیر ہی ہوئ تھی کے اسکے ہاتھ پہ اعیرہ کا سر ایا اورسینے پہ۔ہاتھ ہمایوں کے لب اعیرہ کی اس حرکت پہ دھیرے سےمسکرائے اس نے اعیرہ کو مکمل اپنی اغوش میں لیا اور سوگیا۔۔
المیر کمرے میں ایا تو افرین بیڈ پہ ہی سورہی تھی اورکمفرٹر ادھے سے زیادہ افرین پہ سے ہٹا ہوا تھا ۔ہمایوں نےجان بوجھ کے المیر اور افرین کیلے وہ روم سیٹ کروایا تھا جس میں صوفہ نہی تھا۔۔
المیر نے افرین کے اوپر کمفرٹر ٹھیک کیا اور جھک کےاسکےماتھے پہ بوسہ دیا اور کہا۔۔
ایک دن میری جان تم بھی میری محبت کی ادھی ہوجاوگی ۔۔

#$$$$

صبح سے ہی اعیرہ کے رونے کا شغل جاری تھا۔فاطمہ کی۔خود کی بھی انکھیں بار بار بھیگ رہی تھی مگرجانا تو تھا اور ہمایوں کےسمجھانے پہ کےہم بہت جلد کراچی جائینگے یہ سن ہے اعیرہ تھوڑی حد تک سنبھلی اورخوشی خوشی سب کو کراچی جانے کیلیے رخصت کیا۔۔
.############
زوباریہ پیکنگ ہوگئ۔؟؟
جی بھائ بس ہوگئ چلیں ۔۔
اج صبح ہی امجدنے ولی کو کال کرکے گاوں انے کا کہا تھا۔شیر خان بھی اپنے پوتا پوتی کوبہت یاد کرہے تھے ۔امجد کی بڑی بیٹی جو امجد کے دوست کےبیٹے کیساتھ رخصت ہوکے لندن گئ تھی ٹوئنس بچوں کی وجہ سے بہت کم اپاتی تھی۔۔
ولی اور زوباریہ پڑھائ کی وجہ سے لاہور والے گھرمیں رہتے تھےجہاں انکی پرانی ملازمہ انکے ساتھ رہتی تھی۔
ولی اور زوباریہ رات تک گاوں پہنچے سب سے ملنے کے بعد فلحال اپنی پھپو سےملنے کا ارادہ انہونے کل پہ چھوڑا اور ارام کرنے اپنے کمروں میں چلے گئے۔۔
صبح ناشتےکی ٹیبل پہ رونق سی لگی تھی ۔۔جب امجدنے ولی سے کہا
ولی اپنی پھپو سے مل کے او تو مجھ سےملنا مجھےتم سے ضروری بات کرنی ہے۔۔
جی ابو بس ناشتہ کےبعدپھپو کی طرف ہی طرف جا رہا ہو۔۔
بھائ مجھےبھی ساتھ لےچلنا پلیز زوباریہ نے معصوم سی صورت بنا کے کہا۔
ولی نے ایک ائیبرو اچکا کے اسے دیکھا اور کہا۔
جی نہی تم بعد میں اتی رہنا مجھے اور بھی کام ہے یہ بول کے ولی ناشتہ کی ٹیبل پہ سے اٹھا اور سیدھا چلا گیا۔
جبکہ زوباریہ نے ایک نظر اپنے بھائ کو دیکھا اور پھرسامنے بیٹھے اپنے ماما بابا کو جو زوباریہ کی شکل دیکھ کے اپنی ہنسی چھپانے کے لیے اپنے اپنے چائےکا کپ اپنے لبوں سے لگا چکے تھے۔۔
ولی نے اپنی پھپو کے گھرمیں قدم رکھا جو گھر کم حویلی لگتا تھا جسکی خوبصورتی کی وجہ اور کوئ نہی اس حویلی کی بیٹی اور ولی اللہ کی بیوی مشکبار تھی
ولی اپنی پراڈھو سے اترا تو اسکی ملاقات حویلی سےباہر اتے ظفر سے ہوئ ظفر اپنے دامادسے کافی خوش اسلوبی سے ملا ظفر جیسی ہی رابعہ کوبتانے اندر جانے لگا اور کہا
ظفر پاپا میں خود پھپو کو سرپرائز دونگا پلیز ۔۔
اچھا بھئ جیسی تمہاری خوشی اور یہ زوباریہ تمہارے ساتھ نہی ائ ۔؟؟
افف پاپا رہنے دے اس کو یہاں تک انے سے پہلے ادھے سے زیادہ گاوں والوں سےگپے لگاتی ہوئ اتی۔
ولی نے اتنا سڑا ہوا منہ بنا کےکہا کے ظفر کا ولی کی شکل دیکھ کے بھر پور قہقہ گونجا۔
اچھا چل ولی بیٹا میں نکل رہا ہو شام میں ملاقات ہوگی۔۔یہ بول کے ظفر نکلنے لگا تو ولی نے ظفر سےپوچھا ۔
پاپا ضامن کہاں ہے ؟؟
کہاں ہے ہوگا اپنے کمرے میں کل ہی ایا ہے سرگودھا سے کام کے سلسلے میں گیا ہوا تھا ۔مل لینا شاید اٹھ گیا ہو۔
اوکے پاپا الللہ حافظ ۔
وہاں ولی حویلی کے اندر گیا اورظفر اپنے کام پہ۔

#

ولی چاپ چاپ حویلی کی راہداری سے گزر رہا تھا جب اچانک اسکےقدم ایک کمرےکے سامنےرکے ۔
جہاں سے ہلکے ہلکے گننانے کی اوازارہی تھی۔۔ولی نے دروازہ پہ ہلکا سا ہاتھ رکھا تودروازہ ہلکا سے کھلا ولی نے اندر جاہنکا تومشکبار۔ اپنےبال بنانےکےساتھ ساتھ کھڑی پہ موجودکوا جوزورزور سے کائے کائے کررہا تھا ۔۔اسکو دیکھ کےگنگنانے میں مصروف تھی۔۔
اڑ جا کالے کاوا تیرے مووج کھند پاوا۔۔
لیجا توسندیسا میرا میں صدقے جاوا۔۔
باغوں میں پھر جھولے پڑھ گئے پک گئیا مٹھیا امبیا ۔۔
یہ چھوٹی سے زندگی تے رات تا لمبیا۔
کے گھر اجا پردیسی کے تیری میری ایک جنڈری۔
گنگناتے گنگناتے مشکبار نے ایک تصویر اپنے ہاتھ میں لی پہلے اس پہ اپنے لب رکھے اورپھر گول گھومنے لگی۔۔
دیوار سے ٹیک لگا کے کھڑے ولی پہچان چکا تھا کے وہ تصویر اسکی ہی تھی ولی گور سےلائٹ پنک کلر میں ملبوس مشکبار کودیکھنے میں مگن تھا بےشک مشکبار ایک بےحد حسسین لڑکی تھی اس پہ اسکی نیلی جھیل جیسی انکھیں کسی۔کو دیوانہ کرسکتی تھی ۔ابھی ولی اسکو مسکراکے دیکھنے میں مگن تھا ۔
کے اچانک اسکےچہرےپہ مشکبارکو دیکھ کے غصہ کے اثرات ابھرے اورکانوں میں نکاح سےایک دن پہلے کہے گئے مشکبار کے الفاظ گونجے۔۔
میں منع نہی کرسکتی اس نکاح سے ولی پلیز اپ کی۔جو بھی مجبوری۔ہو خود جاکے کہے نانا جان سےولی جو مشکبار سے کہنے ایا تھا کے وہ رشتہ کے لیہ منع کردے کیونکہ وہ فلحال نکاح جیسے رشتےمیں بندھنا نہی چاہتا اورمحبت کرکے شادی کرنا چاہتا ہے ۔۔
مگر ولی کی بات کا پاس نہ رکھ کے مشکبار ولی کیساتھ رشتہ میں توبندھ گئ مگر ایک ناختم ہونے والے انتظار میں بندھ گئ جس سے وہ کب
ازاد ہوگی اسے خود نہی پتہ تھا
ولی تیزی سے اسکے کمرےکےاگے سےہٹا اور رابعہ سےمل کے تیزی سے حویلی سے نکل گیا۔۔
زوباریہ رابعہ سےمل کے جہاں زورشور سے ولی کی شکایتیں کرنے میں مصروف تھی وہی ادھر ادھر نگاہ دوڑا کے کسی سےبچ بھی رہی تھی رابعہ اسکی ساری حرکتیں دیکھ کے مسکرا رہی تھی۔۔رابعہ پھپو سے مشکبارکا پوچھا اور انکے کمرے کی طرف چل پڑی ۔مگر جیسی وہ راہدرای میں پہنچی کسی نے اسکا ہاتھ پکڑ کے تیزی سے اپنا کمرے میں کیا اور دروازہ بند کردیا۔۔
زوباریہ اس حرکت پہ اپنے سامنے کھڑی سخص کو غصہ میں دیکھا اور اپنااپ چھڑواتے ہوئے اپنے سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کےکہا۔۔
کیا بدتمیزی ہےچھوڑو مجھے ٹھرکی انسان بیہودہ ایسا کوئ کھینچتا ہے کسی کو؟؟
سامنے کھڑا شخص جو اپنی مثال اپ تھا غور سے زوباریہ کو دیکھنے لگا اور پھر بنا لحاظ کیہ اسکے لبوں کو اپنے لبوں میں قیدکرلیا زوباریہ کی انکھیں حیرت سےپوری کھل گئ تھوڑی دیر بعد جب ضامن نےزوباریہ کےلبوں ازادکیا تو زوباریہ کےچہرے پہ حیا کے رنگ کیساتھ ساتھ غصہ کے اثار بھی تھی ضامن نے ایک نظر اسکے چہرے پہ نگاہ ڈالی اور کہا۔
ویسے بیگم شرت جیتنے کا اپنا ہی مزا ہے ۔یہ بول کے ضامن نے زوباریہ کو انکھ ماری۔۔
زوبریہ نے زورسےاسکے پاوں پہ اپنا پاوں مارا اور کہا۔
ڈریکولہ
اورجھٹ کمرے سے فرار ہوگئ۔
ضامن نے کمال مجنوں کی ایکٹنگ کی اور کہا۔۔
ہائےمیری ڈائن جلدی اجاو میری زندگی میں میرا خون چوسنے۔
@@@@@@@@
زوباریہ مشکبار سےمل کےکافی خوش ہوئ۔۔مگر اسکا دیھان زوباریہ کی طرف نہی بلکہ اس بات پہ تھا کے ولی اس سے ملے بنا چلا گیا زوباریہ سمجھ چکی تھی مشکبار کی افسردگی کی وجہ مگر وہ چاہ کے بھی انکے لیہ کچھ نہی کرسکتی تھی وہ اپنے بھائ کی سوچ سے سخت خلاف تھی۔جسے اس حسسین لڑکی کی محبت کی پراوہ نہی تھی نہ اس سے دو منٹ بھی بات کرتا تھا۔۔

#

اج پھر وہ دونوں باپ بیٹے روبرو تھےکمرے سے اتی دونوں کی غصہ بھری اوازیں باہربیٹھی مبشرہ اورزوباریہ اچھی طرح جانتے تھے کے اج بھی اس بحس کا کوئ حل نہی نکلے گا۔۔
میں نے اپکو پہلے ہی کہا تھا بابا میں کم از کم پانچ سال تک رخصتی نہی کرونگا مشکبار کی۔۔ولی نے غصہ میں اپنے باپ کو کہا۔۔
تم کیوں بھول جاتے ہوتمہاری بہن ک نصیب بھی اس گھر سےجڑا ہے ظفر اور رابعہ کئ بار مجھے رخصتی کا بول چکے ہیں ہربار میں انہیں ٹال نہی سکتا اس بار تمہاری نہی چلے گی امجد کی دھاڑ بھی مبشرہ کو کمرے کے باہر تک سنائ دی۔۔
بابا اگر اپ نے اس بار اپنی چلائ تو میں ابھی اسی وقت مشکبار کو طلاق دے دونگا یہ بول کے ولی تیزی سے کمرے سےباہر چلا گیا۔
جبکہ امجدوہی شکستہ حالت میں صوفے پہ بیٹھ چکا تھا ولی کے کمرے سےنکلتے ہی زوباریہ تیزی سےولی کےپیچھے لپکی اور مبشرہ کمرے کے اندر
مبشرہ کمرے کے اندر پہنچی تو امجد گردن جھکا کے صوفے پہ بیٹھا تھا مبشرہ نے امجد کےکندھے پہ۔ہاتھ رکھ کے دھیرے سےپکارا ۔
امجد نےگردن اٹھا کے بھیگتی انکھوں سےمبشرہ کو دیکھ کےصرف اتنا کہا۔۔
پیڑ ببول کا بو گے
تو ام نہی کھا سکتے۔۔
دنیا مکافات عمل ہے۔۔
جاری ہے۔۔۔۔